معین اختر: لطیفے سنانے اور نقالی کرنے والا شریر لڑکا جو کامیڈی کا ’آئن سٹائن‘ بن گیا

طاہر سرور میر - صحافی، لاہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معین اختر

یہ 1960 کی دہائی تھی جب کراچی میں رہنے والا دھان پان اور شریر لڑکا امریکی صدر جان ایف کینیڈی اور اینتھونی کوئن کی نقالی کر کے دوست احباب سے داد سمیٹا کرتا تھا۔

اس نے 16 سال کی عمر میں کمرشل تھیٹر سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ وہ بچپن میں ہی اپنے سکول ٹیچرز، قریبی عزیز و اقارب اور دوستوں کے لب و لہجے کی نقالی کر کے ہنسایا کرتا۔ قدرت نے اسے ٹیلنٹ عطا کیا تھا اور پھر مسلسل محنت، ریاضت سے وہ اردو کا سب سے معتبر مزاحیہ فنکار، نقال اور میزبان کہلایا، جسے دنیا معین اختر کے نام سے جانتی ہے۔

معین اختر ایک متنوع اداکار تھے لیکن مزاح کا رنگ ان کے فن پر یوں سجا رہا جیسے کھیر پر چاندی کا ورق اس کے بصری روپ اور مٹھاس کو دو آتشہ کر دیتا ہے اور معین اختر کا بلاشبہ برصغیر میں آج بہت بڑا نام ہے۔

معین 24 دسمبر 1950 کو پیدا ہوئے اور 22 اپریل 2011 کو دنیا چھوڑ گئے۔ انھوں نے اپنی زندگی کے 60 برسوں میں 44 سال فن کی دنیا کی نذر کیے۔

ان کے کام کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے کہ وہ کئی زندگیاں جیئے۔ انھوں نے اپنی زندگی میں بے شمار کام کیے اور ان گنت معرکے مارے، جنھیں تفصیل سے درج کرنا انتہائی مشکل ہے۔ ان کی کامیابیوں کی شرح وہی ہے جو دنیائے کرکٹ میں سر ڈان بریڈمین اور فلمی جہان میں مارلن برانڈو اور دلیپ کمار کی رہی ہے۔

سینئر اداکار خالد عباس ڈار نے بی بی سی کو بتایا کہ معین اختر نے اپنے کیریئر کا آغاز نجی نوعیت کی چھوٹی چھوٹی تقاریب میں ہنسانے اور نقالی سے کیا تھا تاہم بعد میں وہ ایک طویل عرصے تک ملک کے سب سے مہنگے اور مصروف میزبان بنے رہے۔

معین اختر کو شوبز کے حلقوں میں ’معین بھائی‘ کہا جاتا تھا۔ انھوں نے ٹی وی ،فلم، تھیٹر اور ریڈیو کے ساتھ ساتھ مختلف تقاریب اور فیسٹیولز کی میزبانی کرنے کے ریکارڈز قائم کیے۔

ان کے مشہور ٹی وی ڈراموں میں ’روزی‘، ’عید ٹرین‘، ’سٹوڈیو ڈھائی‘، ’سٹوڈیو پونے تین‘، ’سٹوڈیو چار بیس‘، ’شو ٹائم‘، ’شوشا‘، ’یس سر نو سر‘، ’معین اختر شو‘، ’سچ مچ‘، ’لوز ٹاک‘، ’ہاف پلیٹ‘، ’ففٹی ففٹی‘، ’مرزا اور حمیدہ‘، ’آخری گھنٹی‘، ’مکان نمبر 47‘، ’فیملی 93‘، ’لاؤ تو میرا اعمال نامہ‘، ’ہریالے بنے‘، ’ہیلو ہیلو‘،’انتظار فرمائیے‘، ’ڈالر مین‘، ’بندر روڈ سے کیماڑی‘ اور ’آنگن ٹیڑھا‘ سمیت دیگر شامل ہیں۔

ان کے مشہور سٹیج ڈراموں میں’بائیونک سرونٹ‘، ’مجھے معین اختر سے بچاؤ‘، ’بڈھا گھر پر ہے‘ اور ’بکرا قسطوں پر‘ سمیت دیگر شامل رہے۔

شہزاد رضا اور معین اختر

ضیا محی الدین شو میں انٹری

یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس سے معین اختر کا کیریئر فاسٹ ٹریک پر چل پڑا تھا۔ 26 نومبر 1964 کو پی ٹی وی لانچ ہوا تو تھیٹر اور ریڈیو کے فنکاروں نے اس نئے میڈیم کی طرف رجوع کیا۔ خالد عباس ڈار اس وقت تک ’سٹینڈ اپ کامیڈی‘ میں ایک ممتاز نام تھے۔

’ضیا محی الدین شو‘ ان دنوں کراچی سے ہو رہا تھا جس میں سینئر مہمانوں کے ساتھ جونیئر ٹیلنٹ کو بھی اپنے فن کے اظہار کا موقع دیا جاتا تھا۔

مذکورہ شو میں غزل گائیکہ فریدہ خانم کے سامنے خالد عباس ڈار کو لاہور سے دعوت دی گئی۔

انھوں نے بتایا ’یہ سنہ 1967 کی بات ہے۔ میں لاہور میں بانو قدسیہ کا ایک کھیل کر رہا تھا جس کے باعث کراچی جانا مشکل تھا۔ ضیا محی الدین شو کی ٹیم کو میں نے مشورہ دیا کہ آپ کراچی میں ایک جواں سال کامیڈین کو موقع دیں جو یقیناً شو کے معیار پر پورا اترے گا۔‘

خالد عباس ڈار نے بتایا کہ انھوں نے معین اختر کو کراچی میں گھانچی پاڑہ میں شادی کی ایک تقریب میں اس وقت کے مشہور فنکاروں کی نقالی کرتے دیکھا تھا۔ معین اختر کو ضیا محی الدین شو میں اپنے فن کے اظہار کا موقع ملا اور یوں انھیں ایک رات میں ہی ملک میں پہچانا جانے لگا۔

معین اس سے قبل 6 ستمبر 1966 کے سلسلے میں کرائے گئے ایک ٹی وی پروگرام سے متعارف ہو چکے تھے۔ ضیا محی الدین شو میں تماشائیوں کے ساتھ فریدہ خانم اور ضیا محی الدین بھی ہنستے رہے اور اس وقت پیشگوئی کی گئی کہ جواں سال مزاح نگار مستقبل میں اپنا نام پیدا کرے گا۔

دلیپ کمار اور معین اختر

پی ٹی وی اور معین اختر، ایک دوسرے کی پہچان

یوم دفاع اور ضیا محی الدین شو سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والا معین اختر پی ٹی وی کی آنکھ کا تارا بن گیا تھا۔

پی ٹی وی کی کمرشل پروگرامنگ کی فرسٹ چوائس ہونے کے ساتھ ساتھ انھیں ایسی تقاریب کے لیے بھی میزبان منتخب کیا جاتا جہاں پاکستان برادر اسلامی اور دیگر ممالک کا میزبان ہوتا تھا۔

معین اختر نے اردن کے شاہ حسین، گیمبیا کے وزیراعظم داود الجوزی سمیت صدر جنرل یحیٰ خان، وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو، صدر جنرل ضیا الحق، صدر غلام اسحاق خان، وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو، وزیراعظم نوازشریف، صدر جنرل پرویز مشرف، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے اعزاز میں کرائی گئی تقاریب میں میزبانی کے فرائض سرانجام دیے۔

دلیپ کمار معین اختر کے بے تکلف دوست

معین اختر ایک ایسا برانڈ بن گئے تھے جس کا جادو پورے جنوبی ایشیا میں چلتا تھا۔ برصغیر کے سب سے محترم اداکار دلیپ کمار بھی ان کے مداحوں میں شامل تھے حالانکہ معین اختر بذات خود دلیپ کمار کے بے حد عقیدت مند تھے اور بچپن سے ہی ان کی نقالی کیا کرتے تھے۔

ایک میگا شو جس میں دلیپ کمار اور راج کمار آمنے سامنے تھے اور اس کے لیے بطور خاص معین اختر کو کراچی سے ممبئی بلایا گیا۔ معین اختر کا نام دلیپ کمار نے تجویز کیا اور راج کمار نے بھی اپنا ووٹ دیا تھا۔ دلیپ کمار کو مہمان بنانے کے لیے یہ شرط ہوتی تھی کہ میزبان معین اختر ہونے چاہیے۔ دلیپ کمار معین اختر کے بے تکلف دوست بن گئے تھے۔

عمران خان، دلیپ کمار اور معین اختر

بالی وڈ کی تیسری نسل بھی معین اختر کی دیوانی

دلیپ کمار کا معین اختر کا مداح ہونا ان کے لیے کسی مستند ایوارڈ سے کم نہیں۔ دلیپ کمار کا تعلق انڈین فلم انڈسٹری کی دوسری جنریشن سے تھا۔ ان کے بعد بالی وڈ کی پہلی ،دوسری اور تیسری جنریشنز جن میں راج کپور، رشی کپور اور رنبیر کپور شامل رہے سبھی معین اختر کے فین رہے۔

شاہ رخ خان، سلمان خان اور عامر خان تینوں نے اپنے مختلف انٹرویو ز میں معین اختر کو اپنا فیورٹ قرار دیا۔ عامر خان نے چین میں ایک پاکستانی وفد سے کہا کہ وہ معین اختر کے پرستار ہیں۔

ایک عرصہ سے انڈیا میں دکھائے جانے والا ٹی وی پروگرام ’کپل شرما شو‘ دراصل معین اختر کا ڈیزائن کردہ ہے۔ معین اختر اس فارمیٹ کے بانیان میں شامل رہے جسے بعد ازاں عمر شریف نے بام عروج بخشا۔

کراچی میں ہونے والے سٹیج ڈرامے جس کے مرکزی کردار معین اختر اور عمر شریف ادا کیا کرتے تھے اور ان ڈراموں میں شہزاد رضا، لیاقت سولجر، شکیل صدیقی، سلومی، اسماعیل تارا، لطیف کپاڈیا، روحانی بانو، زیبا شہناز، روف لالہ، جاوید شیخ، بہروز سبزواری اور دیگر شامل رہے۔۔

انڈیا کے ٹی وی پروگرامرز نے مذکورہ سٹیج ڈرامے کی ہو بہو نقالی کرتے ہوئے کپل شرما شو ڈیزائن کیا۔

شہزاد رضا اور معین اختر

کپل شرما نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے معین اختر، عمر شریف اور امان اللہ کے کئی سٹیج ڈرامے دیکھے ہیں۔

کپل شرما نے کہا کہ ’میں نے یہ ڈرامے اتنے غور سے دیکھے کہ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ یہ کہاں بات کرتے تھے اور کہاں سانس لیتے تھے۔‘

کپل شرما نے کہا کہ معین اختر اور عمر شریف کی بے ساختگی اور روانی جبکہ امان اللہ کی جگت بے مثل ہیں۔ ’معین اختر نے اپنی زندگی کے آخری عرصے میں انور مقصود کے ساتھ جو کام کیا اسے میوزیم میں رکھ دینا چاہیے۔‘

کپل شرمانے بی بی سی کو بتایا کہ ان کا ٹیلی فون پر معین بھائی سے رابطہ رہتا تھا۔’وہ ہمارے استادوں میں سے تھے میں نے اپنی زندگی میں ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔‘

جونی لیور نے کہا کہ وہ پاکستان کو اس لیے سیلوٹ کرتے ہیں کہ یہ معین اختر اور عمر شریف جیسے کامیڈینز کا دیس ہے۔

’اپنے آپ کو خوش نصیب خیال کرتا ہوں کہ میں نے اپنی زندگی میں کچھ وقت معین بھائی کے ساتھ گزارا اور ان کے قدموں میں بیٹھا۔ جب کبھی بھی ملاقات ہوتی تھی تو میں ان کے قدموں میں بیٹھتا تھا تو وہ اٹھا کر گلے لگا لیتے تھے اور ہمارے کام کی بھی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔‘

بشری انصاری، انور مقصود اور معین اختر

بشریٰ انصاری عورتوں کی معین اختر، معین اختر مردوں کے بشریٰ انصاری

بشریٰ انصاری نے اپنے مرحوم ساتھی کو یاد کرتے ہوئے اعلیٰ درجے کا فنکار اور انسان قرار دیا۔

بشریٰ انصاری نے کہا کہ ’قدرت نے بھی معین اختر کو تخلیق کر کے سانچا توڑ دیا ہو گا۔ اسی لیے ان جیسا دوسرا کوئی پیدا نہیں ہوا۔‘

انھوں نے کہا کہ معین اختر اپنے کیرئیر کے آغاز میں لطیفے سنانے اور نقالی کرنے والا ایک لڑکا تھا لیکن پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ انھوں نے اپنے آپ کو کس طرح نکھارا۔

ایک مرتبہ معین اختر نے بشریٰ انصاری کی تعریف کرتے ہوئے انھیں ’عورتوں کی معین اختر‘ قرار دیا تھا اور جواب میں بشریٰ انصاری نے معین اختر کو ’مردوں کی بشریٰ انصاری‘ کہا تھا۔

بشریٰ انصاری کہتی ہیں ’اگر میں اپنا موازانہ معین سے کروں تو وہ مجھے آسمان پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ میرے لیے اگر دس سے پندرہ نمبر ہوں تو معین کیلیے ڈیڑھ سو نمبر ہونے چاہیے کیونکہ وہ کئی زبانیں مہارت سے بول کر ان گنت ٹونز( لب و لہجہ ) سے حیران کرتے رہے۔‘

بچپن کی زندگی

اپنے ساتھیوں کی نسبت معین اختر انگریزی زبان میں بھی کامیڈی کیا کرتے تھے جس سے ان کی پوزیشن آغاز سے ہی ’وی آئی پی‘ ہو گئی تھی۔ بشریٰ انصاری نے بتایا کہ معین جونیئر کیمبرج کرنے کے بعد انڈیا سے کراچی آئے تھے۔

یہ غلط ہے کہ معین اختر کراچی میں پید ا ہوئے بلکہ ان کی پیدائش انڈین ریاست اتر پردیش کے شہر مراد آباد میں ہوئی تھی۔ ان کا خاندان 1947 کے بعد 6060 کی دہائی میں کراچی منتقل ہوا تھا۔ ان کی سکولنگ اچھی تھی جس کی وجہ سے وہ نہ صرف انگریزی بول سکتے تھے بلکہ اس میں کامیڈی بھی کرتے رہے۔

ان کی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے آپ کو باسی اور پرانا نہیں ہونے دیتے تھے اور اپنے اندر کچھ نہ کچھ نیا تلاش کرتے رہتے تھے۔

انور مقصود، معین اختر، مشی خان، بشری انصاری اور بہروز سبزواری

وہ پیدائشی فنکار تھے، انھوں نے اپنا سفر لطیفے اور نقالی کرنے والے ایک معمولی لڑکے سے شروع کیا اور پھر اس پورے خطے میں ایک برانڈ بنے۔

بشریٰ انصاری کہتی ہیں کہ ’ہم دونوں کو پیسہ بھی چاہیے تھا لیکن ہم نے اپنے اندر کے آرٹسٹ کے لیے کام کیا اور پیسہ بھی ہمیں ملتا رہا۔‘

’میرا تعلق بھی مڈل کلاس فیملی سے تھا لیکن معین اختر کا خاندانی پس منظر بہت ہی سفید پوش تھا۔ اس لیے انھوں نے زندگی میں کچھ کر کے دکھانے کی پالیسی اپنائی۔‘

بشریٰ انصاری نے بتایا کہ ’ایک مرتبہ معین کے والد اور والدہ سے ملاقات ہوئی دونوں انتہائی سادہ طبیعت کے مالک تھے۔ تب میں نے معین سے کہا کہ ہائے اللہ تم کس پر چلے گئے ہو؟ اس دن مجھے سمجھ آئی کہ اسے کہتے ہیں کہ گدڑی میں لعل رکھنا۔‘

بشریٰ انصاری کہتی ہیں ’معین اختر کے والدین بھی انتہائی سادہ تھے، ان کے بچے بھی شرمیلے ہیں لیکن وہ اپنی ایک الگ روح لے کر دنیا میں آئے تھے۔‘

انور مقصود اور معین اختر

کامیڈی کنگ کے پاس کونسی گیدڑ سنگھی تھی؟

اس سوال کے جواب میں کہ معین اختر کا ہنسانے کا فارمولہ کیا رہا بشریٰ انصاری نے کہا کہ میرے اور معین اختر کے لیے زیادہ تر انور مقصود نے لکھا۔

’ایک تو انور صاحب کا لکھا سکرپٹ بہت ہی بہترین ہوتا تھا اور اس میں معین اختر اور میری طرف سے پھول پتیاں لگانے کی اجازت بھی ہوتی تھی۔ انورصاحب کا رویہ نرم ہوتا تھا اور اگر معین اختر اور میری طرف سے کوئی اچھی بات ہوتی تو اسے بھی کھیل کا حصہ بنایا جاتا تھا۔‘

’مجموعی طور پر معین اختر ہوم ورک کرنے کے عادی تھے۔ زندگی میں ان کا مشاہدہ بہت وسیع تھا۔ انھوں نے انڈیا میں آنکھ کھولی جہاں سینکڑوں زبانیں بولی جاتی تھیں۔ وہاں سے کراچی آئے تو اس شہر میں بھی کئی قومیں آباد ہیں۔ معین اختر انتہائی ذہین اور محنتی تھے۔ کوئی کردار دیکھتے تو اسے اپنے آپ میں مکمل جذب کر لیا کرتے تھے۔ مشاہدے کے ساتھ ساتھ انھوں نے مطالعے کی عادت بھی اپنا لی تھی۔ وہ انگریزی ادب، ڈرامہ، مزاح کے علاوہ اور بھی بہت کچھ پڑھتے رہتے تھے۔‘

معین اختر کے پاس کون سی گیدڑ سنگھی تھی جس نے انھیں کبھی زوال کا شکار نہ ہونے دیا؟

اس سوال کے جواب میں ان کے لڑکپن کے دوست اداکار شہزاد رضا نے کہا کہ وہ بلا کے ذہین انسان تھے جو حواس خمسہ کی پانچوں قوتوں جن میں قوت سامعہ، لامسہ، ذائقہ، شامئہ اور باصرہ شامل ہوتی ہیں، ان سے نہ صرف سیکھتے تھے بلکہ انھیں کام میں بھی لاتے تھے۔

’ان کا بے پناہ مشاہدہ تھا، لامحدود وقت تک وہ مطالعہ کرتے تھے اور پھر مزاح کے گمنام پہلوانوں کے ساتھ مشقت اور ریاضت کیا کرتے تھے اس طرح وہ اپنی گیدڑ سنگھی خود بنایا کرتے تھے۔‘

معین اختر

جب معین اختر نے اپنی گاڑی 10 ہزار روپے میں فروخت کی

معین اختر پر ہر لمحہ کچھ نیا کرنے کی دھن سوار رہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ زندگی کی ہر ساعت ان کا فنی قد بڑھتا گیا۔

شہزاد رضا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’70 کی دہائی کے آغاز میں انھوں نے ایک سٹیج ڈرامہ کیا جس کا نام ’بچاؤ معین اختر سے‘ تھا۔ اس ڈرامے کو پروڈیوس کرنے کے لیے انھوں نے اپنی پرانی گاڑی 10 ہزار روپے میں فروخت کر دی۔ اس کھیل میں انھوں نے طلعت اقبال، نرالا اور مجھ سمیت دیگر فنکاروں کو کاسٹ کیا۔‘

’میری فیس اس وقت 50 سے 60 روپے کے درمیان تھی۔ انھوں نے مجھے اس کھیل کے 100 روپے ادا کیے حالانکہ میں یہ کھیل بلامعاوضہ کرنا چاہتا تھا۔‘

ایک عرصے سے معیار اور ساکھ کے ساتھ کامیابیاں سمیٹنے والے پاکستانی آرٹسٹ سہیل احمد نے بتایا کہ معین اختر فیملی کامیڈی کے نیوٹن اور آئن سٹائن تھے۔

’ان کا انداز کامیڈی میں ناپ تول کا اعشاری نظام بنا رہا۔ مختلف شوز اور پروگراموں کے لیے جب ہمارا تعارف کراتے تھے یوں لگتا تھا جیسے ہم ہالی وڈ کے آرٹسٹ ہوں۔‘

معین اختر کے جونیئر حنیف راجہ نے کہا کہ معین بھائی اپنے کام کے شکسپئیر تھے۔’ وہ کسی کردار کو ادا کرنے کے ماہر تھے اور میزبانی میں انھوں نے وہ کارنامے نمایاں سرانجام دیے کہ معین اختر معیار او ر ساکھ کی منزل بن گئے۔‘

لوز ٹاک

معین اختر کا مجسمہ مادام تساڈ میں کیوں نہ سجایا گیا؟

معین اختر کی زندگی کی آخری دہائی میں تبدیلی رونما ہوئی اور وہ اسلام کی تبلیغ سے وابستہ ہو گئے تاہم انھوں نے اپنا تعلق شوبز سے نہیں توڑا۔

ان کے والد محمد ابراہیم محبوب 92 برس کی عمر میں فوت ہوئے اور معین اختر صرف 60 سال زندہ رہے۔ جینیاتی طور پر طویل عمری شاید معین اختر کو بھی نصیب ہوتی لیکن انھوں نے زندگی کا تصرف یوں کیا کہ صرف ایک جنم میں کئی جنم جیئے۔

انھیں دو مرتبہ ہارٹ اٹیک ہوا، اوپن ہارٹ سرجری کے بعد بھی انھوں نے اپنے مصروف معمولات زندگی نہ بدلے اور اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔

ان کے بیٹے منصور معین بتاتے ہیں کہ مادام تساڈ میوزیم کی طرف سے ہم سے اجازت طلب کی گئی کہ معین اختر کی فنی عظمت کے اعتراف میں وہ ان کا مجسمہ آویزاں کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم نے انکار کر دیا کیونکہ اسلام میں مجسمہ یا بت بنانا منع ہے۔

مادام تساڈ میوزیم میں معین اختر کا مجسمہ تو سجایا نہیں جا سکا لیکن چاہنے والوں کے دلوں میں ان کی تصویر کبھی دھندلی نہیں ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18852 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp