ہم ناز کے ساتھ صحافت کے عہد سحر میں زندہ ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ”ناز“ کے ساتھ صحافت کے ”عہد سحر“ میں زندہ ہیں۔ اس لئے ناز کے ساتھ زندہ ہیں کہ ہم احمد پور شرقیہ سے تعلق رکھنے والے ملک کے بین الاقوامی شہرت یافتہ صحافی، تحصیل احمد پور شرقیہ میں انگریزی صحافت کے بانی و معمار، رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان کے صدر اور معاصر روزنامہ ”نوائے احمد پور شرقیہ“ کے مدیر اعلیٰ احسان احمد سحر کو جانتے ہیں اور سچے دل سے مانتے ہیں۔

گزشتہ روز احسان احمد سحر کے چاہنے والوں نے ان کی 66 ویں سالگرہ منائی اور ان کی 44 سالہ صحافتی خدمات اور آزادی صحافت کے لئے کی جانے والی ان کی عملی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کیا۔

صحافت کی کشت ویراں میں، جہاں بالشتیے صحافیوں کے درمیان ریٹنگ اور آگے بڑھنے کی بے ہنگم دوڑ لگی ہوئی ہے، ہمیں ناز ہے کہ احسان احمد سحر جیسے حقیقی معنوں میں سینئر اور عامل صحافی بھی ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔ جنہیں دیکھ کر اہل صحافت کی قحط الرجالی کا دکھ اور صحافت کی زرد دھوپ کی تپش کچھ کم محسوس ہوتی ہے۔

احسان احمد سحر صحافت میں ہمارے والد بزرگوار رسول بخش نسیم کے ہم عصر اور ان کے دوست۔ ہماری بدقسمتی کہ ہم اتنا عرصہ ان سے ”روبرو“ شرف بازیابی سے محروم رہے، ٹیلی فون پر البتہ متعدد بار ”دوبدو“ ملاقات کا شرف حاصل رہا۔ ہماری سست روی کے کارن غائبانہ نیاز مندی کی یہ کٹھالی جانے کب تک رواں رہتی کہ 25 نومبر 2020 ء کو انہوں نے اپنے قدوم میمنت لزوم سے حیرت آگیں خوش گواریت سے طبیعت کو شانت کیا اور پہلی ملاقات کا سامان کیا۔

دوسری مرتبہ وہ اوچ پریس کلب کی طرف سے، ہماری ایڈیٹر ”روشنی“ ای میگزین کے طور پر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ ملتان تعیناتی پر، 28 مارچ 2021 ء کو جناح ہال اوچ شریف میں ہمارے اعزاز میں سجائی جانے والی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے، اس موقع پر تقریب کے منتظمین نے جہاں ان کی صحافتی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کی دستار بندی کی، وہاں احسان احمد سحر کی طرف سے ہمیں عطا کی جانے والی کتاب ”یونیسکو آزادی اظہار خیال ٹول کٹ“ کا نایاب تحفہ تادیر ان کی محبت کی یاد دلاتا رہے گا۔

70 ء کی صبر آزما دہائی میں جب ملک کے کوچہ و بازار میں ہمارے ”محبوب“ جنرل کی ”اسلام پسندی“ کا طوطی بولتا تھا اور آمریت کی ”باوضو“ پچھل پیری اپنے چیچک زدہ چہرے پر مذہب کا غازہ تھوپ کر اپنی تمام تر پارسائی اور خود ساختہ خوبصورتی کے ساتھ اہل صحافت کی برہنہ پیٹھوں پر کوڑے برسا رہی تھی، اس وقت احسان احمد سحر، رسول بخش نسیم، مرزا منصور یاور، اور محمد اقبال چوغطہ جیسے جید صحافی تحصیل احمد پور شرقیہ کی صحافی برادری کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کے لئے سب ڈویژنل یونین آف جرنلسٹس اور پریس کلب کی بنیادیں استوار کر رہے تھے۔

احسان احمد سحر کی شخصیت ہمارے لئے کچھ یوں بھی نوسٹیلجیک ہے کہ ہمارے ابا جی ان کا ذکر احترام اور محبت سے کرتے تھے، ہمارے بچپن میں کئی بار ایسا ہوا کہ جب ہم ڈاک خانہ سے ابو جی کی ڈاک لینے جاتے تو ہمارے ”پوسٹ بکس نمبر 4“ میں خطوط اور اخبارات و رسائل کے ڈھیر کے ساتھ ”نوائے احمد شرقیہ“ کے چند شمارے ضرور ہوتے جو سحر صاحب ازراہ محبت و مروت باقاعدگی کے ساتھ نسیم صاحب کی اور بھیجتے۔

احسان احمد سحر کے ساتھ ہمارے تعارف کی ایک وجہ 1970 ء کی دہائی کے آخری دنوں کی وہ بلیک اینڈ وائٹ تصویر تھی جس میں وہ صحافیوں کی حلف برداری تقریب میں دیگر صحافیوں کے ہمراہ ابو جی کے انتہائی قریب نمایاں نظر آ رہے ہیں، کافی عرصہ وہ بلیک اینڈ وائٹ تصویر فریم میں جڑی ابو جی کے دفتر نما کمرے میں دیوار کی زینت بنی رہی۔

احسان احمد سحر 9 مئی 1955 ء کو احمد پور شرقیہ میں کیپٹن عبدالصمد خان کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کے آبا و اجداد افغان شہر جلال آباد کے یوسف زئی پٹھان قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد کیپٹن عبدالصمد خان کی جائے پیدائش بھی جلال آباد تھی جو تقسیم برصغیر سے قبل مہاراجہ پٹیالہ کی فوج، پھر نواب آف بہاول پور کی سٹیٹ فورسز اور قیام پاکستان کے بعد پاک فوج کی 7 بلوچ رجمنٹ میں عسکری خدمات سرانجام دیتے رہے۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران جاوا، سماٹرا اور برما کے محاذوں پر خدمات سرانجام دیں، 1965 ء کی پاک بھارت جنگ میں وہ کھیم کرن کے محاذ پر زخمی ہوئے اور تمغا حاصل کیا۔

احسان احمد سحر نے ابتدائی تعلیم کانونٹ سکول لاہور سے حاصل کی، 1969 ء میں گلبرگ ہائی سکول لاہور سے میٹرک کی، 1971 ء میں گورنمنٹ ایس اے کالج ڈیرہ نواب صاحب سے انٹرمیڈیٹ اور 1973 ء میں ایس ای کالج بہاول پور سے گریجوایشن کی تعلیم مکمل کی جبکہ 1976 ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔

زمانہ طالب علمی میں احسان احمد سحر طلبہ سیاست میں انتہائی سرگرم رہے۔ ترقی پسند سٹوڈنٹ رہنما کے طور پر سیاست میں آپ کے آئیڈیلز ماؤزے تنگ اور ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ 1969 ء میں آپ این ایس ایف کے بانی رکن جبکہ 1971 ء میں پی ایس ایف کے بانی رکن اور بعد ازاں بہاول پور کے ضلعی و ڈویژنل نائب صدر کے طور پر متحرک رہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں آپ مرکزی اور صوبائی سطح پر قائم متعدد کمیٹیوں کے رکن رہے۔ اسی دور میں اس وقت گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر نے صوبائی سطح پر 27 رکنی اصولی کمیٹی تشکیل دی تو آپ کو بھی اس کا رکن بنایا گیا۔

1975 ء میں آپ ینگ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے، 29 مئی 1975 ء کو ٹاؤن ہال لاہور میں منعقدہ وائی ایس ایف کی تقریب حلف برداری میں اس وقت کے وزیر اعلی پنجاب محمد حنیف رامے نے آپ سے عہدے کا حلف لیا۔ 1976 ء میں ینگ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام یونیورسٹی گراؤنڈ میں طلبہ کنونشن منعقد کرایا جس میں امیر آف بہاول پور نواب صلاح الدین عباسی نے پہلی بار عوامی اجتماع میں آپ کی دعوت پر شرکت کی۔ فوجی آمر جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں آپ پر کئی مقدمات قائم ہوئے جن کا آپ نے نہایت جواں مردی سے سامنا کیا۔

احسان احمد سحر نے باقاعدہ صحافت کا آغاز 1977 ء میں کراچی سے شائع ہونے والے ہفت روزہ ”قیادت“ کی نمائندگی سے کیا، اسی دور میں آپ معروف صحافی ضیاء شاہد کے زیر ادارت شائع ہونے والے ہفت روزہ ”صحافت“ ، مجیب الرحمٰن شامی کے ہفت روزہ ”زندگی“ اور عبدالقادر حسن کے ہفت روزہ ”افریشیا“ میں مسلسل ضلع بہاول پور کے مسائل اور سیاسی و سماجی منظر ناموں پر مکتوبات تحریر کرتے رہے۔

آپ برصغیر کے نامور صحافی آغا شورش کاشمیری کے ہفت روزہ ”چٹان“ میں اس کے بند ہونے تک لکھتے رہے۔ مسعود شورش کے ساتھ بھی صحافتی فرائض سرانجام دیے۔ 1979 ء میں آپ بہاول پور سے شائع ہونے والے علاقائی روزنامہ اخبارات ”سیادت“ اور ”کائنات“ سے منسلک ہو گئے، کافی عرصہ خبر رساں ایجنسی پاکستان پریس انٹرنیشنل (پی پی آئی) کے ضلعی نمائندہ خصوصی کے طور پر کام کیا۔ 1992 ء سے 1993 ء کے دوران آپ اپنے وقت کے مقبول ترین روزنامہ ”مشرق“ کے احمد پور شرقیہ میں نمائندہ رہے۔ 1991 ء سے 1999 ء تک موقر روزنامہ ”جنگ“ لاہور کی نمائندگی اختیار کی۔ آپ کا شمار ان سات صحافیوں میں تھا جن کی ہر ہفتے ”جنگ“ میں سیاسی ڈائری شائع ہوتی تھی۔

احسان احمد سحر 1992 ء سے 1997 ء تک انگریزی روزنامہ ”فرنٹیئر پوسٹ“ کے علاقائی نمائندے کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔ اس دوران آپ ”ڈیلی ٹائمز“ میں بھی لکھتے رہے جبکہ 2001 ء سے انگریزی روزنامہ ”دی نیشن“ کے نمائندے کے طور پر صحافتی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

احسان احمد سحر نے 23 مارچ 1989 ء میں اپنے زیر ادارت ”نوائے احمد پور شرقیہ“ کا اجراء کیا، آڈٹ بیورو آف سرکولیشن سے تصدیق شدہ اشاعت کا حامل روزنامہ ”نوائے احمد پور شرقیہ“ واحد علاقائی اخبار ہے جو مسلسل شائع ہو رہا ہے اور میڈیا لسٹ میں شامل ہے۔ ”نوائے احمد پور شرقیہ“ دراصل ”نوائے سروش“ ہے، ہمارے عہد کا محضر نامہ۔ جس میں مقامی منظر نامے کے ساتھ ساتھ معاصر سیاست اور تاریخ کا عکس جھلکتا ہے اور سحر صاحب کے خواب ہمکتے ہیں۔

اپریل 1986 ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو طویل جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئیں تو ان کا ایکسکلوزو انٹرویو کرنے کا اعزاز احسان احمد سحر کو حاصل ہوا۔ یہ انٹرویو بعد ازاں ”پی پی آئی“ اور ”چٹان“ میں شائع ہوا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ”نوائے احمد پور شرقیہ“ کے اجراء پر اخبار کے لئے خصوصی طور پر اپنے ہاتھ سے پیغام لکھ کر بھیجا۔

اسی دور میں آپ کو معروف ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے بھی ایکسکلوزو انٹرویو کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ان دو شخصیات کے علاوہ آپ پاکستان کے سابق صدر سردار فاروق احمد خان لغاری، سابق نگران وزیر اعظم اور نیشنل پیپلز پارٹی کے سربراہ غلام مصطفی جتوئی، سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی، صوبہ بہاول پور کے سابق وزیر اعلی مخدوم زادہ حسن محمود، امیر آف بہاول پور نواب صلاح الدین عباسی، پاکستان قومی اتحاد کے جنرل سیکرٹری پروفیسر غفور احمد، پنجاب اسمبلی کے قائد حزب اختلاف علامہ رحمت اللہ ارشد، کنونشن مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری ملک محمد قاسم، ائر چیف مارشل ذوالفقار علی خان اور موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سمیت ملک کی نامور سیاسی شخصیات اور مختلف شعبوں میں ملک کا نام روشن کرنے والے ہیروز سے خصوصی انٹرویوز کا شرف حاصل کر چکے ہیں۔

پاکستان میں صحافت کی آزادی اور صحافتی برادری کے حقوق اور اس کے تحفظ کے لئے احسان احمد سحر نے عملی جدوجہد کی۔ آپ پاکستان میں صحافیوں کے تحفظ اور حقوق کے حوالے سے 2012 ء سے 2017 ء تک اقوام متحدہ کے فوکل پوائنٹ تعینات رہے۔ پاکستان میں صحافت کی آزادی اور صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے آپ 2015 ء سے 2017 ء تک یونیسکو ورکنگ گروپ کے رکن اور پریس فریڈم ایڈووکیٹ رہے۔ یونیسکو ورکنگ گروپ کا آخری اجلاس اسلام آباد میں سویڈن کے سفیر کی رہائش گاہ پر ہوا جس میں آپ نے بنفس نفیس شرکت کی۔

احسان احمد سحر نے علاقائی صحافت کے فروغ اور نئے صحافیوں کی عملی تربیت و آموزش کے لئے رورل میڈیا نیٹ ورک پاکستان نامی ایک باوقار تنظیم قائم کی اور اس کے پلیٹ فارم پر درجنوں آگاہی و تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا۔ ان ورکشاپس میں بی بی سی لندن کے معتبر صحافی مائیکل گریفن سمیت لاہور، اسلام آباد، کراچی اور بہاول پور کے کئی سینئر اور نامور صحافی ٹریننگ دیتے رہے۔

احسان احمد سحر نے آزادی صحافت کی جنگ میں زخمی اور جاں بحق ہونے والے صحافیوں کے لئے 2005 ء میں آر ایم پی صادق پریس فریڈم ایوارڈ کا اجراء کیا، انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ کی سابق ڈائریکٹر ایلیسن بیتھل میکنزے اور اخباری مالکان کی دنیا کی سب سے بڑی تنظیم ورلڈ ایسوسی ایشن آف نیوز پیپرز اینڈ نیوز پبلشرز کی سپانسر شپ میں اب تک کئی صحافیوں کو یہ ایوارڈ دیا جا چکا ہے۔ 2011 ء میں اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی پہلی خاتون ویلاگ صحافی سعدیہ حیدری کو ایک لاکھ 25 ہزار روپے کی مالیت کے آر ایم پی صادق پریس فریڈم ایوارڈ سے نوازا گیا۔

مذکورہ خاتون کے خاوند عزیز اللہ حیدری بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز سے منسلک تھے اور 2001 ء میں افغانستان کے شہر ننگرہار میں صحافتی فرائض کی انجام دہی میں طالبان کے ہاتھوں قتل ہو گئے تھے۔ سعدیہ حیدری اس وقت خاتون خانہ تھیں لیکن اپنے خاوند کی شہادت کے بعد انہوں نے کیمرہ اٹھایا اور ویڈیو جرنلسٹ بن گئیں۔ مذکورہ خاتون صحافی کے علاوہ آر ایم پی صادق پریس فریڈم ایوارڈ اب تک شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ سے تعلق رکھنے والے شہید صحافی ملک ممتاز، بہاول نگر کے مرحوم صحافی گلزار احمد چوہدری اور ملتان کے سینئر صحافی ظفر آہیر کو دیے جا چکے ہیں۔

احسان احمد سحر نے پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے بنیادی اجزاء اور اصول و ضوابط پر دو کتب بھی شائع کیں جن کا پیش لفظ نجم سیٹھی نے تحریر کیا جبکہ صحافیوں کے تحفظ اور سلامتی کے موضوعات پر مختلف اوقات میں تین تربیتی مینوئل بھی ترتیب دے چکے ہیں۔

احسان احمد سحر مختلف ادوار میں غیر ملکی صحافتی تنظیموں کی دعوت پر جنوبی افریقہ، انڈونیشیا، ملائشیا، جرمنی، ہانگ کانگ، قطر، سعودی عرب اور کمبوڈیا میں سیفٹی آف جرنلسٹس، سیلف انوائرمنٹ اور جرنلزم ٹریننگ کے حوالے سے منعقد ہونے والی کئی بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کر چکے ہیں۔ 2001 ء میں ورلڈ ایسوسی ایشن اف نیوز پیپرز کی دعوت پر جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں منعقدہ کانفرنس میں پاکستان سے شریک ہونے والے آپ واحد ایڈیٹر تھے۔ اس کانفرنس میں 120 ممالک سے 16 سو مندوبین نے شرکت کی تھی۔ 2009 ء میں انڈین نیوز پیپرز سوسائٹی نے آپ کو ایک عالمی کانفرنس میں شرکت کے لئے بھارت آنے کی دعوت دی تاہم آپ کے والد کے فوجی پس منظر پر اعتراض لگا کر بھارتی سفارت خانہ نے آپ کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا۔

احسان احمد سحر پاکستان کے وہ واحد صحافی شخصیت ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں جن کو دو بار کامن ویلتھ جرنلسٹس ایسوسی ایشن میں شرکت کا دعوت نامہ دیا گیا جس میں بوجہ آپ شرکت سے محروم رہے۔ دولت مشترکہ کے ممالک کے صحافیوں کی یہ عالمی کانفرنس ہر پانچ سال بعد مختلف مقامات پر ہوتی ہے۔ 2011 ء میں یہ کانفرنس مالٹا میں منعقد ہوئی تاہم اس دوران ہانگ کانگ میں منعقدہ گلوبل ایڈیٹرز نیٹ ورک کی پہلی کانفرنس میں شرکت کے باعث آپ مالٹا نہ جا سکے۔

2016 ء میں برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں کامن ویلتھ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، اس میں شرکت کے لئے آپ کو دعوت نامہ کے ساتھ ساتھ ہوائی جہاز کا ٹکٹ بھی ارسال کیا گیا، 10 اپریل کو آپ کی لندن روانگی کے تمام انتظامات مکمل تھے کہ ایک دن پہلے یعنی 9 اپریل 2016 ء کو نواب آف بہاول پور کے چھوٹے بھائی پرنس فلاح الدین عباسی کا لندن میں انتقال ہو گیا، آپ نے پرنس فلاح الدین عباسی سے اپنے 45 سالہ تعلق و دوستی کی بنیاد پر لندن کانفرنس میں شرکت کی بجائے ان کے جنازے میں شرکت کو ترجیح دی۔

2017 ء میں حکومت قطر کی نیشنل ہیومن رائٹس کمیٹی نے دوحہ میں منعقد ہونے والی بین لاقوامی کانفرنس میں آپ کو سٹیٹ گیسٹ کے طور پر مدعو کیا، اس کانفرنس کا اہتمام انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس اور انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے کیا گیا تھا، آپ دنیا کے ان دو سو صحافیوں میں شامل تھے جنہوں نے الجزیرہ ٹی وی کے ہیڈکوارٹر پہنچ کر الجزیرہ کے صحافیوں اور کارکنان سے اظہار یکجہتی کیا کیونکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات الجزیرہ پر پابندی لگانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اپنے عہد کے شعور اور اجتماعی ذمہ داری کے طور پر احسان احمد سحر صاحب کا شخصی اور صحافتی پہلو فکر مندی کی صلیب اور درد کی سولی سے عبارت ہے۔ انہوں نے اپنی صحافت میں اپنے علاقے کے باسیوں کا دکھ بیان کیا، حکمرانوں کی چیرہ دستیاں بلا کم و کاست شائع کیں۔ اقتدار کی بالانشینی اور محروم لوگوں کی خاک نشینی کو دستاویز کیا۔

”تبدیلی“ کی اس نمود میں جبکہ ہمارے ملک میں صحافت کے زوال کا المیہ ٹھہر گیا ہے، چار دہائی قبل بھی تقدس مآب اہل صحافت ایک منقسم گروہ تھے لیکن خط تنصیف کے دونوں جانب قد آور لوگ تھے اور اختلافی بیانوں میں اخلاقی توانائی موجود تھی۔ آج کا دکھ یہ ہے کہ ہم سب بالشتیے ہو گئے ہیں اور ہمارے مقدمے کی اخلاقی قامت گھٹ گئی ہے۔ اس میں کیا شک کہ ہم نے صحافتی سرزمین پر بزرگوں کی کشت و کار پر چار حرف بھیجتے ہوئے قلمی اتائیوں اور صحافت کے مرغان دست آمیز کی حوصلہ افزائی کی اور نتیجے میں آج چہار سو پھیلا کشت ویراں صحافتی تاریخ کے زلزلہ پیما پر ڈوبتے ابھرتے ارتعاش کا عکس ہے۔ سو اس ترقی معکوس کے لاحاصل سفر میں درماندہ صحافی احسان احمد سحر جیسے ”شمع کشتہ“ کا وجود ہمارے لئے غنیمت ہے کہ جسے آنے والی نسلوں کو بلند کرداری کا استعارہ بنا کر سونپا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *