پیپلزپارٹی کے تین بڑے اور ان کی تین خصوصیات


جنگل میں آباد جانوروں، پرندوں اور حشرات کے اپنے اپنے مزاج ہوتے ہیں۔ وہ سب اپنے انہی فطری رویوں کے تحت زندگی گزارتے ہیں۔ کوئی بہادری سے شکار کرتا ہے، کوئی چھپ کر مارتا ہے اور کوئی دوسرے کی بچی کچھی خوراک کو اپنے زندہ رہنے کا سامان بناتا ہے۔ گویا سب وہی کرتے ہیں جو ان کی اپنی نسل کے آباء و اجداد نے کیا۔ اگر غور کریں تو ہماری سیاسی جماعتوں میں بھی یکسانیت کا وہی مزاج موجود ہے جو بہت پہلے ان کے ہاں شروع ہوا تھا۔

یہ سیاسی جماعتیں جدید تقاضوں کے مطابق اپنے اندر ریفارمز لانے سے قاصر رہی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔ آج اس سیاسی جماعت کی خفیہ خصوصیات میں سے تین کو زیربحث لاتے ہیں جن پر ممکن ہے اس سے پہلے نہ لکھا گیا ہو۔ ان میں مظلومیت کے نام پر زندہ رہنا، ضرورت کے مطابق اندر یا باہر سرتسلیم خم کرل ینا اور اپنے محسنوں کو خفیہ طور پر دغا دینا شامل ہیں۔ آئیے ان تینوں خصوصیات کا ترتیب وار تجزیہ کرتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی تشکیل کے وقت ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کی مظلومیت کو ایکسپلائٹ کیا جس کے باعث انہیں ایک دم راکٹ پاپولرازم ملا لیکن بعد کے آنے والے حالات گواہ ہیں کہ وہ رفتہ رفتہ ان تمام نعروں سے دور ہوتے گئے جو عوامی توجہ کا باعث بنے تھے۔ مثلاً جمہوریت میں دوسروں کی رائے کا احترام مگر ذوالفقار علی بھٹو اپنے حقیقی رفقاء کی رائے کو بھی ناپسند کرنے لگے۔ مثلاً تنقید کو برداشت کرنا مگر ذوالفقار علی بھٹو تنقید کو دشمنی سمجھنے لگے۔

مثلاً ڈکٹیٹرشپ والے مزاج سے نفرت کرنا مگر ذوالفقار علی بھٹو مزاجاً خود ڈکٹیٹر بن گئے۔ ان کے بعد بینظیر بھٹو نے اپنے والد کی مظلوم موت کی مظلومیت کے نام پر تینوں مرتبہ انتخابی مہم چلائی۔ گویا انہوں نے اپنے والد کی موت کو ایکسپلائٹ کیا اور عوام سے مظلومیت کا ووٹ حاصل کیا۔ بینظیر اقتدار میں رہیں یا اقتدار سے باہر، انہوں نے توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی ناگہانی موت کا خوب چرچا کیا۔

حالانکہ پیپلز پارٹی کی تشکیل کا انفراسٹرکچر کسی بھی مظلوم موت پر واویلے کی بجائے عوام کی دادرسی پر مبنی تھا لیکن شاید نظریاتی انفراسٹرکچر پر کام کرنا مشکل اور مظلومیت کا واویلا کرنا آسان کام تھا۔ بینظیر بھٹو کے بعد آصف علی زرداری نے بھی اپنی بیوی بینظیر بھٹو اور اپنے سسر ذوالفقار علی بھٹو کی الم ناک اموات کو عوام کے جذبات ابھارنے کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ انہوں نے پیپلز پارٹی میں نئی روح اس طرح پھونکی کہ پرانے نظریاتی کارکنوں سمیت ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے دیرینہ ساتھیوں کو ایک طرف کر دیا اور ان کی جگہ کئی نئے چہرے متعارف کرائے جن کا واحد میرٹ آصف علی زرداری سے تعلق داری تھا۔

تاہم آصف علی زرداری نے ایک قدم آگے بڑھ کر بیگم نصرت بھٹو، مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کی اموات کو بھی مظلومیت ایکسپلائیٹیشن شو کا حصہ بنا لیا۔ اب بلاول بھی اپنے نانا اور والدہ کی غیر طبعی اموات کے سہارے پولیٹیکل فلائٹ لے رہے ہیں۔ ان کے ایجنڈے میں بھی اپنے خاندان کی مبینہ اموات پر مظلومیت کا ووٹ حاصل کرنا سرفہرست لگتا ہے۔ بلاول اپنے والد اور والدہ کے مقابلے میں فی الحال تھوڑے سے مختلف ہیں۔ وہ ایسے کہ بینظیر بھٹو نے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھیوں کو ایک طرف کر دیا تھا۔

اسی طرح آصف علی زرداری نے اپنے سسر اور اپنی اہلیہ کے ساتھیوں کو نکرے لگا دیا تھا مگر بلاول ابھی تک اپنے والد کے دوستوں اور مشورہ کاروں سے ہی مشورہ حاصل کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی دوسری کوالٹی ضرورت کے مطابق اندر یا باہر سرتسلیم خم کر لینا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سیاست میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے جنرل ایوب خان کو سیاسی ڈیڈی بنایا پھر اقتدار میں آنے کے لیے امریکہ کی آشیرباد حاصل کی۔ بینظیر بھٹو نے امریکہ کے ذریعے جنرل ضیاء الحق سے معاملات طے کیے اور پاکستان واپس آئیں۔پھر امریکی معاملات کے ساتھ ساتھ ملکی اسٹیبلشمنٹ کی بات ماننے کا بھی تأثر دیتی رہیں۔آخری مرتبہ جنرل پرویز مشرف سے بھی این آر او کر لیا۔

آصف علی زرداری جو اس طرح کے کاموں کے کنگ ہیں ، پہلے ملکی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے دوزانو ہوئے پھر انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ سے درپردہ تعلقات جوڑنے لگے۔ بلاول کا ابھی آغاز ہے اور ان کے اندر باہر کے تعلقات کے درمیان میں آصف علی زرداری ابھی موجود ہیں۔ بہرحال ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری تک سب نے ضرورت پڑنے پر اندر اور باہر کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہاتھ ملایا۔

پیپلز پارٹی کی تیسری خصوصیت اپنے محسنوں کو خفیہ طور پر دغا دینا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے محسن جنرل سکندر مرزا کے خلاف خفیہ طور پر جنرل ایوب خان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے خفیہ طور پر انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ سے مل کر اپنے سیاسی ڈیڈی جنرل ایوب خان کو ناکارہ بنایا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو اقتدار میں آ گئے تو انہوں نے امریکہ کے مقابلے میں ابھرتی سپرطاقت چین کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے شروع کیے اور دیگر ممالک کی صف بندی بھی شروع کردی جو ذوالفقار علی بھٹو کے محسن امریکہ کو دھوکہ دہی محسوس ہوئی۔

پیپلز پارٹی کی تشکیل میں جن نامور لوگوں نے ساتھ دیا ، انہیں ذوالفقار علی بھٹو نے راستے سے ہٹا دیا۔ بینظیر بھٹو ملکی اسٹیبلشمنٹ سے آنکھ بچا کر بیرونی اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں رہنے کی کوشش کرتی تھیں۔ اسی طرح آصف علی زرداری نے بھی اندرونی محسنوں سے چھپ کر بیک ڈور چینلز کے ذریعے بیرونی لوگوں کو محسن ماننے کا اشارہ دیا۔ مذکورہ تینوں نکات پر دلائل کے بعد مختصر یہ کہ پیپلز پارٹی کے تینوں بڑے یعنی ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری پارٹی کی تینوں کوالیٹیز یعنی مظلومیت کے نام پر زندہ رہنے، ضرورت کے مطابق اندر یا باہر سرتسلیم خم کر لینے اور اپنے محسنوں کو خفیہ طور پر دغا دینے پر گامزن رہے ہیں۔

بلاول نے بھی اپنا آغاز انہی روایتی طریقوں سے کیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ آئندہ پیپلز پارٹی کو مظلومیت ایکسپلائیٹیشن شو کی بجائے کیا عوامی امنگوں کی حقیقی جماعت بنائیں گے یا نہیں؟ وہ ضرورت کے مطابق اندر یا باہر سرتسلیم خم کرنے کی بجائے کیا صرف پاکستان کے مفاد کو سربلند رکھیں گے یا نہیں؟ اور وہ اپنے محسنوں کو خفیہ طور پر دغا دینے کی بجائے کیا عوام کو اپنا اصل محسن سمجھیں گے یا نہیں؟

Facebook Comments HS