جب آپ کے بھائی کو کوئی آپ کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دے


تعارف : عزیز الحق ایک ایسے دانشور تھے جو لاہور کے پاک ٹی ہاؤس کی ادبی اور سیاسی محفلوں میں بڑے ذوق و شوق سے شامل ہوتے تھے اور ادب ’فلسفے اور سیاست کے متنازعہ موضوعات پر گرما گرم بحثوں میں شرکت کرتے تھے۔ وہ بیک وقت کارل مارکس کے بھی مداح تھے اور ژاں پال سارتر کے بھی۔ وہ اپنے آپ کو EXISTENTIALIST MARXIST کہلانا پسند کرتے تھے۔

اور پھر مئی 1972 میں ان کی ناگہانی موت نے ان محفلوں کو سونا کر دیا۔ چونکہ ان کی موت قتل کی وجہ سے ہوئی اور قاتل نے عزیز الحق کو قتل کرنے کے بعد اپنے آپ کو بھی قتل کر دیا اس لیے وہ موت اور بھی پر اسرار ہو گئی۔ میں نے عزیز الحق کی زندگی کے حالات اور ان کے مقالات پڑھے تو مجھے ان کی پراسرار موت کے بارے میں تجسس ہوا۔ چنانچہ میں نے ان کے چھوٹے بھائی انوار الحق کو ٹورانٹو کینیڈا سے لاہور پاکستان فون کیا اور درخواست کی کہ وہ عزیز الحق اور ان کے قاتل کی موت کے پچاس سال بعد راز سے پردہ اٹھائیں کیونکہ وہ ان دونوں اموات کے چشم دید گواہ تھے۔ میری خوش بختی کہ وہ راضی ہو گئے اور میں نے ان سے مکالمہ ریکارڈ کر کے لکھ لیا۔ اب عزیز الحق کی یاد میں ’جنہیں ظہیر کاشمیری۔ لاہور کا سقراط۔ کہتے تھے‘ وہ مکالمہ انوار الحق کی اجازت سے ’ہم سب‘ کے قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ خالد سہیل

ڈاکٹر صاحب! میرا بھائی عزیز الحق ایک دانشور تھا۔ اس نے علمی ’ادبی اور تحقیقی مقالے لکھے تھے۔ میں اس کے علمی تبحر اور سکالرشپ کا تو احاطہ نہیں کر سکتا لیکن اس کی شخصیت کے حوالے سے بات کر سکتا ہوں۔ میں یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کی سوچ اور زندگی گزارنے کا انداز اپنے عہد کے باقی دانشوروں سے بہت مختلف تھا۔

عزیز الحق کے بارے میں میں آپ کو سب سے اہم بات یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ کسی نظریے کسی مسئلے اور کسی انسان کو دور سے دیکھ کر رائے قائم نہیں کرتا تھا۔ وہ اس موضوع اور مسئلے کو اپنے اندر انڈیل لیتا تھا۔ اس کے ساتھ زندہ رہتا تھا اسے سمجھتا تھا اس پر غور کرتا تھا اور پھر خود جس نتیجے پر پہنچتا تھا وہ لکھتا تھا۔ وہ جو بھی لکھتا تھا ڈوب کر لکھتا تھا۔ میں آپ کو اس کی ایک مثال دیتا ہوں

جب عزیز کا مسئلہ اور اس کی زندگی کا بحران چل رہا تھا تو میں بہت پریشان رہتا تھا اور اس پریشانی سے نبٹنے کے لیے میں فلم سٹار ’رانی‘ کی فلمیں دیکھا کرتا تھا تا کہ اپنا غم غلط کر سکوں۔ ان دنوں میں خاموش ہو گیا تھا اور اپنے خیالوں میں ہی گم رہتا تھا۔ کسی سے بات چیت نہیں کرتا تھا۔ ایک دن میں نے رانی کی فلم نو سے بارہ بجے تک دیکھی۔ گھر آیا تو عزیز نے مجھے اس فلم کے ڈائلاگ سنائے۔ پتہ چلا کہ اپنی بیگم جمیلہ کے ساتھ وہ فلم تین سے چھ بجے تک دیکھ کر آیا تھا۔ میں نے فلم دیکھنے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا۔ بادشاہ۔ (۔ مجھے سب گھر والے پیار سے بادشاہ کہتے تھے۔ ) ۔ میں نے وہ فلم اس لیے دیکھی کہ جانوں بادشاہ رانی کی فلمیں کیوں دیکھتا ہے۔ اس سے بادشاہ کو کیا ملتا ہے؟

اس ایک واقعہ سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ عزیز کا میرے ساتھ تعلق کیسا تھا۔ لیکن یہ صرف میرے ساتھ ہی نہیں تھا۔ سب دوستوں کے ساتھ ایسا ہی تھا۔ وہ سب کو اندر سے جاننے اور سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ عزیز کے مرنے کے بعد سب دوستوں نے دعویٰ کیا کہ عزیز کا جو تعلق میرے ساتھ تھا وہ کسی اور کے ساتھ نہیں تھا۔ عزیز اتنا ہردلعزیز تھا۔ عزیز کا لوگوں کے ساتھ جڑنے کا جو انداز تھا وہ میں نے کسی اور دانشور میں نہیں دیکھا۔

بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ عزیز کی وفات کے بعد کوئی اس کے خواب کو شرمندہ تعبیر نہ کر سکا اور اس کے خواب کا شیرازہ بکھر گیا۔

عزیز کا ہر موضوع کا گہرا مطالعہ تھا۔ اس نے مذہب کا بھی گہرا مطالعہ کیا تھا۔ بعض نوجوان تو فیشن کے طور پر مذہب کے خلاف ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ انقلابی بن گئے ہیں موڈرن ہو گئے ہیں۔ عزیز ایسا نہیں تھا۔ وہ لوگوں کے اندر اتر جاتا تھا۔ وہ لوگوں کے اندر جو نفسیاتی بحران ہوتے تھے ان تک پہنچ جاتا تھا۔

عزیز کے المیے نے اور اس کی موت نے مجھے بہت بری طرح متاثر کیا۔ میں بہت پریشان رہا۔ میں بہت کوشش کے باوجود اس دکھ سے نکل نہ پاتا تھا۔ میں اپنا ذہنی توازن کھو رہا تھا۔ اس بحران میں جس دوست نے میری سب سے زیادہ مدد کی اس کا نام ہارون رشید اورکزئی ہے۔

میرے سامنے میرے سگے بھائی کا قتل ہوا۔ اس قتل سے پہلے جو بحران پنپ رہا تھا میں اس کا چشم دید گواہ تھا۔ اسی لیے میرے ذہن پر بڑا بوجھ تھا۔ اس سے پہلے میرا ایک چھوٹا بھائی فوت ہو چکا تھا اور میرا باپ بھی اپنے بیٹے کی وفات کے غم سے اس دنیا سے گزر چکا تھا۔ یہ سب کچھ میرے ساتھ ہو رہا تھا اور میں ان سب دکھوں کو برداشت نہ کر سکا۔

میرے لیے یہ آسان ہوتا کہ میں کہہ دیتا کہ جس شخص نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے وہ بہت ہی خراب انسان تھا لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ میں ایسا نہیں کہہ سکتا تھا۔ میں سعید کو الزام نہیں دے سکتا تھا میں رابعہ سنبل کو بھی الزام نہیں دے سکتا تھا۔ عزیز کے قتل کے ایک ہفتہ پہلے تک دوستوں اور انقلابیوں میں یہ گرما گرم بحث چل رہی تھی کہ رابعہ سنبل کو بائیں بازو کی تحریک میں شامل کیا جائے یا نہیں۔

ڈاکٹر صاحب! اس واقعہ کو پچاس برس ہو گئے ہیں اور پورا سچ ابھی سامنے نہیں آیا۔ اگر میں آج آپ کو پورا سچ بتاؤں تو میں یہ کہوں گا کہ عزیز کے رابعہ سنبل سے ملنے سے پہلے میں رابعہ سنبل سے ملا تھا اور اس سے بہت متاثر ہوا تھا۔ وہ ایک پڑھی لکھی اور سلجھی ہوئی دانشور تھی۔ ان دنوں عزیز کینیڈا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ جب عزیز 1966 میں کینیڈا سے لوٹا تو میں نے عزیز سے کہا کہ تمہیں رابعہ سنبل سے ملنا چاہیے۔ عزیز کو رابعہ سے ملنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ میں نے کہا رابعہ دلچسپ سوال پوچھتی ہے۔ عزیز نے کہا تم وہ سوال لے آیا کرو میں ان سوالوں کا جواب دے دیا کروں گا۔ میں نے عزیز سے کہا تم رابعہ سے ایک دفعہ مل کر تو دیکھو اس کے بعد تم خود فیصلہ کرنا۔

عزیز کے قتل کے پچاس برس بعد بھی بہت سے لوگ عزیز اور رابعہ کے رشتے کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں۔ وہ پورے سچ سے واقف نہیں ہیں۔ ان دنوں حالات اتنی تیزی سے بدل رہے تھے کہ یوں لگتا تھا کوئی حقیقت نہیں فلم چل رہی ہے۔

ڈاکٹر صاحب! سچ بتاؤں عزیز کی 28 مئی 1972 کو موت کے بعد میں ابنارمل سا ہو گیا تھا۔ میں عجیب و غریب حرکتیں کرنے لگا تھا۔ ایک دن میں آدھی رات کو لبرٹی مارکیٹ میں گم سم سڑک کے کنارے بیٹھا تھا۔ ایک انجانا پولیس افسر آیا اور جب اس نے مجھ سے وہاں بیٹھنے کی وجہ پوچھی تو میں اس پولیس افسر سے گلے لپٹ کر رونے لگا۔ وہ بھی انسان تھا وہ بھی دلبرداشتہ ہو گیا اور مجھے گھر چھوڑ آیا۔

ڈاکٹر صاحب! میں آپ کو یہ سب کچھ اس لیے بتا رہا ہوں کیونکہ آپ ماہر نفسیات ہین اور لوگوں کے نفسیاتی مسائل کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ آپ ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔ میں بڑے دکھ سے گزرا تھا۔ میں آپ سے اپنی جذباتی اور ذہنی کیفیت شیر کرنا چاہتا ہوں۔

میں آپ سے عزیز الحق کے ادبی و سیاسی و تحقیقی مقالوں کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میں عزیز کی طرح کوئی دانشور نہیں ہوں لیکن میں اس کے بھائی کی طرح اپنے جذبات شیر کر سکتا ہوں۔

مجھے جس شخص نے اس نفسیاتی بحران سے نکالا اس کا نام ہارون رشید اورکزئی ہے۔ اس نے میرا نفسیاتی مسئلہ حل کیا اور میرا علاج کیا۔ اس لیے میں نے جب عزیز الحق کے بارے میں کتاب۔ عزیز الحق کے مضامین۔ مرتب کی اور اس کی اشاعت کی تو ہارون رشید اورکزئی کا مضمون سب سے پہلے شامل کیا۔

ہارون رشید نے میرا بہت خیال رکھا۔ وہ مجھ سے ہر روز ملنے آتا۔ مجھے مختلف جگہوں پر لے جاتا تا کہ میرا غم غلط کر سکے۔ وہ مجھے فلمیں دکھاتا اور ان فلموں کے کرداروں پر بحث کرتا۔ اس طرح اس نے میرے گہرے زخم مندمل کیے اور میرا علاج کیا۔

ڈاکٹر صاحب! اب میں آپ کو ایک اور اہم بات بتانا چاہتا ہوں۔ ایک دن ہارون رشید اورکزئی غصے میں آ گیا اور بآواز بلند مجھ سے کہنے لگا

’بادشاہ! تم مان کیوں نہیں لیتے کہ تم نے اپنے بھائی کا قتل کیا ہے؟‘

اس کی یہ بات سن کر پہلے تو مجھے بہت دکھ ہوا۔ میں نے سوچا باقی سب مجھ سے ہمدردی کر رہے ہیں شفقت سے میرے سر پر ہاتھ رکھ رہے ہیں اور ہارون رشید ایسی تکلیف دہ بات کر رہا ہے۔ پھر اس نے کہا

’بادشاہ! اب تم نے کیا کرنا ہے؟ کیا اپنے آپ کو مارنا ہے؟‘

ہارون رشید کے ان سوالوں نے مجھے اس بحران سے نکالنے میں بہت مدد کی۔ یوں لگا جیسے اس نے مجھے بجلی کا جھٹکا لگایا ہو میری شاک تھراپی کی ہو جس کے بعد میں کافی بہتر ہو گیا۔

ڈاکٹر صاحب! میرے لیے دکھ کی بات یہ ہے کہ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ عزیز الحق اور رابعہ سنبل کا مرد عورت کا رومانوی رشتہ تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو میرے لیے نفسیاتی مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔ اگر ایسا ہوتا تو میں قبول کر لیتا کہ میرے بھائی کو ایک عورت سے عشق ہو گیا تھا۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔

رابعہ سنبل اتنی بڑی عورت تھی کہ جب وہ ہمارے گھر آئی تو میرا بوڑھا بیمار باپ اس کے احترام میں کھڑا ہو گیا۔

اس حادثے کے بعد رابعہ سنبل بھی ذہنی طور پر متاثر ہوئی وہ بھی ابنارمل ہو گئی۔ کچھ عرصہ بعد شاہد ندیم نے ’جو عزیز الحق کا شاگرد تھا‘ رابعہ سنبل سے شادی کر لی۔ شاہد رابعہ کا خیال رکھنا چاہتا تھا اس کا غم غلط کرنا چاہتا تھا۔

عزیز کے ذہن میں مرد اور عورت کے رشتے کا ایک انقلابی نظریہ تھا جس کے بارے میں اس نے ایک مضمون بھی لکھا تھا۔ جس کا عنوان تھا۔ مردانگی کی نفسیات اور انقلابی عمل۔ اور بدقسمتی سے وہی مضمون اس کی موت کا باعث بنا کیونکہ اس مضمون نے رابعہ کے شوہر سعید کو کنفیوز کیا اور وہ ایک دوست سے ایک قاتل بن گیا۔

ڈاکٹر صاحب! عزیز الحق ایک جینون دانشور تھا۔ وہ دولت اور شہرت سے بالکل بے نیاز تھا۔ وہ ادبی اور سیاسی مسائل پر گہری نگاہ رکھتا تھا۔ وہ کتابیں پڑھتا تھا ان کے بارے میں سوچتا تھا اور پھر اس کا نچوڑ نکال کر مضامین لکھتا تھا۔

جب عزیز الحق اور اس کے دوست فیصل آباد ایک کانفرنس میں جانے لگے تو عزیز نے مجھ سے کہا کہ جا کر رابعہ سنبل کو لے آؤ۔ جب میں نے رابعہ سے چلنے کو کہا تو اس کے شوہر سعید نے کہا میں بھی چلتا ہوں۔ وہ کانفرنس میں جا کر عزیز سے گلے ملا۔

ڈاکٹر صاحب!

ہمیں عزیز اور رابعہ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سمجھیں کہ وہ مرد اور عورت کا رومانوی رشتہ نہیں تھا۔ وہ ایک ادبی اور نظریاتی اور انقلابی رشتہ تھا۔ ایسے رشتے کاہی ذکر اس نے اپنے مضمون۔ مردانگی کی نفسیات اور انقلابی عمل۔ میں کیا تھا۔

میں اس بات کی بھی وضاحت کرتا چلوں کہ رابعہ کا شوہر سعید بھی جانتا تھا کہ عزیز اور رابعہ کا تعلق رومانوی نہیں تھا۔

ڈاکٹر صاحب! آج چونکہ میں آپ کو پورا سچ بتانا چاہتا ہوں اس لیے یہ بھی بتاتا چلوں کہ عزیز کی موت کے بعد میں نے رابعہ سے بھی پوچھا اور اس نے مجھے بتایا کہ اس کا اور عزیز کا کوئی رومانوی رشتہ نہیں تھا۔ اسی طرح میں نے اپنی بھابی جان عزیز کی بیگم جمیلہ سے بھی پوچھا اور اس نے بھی اس کی تصدیق کی کہ عزیز اور رابعہ کا کوئی جسمانی رشتہ نہیں تھا۔

جب عزیز الحق اپنے دوستوں کے ساتھ فیصل آباد سے لوٹ رہا تھا تو آدھی رات کو ان کی گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو گیا۔ جب سعید ادھر سے گزرا تو اس نے دیکھا کہ عزیز سڑک کے کنارے گاڑی کا ٹائر بدلنا چاہ رہا ہے لیکن اسے مشکل ہو رہی ہے۔ سعید نے رابعہ سے کہا میں عزیز کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ رابعہ نے کہا رات کے دو بجے ہیں میں بہت تھکی ہوئی ہوں گھر چلتے ہیں۔ سعید نے رابعہ کی بات نہ مانی اور دونوں گاڑی کی طرف بڑھے۔

عزیز سے پہیہ بدلنے میں دشواری ہو رہی تھی۔ سعید نے عزیز سے کہا تم ہٹو میں مدد کرتا ہوں۔

ڈاکٹر صاحب! چونکہ آپ عزیز الحق سے کبھی نہیں ملے اس لیے آپ نہیں جانتے کہ عزیز کے حس مزاح میں تھوڑی طنز بھی شامل ہوتی تھی۔ اس لمحے عزیز کی حس مزاح پھڑکی اور اس نے سعید سے بڑے پیار اور اپنائیت سے کہا

’سعید تم پوچھتے تھے انقلاب کب آئے گا۔ اب میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اس سے بڑا انقلاب کیا ہوگا کہ ایک سرمایہ دار اپنی کسی لوڑ (ضرورت ) کی وجہ سے ایک مزدور کی مدد کر رہا ہے۔‘

بدقسمتی سے سعید کو ’جو ایک سرمایہ دار تھا‘ وہ لفظ۔ لوڑ۔ لڑ گیا۔ اس نے سعید کو دکھی کر دیا۔ وہ اٹھا اور رابعہ سے کہنے لگا ’چلو گھر چلتے ہیں‘ رابعہ نے کہا ’تم دونوں ہر وقت لڑتے کیوں رہتے ہو۔ میں تھکی ہوئی ہوں۔ اب نہیں جا سکتی‘

سعید نے کہا اچھا تم رکو میں چلتا ہوں۔
رابعہ اتنی تھکی ہوئی تھی کہ عزیز اور دوستوں کی گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لیٹی اور سو گئی۔

ڈاکٹر صاحب! میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہ سب لوگ کئی راتوں سے سوئے نہ تھے اور آپ بطور ماہر نفسیات جانتے ہیں کہ کئی راتوں کا رت جگا لوگوں کے ذہن کو متاثر کرتا ہے اور وہ ابنارمل حرکتیں کرنے لگتے ہیں۔

سعید اپنے گھر گیا۔ اس نے اپنی پسٹل اٹھائی اور اپنے ڈرائیور اور گاڑی کو لے کر عزیز اور جمیلہ کے گھر آیا۔ عزیز گھر پر نہیں تھا۔ میں چونکہ ان دنوں ان کے گھر رہ رہا تھا میں سعید سے ملا۔ سعید نے پوچھا عزیز کیوں گھر نہیں پہنچا۔ میں نے کہا وہ گاڑی تیز چلاتا ہے کہیں ایکسیڈنٹ نہ ہو گیا ہو۔ چلو ہم اسے تلاش کرتے ہیں۔ میں سعید کو لے کر عزیز کے پرانے دفتر گیا وہ وہاں نہیں تھا۔ پھر ہم اس کے نئے دفتر گئے۔ وہ وہاں پارکنگ لوٹ میں گاڑی کی اگلی سیٹ پر بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا اور رابعہ پچھلی سیٹ پر لیٹی سوئی ہوئی تھی۔

سعید نے مجھے اشارے سے کہا تم دور ہٹ جاؤ۔ سعید آگے بڑھا اس نے پہلے عزیز کے سر پر گولی ماری پھر دو گولیاں رابعہ کو ماریں اور پھر ایک گولی خود کو ماری اور تڑپ کر زمین پر گر پڑا۔

ڈاکٹر صاحب!

یہ سب کچھ میرے سامنے ہوا۔ مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ پھر لوگ جمع ہو گئے۔ اپنے بھی بیگانے بھی۔ سچی بات یہ ہے کہ اس ڈرائیور نے مجھے بچا لیا۔ اس نے میری حمایت کی ورنہ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو مجھ پر قتل کا الزام لگانے والے تھے۔ وہ کہنا چاہتے تھے کہ میں نے جائیداد حاصل کرنے کے لیے قتل کیا ہے۔

ڈاکٹر صاحب!

سچ بات یہ ہے کہ سعید کا عزیز سے رشتہ بہت پیچیدہ اور گنجلک تھا۔ وہ اس سے شدید محبت بھی کرتا تھا اور شدید نفرت بھی۔

شدید نفرت کی وجہ سے اس نے عزیز کو قتل کر دیا
اور شدید محبت کی وجہ سے اس نے عزیز کے قتل کے بعد خود کو قتل کر لیا۔

ڈاکٹر صاحب!

میں آج آپ کو ایک اور بات بتاؤں۔ رابعہ سنبل کا اصل نام ملکہ تھا۔ ایک دن عزیز نے ملکہ کو رابعہ بصری اور حسن بصری کا یہ واقعہ سنایا کہ دونوں ساری رات روحانیت پر گفتگو کرتے رہے اور صبح کے وقت انہیں اندازہ ہوا کہ دونوں نے ایک رات اکٹھے گزاری ہے لیکن ان میں مرد اور عورت کا کوئی تعلق نہیں ہوا۔ عزیز اس واقعہ سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے ملکہ سے کہا

آج کے بعد تم میری رابعہ بصری ہو اور میں تمہارا حسن بصری۔

اس واقعہ کی وجہ سے بھی میں یہ بات بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ عزیز اور رابعہ میں کوئی رومانوی تعلق نہیں تھا۔

ڈاکٹر صاحب! میں آخر میں بس یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس حادثے کو پچاس برس بیت گئے لیکن وہ سانحہ مجھے نارمل نہیں رہنے دیتا۔ شاید میں اس واقعہ کو اپنے ساتھ قبر میں لے جاؤں۔ یہ بہت تکلیف دہ واقعہ تھا۔ اس نے مجھے عمر بھر پریشان رکھا۔ بہت سے لوگ میرے دکھ ’میرے کرب اور میری اذیت کو نہیں سمجھ سکتے لیکن آپ ایک ڈاکٹر ہیں ایک ماہر نفسیات ہیں آپ اس دکھ کو سمجھ سکتے ہیں اور مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں یہ سارا سچ یہ پورا سچ آپ کو بتا سکتا ہوں کیونکہ آپ عزیز الحق کے بارے میں پورا سچ جاننا چاہ رہے تھے۔ میں نے آپ کا عزیز الحق کے بارے میں مقالہ۔ لاہور کا سقراط۔ ہم سب پر پڑھا تھا اور مجھے بہت پسند آیا تھا۔

میری ساری باتیں میری دل کی باتیں سننے کا شکریہ۔ شب بخیر۔

عزیز الحق کے مقالے۔ مردانگی کی نفسیات اور انقلابی عمل۔ کا خلاصہ

عزیز الحق نے اپنے مقالوں میں جن موضوعات پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے ان میں سے ایک مرد اور عورت کا باہمی رشتہ اور پھر ان دونوں کا انقلابی عمل سے رشتہ ہے۔ چونکہ عزیز الحق ایک ادیب اور دانشور ہی نہیں ایک سیاسی کارکن اور انقلابی رہنما بھی تھے اس لیے انہوں نے ایک عادلانہ و منصفانہ معاشرے کا خواب دیکھا تھا اور ان کی خواہش تھی کہ ان کے عہد کے مرد اور عورتیں مل کر کوشش کریں اور استحصال کے بغیر پر امن معاشرے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں۔ عزیز الحق اپنے معاشرے کے لوگوں کی انفرادی و سماجی نفسیات سے بخوبی واقف تھے اس لیے وہ جانتے تھے کہ ان کے ہمعصر جس سرمایہ دارانہ نظام میں پرورش پا رہے ہیں اس ماحول نے ان کے ذہنوں ’شخصیتوں اور رشتوں کو کس طرح منفی انداز میں متاثر کیا ہے۔

عزیز الحق اپنے مقالے ’مردانگی کی نفسیات اور انقلابی عمل‘ میں مردوں کے نفسیاتی اور رومانوی مسائل کی تشخیص بھی کرتے ہیں اور ان کا علاج بھی تجویز کرتے ہیں۔ عزیز الحق اپنے تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر مشرقی مردوں کے عورتوں سے رشتوں کے حوالے سے دو اہم مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں۔

پہلا مسئلہ یہ ہے کہ مرد عورت کو اپنا دوست ’اپنا محبوب‘ اپنا شریک سفر اور اپنا شریک حیات سمجھنے کی بجائے اسے اپنی ملکیت سمجھتا ہے۔ ایک مارکسسٹ ہونے کے ناتے ان کا خیال ہے کہ جب سے انسانوں نے ذاتی ملکیت پرائیویٹ پراپرٹی کے تصور کو اپنایا ہے بہت سے مردوں نے

میرا گھر
میری کار
میری کشتی
میرا کارخانہ
میری زمین
کے ساتھ ساتھ
میری بیوی
میرے بچے
کا رویہ بھی اپنا لیا ہے۔
کسی بھی انسان کو اپنی ملکیت سمجھنا اس کی تذلیل و توہین کرنا ہے۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مرد عورت سے ایک حقیقت پسندانہ رشتہ استوار کرنے کی بجائے اس سے ایک تصوراتی رشتہ قائم کر لیتا ہے۔ یہ فینٹسی کا رشتہ ہوتا ہے ایک مثالی و خیالی رشتہ ہوتا ہے ایسا رشتہ جب تلخ حقائق سے ٹکراتا ہے تو چکنا چور ہو جاتا ہے۔ اسی لیے بہت سے مرد جب شادی کرتے ہیں تو اپنی بیوی سے غیر حقیقت پسندانہ امیدیں رکھتے ہیں اور جلد ہی دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں۔

جب فینٹسی ختم ہو جاتی ہے تو یا تو مرد طلاق دے دیتے ہیں یا بغیر محبت کے شادی پر صبر و شکر کر لیتے ہیں۔ ان کی بیویاں بھی ان ناگفتہ بہہ حالات سے سمجھوتا کر لیتی ہیں۔ اس طرح میاں بیوی دو اجنبیوں کی طرح ایک چھت کے نیچے بقیہ زندگی گزار دیتے ہیں۔ ان کے دل اتنے دکھی ہو جاتے ہیں کہ ان کے بستروں پر کیکٹس اگ آتے ہیں۔

ایسے دو طرح کے غیر صحتمند اور منفی رشتوں کے مقابلے میں عزیز الحق ایک صحتمند اور مثبت رشتے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایسے رشتے میں مرد اپنے ماضی کے وراثت میں ملے نفسیاتی اور سماجی رویوں پر نظر ثانی کرتے ہیں اور شعوری طور پر انقلابی نظریہ اپناتے ہیں۔ ایسے مرد عورتوں سے حقیقت پسندانہ اور دوستانہ رشتہ قائم کرتے ہیں۔ ایسا رشتہ برابری کا ’احترام کا‘ عزت کا رشتہ ہوتا ہے۔ اس طرح وہ انقلاب کی گاڑی کے دو برابر کے پہیے بن جاتے ہیں اور مل کر اپنے معاشرے کو ایسے خطوط پر تشکیل دیتے ہیں جہاں انسانیت عدل ’انصاف اور ارتقا کے راستوں پر گامزن ہوتی ہے۔ ان کی نگاہ میں ایک انقلابی مرد اور عورت کی دوستی رابعہ بصری اور حسن بصری کی دوستی کی طرح ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail