حدیں پار کرنے والی وہ شہزادی جس کی کتاب پہلی صلیبی جنگ کی اہم شہادت ہے

اسد علی - بی بی سی اردو سروس ، لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اینا کومنینے

یہ تقریباً ایک ہزار سال پہلے سنہ 1081 کے قسطنطنیہ اور آج کے استنبول میں ایک خاندان کا ذکر ہے، جس کا نام آج بھی زندہ ہے۔ ایک رعب دار ماں، بیٹوں، بہوؤں اور دیگر افراد پر مشتمل اس خاندان نے اس سال اپریل کے مہینے میں مسیحی تہوار ایسٹر کے موقع پر فیصلہ کیا کہ وہ 40 روز تک صرف پانی اور باسی روٹی پر گزارا کریں گے، سروں میں خاک ڈال کر رہیں گے، زمین پر سوئیں گے اور اس دوران سب صرف انتہائی سادہ اور کھردرے coarse کپڑے پہنیں گے۔

ایک خانقاہ میں راہبوں کے کسی خاندان کا اس طرح رہنا تو کسی بھی زمانے میں عام بات ہے، لیکن یہ کسی خانقاہ کا منظر تھا اور نہ ہی اس خاندان کے لوگ راہب تھے، کم سے کم ان دنوں میں تو نہیں تھے جہاں سے یہ بات شروع ہوئی ہے۔

ایسا رویہ کئی بار کسی گناہ یا غلطی کے کفارے کے طور پر اپنایا جاتا ہے اور 11ویں صدی میں دنیا کے ایک امیر ترین شہر قسطنطنیہ میں کومنینے خاندان بھی 40 دن کے لیے اپنے آپ کو تکلیف دے کر ایسا ہی کر رہا تھا۔

قصہ یہ ہے کہ اس خاندان کا دوسرا بیٹا بازنطینی سلطنت یا مشرقی رومی سلطنت کا شہنشاہ بن چکا تھا۔ لیکن شہنشائیت کی ایک خاندان سے دوسرے خاندان کو اس منتقلی کے دوران بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے تھے اور نئے شاہی خاندان کے حامی فوجیوں نے سلطنت کے دارالحکومت قسطنطنیہ میں داخل ہوتے ہوئے عام لوگوں پر ظلم و تشدد بھی کیا تھا۔

مؤرخین کا خیال ہے کہ ایسٹر کے موقع پر اور اپنے بیٹے کی تخت نشینی کے موقع پر جشن اور تقریبات کی بجائے کفارے کا فیصلہ کومنینے خاندان کی سربراہ بوڑھی والدہ اینا دیلاسین کا تھا، جو نہیں چاہتی تھیں کہ ان کے بیٹے کے اقتدار کا آغاز، خدا یا قسطنطنیہ کی عوام، دونوں میں سے کسی کی بھی ناراضی سے ہو۔ یہی وجہ تھی کہ پہلے 40 دن ان کے بیٹے اور بازنطینی سلطنت کے نئے شہنشاہ الیکسیوس کے سر پر تاج کی بجائے خاک تھی۔

یہ وہ وقت تھا جب صدیوں پرانی بازنطینی سلطنت مشکل دور سے گزر رہی تھی اور بڑے پیمانے پر خانہ جنگی دیکھ چکی تھی۔ وہ ایک طاقتور اور تجربہ کار حکمران کی تلاش میں تھی۔ کومنینے خاندان سلطنت کے طاقتور خاندانوں میں سے ایک تھا، اس کے دو بیٹے الیکسیوس اور ان کے بھائی آئزک شاہی حلقوں میں اہمیت رکھتے تھے اور ان کا ایک رکن ماضی میں مختصر مدت کے لیے تخت پر بیٹھ چکا تھا۔

الیکسیوس جو 18 برس کی عمر میں جرنیل بن گئے تھے، ان کو ایک طرف اس دور کے شہنشاہ کا مقبول نہ ہونا اور کمزور داخلی صورتحال اور دوسری طرف فوج میں اپنی حیثیت تخت تک لے گئی۔ اس دور کے شہنشاہ کے خلاف الیکسیوس سے پہلے سات جرنیل بغاوت کر کے خود شہنشاہ بننے کی کوشش کر چکے تھے۔

شاہی محل کی آسائشوں کے بیچوں بیچ اس سلطنت کے نئے شہنشاہ اور ملکہ کی خاک نشینی کی یہ تصویر اس واقعے کے تقریباً 50 سال بعد 12ویں صدی میں لکھی گئی کتاب ’الیکسی ایڈ‘ میں درج ہے۔ اس کتاب کی مصنفہ شہزادی اینا کومنینے ہیں جو شہنشاہ الیکسیوس کی تخت نشینی کے تقریباً دو سال بعد پیدا ہوئیں اور ان کی پہلی اولاد تھیں۔ اینا کرومنینے کو آج قرون وسطیٰ کی ایک عظیم مؤرخہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

اینا کی پیدائش کے وقت تک شاہی جوڑے کے ہاں اتنی دیر اولاد نہ ہونے کی وجہ سے محل میں سازشی قوتیں حرکت میں آ چکی تھیں۔ لیکن یکم دسمبر 1083 کو اینا کی پیدائش نے تمام چہ مگوئیاں دفن کر دیں۔ سب کو معلوم ہو گیا کہ شہنشاہ اور ملکہ کے تعلقات ٹھیک ہیں اور دوسری شادی کی گنجائش نہیں اور یہ کہ ان کے ہاں طبی طور پر بچہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ اور اگر آج بیٹی ہوئی ہے تو کل کو بیٹے کی پیدائش بھی ممکن ہے۔ اینا کے بعد ان کے والدین کے ہاں آٹھ مزید بچوں کی پیدائش ہوئی۔

اینا کومنینے
اینا کومنینے کا بڑا کمال یہ نہیں تھا کہ انھوں نے 15 جلدوں پر مشتمل تاریخ کی کتاب لکھی بلکہ قرون وسطیٰ کے بازنطینی معاشرے میں اصل کمال اور انوکھی بات یہ تھی کہ انھوں نے یہ کتاب لڑکی ہونے کے باوجود لکھی۔ 11ویں صدی کی بازنطینی سلطنت کے ماحول کے پس منظر میں دیکھا جائے تو انھوں نے یہ کتاب لکھنے کے لیے وہ حدیں پار کیں جو ’اچھے‘ گھر کی لڑکیاں نہیں کرتی تھیں۔

شہزادی کی پیدائش کے بعد اب لوگوں کی مصروفیت شہنشاہ کے لیے نئی ملکہ کے بجائے شہزادی کے لیے بازنطینی اشرافیہ میں مناسب رشتے کی تلاش تھی۔

یونانی نژاد مؤرخہ جولیا کولووو سنہ 2020 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’اینا کومنینے اور الیکسی ایڈ: بازنطینی شہزادی اور پہلی صلیبی جنگ‘ ( Anna Komnene and the Alexiad: The Byzantine Princess and the First Crusade) میں بتاتی ہیں کہ قرون وسطیٰ کے یونانی معاشرے میں لڑکی کے لیے شادی کی عمر 12 برس اور لڑکے لیے 14 برس تھی۔ انھوں نے لکھا ہے کہ کہ اینا کے والد شہنشاہ الیکسیوس نے یہ عمر بڑھا کر 14 اور 15 سال کر دی تھی۔ لیکن اس کے باوجود سلطنت میں سن بلوغت سے پہلے بچوں کی شادیاں انہونی بات نہیں تھیں۔

کہانی میں آگے بڑھنے سے پہلے ایک اور بازنطینی شہزادی کا ذکر جن کی زندگی کو اس دور میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی ’سب سے بڑی مثال کے طور پیش کیا جاتا ہے۔‘ سیمیون پانچ برس کی تھی جب ان کے والد شہنشاہ اینڈرونیکس نے سربیا کے 50 سالہ بادشاہ سٹیفن سے ان کی شادی کر دی۔

شہنشاہ الیکسیوس
شہنشاہ الیکسیوس: سنہ 1081 میں حکمران بننے کے بعد الیکسیوس تقریباً چالیس برس تک اور پھر ان کے بیٹے جان 20 برس تک بازنطینی سلطنت کے شہنشاہ رہے۔ شہزادی اینا نے 15 جلدوں پر مشتمل اپنی کتاب ‘الیکسی ایڈ’ میں اپنے والد کے دور کا تفصیلی احوال پیش کیا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جب شہزادی کی عمر 7 برس تھی بادشاہ سٹیفن نے ان سے سیکس کی کوشش کی جس کے نتیجے میں وہ ہمیشہ کے لیے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئی تھیں۔ اس کے بعد بھی ان کی پوری زندگی زیادتی کی مثال بنی رہی جس میں تاریخ پڑھیں تو ان کے والد ان کے شوہر کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔

شہزادی سیمیون کی شادی کا یہ واقعہ شہزادی اینا کرومنینے کی پیدائش سے تقریباً دو صدیوں بعد کا ہے۔

اینا کومنینے سات برس کی تھی جب وہ اپنے ہونے والے شوہر کے گھر بھیج دی گئی تھی۔ ان کے منگیتر کانسٹنٹائین ڈوکاس تھے جو ایک سابق شہنشاہ مائیکل ہفتم کے بیٹے تھے۔ یہ منگنی اینا کی پیدائش کے کچھ ہی عرصے بعد ہوئی تھی۔ دونوں بچوں کو منگنی کے وقت بازنطینی عوام کے سامنے پیش کیا گیا اور سب کی نظروں میں وہ مستقبل کے شہنشاہ اور ملکہ تھے۔ لیکن یہ صورتحال دیر تک قائم نہیں رہ سکی کیونکہ جب اینا چار برس کی تھی ان کے والدین ہاں بیٹے کی پیدائش ہو گئی۔ اس کے علاوہ کانسٹنٹائین کا بھی جلد انتقال ہو گیا۔

اینا 12 برس کی عمر میں اپنے گھر واپس آ گئیں۔

یہیں سے، شہزادی کی طرف سے تاریخ لکھنے کے فیصلے کے بعد، کہانی میں دلچسپی کا مرکز نصف صدی سے زیادہ عرصے تک دنیا کی ایک بڑی سلطنت کے شہنشاہ رہنے والے دو باپ بیٹے نہیں رہتے بلکہ تاریخ لکھنے کی جرات کرنے والی ایک شہزادی بن جاتی ہے۔ شہزادی جس کی اس معاشرے میں ذمہ داری زمانے کے تقاضوں کے مطابق لڑکی ہونے کے ناطے صرف شادی کرنا اور نبھانا ہونی چاہیے تھی۔

سنہ 1081 میں حکمران بننے کے بعد الیکسیوس تقریباً 40 برس تک اور پھر ان کے بیٹے جان 20 برس تک بازنطینی سلطنت کے شہنشاہ رہے۔ شہزادی اینا نے 15 جلدوں پر مشتمل اپنی کتاب ’الیکسی ایڈ‘ میں اپنے والد کے دور کا تفصیلی احوال پیش کیا ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے پہلی صلیبی جنگ کا بھی تفصیلی ذکر کیا ہے اور اسے اس جنگ کی ایک اہم دستاویز سمجھا جاتا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ شہزادی اینا کے والد نے سلطنت کی مشرقی سرحدوں پر سلجوکوں کی صورت میں پیدا ہونے والے خطرے سے نمٹنے کے لیے پاپائے روم سے مدد طلب کی تھی جس کے جواب میں پاہائے روم نے صلیبی جنگ کا اعلان کر دیا۔ یہ بات الگ ہے کہ، مؤرخین کے مطابق، شہنشاہ الیکسیوس صلیبی جنگ کے اعلان سے حیران رہ گئے تھے اور وہ اس سے کچھ زیادہ خوش نہیں تھے، لیکن اس پر مزید بات آگے چل کر کریں گے۔

ایسا نہیں کہ شہزادی اینا میں ’تخت کے لالچ‘ کا ذکر نہیں ہوتا یا پہلی اولاد ہونے کے ناطے انھوں نے اس کی کوشش نہیں کی ہو گی۔ کچھ مؤرخین لکھتے ہیں انھوں نے اپنے والد کی موت کے بعد اپنے بھائی کے خلاف سازش کر کے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر اقتدار حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی تھی اور اسی پاداش میں انھیں اپنی زندگی کے آخری سال راہبہ کے طور پر ایک خانقاہ میں گزارنے پڑے جہاں انھوں نے اپنی کتاب ’الیکسی ایڈ‘ لکھی۔

خانقاہ اور راہبہ والی بات تو حقیقت ہے لیکن ان کو زبردستی وہاں بھیجنے والی بات پر سب مؤرخ متفق نہیں۔

اینا کومنینے کا بڑا کمال یہ نہیں تھا کہ انھوں نے 15 جلدوں پر مشتمل تاریخ کی کتاب لکھی بلکہ قرون وسطیٰ کے بازنطینی معاشرے میں اصل کمال اور انوکھی بات یہ تھی کہ انھوں نے یہ کتاب لڑکی ہونے کے باوجود لکھی۔ 11ویں صدی کی بازنطینی سلطنت کے ماحول کے پس منظر میں دیکھا جائے تو انھوں نے یہ کتاب لکھنے کے لیے وہ حدیں پار کیں جو ’اچھے‘ گھر کی لڑکیاں نہیں کرتی تھیں۔

کولووو لکھتی ہیں کہ بہترین اساتذہ کے ہوتے ہوئے بھی قسطنطنیہ میں کسی لڑکی کے لیے علم کے حصول میں بہت سی مشکلات تھیں۔ ’سب سے اہم بات یہ کہ عورت کا دانشور ہونے کا تصور ہی لوگوں کے لیے عجیب تھا، ایسی عورت کو کرشمہ سمجھا جاتا تھا یا بلا۔‘ روایتی سوچ کے مطابق علم کا حصول اور دانش مردانہ خصوصیات تھیں اور عورت اپنے ’جذباتی‘ مزاج کی وجہ یہ اس کی اہل نہیں تھی۔

شہنشاہ الیکسیوس
شہنشاہ الیکسیوس: ’زیادہ تر سکالر اس بات پر متفق ہیں کہ پاپائے روم دراصل بازنطینی سلطنت کے شہنشاہ الیکسیوس کی مدد کی اپیل کا جواب دے رہے تھے جس میں انھوں نے مشرق سے سلجوک ترکوں کی آمد کے بعد مشرقی رومی سلطنت کو پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کیا تھا۔‘

مؤرخہ لیونورا نیول سنہ 2016 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’اینا کومنینے: قرون وسطیٰ کی ایک مؤرخہ کی زندگی اور کام‘( Anna Komnene: The Life and Work of a Medieval Historian) میں لکھتی ہیں کہ شہزادی اینا کی پیدائش صدیوں سے چلی آ رہی روایت کے مطابق اور کسی بھی اور رومی شہزادی کی طرح سنگ سماق (پورفری ماربل) سے سجے اس خصوصی کمرے میں ہوئے جو ڈلیوری کے مخصوص تھا۔ اس کمرے میں شہزادوں اور شہزادیوں کی پیدائش کی اس روایت کی جڑیں قدیم رومی سلطنت کے دارالحکومت روم میں ملتی ہیں۔

بلکہ جب رومی سلطنت کے مغربی حصے کے زوال کے بعد اس کا دارالحکومت روم سے مشرق میں قسطنطنیہ منتقل ہوا تو یہ کمرہ صدیوں پرانے پتھروں کے ساتھ جوں کا توں وہاں لایا گیا۔ مؤرخ کہتے ہیں دنیا کی تمام دولت اس جیسا یا اس سے بھی قیمتی پتھروں کا نیا کمرہ تو بنوا سکتی تھی لیکن اس کمرے میں پیدائش کا اعزاز سب کے لیے نہیں تھا۔

لیکن اینا کو اس طرح کی شان و شوکت سے زیادہ علم میں دلچسپی تھی۔ مؤرخہ نیول لکھتی ہیں کہ، شہزادی اینا اپنے دور کی بڑی دانشور اور قرون وسطیٰ کی نامور مؤرخ تھیں۔ ایسا نہیں کہ شہنشاہوں کی بیٹیاں پڑھی لکھی نہیں ہوتی تھیں بلکہ کچھ کو کلاسیکل علوم پر دسترس بھی ہوتی تھی، لیکن ’اینا کی تعلیم کا معیار بہت بلند تھا۔‘ اینا کی کامیابی کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس ماحول اور لڑکیوں کے بارے میں معاشرے کے نظریات کو سمجھنا ضروری ہے جس میں انھوں نے تعلیم حاصل کرنے کی جرات کی۔

’لڑکی کے کان اور آنکھیں کنواری ہونے کا تقاضہ اور تاریخ نویسی کا شوق

لڑکیوں کے بارے میں معاشرے کے نظریات کے ذکر سے پہلے مؤرخ کولووو کی کتاب میں دی گئی ایک مثال کا ذکر کرتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’11ویں صدی کے بازنطینی جنرل اور زمیندار کیکامینوس نےاپنے بیٹے کو نصیحت کی تھی کہ اگر بیٹیوں کو گھر میں مجرموں کی طرح قید کر کے نہ رکھا جائے تو وہ خاندان کی عزت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔‘ تاہم کولوو لکھتی ہیں کہ ’یہ باتیں ہوتی ضرور تھیں لیکن ضروری نہیں کہ حقیقت میں ایسی ہی سختی ہو۔‘

اب مؤرخہ لیونورا نیول کی کتاب سے چند اقتسابات جن میں قرون وسطیٰ کی بازنطینی سلطنت میں عورتوں کے بارے میں نظریات کی ایک جھلک پیش کی گئی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ بازنطینی کلچر میں یہ خیال حاوی تھا کہ مرد کی بالا دستی ہونی چاہیے اور عورت کو مکمل طور پر تابعدار ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق عورتوں کا مردوں کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کو بدی سے تعبیر کیا جاتا تھا۔

’مرد مصنفین کی طرف سے عورتوں کے بارے میں خطرے کا اظہار کیا جاتا تھا کہ وہ مردوں کو جنسی طور پر نہ اکسا دیں جس کے بعد مرد اپنے اوپر کنٹرول کھو دیں۔‘

’قرون وسطیٰ کے یونانی معاشرے میں اپنے جذبات پر کنٹرول مردانگی کا اہم پہلو سمجھا جاتا تھا۔ مردوں میں سیکس کے جذبات ابھار کر شہوت انگیز عورتیں سماجی نظام کو خطرے میں ڈالتی تھیں۔‘

’عورت کی گفتار سیکس کے جذبات ابھارنے کا بڑا ذریعہ بن سکتی ہے، اس لیے باکردار عورتیں وہ سمجھی جاتی تھیں جن کو اپنی گفتار پر کنٹرول تھا، اپنی نظر پر کنٹرول تھا اور اپنے پورے جسم کی حرکت پر کنٹرول تھا۔ باکردار عورتیں اس بات کا دھیان رکھتی تھیں کہ ان کے جسم کی کوئی حرکت یا دوسروں کو دیکھنے کا انداز جنسی جذبات ابھارنے والا نہ ہو۔‘

’عورتوں کا مکمل پردہ اور مردوں کے لیے انھیں دیکھنے کے مواقع ختم کرنا بہترین سمجھا تھا۔‘

’کسی عورت کے لیے کتنا اچھا رشتہ آئے گا، اس کا انحصار اس بات پر ہوتا تھا کہ اس عورت کو پبلک میں کتنا کم دیکھا گیا تھا۔‘

’بازنطینی معاشرے کی نظروں میں اچھے سماج کا یہ تصور کہ با کردار عورت نظروں سے اوجھل رہے اور کم گو ہو دراصل قدیم یونانی معاشرے کی اقدار کا ایک تسلسل تھا۔‘

’قرون وسطیٰ کے یہ رویے بازنطینی کلچر کا اہم ستون تھے۔ پھر عیسائی اخلاقی تھیولوجی نے، جن میں عورتوں کو مردوں کی گمراہی کا ذریعہ کہا گیا ہے، ان پرانے رویوں کو مزید طاقت بخش دی تھی۔‘

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3 4

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18943 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp