نیپیئر روڈ کی چمن آرا اور کافی ہاؤس اولڈ ہوم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کافی ہاؤس اولڈ ہوم میں بھونچال آ گیا تھا۔ عورتیں سرگوشیوں میں ایک دوسرے سے ایک ہی بات کہتی پھر رہی تھیں ”یہ نہیں برداشت کیا جا سکتا“ ۔ مردوں کا ملا جلا ردعمل تھا۔ کچھ اس صورتحال سے محظوظ ہو رہے تھے بلکہ ایک من چلے نے تو یہاں تک کہ دیا تھا کہ روم سروس مل جائے تو کیا برا ہے۔ کچھ کانوں کو ہاتھ لگاتے کہتے آخری عمر میں اللہ فتنہ گری سے بچائے لیکن دل میں سرسراتی خواہش کو دبا نہ پاتے کہ کاش اس قطامہ سے ٹانکا جڑ جائے۔

کافی ہاؤس اولڈ ہوم شہر کے متمول علاقے میں ایسے بوڑھوں کے لئے بنایا گیا تھا جن کی صاحب حیثیت اولاد انہیں اپنے ساتھ رکھنے کی رودار نہیں تھی۔ مغربی تہذیب کی باد صر صر نے مشرق کی روایات بھسم کردی تھیں۔ والدین کی گھر میں موجودگی، شخصی آزادی کے نو آموز ہیولے میں رخنہ اندازی قرار دے کر ناقابل برداشت ہو چکی تھی۔ عمر رسیدگی اپنے ساتھ بیماریاں اور کٹھنائیاں لاتی ہے۔ نئے دور کی اولاد کو والدین کی کھانسی ڈسٹرب کرتی۔ تکلیفوں کا ذکر بیزار کر دیتا، ساتھ بیٹھنے کی فرمائش کرتے تو ذاتی مصروفیات میں حارج سمجھے جاتے۔ نئی لغت میں نصیحت، دخل در معقولات اور حق جتانا اجارہ داری کے معنی رکھتا تھا۔ اگر والدین پرورش میں جھیلے جانے والی مالی اور جسمانی قربانیوں کا ذکر کرتے تو ماتھے پہ آنکھیں رکھ کر دقیانوسی بڈھوں سے کہا جاتا پیدا کرنے کا فیصلہ ان کا تھا تو پرورش کرنا بھی ان کی ذمہ داری تھی۔ بس جو بات ان عاقبت نا اندیش اولاد کی سمجھ میں نہیں آتی تھی وہ یہ تھی کہ کچھ اولادیں بغیر مرضی کے بھی پیدا ہوتی ہیں اور دوسرے پیدائش اور پرورش لازم و ملزوم نہیں۔

پیدا تو جانور بھی کرتے ہیں مگر کیا وہ پرورش کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ اگر والدین جسم و جاں کی نقدی اور سکہ رائج الوقت خرچ کرتے ہیں تو یہ احسان ہے اور احسان کا بدلہ احسان ہونا چاہیے مگر ڈارون کے ارتقائی نظریے کی ماری بندر سے انسان بننے والی یہ مخلوق رجعت قہقری پر تلی ہوئی ہے۔ دور جدید کے بزرجمہر اولڈ ہوم کو والدین کا صحیح مقام گردانتے ہیں جہاں وہ اپنے ہم عمروں کے ساتھ خوشگوار وقت بتا سکتے ہیں تاہم دوستوں کی بیٹھک گھر کے ڈرائنگ روم میں ہونے سے گھر کا ماحول کبیدہ خاطر ہوتا ہے۔

لہذا کچھ نوجوان سر جوڑ کر بیٹھے اور اپنے تئیں بہترین کوڑی لائے کہ ایسا اولڈ ہوم بنایا جائے جہاں بوڑھے خود کو دوستوں کی محفل میں محسوس کریں، جہاں ان کی ضروریات اور تفریح طبع کا کماحقہ انتظام و انصرام ہو۔ اسی لئے اس اولڈ ہوم کا نام کافی ہاؤس اولڈ ہوم تجویز کیا گیا۔ اور اونچی سوسائٹی کے سارے بڈھے یہاں جمع کرا دیے گئے۔

کافی ہاؤس اولڈ ہوم وسیع اراضی پر تعمیر کیا گیا تھا۔ سیاہ آہنی گیٹ کے پیچھے سرخ روش استقبالیہ کو جاتی تھی۔ روش کے دونوں جانب سبزے کے قطعات تھے جس کی چہار جانب خوش رنگ پھولوں کے پودے بہار افزا تھے۔ ان کے پرلی طرف سرخ اینٹوں کی عمارتیں تھی دائیں جانب زنانہ بلاک اور بائیں جانب مردانہ بلاک۔ یہاں ٹی وی لاونج، ٹیبل ٹینس، شطرنج، کیرم اور چھوٹی سی لائبریری بھی تھی۔ صبح اور شام کے اخبار بھی آتے تھے اور خواتین کے لئے اکا دکا رسالے بھی لگے ہوئے تھے۔

باورچی، مالی، نرس اور چوکیدار مستقل رہائشی تھے اور ڈاکٹر ہفتے میں ایک بار وزٹ کرتا تھا۔ یہاں رہنے والے افراد کی اکثریت اولاد کے ہوتے ہوئے اس اولڈ ہوم میں پڑی تھی جیسے کوئی بچہ ماں باپ کے ہوتے ہوئے یتیم خانے میں پلے البتہ بہت قلیل تعداد ایسے بزرگوں کی بھی تھی جو صاحب حیثیت تھے مگر کوئی قرابت دار نہ تھا اور دشت نما گھروں کی ویرانی منہ کو آتی تھی اس لئے انہوں نے خود یہاں رہنا مناسب سمجھا۔ درحقیقت ایسے ہی لوگوں کے لئے اولڈ ہوم جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ جو والدین اپنے بچوں کے ساتھ رہنے میں سکون پاتے ہوں انہیں زبردستی خروج پر مجبور نہیں کرنا چاہیے۔

یہاں رہنے والے سارے بڈھے سدا کے امیر نہیں تھے اظہار صاحب کو وہ رات آج بھی اچھی طرح یاد تھیں۔ شہر کے مضافات میں 250 گز کے چھوٹے سے مکان کی چھوٹی دیواروں والی چھت پر بیٹھے ہوئے وہ اپنے بیٹے حارث کی راہ تک رہے تھے۔ اس نئی آبادی میں بہت کم گھر تعمیر ہوئے تھے اور دور تک نظر کو رسائی حاصل تھی۔ ان کی نظر بس اسٹاپ پر رکنے والی بسوں پر تھی۔ حارث ان میں سے کسی ایک پر آتا یوگا۔ یونیورسٹی سے وہ ٹیوشن پڑھنے چلا جاتا اور آتے آتے رات ہو جاتی۔

بسوں کے دھکے کھا کر تھکن سے چور ہوجاتا ہر روز وہ ابا سے موٹر سائیکل کی فرمائش کرتا۔ فرمائش کرتے ہوئے وہ ابا کی مالی حیثیت کو ہرگز خاطر میں نہ لاتا۔ اظہار صاحب کی تنخواہ میں چھ افراد کی فیملی کا نان نفقہ اور تعلیم کا خرچ ہی کھینچ تان کر پورا ہوتا موٹر سائیکل کی رقم کا انتظام کیونکر ہوتا لیکن پہلوٹھی کے سپوت کی کوئی خواہش پوری نہ ہو یہ کیسے ہو سکتا تھا آج تک اس نے جو چاہا سو پایا۔ چھوٹے بیٹے عارض کو یہی گلہ تھا کہ تمام خواہشات بھائی جان کی پوری کی جاتی ہیں اور اسے ہمیشہ حارث کی اترن یا رد کی ہوئی چیزیں ہی ملتیں۔ بایں ہمہ اظہار صاحب نے پراویڈنٹ فنڈ سے رقم نکلوا کر نئی موٹر سائیکل خرید لی اور اب حارث کو سرپرائز دینا چاہتے تھے۔

اونچا لمبا اجلے رنگ کا حارث بس سے اترنے والوں میں دور سے ہی ممتاز کیا جا سکتا تھا۔ اس نے پچاس میٹر چلنے کے بعد موڑ کاٹا اور کچے میں اتر گیا، دو خالی پلاٹ کراس کیے اور گھر کے دروازے پر دستک دی۔ اظہار صاحب اب دیوار کے اوپر سے صحن میں جھانک رہے تھے۔ دروازے سے اندر آتے ہی حارث کی نظر چمچماتی ہوئی موٹر سائیکل پر پڑی، خوشی کی قلقاری اس کے منہ سے نکلی اور وہ موٹر سائیکل سے کسی محبوب کی طرح لپٹ گیا پھر وہ دوڑتا ہوا چھت پر آیا اور باپ کے گلے لگ گیا۔

اظہار صاحب کو لگا گویا پیسے وصول ہو گئے۔ یونیورسٹی کی تعلیم مکمل ہوتے ہی حارث کو امریکہ جانے کی پڑ گئی آخر اظہار صاحب نے اپنی گاڑی بیچ کر رقم کا انتظام کر دیا۔ ان کی بیگم نے پہلی بار جب انہیں بس پر آفس جاتے دیکھا تو ایک پھانس سی دل میں چبھ گئی۔ امریکہ میں حارث کا کچھ وقت مشکل میں گزرا پھر وہ سیٹل ہو گیا۔ بیٹیوں کی شادی اور بیگم کے انتقال کے بعد اظہار صاحب کے لئے تنہا رہنا اور گرہستی دیکھنا آسان نہ تھا۔

عارص اپنی فیملی کے ساتھ علیحدہ مکان میں رہتا تھا اس کے دل سے یہ گلہ نکلا نہ تھا کہ اسے ہمیشہ دوسرے درجے کی حیثیت دی گئی وہ اپنے ساتھ لے جانے کی بجائے انہیں بھائی جان کے پاس جانے کا مشورہ دیتا۔ حارث مالی مدد کرنے پر تو تیار تھا لیکن ساتھ رکھنے پر نہیں۔ اخر حارث نے کافی ہاؤس اولڈ ہوم کی ممبر شپ لے کر انہیں وہاں شفٹ کر دیا

یہاں ہم عمر تو تھے مگر اپنے نہ تھے۔ پوتا پوتیوں کی شرارتیں نہیں تھیں گھر کی فضا نہیں تھی اور بیٹوں کے پاس ملنے کا وقت نہیں تھا۔

راشد صاحب کے بیٹے اچھے عہدوں پر فائز تھے اولاد کو اس مقام پر لانے کے لئے راشد صاحب نے اپنی ہر خواہش کا گلا گھونٹا تھا۔ موٹا جھوٹا کھایا اور پہنا تھا۔ بچے آسودہ حال تھے مگر اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے ان کی بہوؤں کا کہنا تھا بچوں کے ساتھ وہ ان کی اضافی ذمہ داری کا بوجھ نہیں اٹھا سکتیں حالانکہ راشد صاحب ہمیشہ سے قناعت پسند اور اپنے آپ میں گم رہنے والے آدمی تھے وہ کسی چیز میں مین میخ نہ نکالتے نہ کسی کے معاملے میں دخل دیتے جب ان کے بیٹوں نے اولڈ ہوم بھیجنے کا فیصلہ کیا تب بھی انہوں نے کچھ نہ کہا اور خاموشی سے شفٹ ہو گئے البتہ ان کا دل اندر سے بجھ ضرور گیا تھا۔ دو دن پہلے باورچی اور مالی کی گفتگو سن کر ملول ہو گئے تھے۔ باورچی کی شادی ہونے والی تھی وہ لمبی چھٹی پر جا رہا تھا مالی ہنستے ہوئے اس سے کہ رہا تھا

”ان بڑے لوگوں کی اولاد کی بے حسی کی وبا ہماری بستیوں میں آ گئی تو ہمارے پاس تو اولڈ ہوم میں ڈالنے کے پیسے بھی نہیں۔ یہاں سے جا کر دو ہفتے قرنطینہ کر لینا۔“

باورچی ہنس کر بولا ”اولڈ ہوم کا خرچہ حکومت دے گی“ ۔ جس پر مالی بولا ”حکومت یتیموں۔ بیواؤں اور بے سہارا لوگوں کی دستگیری کرے تیرے جیسے ہٹے کٹے کے میا باوا کا خرچہ کاہے ڈھوئے۔“

شاہینہ فاروقی بہت بڑے بزنس مین کی بیوہ تھیں خود بھی ایک کالج کی پرنسپل رہ چکی تھیں۔ فاروقی صاحب کی وفات کے بعد تمام سیاہ و سفید کا مالک ان کا اکلوتا بیٹا عثمان تھا ان کی آزاد منش بہو کو ان کا وجود ایک پل کو گوارا نہ تھا روز روز کی کٹا چھنی سے تنگ آ کر ان کا بیٹا یہاں چھوڑ گیا تھا وعدہ کیا تھا کہ ملنے آتا رہے گا پر ایک گھر میں رہتے ہوئے دنوں صورت نہیں دکھائی دیتی تھی تو یہاں آ کر ملنے کا تردد کیونکر کرتا۔

اس کے پاس تو ویڈیو کال کرنے کی فرصت بھی نہیں تھی کہ بچوں کی صورت ہی دکھائی دے جائے۔ گھر بہت یاد آتا۔ وہ گھر نہیں تھا یادوں کی پٹاری تھی جس کی ایک ایک اینٹ سے کوئی لمس کوئی احساس کوئی یاد جڑی تھی۔ اس گھر کو انہوں نے بہت لگن اور چاؤ سے بنایا تھا جہاں سے وہ پرانے فرنیچر کی طرح اٹھا کر پھینک دی گئیں تھیں۔

چمن ارا کون تھیں، کہاں سے آئی تھیں کوئی نہیں جانتا تھا۔ ان سے کوئی ملنے بھی نہیں آتا تھا۔ وہ خود بھی الگ تھلگ رہتی تھیں۔ دوسری خواتین کی طرح مل بیٹھ کر گزرے دنوں کی کہانیاں بانٹنے سے بھی انہیں کوئی شغف نہیں تھا۔ کسی نے اگر ٹوہ لینے کی کوشش کی تو انہوں نے بہت رکھائی سے جواب دیا۔ اخر سب نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ کافی ہاؤس اولڈ ہوم کے باسیوں کے لئے وہ ایک پہیلی تھیں جسے ہر کوئی بوجھنا چاہتا تھا۔

درحقیقت وہ غیر علانیہ نگرانی میں تھیں کہ کہیں سے کوئی سرا ملے کہ آخر وہ کون ہیں اور ان کی بند زبان کے پیچھے کیا اسرار ہیں۔ اور پھر ایک دن یہ راز کھل ہی گیا۔ چمن آرا کی طبیعت بوجھل ہو رہی تھی وہ لان میں چہل قدمی کرنے لگیں۔ عین اسی وقت ایک صاحب گیٹ سے اندر داخل ہونے۔ روش پر چلتے ہوئے ان کی نظر چمن ارا پر پڑی اور وہ چونک گئے۔ انہوں نے رک کر ایک بار پھر غور سے دیکھا اب کے وہ یقین سے کہہ سکتے تھے انہیں کوئی دھوکا نہیں ہوا بلکہ ان کے سامنے چمن ارا ہی ہیں۔ چمن ارا۔ نیپئر روڈ کی مشہور طوائف۔

جوانی کے دنوں میں وہ خود اس کوچے کے راہی ہوئے تھے اور اس خوش گلو کی آواز اور گلوری سے مستفید ہوئے تھے۔ اگرچہ اب وہ حسن و جمال اور رعنائی نہیں تھی مگر کھنڈر بتاتے تھے عمارت حسین تھی۔ چمن ارا بھی شاید انہیں پہچان گئی تھیں وہ مڑ کر تیزی سے بلڈنگ کے اندر چلی گئی تھیں۔ وہ صاحب بھی استقبالیہ کی طرف چل دیے۔

”پرویز ہمدانی سے ملنا ہے“
”جی آپ ویٹنگ لاونج میں تشریف رکھیں میں انہیں انفارم کرتی ہوں۔“
پرویز صاحب کا انتظار کرتے ہوئے صوفے کی پشت سے سر ٹکائے وہ کئی سال پیچھے ہجرت کر گئے۔
سندھ کے انگریز گورنر سر چارلس نیپیئر سے موسوم نیپیئر روڈ، سٹی اسٹیشن کراچی کے عین سامنے میکلوڈ روڈ (آج کا آئی آئی چندریگر روڈ) کے بطن سے نکلتی، فرئر روڈ اور بندر روڈ کو پھلانگتی نشتر روڈ پہنچتی۔ نشتر روڈ کو کراس کرتی تو کراچی کا بازار حسن شروع ہوجاتا جس کے ساتھ ساتھ چلتی یہ لی مارکیٹ سے معانقہ کرتی ہوئی چاکیواڑہ روڈ پر ختم ہوجاتی۔ جب سر شام اطراف کی مارکیٹیں بند ہونے کی تیاری میں ہوتیں تو یہاں زندگی بیدار ہوتی اور بالا خانوں سے آتی گھنگرؤں کی چھنا چھن کا ہلکا پھلکا آغاز ہوتا۔

جوں جوں رات بھیگتی، بازار کی رونق بڑھتی جاتی۔ ہار گجرے کی دکانیں فعال ہو جاتیں۔ کرارے نوٹوں کی گڈیاں پنواڑی کے چھوٹے سے گلے میں ٹھسا ٹھس بھر دی جاتیں۔ بازار حسن کو آنے والے تماش بین گجرے اور کرارے نوٹ خرید کر اوپر سجے کوٹھوں اور قحبہ خانوں میں شباب کے چسکے لینے پہنچ جاتے۔ اس گلی کی عمارتوں کے نام بھی ساکنان کی طرح رنگین تھے۔ بلبل ہزار داستان، سنگیت محل جمیلہ شکیلہ وغیرہ۔

برصغیر میں بازار حسن کی تاریخ قدیم ہے۔ 1864 میں جسم فروشی کو قانونی حیثیت حاصل ہونے کے بعد مخصوص جگہوں پر ریڈ لائٹ ایریا کے اجازت نامے جاری کیے گئے۔ کراچی میونسپل نے ریڈ لائٹ ایریا کے لئے نیپیئر روڈ کا انتخاب کیا کیونکہ یہ علاقہ بندرگاہ، ریلوے اسٹیشن، اور بسوں کے اڈے سے نزدیک ہونے کی وجہ سے اس بازار کے متوقع گاہکوں کی فراہمی کے لئے بہترین تھا۔ قانونی تحفظ کے سائے تلے رقص و موسیقی کی دنیا پوری آب و تاب سے قائم ہوئی اور ساتھ قحبہ خانے بھی چلے۔

قیام پاکستان کے بعد یہ علاقہ فلم انڈسٹری کے لئے فنکار مہیا کرنے والی نرسری بن گیا 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو نے تحریک نفاذ نظام مصطفیٰ کے دباؤ میں آ کر ملک میں کسینو نائٹ کلب اور جوئے خانے بند کیے شراب پر پابندی لگائی تب یہ بازار بھی متاثر ہوا اور پھر ضیاء الحق کے دور میں تو طوائفوں کا یہ باڑا بالکل اجڑ گیا۔ اخبار ڈان کا دفتر اسی روڈ پر تھا۔ ساوتھ نیپئر روڈ کو ڈان کے ایڈیٹر الطاف حسین۔ اور نارتھ نیپئر روڈ کو کرم علی تالپور سے موسوم کیا گیا۔ لیکن آج تک اس کی پہچان نیپیئر روڈ کے نام سے ہی ہے۔ عمارتوں پر اب تک نیپیئر روڈ لکھا ہے اور کھمبے سے لٹکے اڑے ہوئے رنگ کے بورڈ پر بھی نیپئر روڈ ہی درج ہے۔

چمن ارا نیپئر روڈ کے آخری دور کی شمع محفل تھیں۔ اس وقت وہ ایک نوخیز کلی تھیں اور شباب نے انہیں بس چھوا ہی تھا لیکن سراپا ایسا قیامت خیز تھا کہ بڑی بڑی بیسوائیں ان کے آگے پانی بھرتی تھیں۔ جب قحبہ خانوں پر پابندی لگی اور گاہکوں نے آنا ترک کیا تو بیسوائیں یہاں سے شہر بھر میں منتشر ہو گئیں۔ چمن ارا البتہ طویل عرصے تک نیپئر روڈ پر ہی مقیم رہیں۔ اور رقص و موسیقی کی محفلیں سجاتی رہیں۔

”ارے شہریار تو کب آیا کینیڈا سے“ پرویز صاحب کی آواز شہریار کو ماضی کے دریچے سے نکال لائی۔

دونوں دوست برسوں بعد ملے تھے پرانے دوستوں سے ملنا ایسا ہوتا ہے جیسے آپ نے اب حیات پی لیا ہو جیسے وقت کا چرخہ الٹا چل گیا ہو اور آپ اسی عمر اور دور میں ہیں جب آپ بچھڑے تھے۔ وہی توانائی اور ولولہ جاگتا محسوس ہوتا ہے۔ دونوں دوست دیر تک ماضی کے قصے دہراتے رہے۔ یونہی باتوں میں شہریار نے چمن ارا کا ذکر بھی کر دیا۔ وہ اسے اولڈ ہوم میں دیکھ کر حیران تھے۔

چمن ارا انتہائی بے چین تھیں۔ انہوں نے شہریار کی آنکھوں میں شناسائی کی چمک دیکھ لی تھی۔ اور وہ خوف زدہ تھیں کہ اگر یہ راز طشت از بام ہو گیا تو سماج کے اس بظاہر ماڈرن اور لبرل طبقے سے انہیں شرف قبولیت مل پائے گا یا نہیں۔ گزرے دنوں کے نوکیلے کانچ ان کی رگ و پے میں چبھے جاتے تھے۔ وہ ماضی سے سراسیمہ اور مستقبل سے مایوس تھیں۔ انہیں اچھی طرح یاد تھا جب وہ نیپئر روڈ سے نکل کر ڈیفینس کی کوٹھی میں شفٹ ہوئی تھیں۔

تو مائرہ صرف دو ماہ کی تھی۔ مائرہ سے پہلے ان کے دو بیٹے تھے لیکن رنگ و آہنگ کی دنیا میں بیٹوں کی کوئی وقعت نہیں ہوتی اسی لئے جب مائرہ پیدا یوئی تو اسے خوش نصیبی کی علامت سمجھا گیا۔ بیٹیاں اس کے گھرانے میں بڑھاپے کا سہارا ہوتی ہیں۔ جب جوانی کا ملمع اتر جائے تو طوائف ٹھیکرا ہوجاتی ہے لیکن اگر بیٹی خوبصورت اور اچھی اٹھان والی ہو تو یہ ٹھیکرا پھر سے گویا صیقل ہوجاتا ہے۔

بازار پر مندی تھی بلبل ہزار داستان کے سوا تقریباً ساری بلڈنگیں خالی ہو چکی تھیں۔ اس بلڈنگ میں اب ایک تھیٹر قائم تھا جس میں رقص و موسیقی کی محفلوں کا انعقاد ہوتا تھا اور پس پردہ دوسرے سودے بھی ہو جاتے تھے۔ بیسوائیں یا تو فلمی دنیا کا رخ کر چکی تھیں یا پھر دوسرے علاقوں میں منتقل ہو گئی تھیں جہاں اب نائیکہ کے بجائے آنٹی کہلاتی تھیں۔ عمارت کے بیرونی دروازے پر شریفانہ نام کی تختی لگی ہوتی تھی جہاں داخل ہوتے ہوئے امیر زادے جھجک محسوس نہیں کرتے۔ دھندہ وہی تھا مگر اسے دور جدید کے تقاضوں کے ہم آہنگ کر لیا گیا تھا۔ پہلے قانون کی سرپرستی حاصل تھی اب قانون کے رکھوالوں کی۔

چمن ارا بھی اپنے آبائی گھر کو چھوڑ کر سمندر کنارے منتقل ہو گئیں۔ بیت جلد انہوں نے ٹیم تیار کرلی۔ اور کاروبار جم گیا۔ وہ مائرہ کو بھی تیار کر رہی تھیں۔ استادوں سے رابطہ کر کے اسے رقص و موسیقی کی باقاعدہ تعلیم سے بہرہ مند کیا گیا۔ جلد ہی وہ مشاق رقاصہ اور گائیکہ ہو گئی اور محفلوں میں جدید طرز کے مجروں پر جانے لگی۔ اب ایسے مجرے کرنے والیوں کو طوائف نہیں فنکارہ یا انٹرٹینر کہا جاتا تھا۔ چمن ارا کو اب اس دن کا انتظار تھا جب مائرہ کی نتھ اترتی۔

نتھ اترنے کی یہ رسم پرانے محلے سے چلی آئی تھی۔ ایک چھوٹی سی نتھ بچپن سے لڑکی کی ناک میں ڈال دی جاتی جو اس کی دوشیزگی کی علامت ہوتی۔ جوان ہونے پر اس نتھ کی بولی لگتی اور جو سب سے بھاری بولی دیتا وہ اس کا کنوار پن خرید لیتا اور نتھ اتارنے کا حقدار ٹھہرتا۔ چمن ارا کو امید تھی کہ مائرہ کو اچھا قدردان مل جائے گا۔ اور پھر ایک بہت بڑے سیاستدان کے بیٹے نے نتھ اتارنے کا حق خرید لیا۔ اس کے بعد مائرہ بھرپور طریقے سے پیشے میں داخل ہو گئی۔ کوٹھی کا نظام وہ اب اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی تھی

وہ پرانے زمانے کے طور طریقے کی قائل نہیں تھی جس میں نائیکہ سیاہ سفید کی مالکن ہوتی تھی اور سارے اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھتی تھی۔ اسے چمن ارا کی روک ٹوک اور ہدایتوں کا پٹارہ بھی پسند نہیں تھا۔ کئی بار وہ چمن ارا پر بھڑک چکی تھی اور انہیں باور کر دیا تھا کہ اس نے چمن ارا کا ٹھیکہ نہیں لیا وہ اگر اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں تو انہیں ایک طفیلی بن کر رہنا ہوگا۔

ایک روز ایک کلائنٹ نے کافی ہاؤس اولڈ ہوم کا ذکر کیا تو مائرہ کے دل میں خیال آیا چمن ارا وہ چوسی ہوئی گنڈیری ہیں جسے کوڑے دان میں پھینک دینا ہی بہتر تھا اس نے چمن ارا کا بوریا بستر سمیٹا اور انہیں اولڈ ہوم میں جمع کرا دیا۔

پرویز صاحب کے ہاتھ بریکنگ نیوز لگ گئی تھی۔ ذرا سی دیر میں چمن ارا کا تاریخ جغرافیہ ہر طرف نشر ہو گیا۔ چمن ارا ویسے ہی الگ تھلگ رہتی تھیں اس خبر کے بعد تو گویا اچھوت ہو گئیں۔ اولڈ ہوم کی خواتین لاکھ وسیع الذہن سہی مگر ایک سکہ بند طوائف کی ہم نشینی ہرگز قابل قبول نہ تھی۔ کچھ حضرات بھی ان کے ہمنوا تھے تاہم کچھ حضرات اب انہیں بے ضرر مان کر اولڈ ہوم میں رہنے پر کوئی قباحت نہیں پاتے تھے۔ بہرحال کافی ہاؤس اولڈ ہوم کی انتظامیہ کو چمن ارا کو بے دخل کرنے کی درخواست پہنچا دی گئی تھی۔

چمن ارا یہ سب دیکھ اور سن رہی تھیں۔ مائرہ کو فون کر کے صورتحال سے آگاہ کر چکی تھیں۔ لیکن اس کی طرف سے کوئی حوصلہ افزا پیغام نہیں ملا تھا نہ ہی آنے کا کوئی عندیہ ظاہر کیا تھا حالانکہ وہ بتا چکی تھیں کہ ان کی طبیعت بہت خراب رہنے لگی ہے۔ پیٹ میں شدید درد رہتا ہے۔ رفع حاجات میں تکلیف تھی اور بدبو دار سیال مائع سے ان کے کپڑے آلودہ رہتے تھے۔ اس ہفتے ڈاکٹر وزٹ پر آیا تو انہوں نے ان تکالیف کا ذکر کیا تھا اور اس نے فوری طور پر گائناکالوجسٹ سے ملنے کا مشورہ دیا تھا لیکن مائرہ کے پاس وقت ہی نہیں تھا۔

نفرت اور حقارت زدہ رویے سے ان کی طبیعت اور بوجھل رہنے لگی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھیں یہاں سے بے دخل ہو کر وہ کہاں جائیں گی جسمانی اور نفسیاتی تکلیفوں نے انہیں ڈھا دیا اور ایک دن صبح جب بستر سے اٹھیں تو گر کر بے ہوش ہو گئیں۔ ایمرجنسی میں انہیں اسپتال لے جایا گیا۔ معائنے کے بعد بہت سے ٹیسٹ اور ایم آر آئی کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ انہیں رحم۔ کے۔ منہ کا کینسر ہے جو آخری اسٹیج پر ہے۔ جنسی عمل کی کثرت، کئی مردوں سے جنسی اختلاط اور، ایچ پی وی وائرس کی منتقلی اس کینسر کا سبب بنے تھے۔ جنسی امراض (std) کی موجودگی نے کینسر کی بڑھوتری کو مہمیز کیا مزید یہ کہ ابتدائی علامات کو نظر انداز کیا گیا اور کینسر کی تشخیص میں خطرناک تاخیر ہوئی۔

کافی ہاؤس اولڈ ہوم کے لوگوں تک چمن ارا کی بیماری کی خبر پہنچ چکی تھی۔ اکثریت اب بھی ان کی یہاں رہائش کے خلاف تھی تاہم انتظامیہ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔

صبح ناشتے سے فارغ ہو کر خواتین سردیوں کی دھوپ سینکنے کے لئے لان میں کرسیاں ڈالے بیٹھی تھیں کہ کچھ لوگ استقبالیہ سے ہو کر زنانہ بلاک کی طرف آتے دکھائی دیے۔ وہ چمن ارا کا سامان لینے آئے تھے۔ خواتین نے پر تجسس ہو کر دریافت کیا

”اب چمن ارا کہاں رہنے جا رہی ہیں“
ان میں سے ایک نے یک لفظی جواب دیا
”قبرستان“ ،
اور سامان اٹھا کر آگے بڑھ گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *