نیتن یاہو اور مشرف کی ہٹ دھرمی


آج جب ہم نے اخبارات میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا وہ وڈیو بیان پڑھا جس میں کہ انہوں نے کہا ہے کہ ”اسرائیلی فوج نے غزہ میں حماس کے خلاف سینکڑوں حملے کیے ہیں، اور ہم اپنے حملوں کی شدت میں مزید اضافہ کریں گے۔“ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ، ”ہم انہیں (حماس) اس طریقے سے ہٹ کریں گے جس کی انہیں توقع بھی نہیں ہے۔“ تو ہمیں بے ساختہ پاکستان کے ”سابق“ صدر جنرل پرویز مشرف یاد آ گئے جو کہ پاکستان کو تقریباً 9 سال تک ”لاحق“ رہے۔

جنرل پرویز مشرف نے بھی بلوچستان کے پاکستان نواز لیڈر نواب اکبر بگٹی کو، بعینہ یہی دھمکی دی تھی اور اسی قسم کا تاریخی جملہ ارشاد فرمایا تھا، جیسا کہ، بی بی سی کے مطابق، نواب اکبر بگٹی کے بیٹے جمیل اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ جنرل پرویز مشرف نے نواب اکبر بگٹی کا نام لے کر دھمکی دی تھی کہ ’ان تین سرداروں کو ایسا ہٹ کروں گا کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا کیونکہ یہ انیس سو اکہتر کا زمانہ نہیں ہے۔ ”لیکن بعد ازاں“ میں کسی سے ڈرتا ورتا نہیں ہوں ”کا نعرہ لگانے والے آمر نے اپنے اس“ کارنامے ”سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا تھا۔ اسی طرح سے محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کا ذمہ دار بھی مشرف صاحب کی ہٹ دھرمی کو قرار دیا جاتا رہا ہے۔ واللہ اعلم؟

بلوچستان کے حالات جنرل صاحب کے اسی ”ہٹ دھرمی“ کا نتیجہ ہیں۔

اکبر بگٹی کو ہٹ کرنے والے کو نہ تو اپنے پیشرو ضیاع الحق کا انجام یاد رہا نہ ہی ایوب خان کا۔ قدرت نے بھی انہیں وہاں ہٹ کیا ہے کہ اب وہ جیتے جی تو پاکستان آنے سے رہے! کیوں ہماری اشرافیہ، جنہیں بھولے بھالے لوگ اشراف سے خلط ملط کر لیتے ہیں، نے پاکستان کو انسانوں کے رہنے کے قابل تو چھوڑا ہی نہیں۔ وطن عزیز میں جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد زندہ در گور ہے وہ شاید اب آنجناب اور اس قسم کی دیگر مخلوقات کے لیے صرف مدفن ہی ہے۔ جب کہ اپنے عہدوں اور وزارتوں سے رٹائرمنٹ کے بعد یہ لوگ اپنی زندگی میں پاکستان کی سڑکوں پر میری اور آپ کی طرح ہی خوفزدہ رہتے ہیں۔ کہ انہیں اپنے ہی پیدا کردہ فرینکنسٹائنوں کا خوف مارے جاتا ہے!

حقیقت یہ کہ سیاسی مسائل کسی کو ہٹ کرنے سے کبھی بھی حل نہیں ہوتے۔

ان کو حل کرنے کے لیے دماغ استعمال کیا جاتا ہے، جب کہ مشرف پرویز صاحب نے سیاسی اور آئینی مسائل کو حل کرنے کے لیے 1999 ع سے حکومت پر قبضہ سے لے کر اپنے قبضہ کے آخری ایام تک جہاں ریاستی طاقت کا استعمال کیا وہاں چوہدری افتخار کے سلسلے میں ایک لسانی بلکہ اب تو بین اللسانی طاقت کہیے کو استعمال کیا۔ لیکن بالآخر سیاسی حربوں کے سامنے ان کو ہتھیار ڈالنے پڑے۔ اور یوں وہ اپنی تمام تر طاقت اور قوت کے باوجود ایسے انجام سے دوچار ہوئے کہ مان لینا چاہیے کہ عقل آج بھی طاقت پر حاوی ہے۔

عقدہ فلسطین بھی عقل کے ناخنوں سے حل ہو سکتا ہے لیکن فریقین اس کو طاقت اور قوت کے بل پر حل کرنا چاہ رہے ہیں۔

یہ لڑائی ہاتھی اور چیونٹی کی لڑائی ہے۔

آپ کہیں گے کہ ہم فلسطینیوں کو چیونٹی کہ رہے ہیں! جب کہ وہ کم از کم دو ارب + عربوں مسلمانوں کا حصہ ہیں۔

بے شک وہ مسلمانوں کا حصہ ہیں لیکن مسلمان کہاں ہیں؟
مسلمان کیا کر رہے ہیں؟
جناب عالی مسلمان اپنے اپنے بکھیڑوں میں الجھے ہوئے ہیں۔

نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاک کاشغر سب مسلمان وہی کر رہے ہیں جو کسی زمانے میں یہودیوں نے حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ کیا یا پھر مدینے کے منافقین جنگ احد کے وقت کر رہے تھے۔

یا پھر کشمیر کو پاکستان بنانے میں مصروف ہیں!
یا پھر ”اصلاحی کیمپوں“ میں زیر تربیت ہیں۔

سعودی عرب شہزادہ سلمان کی قیادت میں ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے اور ایک عظیم الشان اتحاد کے ساتھ اپنے پڑوسی سے نبردآزما ہے۔

اور ہمارے گدڑی کے لعل کا کیا کہنا:باریں برسیں کٹھن گیا تے کھٹ کے لے آیا چاول!

ایران امریکا کو تو آنکھیں دکھا ہی رہا ہے لیکن عربوں سے بھی مخاصمت مول لی ہوئی ہے۔ اسے امام حسین رض کی سنت تو یاد ہے جب کہ ”محافظ عثمان رض“ حضرت امام حسن رض شاید یاد نہیں، جنہوں کہ نے جنگ کے بجائے صلح جوئی اختیار کی۔ وہ انہیں اور ان کی سنت کو بھولے ہوئے ہیں۔

اور ہم پاکستانی ہیں کہ سعودیوں سے بڑے سنی اور ایرانیوں سے زیادہ شیعہ بنے پھرتے ہیں!
یا پھر تقریباً ہر مسلمان ملک میں اپنے ہی عوام اور علاقوں کو فتح کیا جا رہا ہے۔
ترکی میں کردوں اور ترکوں میں ٹھنی ہوئی ہے۔

پاکستان میں ہی دیکھ لیجیے : بحریہ ٹاؤن سے لے کر ملتان کے آم کے باغات تک اپنے ہی لوگوں کو فتح کیا جا رہا ہے۔ اخبارات میں کچھ نہیں آ رہا تو اس کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ لوگ بے خبر ہیں۔ آج سوشل میڈیا اور مجازی دنیا کے باعث بچہ بچہ جانتا ہے کہ اس وقت صرف کراچی کے مضافات ہی نہیں بلکہ دھول مٹی پھانکنے والوں سے کراچی سے کشمیر اور خیبر سے بولان تک نہ تو قدیم آثار محفوظ ہیں نہ ہی کھیت کھلیان نہ ہی قبرستان۔

تو ایسے میں فلسطین لے لیے کسی سے ہتھیار تو کیا آواز بھی نہیں اٹھائی جائے گی۔ جب کہ اسرائیل کی پشت پر امریکا ہے، یورپ ہے اور وہ تمام ہی لوگ جن کے پیچھے پیچھے ہمارے حکمران کاسہ گدائی لیے پھرتے ہیں۔

تو اب اس صورتحال میں بہتر یہی کہ مسلمان ممالک فلسطین کے مسئلے کو مسلمانوں کے بجائے انسانوں اور انسانیت کے مسئلے کے طور پر حل کرنے کے لیے آواز اٹھائیں، لیکن پھر سوال اٹھے گا کہ جناب، ”پہلے اپنے ملک میں بلڈوزرز کو زنجیریں ڈالیں اور گلاسوں کو آزاد کرائیں پھر فلسطینیوں اور انسانیت کی بات کیجیے گا!“

Facebook Comments HS