فجر کا وقت
2020 میں جب کورونا کی وجہ سے یہ دنیا بدل رہی تھی تو ایک دفعہ تو اسے لگا تھا کہ اب انسان بھی بدل جائے گا۔ ہر طرف بیماری، موت اور موت کا خوف رقص کر رہا تھا۔ گھروں میں بند ہونے کے سرکاری فرمان جاری و ساری تھے۔ فاطمہ بھی خوف زدہ تھی مگر ہمیشہ کی طرح اپنی موت سے زیادہ کسی اپنے کی موت کا خیال اسے ہو لائے دے رہا تھا یا یہ خیال کہ اگر سب بازار اور رسل و ترسیل بند ہو گئی اور غذائی قلت پیدا ہو گئی تو۔ اور اس کے بچوں کو کسی ناگہانی کا سامنا کرنا پڑ گیا تو؟
اس کے لئے یہ بھی موت سے بڑھ کر اذیت ناک چیز تھی۔ وہ سوچتی؛ ہم تو دنیا کے کئی رنگ دیکھ چکے ہیں مگر بچوں نے تو ابھی بہت کچھ دیکھنا اور کرنا تھا۔ بچوں نے تو ابھی میدانوں میں کھیلنا، سکولوں میں جانا، دوستوں کے ساتھ ہلہ گلہ کرنا تھا۔ لیکن اس وبا نے تو بچوں اوربڑوں سب کو گھروں میں قید کر کے رکھ دیا تھا۔ یہ سب بے ثباتی دیکھ کر ہی اسے لگا تھا کہ شاید ان دیکھی کا یہ خوف آج کے انسان کو بدل دے، انسانوں کا دوغلا پن کم ہو جائے اور روحوں میں پاکیزگی کے پھول کھلنے لگیں مگر اس کا یہ وہم وہم ہی رہا۔ موت کے رقص میں بھی منافقت گھنگرو باندھ کر ناچتی رہی۔
ایک دن تو وہ مکمل طور پر مایوس ہو گئی؛ ”تو انسان نے وبا کے اس سنہری موقع کو بھی گنوا دیا اور برائی کو اپنے اندر نہ ختم کرنے کے وتیرے پر قائم دائم رہا۔“ اور یوں کڑھتے کڑھتے، جسم کو بچاتے بچاتے، اس کی روح اتنی کھوکھلی ہو گی کہ اس کے جسم کا ساتھ ہی چھوڑ گئی اور ایک دن باقی بہت سے لوگوں کی طرح اس کا بھی دم نکل گیا اور وہ مر گئی۔
اس کی موت کی خبر کچھ ایسی اہم بھی نہیں تھی کہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی مگر پھر بھی فیس بک فرینڈز کے ہاتھ ایک سیکنڈ کے لئے اس کی موت کے افسوس کے لئے دو لفظ ٹائپ کرنے کو رک رہے تھے۔ کوکب پروین جو اس کی ہر پوسٹ کو لائیک کرتی تھی، آج بھی اس کی موت کی خبر والی نیوز کے نیچے بہت دکھ کا اظہار کر رہی تھی اور اس پوسٹ کو ایک آدھ اضافی جملے کے ساتھ آگے بھی شیئر کر رہی تھی۔ اور یہ سب کرتے ہوئے کوکب پروین کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔
فاطمہ نے اس کی بھرائی ہوئی آنکھیں دیکھیں تو اس کا دل بھی بھر آیا۔ وہ ابھی یہ سوچ ہی رہی تھی کہ اسے کیسے تسلی دے کہ کوکب اسی وقت کسی اور دوست کی ایک مزاحیہ پوسٹ پر سمائلی والے ایموجی دھڑا دھڑ پھینکنے لگی اور اب اس کے چہرے پر پھیلنے والی مسکراہٹ، اس کے آنسو لے اڑی تھی۔ فاطمہ نے سوچا یہ دنیا ہے یہاں ایک ساتھ ہی رونا اور ہنسنا پڑتا ہے۔ وہ جب زندہ تھی تو وہ بھی تو یہی سب کیا کرتی تھی۔ فیس بک پر تو یہ تماشے، روز کا تماشا ہیں اور وبا کے ان دنوں میں تو موت کی خبر سالگرہ کی خبر کی طرح ہو گئی تھی جیسے کبھی بھلے وقتوں میں چھ یا سات دوستوں کی سالگرہ کا اجتماعی نوٹیفیکشن آیا کرتا تھا، اب اسی طرح اجتماعی اموات کے اکٹھے نوٹیفیکشن آنے لگے تھے۔
ابھی وہ اپنی موت کی خبر پر افسوس کرنے والوں کی تعداد گن رہی تھی کہ منظر بدل گیا۔ اس منظر میں وہ ایک لکڑی کے بستر پر بے حس و حرکت لیٹی ہوئی تھی۔ پاکستان ہوتا تو اسے جنازے کی چارپائی کہہ سکتے تھے یا وہ عیسائی ہوتی تو تابوت میں لیٹی ہوتی مگر اب وہ کینیڈا میں ایک مسلمان تھی۔ اس لئے مرنے کے بعد جس چارپائی پر وہ مردہ حالت میں پڑی تھی ، وہ اسلام اور کینیڈین کلچر کا امتزاج تھی۔ یہاں مردے کا دیدار کرنے کا بڑا سلیقہ ہوتا ہے۔
جیسے یہاں کینیڈا میں ہماری شادیوں اور دیگر تقریبات نے اپنے اوپر سفید رنگ چڑھا لیا ہے، کیک کاٹنا، برایئڈل میڈ، دوستوں اور رشتے داروں کا دلہا دلہن کے بارے میں مائیک پر کھڑے ہو کر تقریریں کرنا، ان کے والدین اور بہن بھائیوں کا جوڑا جوڑا کر کے ہال میں موسیقی کی تھاپ پر رقص کرتے داخل ہونا، یہ سب پاکستانی شادیوں میں شامل ہو چکا تھا بالکل اسی طرح جنازوں میں بھی یہ ”ترتیب وار دیدار“ کینیڈا ہی کی ایک سوغات تھی جو پاکستانی رسومات میں شامل ہو چکی تھی۔
فاطمہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ اس کی نظر وہاں کھڑی ایک عورت پر پڑی جس نے خود کو سیاہ لباس میں لپیٹ رکھا تھا۔ اموات پر پہننے کے لئے یہ سیاہ اور سفید رنگ بھی نہ جانے کہاں سے پاکستانی روایات کا حصہ بن گئے تھے۔ وہ عورت رو رو کر فاطمہ کی میت کے پاس سے گزر رہی تھی۔ وہ پہلے تو اسے پہچان نہ سکی لیکن جب اس کے سر اور چہرے سے حجاب ذرا سا سرکا تو تب فاطمہ کا بدن غصے سے سلگ اٹھا۔ یہ وہ عورت تھی جس نے زندگی میں اس کے ناک میں دم کر رکھا تھا۔
وہ دوست کے روپ میں دشمن نکلی تھی۔ فاطمہ نے ہر دم اس کا ساتھ دیا تھا۔ وہ رات کو بھی اسے فون کرتی تو فاطمہ اپنی نیند خراب کر کے، اپنے بیڈ روم سے اٹھ کر کہ کہیں اس کے شوہر کی نیند خراب نہ ہو جائے، ساتھ والے کمرے میں جا کر اس منحوس عورت کی اپنے شوہر کے خلاف شکایات سنا کرتی تھی تاکہ اس کا دل ہلکا ہو جائے اور اس کو مشورے دینے میں اپنا سر پورے خلوص کے ساتھ کھپایا کرتی تھی اور تو اور وہ تو اس عورت کے غم سے اپنے سینے کو درد سے بھر لیا کرتی تھی۔
منظر بدل گیا اب وہی عورت گلابی رنگ کے کپڑوں میں ملبوس، اپنے شوہر کے ساتھ اس کے سامنے بیٹھی تھی۔ اس کا شوہر بار بار اپنی مونچھوں کو تاؤ دے رہا تھا۔
عورت: ”تمہیں میرے شوہر پر الزام نہیں لگانا چاہیے تھا، وہ بھی سب کے سامنے؟“
فاطمہ: ”الزام؟ یہ الزام نہیں ہے جو کل میں نے بتایا یہی سچ ہے۔ تم نے جب ایک دن اس کے ہاتھ میرے لئے حلیم بھجوائی تھی تو اس نے مجھے باہر کافی پر ساتھ لے جانے کے لئے کہا تھا۔ بتاؤ اب چپ کیوں ہو؟“
شوہر: ”میں کیوں چپ ہونے لگا۔ میں تم جیسی عورتوں کو اچھی طرح سے جانتا ہوں۔ تمہارا شوہر گھر نہیں تھا تو تم نے مجھے اندر آنے کو کیوں کہا“ ۔
فاطمہ: ”اس لئے کہ تم میری دوست کے شوہر ہو اور میرے لئے بھائیوں کی طرح ہو۔ اور اندر میرے بچے موجود تھے۔ تم حلیم لائے تھے میں نے اخلاقاً پوچھ لیا۔“
شوہر: ”جو تم کرو وہ اخلاق جو میں کروں وہ بد اخلاقی۔ واہ میں تو پہلے ہی نزہت سے کہتا تھا یہ عورت ٹھیک نہیں ہے۔ اور اب اتنے دنوں بعد سب کے سامنے یہ بات یاد آ گئی؟ اتنے دن یادداشت غائب تھی؟“
نزہت: ”بالکل اب کیوں۔ اور اچھا اگر کافی کے لئے پوچھ بھی لیا تو ایسا کیا ہو گیا۔ تم کون سا ستی ساوتری ہو ، کتنے مردوں کے ساتھ تو کافی پینے جاتی ہو۔“
فاطمہ: بالکل ٹھیک کہا مردوں کے ساتھ کام کے لئے ملنے یا ان کے ساتھ کافی پینے میں کوئی حرج نہیں۔ میں پرانے خیالات کی نہیں ہوں اور نہ ہی میرا شوہر۔ میں انشورنس کے بزنس میں ہوں، کلائنٹس سے ملتی ہوں اور نظروں کے فرق کو سمجھتی ہوں اور تم بھی تو جانتی ہو اپنے شوہر کے کرتوت۔ اس کی گندی نظروں کے قصے اور اس کے عورتوں کے ساتھ چکر اور اس کی شراب کی عادت۔ یہ سب بتاتے تمہاری زبان نہیں تھکتی تھی۔ میں اب بھی نہ بتاتی مگر تم ہی نے اس کی آوارہ مزاجیوں کا قصہ چھیڑا تو میں نے بھی بتا دیا۔ ”
نزہت گھبراتے ہوئے : ”میں کیوں تم سے یہ باتیں کرنے لگی اور سب کے سامنے۔ مجھے تو لگ رہا منیر ٹھیک ہی کہہ رہا تھا، تم مخلص دوست نہیں ہو، ہمارا گھر تڑوانا چاہتی ہو۔ پہلے میرے شوہر پر الزام لگا رہی تھی اور اب وہ بات نہیں بنی تو یہ دوسرا پتہ پھینک دیا۔“
فاطمہ: ”اس نے میرا ہاتھ بھی پکڑنے کی کوشش کی تھی۔ چلو کافی کی آفر کو بھی چھوڑو مگر یہ ہاتھ پکڑنا۔ مجھے اسی بات کا غصہ تھا پہلے اس لیے نہیں بتایا کہ اگنور کرو تاکہ تمہارا گھر نہ خراب ہو مگر جب تم نے خود ہی اس کے کرتوت بتانے شروع کیے تو۔“
نزہت اور منیر غصے سے کھڑے ہو گئے اور نزہت چلا کر بولی؛ ”بس بس اپنا منہ بند رکھو اور آئندہ جو کبھی ہماری طرف مڑ کر بھی دیکھا۔“ فاطمہ نے حیرانی سے نزہت کی طرف دیکھا، اس کا چہرہ سفید ہو گیا تھا۔ لٹھے کی طرح۔ بالکل ایسا ہی جیسا اس وقت تھا۔ مرنے کے بعد ۔ وہاں سے جانے کے بعد پھر ان دونوں میاں بیوی نے نہ جانے کیا کیا افواہیں پھیلائیں کہ ان کے دوستوں کا جو ایک گروپ تھا، وہ سب فاطمہ کے خلاف ہو گیا۔ اور اس سے رابطہ یوں منقطع کر دیا گیا جیسے اسے جانتے ہی نہ ہوں، کسی نے قطع تعلقی کی وجہ بتانے کی بھی زحمت نہیں کی تھی۔
فاطمہ کے ذہن نے بہت عرصے بعد اس دھوکے کو بھلایا تھا اور اب دیکھو تو ذرا اسی نزہت کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور فاطمہ کی روح یہ دیکھ دیکھ کر بے بسی سے تلملا رہی تھی۔ نزہت نے فاطمہ کے مردہ چہرے کو غور سے دیکھا جو اسے مسکراتا ہوا لگا اور پھر جب وہ اپنی جگہ پر واپس آ کر بیٹھی تو ساتھ بیٹھی فاطمہ کی بہن سے تعزیت کرتے ہوئے بولی؛ ”فاطمہ بہت معصوم تھی۔ میرے بہت دکھ سکھ سنتی تھی، میری بہنوں کی طرح تھی۔ دیکھیں اتنی جلدی روٹھ گئی ہم سب سے۔ اچھے لوگ یوں ہی چلے جاتے ہیں پلک جھپکتے ہی۔ چہرہ ابھی بھی کیسا شفاف ہے۔“ فاطمہ کی بہن نے ہچکیوں کے درمیان چہرہ اوپر کیا۔
بہن: ”ہائے! ہم تو برباد ہو گئے، میری اتنی محبتوں والی بہن چلی گئی۔ میں اس سے بڑی تھی لیکن جانے کی جلدی اس کو تھی۔“
فاطمہ نے اپنی بہن کو یوں بلک بلک کر روتے ہوئے دیکھا تو اسے اطمینان سا محسوس ہوا اور مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی، اسی وقت جو عورت میت کے پاس کھڑی تھی، حیرت سے یک دم بول اٹھی: ”یاللہ اسے زندگی میں بھی ہمیشہ ہنستے ہی دیکھا تھا اور اب دیکھو ذرا، مر کر بھی چہرے پر مسکراہٹ ہے۔“
وہ جب زندہ تھی تو اس کا دل کرتا تھا کہ اس کی بڑی بہن اس کی فکر کرے جیسے دوسری بڑی بہنیں اپنی چھوٹی بہنوں کی کیا کرتی تھیں۔ لیکن اس کی بڑی بہن تو ہر وقت اس کے ساتھ مقابلے بازی میں لگی رہتی تھی۔ ایک منظر سامنے آ کھڑا ہوا۔
بہن: ”واہ امی! جب میری شادی نہیں ہوئی تھی میرے تو اتنے نخرے نہیں اٹھائے جاتے تھے۔ اس کے کپڑوں پر استری بھی کام والی کرتی ہے اور میں اپنے کپڑے کیا آپ کے اور ابو کے بھی استری کیا کرتی تھی۔“
امی: ”حالات ایک جیسے نہیں رہتے۔ اب فاطمہ کی بھی تنخواہ آتی ہے تو ایک مستقل کام والی رکھ لی ہے۔“
بہن: ”اور یہ اپنی دوستوں کے ساتھ اتنا گھومتی پھرتی ہے۔ مجھے اس بات کی اجازت کیوں نہیں تھی؟“
امی: ”تو کیا کرے آفس بھی جاتی ہے اور ساتھ ابھی پڑھ بھی رہی ہے تو کچھ وقت دوستوں کے ساتھ نکل جاتی ہے تو کیا ہوا۔ تمہاری عادت فرق تھی۔ اس کی طبیعت اور ہے۔ اور حالات۔“
بہن: ”کیا حالات حالات کر رہی ہیں۔ میں کون سا اس سے دس بارہ سال بڑی ہوں تین چار سال کا ہی تو فرق ہے۔ مجھے تو کبھی نہیں اتنی تفریح کرنے دی، وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ شادی کے بعد انگلینڈ چلی گئی ورنہ آپ نے تو۔“
امی: ”تمہیں تو سب سے زیادہ پیار اور پیسہ ملا ہے۔ ابھی بھی مقابلے بازی کر رہی ہو۔ چھوٹی بہن سے ایسے کون مقابلہ کرتا ہے۔ تمہارے بچوں کا بھی اتنا خیال رکھتی ہے، تم چھٹیاں منانے آئی ہو، چلی جاؤ گی، اتنی سی دیر کے لئے بھی بہن برداشت نہیں ہوتی۔“
بہن: ”تو ہاں ناں ، جب میں ادھر آئی ہوں تو یہ بچوں کو ہی دیکھے ناں۔“ اس پورے منظر میں فاطمہ حیرت سے بڑی بہن کو دیکھتے جا رہی تھی۔ بہنیں ایسی ہوتی ہیں؟ اسے تو اپنی بڑی بہن سے بہت پیار تھا مگر۔
ایک منظر اور بدل گیا۔
فاطمہ: ”باجی! میں بہت پریشان ہوں۔ آفس میں مینجر بہت تنگ کرتا ہے۔“
باجی: ”میں نے آج منحوس سسرال میں جانا ہے ، تم بچوں کو رکھ لینا میں انہیں ساتھ نہیں لے جا سکتی۔ امی بھی میرے ساتھ ہی جائیں گی۔“
امی: ”ہاں فاطمہ کام والی کپڑے دھوئے گی ، اسے بھی دیکھ لینا۔“
فاطمہ: ”امی میرا پیپر بھی ہے۔“
امی: ”تو آ جائیں گے جلدی، ہم نے کون سا ادھر ہی رہ جانا۔ فون پر سہیلیوں سے گپیں نہ لگانا۔“
بہن: ”تم کون سا میری طرح سیریس ہو کر پڑھتی ہو۔ بھاگتے دوڑتے تو پڑھنا ہوتا ہے۔“
فاطمہ: ”ہاں لیکن اب پارٹ ٹائم نوکری بھی تو کر رہی ہوں۔“
بہن: ”اچھا چلو نا۔ تم نے تو پاس ہی ہو جانا۔“
فاطمہ، بہن کی اس بلاواسطہ تعریف سے خوش ہو کر وہ احمقوں کی طرح ہنسنے لگی۔
اسی وقت اس کی میت کے پاس سے گزرتے ہوئے ایک اور عورت بولی جو اس کی کوئی دوست تھی؛ ”کیسا مسکراتا چہرہ ہے۔ یوں لگتا ہے ابھی اٹھ کر قہقہے لگانے لگے گی۔ کتنا اونچا قہقہہ ہوا کرتا تھا اس کا۔“
اس عورت کے پیچھے چلتے ہوئے فاطمہ کی ایک اور پرانی دوست کو فاطمہ کے مشہور زمانہ قہقہے یاد آنے لگے۔
پرانی دوست: ”امی کہہ رہی تھیں کہ فاطمہ ابھی دروازے سے داخل ہی ہوتی ہے کہ اس کا قہقہہ پہلے ہی باورچی خانے تک پہنچ جاتا ہے۔“
ایک اور دوست: ”ہم سب کا یہی حال ہے۔“
فاطمہ: ”تو اور کیا، ہنسے بغیر بھی کوئی زندہ رہ سکتا ہے؟“
اور سب دوستیں اونچی اونچی ہنسنے لگیں ان سب میں سے فاطمہ کا قہقہہ زندگی سے بھرپور اور بلند تھا۔ اس منظر کے بعد فاطمہ کے مردہ چہرے پر ہنسی کا ایک اور گھیرا بڑھ گیا۔
اب اس کی ماں اس کے سرہانے کھڑی بلک بلک کر رو رہی تھیں۔ کئی عورتیں انہیں سہارا دے رہی تھیں۔ اسے اپنی ماں سے بہت پیار تھا۔ لیکن اسے ہمیشہ یہ لگتا تھا کہ اس کی ماں کہیں ہجوم میں گم ہو گئی ہے۔ اس کی کئی ضرورتیں اور کئی خواہشیں بہن بھائیوں کی قطار میں کہیں پیچھے رہ جاتی تھیں۔ ماں اس کے لئے اہم تھی مگر وہ ماں کی زندگی کے منظرنامے میں کسی دھندلی تصویر سے زیادہ اہمیت نہ رکھتی تھی، وہ تصویر جس کو ماں حسب ضرورت ایک آدھ مرتبہ جھاڑ کر دیکھ لیا کرتی تھی۔ ماں کو روتا دیکھ کر اسے دکھ ہونا چاہیے تھا مگر اس کے اندر ایک کمینی سی خوشی کی لہر اٹھ رہی تھی، بالکل ویسی ہی خوشی جیسی اسے باجی کو اپنے لئے روتا دیکھ کر ہو رہی تھی۔ آخر کار ماں کو اس کی بھی فکر ہوئی۔ وہ اس کے لئے بھی روئی۔
اب جو منظر اسے نظر آ رہا تھا اس میں ماں کچن میں کھڑی کچھ پکا رہی تھی، وہ ساتھ کھڑی برتن دھو رہی تھی اور اسے اپنی آواز سنائی دی جس میں فکر سے زیادہ غم تھا؛ ”ماں میں کیسے اتنا زیادہ کرایہ دوں گی۔ بھائیوں کے پاس تو پیسے ہیں، ہمارے پاس تو نہیں ابھی۔“ اپنے شوہر کے ساتھ کینیڈا آنے کے بعد ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ آتے ہی کہیں الگ سے رہ سکتے ، اس لئے اسے ماں باپ کے گھر رہنا پڑا تھا۔
ماں : ”ان کے پاس پیسے اسی لئے ہیں کہ طریقے سے چل رہے ہیں، ایسے ہی ادھر ادھر ضائع کرتے رہے اور طریقے سے نہ چلے تو ان کے پیسے بھی ختم ہو جائیں گے۔ تم اور تمہارے بچے اب حسیب کی ذمہ داری ہو، میرے بیٹوں کی نہیں۔ حسیب کی عادتیں نہ خراب کرو“
فاطمہ: ”مگر ماں اتنے زیادہ پیسے۔ تھوڑے سے تو کم کر دیں ابھی حسیب کی نوکری بھی پکی نہیں۔“
ماں : ”بالکل بھی نہیں۔ مہینے کی مارگیج کی قسط جانی ہوتی ہے ، کیسے تمہارے بھائی پورا کریں گے؟“
فاطمہ: ”ماں! پچاس ڈالر ہی کم کر دیں۔“
ماں نے اس فرمائش پر انکار کرتے ہوئے اسے ایک لمبا حساب کتاب گنا دیا جس میں بچوں کے اضافی گراسری کے خرچے وغیرہ تھے۔ وہ خاموش ہو گئی۔ اس کا دل اندر سے چھلنی ہو گیا تھا۔
ماں : ”اب ایسے کیوں چپ ہو گئی ہو جیسے کوئی بہت بڑا ظلم ہو گیا ہے۔“
فاطمہ ہنستے ہوئے: ”نہیں ظلم نہیں، احسان ہے آپ کا کہ مجھے اپنے گھر میں میاں اور بچوں کے ساتھ رکھا ہوا ہے۔ ورنہ ہم کیا کرتے۔“
فاطمہ کے مردہ چہرے پر مسکراہٹ کا ایک دائرہ اور بڑھ گیا۔ ماں کی جھریوں میں کچھ آنسو اٹکے ہوئے تھے، وہ اس کے مردہ چہرے پر گرنے لگے۔ وہ یونہی ہنس دیا کرتی تھی۔ ہر ناانصافی اور مشکل کے بعد یونہی ہنس دیا کرتی تھی۔ مسکراہٹ اس کے چہرے کا مستقل حصہ تھی، اس کے دل کے تمام زخم چہرے تک پہنچ کر مسکراہٹ بن جایا کرتے تھے۔ اسے کم ہی کسی نے اداس اور غم زدہ دیکھا تھا۔ اس نے اپنی زندگی کی روایت مرنے کے بعد بھی قائم رکھی ہوئی تھی۔ ہر تلخ یاد مسکراہٹ کے ایک دائرے کی صورت اس کے چہرے پر ابھر رہی تھی۔
اسی ہال کے ایک کونے میں اسے اپنے ابا نظر آئے۔ اس کے ابا کے چہرے پر ملال تھا، بوڑھا جسم جھکا ہوا تھا۔ اور آنکھیں آنسوؤں سے خالی تھیں۔ وہ بالکل گم سم ایک کونے میں فرشی دری پر دبکے بیٹھے تھے۔ ان کے پاس اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ چل کر اپنی بیٹی کا آخری دیدار کر سکتے۔ ان کا سر ان کے گھٹنوں تک جھکا ہوا تھا۔
ابا: ”لڑکوں کے ساتھ پڑھنے یا نوکری کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے ساتھ چکر چلا لیا جائے۔“
فاطمہ: ”ابا! میں نے کسی کے ساتھ چکر نہیں چلایا۔ اس نے مجھ سے شادی کا کہا میں نے اسے رشتہ بھیجنے کا کہہ دیا، چکر کہاں سے آ گیا۔“
بڑا بھائی: ”شرم نام کی چیز ہے تمہارے اندر؟ بڑی بہن بھی کالج جاتی تھی، کبھی کچھ ایسا نہیں سنا، تم تو پتہ نہیں کیا چیز نکلی ہو، ہر دوسرے دن کوئی گھر پہنچا ہوتا ہے۔“
فاطمہ: ”تو بھیا رشتہ لینے ہی آتے ہیں ناں، میں کوئی غلط کام کروں تو چھپا کر کروں۔ میں چاہتی ہوں کہ آپ فیصلہ کریں۔ جو بھی۔“
بڑا بھائی: ”تو صبر کرو ناں، اتنی کیا آفت آ گئی ہے۔ ہمیں رشتہ ڈھونڈنے دو، خود کیوں اتاؤلی ہو رہی ہو اور الٹے سیدھے ہاتھ مار رہی ہو۔“
یہ بات سن کر فاطمہ کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا۔ وہ پچیس سال کی ہونے والی تھی۔ اس کی بڑی بہن کی شادی اکیس سال میں ہی کر دی گئی تھی۔ فاطمہ کو پڑھنے کا شوق تھا مگر اب پڑھ لیا تھا، نوکری بھی کرنے لگی تھی۔ اور اس کے رشتے یونیورسٹی کے زمانے سے آنے لگ گئے تھے۔ دفتر سے بھی کئی رشتے آئے تھے جس کی وجہ سے اس کے ابا اور بھائی اس سے ناراض رہنے لگے تھے۔
ابا: ”فریدہ بیگم! اب جو بھی رشتہ آئے بس ہاں کر دو۔ روز روز کا تماشا بند کرو۔“
اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں ؛ ”ابا کوئی بھی رشتہ؟ میں بیٹی ہوں آپ کی۔“
ابا نے اس کی طرف دیکھے بغیر اپنی بیوی کو پھر سے پکارا: ”فریدہ بیگم سن رہی ہو میں کیا کہہ رہا ہوں۔“
فریدہ بیگم: ”جی جی سن لیا۔ وہ جو لڑکا ہے ندیم بہت پیچھے پڑا ہوا ہے اس کی ماں کوئی دس چکر لگا چکی ہے ، اسی کو ہاں کہہ دیتی ہوں۔“
فاطمہ چلا اٹھی: ”اماں۔ وہ ایک نمبر کا نکما انسان ہے۔ یونیورسٹی میں نقلیں کر کر کے پاس ہوتا تھا، اہلیت نام کو نہیں۔“
اماں : ”تو تمہاری تو اچھی جاب لگ گئی ہے ناں، ایسے ہی مل جل کے گھر چلتے ہیں۔ خود ہی ٹھیک ہو جائے گا جب بچے ہوں گے۔“
فاطمہ رونے لگ گئی: ”اماں! میں آپ کی بیٹی ہوں؟“
اماں : ”یہ باتیں تم نے تب سوچنی تھیں جب چکر چلایا تھا۔“
فاطمہ: ”اماں میرا کوئی چکر نہیں تھا۔“
”ہا ہا ہا۔“ اماں کا طنزیہ قہقہہ۔ ابا کا غصہ اور بھائیوں کی تلملاہٹ۔
وہ تمام مناظر گزرے کئی سال گزر گئے۔ اس کے بعد کتنے منظر آئے اور اس کے چہرے پر اپنے نشان چھوڑتے چلے گئے۔ ایسے ہی کسی ایک منظر میں حسیب اس کی زندگی میں آ گیا اور وہ اس کے ساتھ کینیڈا چلی آئی۔ جہاں اس کے دونوں بڑے بھائی، ماں باپ اور بہن بہنوئی پہلے ہی آ کر آباد ہو چکے تھے۔
کینیڈا کے مناظر آپس میں گڈ مڈ ہونے لگے۔ چہروں کے بدلنے کی رفتار اتنی تیز تھی کہ اسے یاد ہی نہیں آ رہا تھا کہ کون کب بدلا اور کس کے بدلنے کی وجہ کیا تھی۔ کتنی اہم باتیں کتنی صدمے سے بھرپور باتیں اور واقعات جن کی وجہ سے وہ پوری پوری رات جاگا کرتی تھی، جو اس کے دل کو زخمی کرتے تھے، اب نہ جانے کہاں کسی دھند میں کھو گئے تھے۔ وہ ہنسنے لگی کیوں کہ اسے یاد ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ جو شخص اس کے اباکے پاس بیٹھا ہے اور جس کی آنکھیں رو رو کر سوجی ہوئی ہیں وہ کون ہے۔
اس کے چہرے کے نقش و نگار میں فاطمہ تو کہیں نظر نہیں آ رہی تھی تو یہ کون ہے جو اس کے ابا کے پاس بیٹھا ان کو دلاسے بھی دے رہا ہے اور خود بھی رو رو کے ہلکان ہو رہا ہے۔ اس نے اپنے شوہر کو دیکھا، اس کے چہرے پر کتنے جانے پہچانے تاثرات تھے، جو اسے ازبر تھے، سالوں سے ایک جیسے۔ سپاٹ چہروں کے یہی تو فائدے ہو تے ہیں۔ حسیب، اب بھی وہی سپاٹ چہرہ لئے بیٹھا تھا۔ لیکن وہ شخص۔
دھندلے بادلوں میں سے ایک ہلکی سی آواز آئی جو اسی اجنبی شخص کے رونے کی آواز سے ملتی جلتی تھی، سسکیوں میں ڈوبی ہوئی آواز۔
اجنبی: ”میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا، مجھے کبھی نہ چھوڑنا۔“ وہ اجنبی فاطمہ کے پیروں میں بیٹھا گڑگڑا رہا تھا۔
فاطمہ آنسوؤں سے ڈوبی آواز میں بول رہی تھی: ”اب تو راستے بدل گئے، ہم اپنی اپنی منزلوں پر پہنچ چکے ہیں۔ اب چھوڑنے یا ساتھ رہنے کا سوال ہی کہاں۔“
”اوہ! اب یاد آیا۔ یہ تو وہ تھا جس سے فاطمہ نے اپنی روح کی تمام گہرائیوں کے ساتھ محبت کی تھی۔ اسفند۔ اسفند۔“ کالے بادلوں میں ہر طرف اسفند کی شبیہہ ابھرنے لگی۔ کسی شبیہہ میں وہ اس کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گھوم رہی تھی اور کسی میں ان کے ہونٹ ایک دوسرے میں پیوست تھے۔ روح کے اندر سے ایک آواز ابھری زمانے کے ساتھ بدلنے والے بھی پچھتاوے کے آنسو بہاتے ہیں؟ وہ تو زمانہ ساز نکلا تھا۔ وہ، جس سے محبت، فاطمہ کے جسم کی نہیں بلکہ روح کی تنہائی کی ضرورت تھی۔
لیکن اتنے اہم مقام کے لئے کتنا کھوکھلا شخص اسے میسر آیا تھا۔ وہ شخص رو رہا تھا اور پچھتاوے کے کچوکے فاطمہ کو محسوس ہونے لگے تھے۔ وہ اس کی زندگی کا کتنا گھٹیا باب تھا۔ فاطمہ نے آگے بڑھ کر اسے اپنے باپ کے پہلو سے اٹھایا اور اس کے منہ کو ورقہ ورقہ پھاڑ دیا۔ اب اسفند کا ناک، ہونٹ، آنکھیں لفظ لفظ فرش پر گر رہے تھے۔ فاطمہ مسکرا اٹھی۔ اطمینان کی لہر نے اسے اندر تک آسودہ کر دیا، سالوں سے دل کے نادر جمی گھٹن کسی گلیشیئر کی طرح پگھلنے لگی تھی۔
”میت کی تدفین کا وقت ہو گیا ہے۔“ اس اعلان سے وہ چونک گئی۔ ”تو کیا نماز جنازہ ہو گئی؟ کس کس نے پڑھی؟“
”تو کیا اب مجھے منوں مٹی تلے دفنا دیا جائے گا؟ میں ان سب لوگوں کو کیسے دیکھوں گی؟ میرے بچے۔ یا اللہ۔ کہاں ہیں میرے بچے؟ تو کیا انہیں یہاں لایا ہی نہیں گیا تھا؟ یا اس کی نظروں سے ویسے ہی اوجھل تھے؟ اور ابھی میں یہاں سے چلی جاؤں گی؟ بغیر بچوں سے ملے؟ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔“ ۔ فاطمہ کے دماغ میں ایک جھکڑ سا چلنے لگا یوں لگا پورے کمرے میں آندھی آ گئی ہو۔ لوگوں کی آنکھوں میں مٹی اڑ اڑ کر پڑنے لگی۔
فاطمہ کی آنکھیں بھی مٹی کے ذروں سے بھر گئیں۔ اسے اپنی آنکھیں کھولنا دشوار ہو گیا۔ اتنا اندھیرا۔ اس اندھیرے میں اسے اپنے بچوں کے رونے کی آواز سنائی دی۔ ”ماما، ماما! سب سے چھوٹا چیخیں مار مار کر رو رہا تھا، سب سے بڑا سسکیاں بھر رہا تھا اور بیٹی چیخوں میں بار بار“ ماں ماں ”پکار رہی تھی۔“ ابھی چھوٹے تو تھے، ابھی تو ان کو میری ضرورت تھی۔ ”فاطمہ کا کلیجہ پھٹنے لگا۔
”تدفین کہاں ہو گی؟“ ایک آواز اندھیرے میں اس کے قریب سے ابھری۔
”مسلمانوں کے قبرستان میں ہی اور کہاں۔“ ایک اور آواز نے اسے دہلا دیا۔
”تدفین تدفین۔ تو یہ بچے؟ ماں کو دفنا دیا گیا تو ان بچوں کا کیا ہو گا۔ یہ جو سب لوگ کھڑے ہیں جن کے ہاتھوں میں ہمیشہ ہی ایک آرا پکڑا رہا اور اس سے میرا کلیجہ کاٹتے رہے، میت کے قریب کھڑے لوگوں میں سے کون ہے جو میرے ان معصوموں کو دیکھے گا۔ میری ماں؟ میری بہن؟ میرے بھائی؟ میرے دوست؟ میرا شوہر؟ کون آخر کون۔“
ایک آواز نے کہا؛ ”شوہروں کا کیا جاتا ہے، وہ تو دوسری شادی کر لیں گے، ان چھوٹے چھوٹے بچوں کا کیا ہو گا؟“ ، تو کیا اس کے دل کی آواز وہاں کھڑے لوگوں تک بھی پہنچ گئی تھی یا یہ ایک رسمی سی تشویش تھی جو کسی بھی ماں کے مرنے کے بعد بچوں کے حوالے سے در آتی ہے؟
”شوہر شادی کر لے گا اور باقی؟ باقی کیا بچے گا؟ یہ سب۔ جو اس کے نہ ہو سکے۔“
”مجھے مرنے سے پہلے وصیت کر دینی چاہیے تھا۔ مجھے لکھ کے مرنا چاہیے تھا کہ میرے بچے کس کے پاس جائیں۔“ یہاں کینیڈا میں تو بچوں کی حوالگی کی وصیت کی جاتی ہے، مگر کیا اسے پتہ تھا کہ اس کے بچے کس کے پاس جانے چاہئیں؟
وہ جھنجھلا اٹھی؛ ”تو میں یہ وصیت کیوں نہ کر آئی کہ تمام مطلبیوں کو میرے جنازے میں آنے سے روک دیا جائے۔ جن لوگوں نے میرے جیتے جی میرے خلوص کو استعمال کیا اور وقت بدلنے پر یوں بدلے جیسے میں ہوں ہی نہیں۔ ان میں سے اگر کوئی میرے مرنے پر آیا تو مجھ سے برا۔۔۔“ اسی وقت اسی کی نظر اپنی ماں، اپنی بہن، اپنے بھائیوں، اس اجنبی پر پڑی۔
”اور وہ لوگ۔ وہ لوگ جن کے دلوں پر ان کی انا کی وجہ سے دھند جمی رہی، جن کی جہالت نے مجھے پل پل اذیتیں دیں۔ بھیڑ کے روپ میں جتنے بھی بھیڑیے ہیں کوئی نہ آئے۔ میرے مرنے پر کوئی نہ آئے۔ میرے اعتماد کا خون کرنے والوں کے دستانے اور ماسک تک مجھ سے دور ہٹا لیے جائیں۔ یہ وصیت کیوں نہ کی میں نے؟ یہ کر دیتی تو آج چھانٹی ہو جاتی۔ آج جو بھی تدفین پر آتا کم از کم مجھے یہ اطمینان ہوتا کہ ان کے خلوص کی چھاؤں میں میرے بچے کچھ دیر سستا لیں گے۔“
”ہٹاؤ۔ ہٹاؤ۔ ان سب“ زندہ مردوں ”کو میری میت سے دور ہٹاؤ۔“
وہ زور زور سے چیخنے لگی۔ مگر آواز حلق سے باہر نہیں آ رہی تھی۔ اس کا سانس رکنے لگا، اس کا جسم ابھی تک نیند کے سحر میں تھا، ہلنے سے قاصر، مگر اس کا دماغ جاگ گیا تھا۔ ایک دفعہ ڈاکٹر نے اسے بتایا تھا کہ ایسی حالت کو sleep paralysis کہتے ہیں۔ وہ ایک آدھ منٹ اس حالت میں رہی، پھر اس نے اپنے پورے جسم کا زور لگایا اور اسے حرکت کر نے کے قابل بنایا اور جب جسم میں جان پڑی تو وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس کے بیڈ روم میں اندھیرا تھا۔
ساتھ سوئے ہوئے شوہر کے بھیانک خراٹے اسے دنیا کی سب سے مترنم آواز محسوس ہوئے۔ وہ بھاگ کر بچوں کے کمروں کی طرف گئی۔ تینوں بچے اپنے اپنے کمروں میں سکون کی نیند سو رہے تھے۔ چھوٹے بیٹے کے کمرے کی لائٹ جل رہی تھی اسے بجھا کر وہ اپنے کمرے میں لوٹی تو اس کا شوہر نیند سے جاگ چکا تھا۔ تھوڑی سی آنکھیں کھول کر بولا:
”اٹھ گئی ہو؟ ٹائم کیا ہوا ہے؟ صبح ہو گئی۔“
”ٹائم؟ صبح؟“ وہ ہڑبڑا گئی۔ اس نے وقت تو دیکھا ہی نہیں تھا۔ نیند سے بیدار ہو تے ہی وہ جسم کو ادھر ادھر دوڑائے پھر رہی تھی۔
اس کو اپنے خیالوں میں کھویا دیکھ کر شوہر نے خود ہی ساتھ پڑا ہوا فون اٹھایا اور وقت دیکھا؛ ”اوہ! فجر کا وقت ہو گیا ہے۔“
اور اس نے خوفزدہ ہو کر سوچا: ”سنا ہے کہ فجر کے وقت کے خواب سچے ہوتے ہیں۔“


