سوشل ایشوز پر ڈرامہ بنائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

درجنوں کے حساب سے انٹر ٹینمنٹ چینل ہیں۔ ہر چینل پر ڈرامہ چل رہا ہے۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ ہر چینل پر مختلف چہرے ایک ہی کہانی پیش کر رہے ہیں اور بعض چینلز پر تو چہرے بھی نہیں بدلتے۔ بس ڈرامے اور چینل کا کا نام بدل جاتا ہے۔ ساس بہو کی لڑائی اور محبت کی ناکامی پر دوسرے کو برباد کرنے والے ڈرامے سات بجے شروع ہوتے ہیں اور گیارہ بجے تک چلتے رہتے ہیں۔ مجھے دیکھنے والوں پہ حیرت ہوتی ہے کہ وہ کیسے اتنے انہماک سے ساس بہو کی ایک دوسرے کے لیے نفرت والے ڈرامے دیکھتے ہیں۔

کیسے خون کے رشتوں کو اپنوں کے خلاف سازش کرتے دیکھ کر وقت گزارتے ہیں، اور اکتاتے بھی نہیں۔ ڈراموں میں دوسری کہانی محبت میں ناکامی ہے۔ لیکن یہ ناکامی بھی سازش کا روپ دھار لیتی ہے۔ ناکام ہونے والے یا والی کو ہر صورت محبت جیتنی ہے۔ اپنا پیار پانے کے لیے ہر حد پار کرتے دکھائی جاتی ہے۔ اور لوگ انہماک سے دیکھتے ہیں۔ ڈرامے میں منفی کردار کو ناپسند کرنے والے حقیقت میں اسے ہی اپنا لیتے ہیں

ان ڈراموں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید یہی معاشرے کی پسندیدہ کہانیاں ہیں۔ گھریلو سازش، فریب، محبت حاصل کرنے کے لیے کسی حد تک بھی چلے جانا۔ ان دو موضوعات کے علاوہ کسی اور موضوع پہ ڈرامہ نہیں بن رہا۔ اگر صرف سازش، بے راہ روی، جیسے موضوعات پر ہی ڈرامے بنانے ہیں تو انٹرٹینمنٹ کی تعریف بدلنی ہوگی۔ معاشرتی مسائل کو ڈرامہ کے ذریعے سامنے لانا ڈرامہ رائٹر کی ذمہ داری بھی ہے اور وقت کی ضرورت بھی۔ لیکن رائٹر اور ڈائریکٹر سب اس سے نظر چرائے ایک دوسرے کی نقالی کر رہے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ بہترین ڈرامہ بنایا جا رہا ہے، اور ان کا ڈرامہ عوام میں بہت مقبول ہے۔ جبکہ یہ سراسر غلط فہمی ہے۔

کہ دیکھنے والے تو وہی دیکھیں گے جو ان کو میسر ہو گا۔ ہمارے ہاں ناظر کی سوچ آج بھی اتنی پختہ نہیں ہو سکی ہے کہ وہ فیصلہ کرسکے کہ اس نے کس چیز کو ریجیکٹ کرنا ہے اور کس کو قبول کرنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس ورائٹی کوئی نہیں۔ یہی دیکھ لیں کہ 80 کی دہائی میں مار دھاڑ سے بھرپور کانوں کے پردے پھاڑتی چیختی چلاتیں فلمیں عوام میں مقبول تھیں۔ فصلوں پہ تباہی پھیرنے والا انجمن کا ڈانس اور سلطان راہی کا گنڈاسہ مقبول ہوا۔

اس سے آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس میں گنڈاسے کا کمال تھا؟ جی نہیں، اس کی وجہ یہ تھی کہ عوام کے پاس دیکھنے کے لیے دوسری چوائس ہی نہیں تھی۔ اب جو ان کو دستیاب تھا اور سستے میں مل رہا تھا وہ اسی پر راضی تھے اگر ان کے پاس چوائس ہوتی تو وہ انجمن اور سلطان راہی کا گنڈاسہ یا کلاشنکوف پکڑے، بڑھکیں مارتا پیار قبول کرتے یا دھیمے سروں میں ’ہم تم اک کمرے میں بند ہو‘ گنگناتے رشی اور پدمنی کو سینما میں دیکھنے جاتے۔

محبت سرگوشی ہے، میٹھا سر ہے۔ لیکن ہمارے فلم میکرز نے اس کو ڈنڈے کے زور پہ فلمایا۔ اور لوگوں نے لڑائی کا تاثر دیتا پیار قبول کیا۔ مجھے تو شدید دھچکا لگتا ہے کہ ایک بندہ ہاتھ میں کلاشنکوف تھامے چہرے پہ سختی جمائے کھڑا ہے اور ہیروئن اپنے لطیف احساسات کا اظہار کر رہی ہے۔ چہرے کی کرختگی دیکھ کر تو محبت دل سے ویسے ہی اڑن چھو ہوجاتی ہے کجا کہ اس کا اظہار۔ لیکن وہی بات کہ غصے سے بھرپور محبت کا اظہار بھی قبول تھا، کہ شائقین کے پاس دوسرا آپشن کوئی نہیں تھا۔ اب جو ان کو مل رہا تھا وہ اسی پر راضی تھے۔ جب دوسری چوائس کوئی نہ ہو تو پھر اسی پر گزارہ کرنا پڑتا ہے جو میسر ہو۔

یہی حال ڈرامہ کا ہے۔ لکھنے والوں سے معذرت کے ساتھ کہ اگر ڈائجسٹ رائٹر کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو ڈرامہ رائٹر کون سا غیر معمولی لکھ رہے ہیں۔ وہی گھسی پٹی کہانی جس پہ ایک ڈائریکٹر کام شروع کرتا ہے تو ہر کوئی اس کی نقالی کرنا شروع کر دیتا ہے۔ کچھ ورائٹی نہیں۔ کوئی الگ سے موضوع نہیں۔

ہمیشہ سے ڈرامے کا عوام سے ایک گہرا اور مضبوط رشتہ رہا ہے۔ معاشرے کو تفریح دینے اور اس کی اصلاح کا بہترین ذریعہ ڈرامہ ہے۔ لیکن سٹیج ڈرامہ پھکڑ پن کا شکار ہو گیا، اور ٹی وی ڈرامہ گھریلو سیاست کے علاوہ کچھ اور نہیں پیش کر رہا۔ بد قسمتی سے ہمارا ڈرامہ سازشی کرداروں میں الجھ کر رہ گیا ہے۔ جبکہ جن مسائل کو ڈرامے کے ذریعے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ان مسائل پر کوئی ڈرامہ لکھنے کو بھی تیار نہیں۔ جیسا کہ خواتین کے بے شمار مسائل ہیں جن کو ڈرامے کے ذریعے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ ونی، کاروکاری، تعلیم سے محرومی، صحت کے مسائل، ریپ، جنسی ہراسانی، ملازم پیشہ خواتین کے مسلے، دیہی علاقوں میں سہولیات کی کمی، پسماندہ علاقوں میں موجود نسل در نسل چلنے والی پرانی فرسودہ رسومات، آبادی میں اضافہ، مہنگائی، غربت،

رشوت، اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کا شعور، بچوں پہ پہ ذہنی و جسمانی تشدد اور جبری مشقت، متوسط طبقے کی مشکلات اور سینکڑوں دیگر مسائل جن کو ڈرامے کے ذریعے سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ لیکن ان میں سے کسی ایک ایشو پر بھی ڈرامہ نہیں بن رہا۔ کبھی پی ٹی وی ان موضوعات پر ڈرامے بناتا تھا لیکن وہ بھی اب ایک ناکام ترین ادارے میں بدل چکا ہے۔

ہمیشہ سے ڈرامے کا عوام سے ایک گہرا اور مضبوط رشتہ رہا ہے۔ ڈرامہ ایک بہترین اور موثر ترین صنف ہے۔ لہذا سطحی رومانیت کی بجائے معاشرتی مسائل کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ جن موضوعات پر لکھا جانا چاہیے اس کی بجائے ہمارا ڈرامہ صرف سازشی کرداروں میں الجھ کر رہ گیا ہے۔ یہاں تک کہ کوئی مزاحیہ ڈرامہ بھی نہیں بن رہا۔ بلکہ جو ایک آدھ مزاحیہ ڈرامہ چل رہا ہے اس کو دیکھ کر ہنسی کے بجائے رونا آتا ہے۔ اور انتہائی دکھ کی بات یہ ہے کہ چینلز کی بھرمار کے باوجود کسی بھی چینل پر بچوں کے لیے کوئی پروگرام نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *