حدیں پار کرنے والی وہ شہزادی جس کی کتاب پہلی صلیبی جنگ کی اہم شہادت ہے


صلیبیوں کا قسطنطنیہ پر حملہ
صلیبیوں کا قسطنطنیہ پر حملہ: پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سردی اور بھوک سے ستائے یورپ سے آئے ان صلیبیوں نے قسطنطنیہ پر بھی حملہ کیا۔ اینا لکھتی ہیں کہ شہر کے دروازوں سے دھواں اٹھتا دیکھ کر قسطنطنیہ کے باسیوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ ان حملوں میں شہر کی دیوار کے باہر گرجا گھر بھی محفوظ نہ رہے۔

الیکسی ایڈ اور پہلی صلیبی جنگ

بدھ 27 نومبر 1095 کو پاپائے روم اربن دوم نے فرانس کے شہر کلیرمون میں ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے،عمر اور رتبے سے قطع نظر، ہر مسیحی کو مقامات مقدسہ کو آزاد کروانے کے لیے مشرق میں اپنے مسیحی برادران کی مدد کو جانے کی اپیل کی۔

ان کا یہ پیغام ہر مرد و عورت امیر اور غریب کے لیے تھا۔ کولووو لکھتی ہیں کہ وہ خاص طور پر ان نائٹس اور ان بااختیار افراد سے مخاطب تھے جن کا پر تشدد رویہ معاشرے کے لیے مسئلہ بنا ہوا تھا کہ اگر وہ اس مشن پر جائیں گے تو ان کے گناہ دھل جائیں گے۔

لیکن، کولووو لکھتی ہیں کہ، اب زیادہ تر سکالر اس بات پر متفق ہیں کہ پاپائے روم دراصل بازنطینی سلطنت کے شہنشاہ الیکسیوس کی مدد کی اپیل کا جواب دے رہے تھے جس میں انھوں نے مشرق سے سلجوک ترکوں کی آمد کے بعد مشرقی رومی سلطنت کو پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کیا تھا۔

’الیکسیوس نے فوجی امداد مانگی تھی جس کے جواب میں وہ اچھے تربیت یافتہ فوجیوں کی آمد کی توقع کر رہے تھے۔‘ اس جنگ کے کئی دہائیوں بعد اینا کومنینے نے خانقاہ کی خاموشی میں اپنی کتاب لکھتے ہوئے یاد کیا کہ کیسے انھیں اس وقت لگا تھا کہ پورا یورپ ہی ان کی سلطنت میں چلا آ رہا ہے اور ان کی تعداد ’ریت کے ذرات اور آسمان پر ستاروں‘ سے زیادہ تھی۔

ان کے والد نےمسلح تربیت یافتہ فوجیوں کی توقع کی تھی لیکن بدلے میں مسلح اور غیر مسلح فوجی اور غیر فوجی سبھی چلے آ رہے تھے اور ان کے پاس صرف ’ایمان‘ تھا۔

پہلی صلیبی جنگ کے شرکاء
اس جنگ کے کئی دہائیوں بعد اینا کومنینے نے خانقاہ کی خاموشی میں اپنی کتاب لکھتے ہوئے یاد کیا کہ کیسے انھیں اس وقت لگا تھا کہ پورا یورپ ہی ان کی سلطنت میں چلا آ رہا ہے اور ان کی تعداد ‘ریت کے ذرات اور آسمان پر ستاروں’ سے زیادہ تھی۔

سنہ 1096 میں صلیبیوں کی پہلی لہر یروشلم کے راستے میں قسطنطنیہ پہنچی۔ اینا کے مطابق یہ صلیبی تقریباً 80 ہزار پیدل افراد اور ایک لاکھ گھڑ سواروں پر مشتمل تھے۔ تاہم مؤرخین کا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے کم تھی۔ تاہم کولووو لکھتی ہیں ان کی تعداد اتنی ضرور تھی کہ قسطنطنیہ کی حکومت میں تشویش پھیل گئی۔ وہ لکھتی ہیں کہ ان میں زیادہ تر غریب لوگ تھے جن کا گزارا ان کے امیر ہمسفروں کی سخاوت پر تھا جو اپنی آخرت سنوارنے کے لیے ان کی مدد کر رہے تھے۔

زیادہ تر راستے کے سامان کے لیے شہنشاہ کی طرف دیکھ رہے تھے اور ان کی ’لالچی نظریں ان کی دولت پر بھی تھیں۔‘

الیکسیوس اس ہجوم کو جلد سے جلد اپنے دارالحکومت سے دور دیکھنا چاہتے تھے۔ کولووو لکھتی ہیں کہ وہ خود فوجی تھے اور اچھی طرح جانتے تھے کہ بھوکا ہجوم بہت جلد مسیحی اور مسیحی کا فرق بھول سکتا ہے اور انھیں یہ بھی معلوم تھا کہ اس ہجوم میں بہت سے لوگ مذہبی جذبے سے نھیں بلکہ بہتر امکانات کی تلاش میں یا مہم جوئی کے شوق میں گھر سے نکلے تھے۔

کولووو لکھتی ہیں کہ بعد میں ان صلیبیوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل عام سمیت جو ظلم و تشدد ہوا جس کی تفصیلات مغربی دستاویزات میں ملتی ہیں، اسے دیکھ کر شہنشاہ الیکسیوس کی تشویش جائز معلوم ہوتی ہے۔

انھوں نے اینا کومنینے کے حوالے سے بتایا کہ شہنشاہ نے ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بازار قائم کیے اور اپنے حکام کو ہدایت کی صلیبیوں کے ساتھ اچھی طرح پیش آئیں لیکن ان پر گہری نظر رکھیں۔

15 اگست سنہ 1096 کو صلیبیوں کی دوسری لہر یورپ سے روانہ ہوئی اور اینا کے مطابق اس ان کی تعداد تقریباً 80 ہزار تھی اور ان میں زیادہ تر فوجی تھے جن کے جنگ میں استعمال ہونے والے گھوڑے دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے۔

ان میں بڑی تعداد میں صاحب حیثیت لوگ تھے جن کا مقصد ترکوں سے ان کے علاقے حاصل کر کے اپنے لیے جاگیریں بنانا تھا۔ اینا کا خیال تھا کہ ’جہاں تک صاحب حیثیت صلیبیوں کا تعلق تھا یہی ان کا واحد اور اصل ارادہ تھا۔ مقامات مقدسہ کی آزادی تو بہانہ تھا جس کے پیچھے ان کی چالاکی چھپی ہوئی تھی۔‘

مؤرخ لکھتے ہیں کہ صلیبیوں کی اس دوسری لہر کا یروشلم کے طویل سفر کے دوران راستے میں وہ استقبال نہیں ہوا جو پہلی لہر میں جانے والوں کا ہوا تھا اور اس کی وجہ ان کے ہاتھوں راستے میں ہونے والی تباہی اور تشدد تھا۔

انھوں نے صلیبی فوج کی آمد کے ان مہینوں کے کئی واقعات درج کیے ہیں جس سے اس زمانے کی تصویر بنائی جا سکتی ہے۔ کولووو نے اینا کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ’ موضوع سے ہٹ کر لکھتی ہیں کہ لاطینی پادری بالکل یونانی آرتھوڈوکس پادریوں کی طرح نہیں تھے جو اصل تعلیمات پر عمل کرتے ہیں، اسلحہ لے کر نہیں چلتے، جنگوں میں حصہ نہیں لیتے، جبکہ لاطینی پادریوں کے لیے جنگ بھی اتنی ہی اہم ہے جتنا مذہب، وہ وحشی جو ہیں۔‘

پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سردی اور بھوک سے ستائے یورپ سے آئے ان صلیبیوں نے قسطنطنیہ پر بھی حملہ کیا۔ اینا لکھتی ہیں کہ شہر کے دروازوں سے دھواں اٹھتا دیکھ کر قسطنطنیہ کے باسیوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ ان حملوں میں شہر کی دیوار کے باہر گرجا گھر بھی محفوظ نہ رہے۔

مجبوراً شہنشاہ کو اپنے داماد نائیکوفورس کو روانہ کرنا پڑا لیکن انھیں حکم تھا کہ وہ تیر برسائیں لیکن اس بات کو یقینی بنائیں کے ہلاکتیں نہ ہوں۔ لیکن اس صورتحال میں خون کا نہ بہنا ممکن نہیں تھا۔ کولووو لکھتی یں کہ اینا نے جس طرح اس لڑائی کو بیان کیا اس سے یونانی کہانی ’ہومر‘ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp