ماں کی گستاخ چیخ

یوں تو جون کے آغاز سے ہی گرمیوں نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، لیکن آج کا دن حد درجہ گرم ہونے کے باعث قیامت ڈھا رہا تھا۔

نجی نیوز چینل پر محکمہ موسمیات کے ماہرین اپنی رائے پیش کر رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ شہر سے تقریبا 400 کلو میٹر کے فاصلے پر بحیرہ عرب کے مقام پر ہوا کے کم دباو کی وجہ سے جو ڈپریشن بنا ہے، اس نے سمندر کی خوش گوار ہوا‎ؤں کو روک رکھا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ہمیں پچھلے چار پانچ روز سے شدید گرمی کا سامنا ہے۔

ایک بیڈ روم اور چھوٹی سی بیٹھک سے متصل باورچی خانہ پر مشتمل اس چھوٹے سے مکان میں ٹی وی پر نشر ہونے والی سہ پہر کی خبریں گونج رہی تھیں، گرمی سے بے حال فردوس بی بی رات کے کھانے کی تیاری میں مصروف تھیں، وہ سبزی کاٹنے کے ساتھ ساتھ خبریں بھی سن رہیں تھیں، خبروں میں دلچسپی انھیں اپنی بیٹی زارا کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی، زارا، فردوس بی بی کی اکلوتی اولاد تھی، ابھی وہ صرف چھ برس کی ہی تھی کہ فردوس بی بی کو بیوگی کے روگ نے آن لیا، وہ اپنے شوہر اسماعیل مسیح کے ایک حادثے میں انتقال کے بعد اپنی بیٹی زارا کو ساتھ لے کر گاؤں سے شہر منتقل ہو گئیں تھیں، جہاں انھوں نے اپنے شوہر کے دیرینہ دوست کی مدد سے ایک ادارے میں خاک‌‏ روب کی ملازمت اختیار کر لی تھی، جو اگرچہ آمدن کا ذریعہ تو تھی، مگر اس قلیل سی رقم سے روز مرہ کی ضروریات اور زارا کی تعلیم پر اٹھنے والے اخراجات بمشکل پورے ہو پاتے تھے، لیکن چوں کہ فردوس بی بی بھی دیگر والدین کی طرح یہ ہی عزم رکھتی تھیں کہ ان کی اولاد کا مستقبل ان سے بہتر ہو لہاذا وہ اپنا پیٹ کاٹ کر زارا کو تعلیم دلوا رہیں تھیں، فردوس بی بی اگرچہ تعلیم یافتہ تو نہیں تھیں، لیکن تنگ دستی اور جہالت کی ماری زندگی کے تلخ تجربات نے ان پر یہ حقیقت ضرور واضح کر دی تھی، کہ آسودگی ہزار نعمت ہے۔

نیوز کاسٹر نے ماہرین کی اس گفتگو کے دوران لقمہ دیتے ہوئے خبر نشر کی، شدید گرمی سے متاثر اس رمضان کے مہینے میں Heat stroke اورdehydration کی وجہ سے اب تک تقریبا گیارہ سو لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

فردوس بی بی یہ خبر سنتے ہی پریشان ہو گئیں، خود کلامی کی شکار فردوس بی بی نے حسب معمول بڑبڑانا شروع کر دیا، میز پر رکھے زارا کے لنچ باکس کو گھورتے ہوئے گویا ہوئیں، ہائے زارا میں تینوں کنی واری آکھیا روٹی نال لے جایا کر، پر توں تے میری کدے وی نہیں سندی، ”زارا میں نے کتنی بار کہا ہے کہ کھانا ساتھ لے جایا کر، لیکن تو میری بات کبھی نہیں سنتی“ کہتی ہے، وہ زارا کے لہجے میں گویا ہوئیں، بے بے میری ڈیوٹی جن نرسوں کے ساتھ لگتی ہے نا وہ سب روزے سے ہوتی ہیں، اچھا نہیں لگتا کہ میں ان کے سامنے اس طرح کھاتی پیتی رہوں، بے بے ہمیں ایک دوسرے کے جذبوں کا احترام کرنا چاہیے، جھلی نا ہوئے تے، فردوس بی بی نے پیار سے ایسے جھڑکا جیسے زارا سامنے ہی تو بیٹھی ہو۔

فردوس بی بی تو بس اپنی لاڈلی بیٹی زارا کو دیکھ دیکھ کر جیتی تھیں، جب وہ گھر میں ہوتی تو فردوس بی بی اس کی بلائیں لیتے نا تھکتیں، بڑے پیار سے اس کی ساری باتیں سنتیں، اس کے پورے وجود کو اپنی نس نس میں اتار لیتیں، اور جب وہ کام پر چلی جاتی تو اس کا ہالہ اپنے ساتھ لیے لیے پھرتیں، خود کلامی کے انداز میں اس سے باتیں کرتیں، اس کے بارے میں سوچ سوچ کر مسکراتیں، لیکن کبھی کبھی رنجیدہ بھی ہو جاتیں۔

بات دراصل یہ تھی، کہ جیسے جیسے زارا بڑی ہو رہی تھی، فردوس بی بی میں اپنے پیشے کی وجہ سے پایا جانے والا کم مائیگی کا احساس گہرا ہوتا جا رہا تھا، وہ آزردہ خاطر رہنے لگیں تھیں، انھیں یہ ڈر ہر وقت گھیرے رہتا، کہ کہیں ان کے پیشہ کی وجہ سے یہ بالائی اور زیریں طبقہ میں بٹا ہوا معاشرہ ان کی بیٹی کو بھی اچھوت قرار نا دے دے، فردوس بی بی کو جب بھی چمار کہہ کر پکارا جاتا تو انھیں یوں محسوس ہوتا جیسے ان کے وجود کا کوئی حصہ کٹ کر دور جا گرا ہو، وہ اکثر و بیشتر اس متعفن معاشرہ کی ‏غلاظت ہی نہیں بلکہ اپنے وجود کی کرچیاں بھی بڑی خاموشی سے سمیٹا کرتیں۔

زارا ایک چھوٹے سے مقامی ہسپتال میں نرس کے فرائض انجام دے رہی تھی، خدمت خلق کا جذبہ اسے اپنی ماں فردوس بی بی سے بطور ورثہ ملا تھا، اور اس پہ مستزاد یہ کے انسان دوست مزاج نے آس میں مزید نکھار پیدا کر دیا تھا، لہاذا نرس کی ملازمت اس کے لیے محض آمدنی کا ذریعہ نہیں تھی، بلکہ وہ اس مقدس پیشے کے ذریعے اپنے جذبوں کی تسکین بھی چاہتی تھی، وہ انتہائی ذہین، ہونہار اور زندہ دل لڑکی تھی، اس کی شخصیت کی قابل ذکر بات یہ تھی کہ اس نے کم عمری میں ہی با خبر رہنا سیکھ لیا تھا، ارتقاء کا یہ حسن انتخاب بل آخر اس کی گستاخی ٹھہرا۔

یہ کل ہی کی تو بات ہے، جب زارا ہسپتال سے شام کو گھر لوٹی تو فردوس بی بی کو اداس پایا، کھانے سے فارغ ہو کر وہ ان کے پاس جا بیٹھی، بڑے پیار سے اپنی ماں کے محنت کش ہاتھوں کو اپنے روشن خیال گداز ہاتھوں میں تھاما، انھیں اپنے رخساروں سے مس کیا اور عقیدت سے چومتے ہوئے اپنی ماں سے اسی کے لہجے میں مخاطب ہوئی، بے بے ایویں نا دل چھوٹا کیا کر، مینوں پتا ائے توں کیوں اداس ہو جاندی اے، ”مجھے پتا ہے تو کیوں اداس ہو جاتی ہے“ ۔

لیکن زارا اس لہجے کو زیادہ دیر برقرار نا رکھ پاتی، اور جوش خطابت میں حسب عادت سامعین سے بے خبر فصیح و بلیغ فکر کے انبار لگاتی چلی جاتی، بے بے تو تو خدمت خلق پر مامور ہے، یہ تیرے آجر بھلا اس کا اجر کیا دیں گے، بے بے یہ جو تنخواہ کی مد میں ہر ماہ قلیل سی رقم تیرے ہاتھ میں دھری جاتی ہے نا، وہ نا تو تیری خدمت کا صلا ہے اور نا ہی آس کا اعتراف، یہ رقم تو تیرے اندر کم مائیگی کے احساس کو مزید پختہ کرنے کے لیے دی جاتی ہے، تا کہ تو ہمیشہ ان کی دست نگر بن کر رہے، اور زیریں طبقے سے وابستہ رہ کر طبقاتی نظام کو برقرار رکھنے میں ان کی مدد گار ثابت ہو، بے بے ان کی یہ بے تحاشا دولت صرف طبقاتی نظام میں ہی محفوظ رہ سکتی ہے، بے بے تو نے کبھی سوچا ہے کہ یہ ان گنت چھاپے جانے والے کاغذ کے بے وقعت ٹکڑے کسی شے کی قدر کیسے متعین کرتے ہیں، بے بے اصل دولت یہ کاغذ کے ٹکڑے نہیں ہیں، بلکہ وہ ذرائع پیداوار ہیں جن پر یہ چند لوگ قابض ہیں، بے بے اس اونچ نیچ کا سارا نظام ملکیتی اجارہ داری اور اس سے محرومی پر قائم ہے۔

زارا نے سرگوشی کے انداز میں فردوس بی بی پر تقریبا جھکتے ہوئے کہا، بے بے ذرا سوچ جس دن ہم نے ان سے یہ کاغذ ٹکڑے لینے بند کر دیے تو کیا ہو گا، اتنا کہہ کر زارا نے کچھ دیر توقف کیا، تو فردوس بی بی جو بڑے دھیان سے اپنی بیٹی کی باتیں سن رہی تھیں، آس پر واری نیاری جا رہی تھیں، کچھ بھی نا سمجھنے کے با وجود فخر سے پھولے نہیں سما رہی تھیں، فردوس بی بی کو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کالج کے آڈیٹوریم میں بیٹھی زارا کی تقریر سن رہی ہوں، جہاں ہال میں موجود ہر شخص زارا کے منہ سے ادا ہونے والے ایک ایک لفظ پر ہمہ تن گوش ہو۔

زارا نے فردوس بی بی کی کیفیت کو بھانپتے ہوئے، جس سے صاف ظاہر تھا کہ وہ مزید جاننا چاہتی ہیں، اپنی بات دہرائی، بے بے جس دن ہم نے آن سے یہ کاغذ کے ٹکڑے لینا بند کر دیے، اس دن ہم ہر شے میں برابر کے حصہ دار ہوں گے، زارا نے یہ بات سینہ تان کر کہی، اس لمحے اس کے چہرے پر زندگی کا فیصلہ کن تاثر موجود تھا، اس کی آنکھوں سے وہ ذہانت ٹپک رہی تھی کہ جس سے صدیوں سے ایستادہ فرسودہ روایات کے اسیر، فریب دہی پر قائم ایوان لرزہ براندام رہتے ہیں۔

زارا نے ایک دفعہ پھر کچھ دیر توقف کے بعد اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا، بے بے صرف اتنا ہی نہیں، بلکہ ہم زمین پر آن کی ریاست سے لے کر آسمان پر آن کے خدا تک رسائی حاصل کر لیں گے، یہ سنتے ہی فردوس بی بی کی آنکھوں میں بے چینی امڈ آئی، جسے زارا نے بھانپتے ہوئے بے بے کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر مضبوط لب و لہجہ میں نرمی کی آمیزش کے ساتھ اپنی بات جاری رکھی، بے بے یہ سب ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں، ایک طرف ان کا مذہب ہمیں قناعت پسندی اور ہر حال میں صبر شکر کے ساتھ زندگی گزارنے کا درس دیتا ہے، تو دوسری طرف ان کی ریاست ہمارے بچے کچے جذبوں کی توانائی کو ملی نغموں میں صرف کر دیتی ہے، بے بے ہمارے پاس بچتا ہی کیا ہے، بس اتنی سی طاقت کہ جس کے بل پر، ہم یا تو دعا کے لیے ہاتھ اٹھا سکتے ہیں، یا دوا کے لیے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں۔

زارا کا چہرہ جوش خطابت سے تمتما رہا تھا، اس کے ہمکتے ہوئے پورے وجود سے ظاہر تھا کے زندگی کا جوہر ٹھاٹھیں مار رہا ہے، فردوس بی بی جو اتنی دیر سے ممتا کی پیار بھری مورت بنی بڑی یکسوئی سے زارا کی باتیں سن رہیں تھیں، نے پہلو بدلا، ان کی آنکھوں میں انجانا خوف اتر آیا تھا، انھوں نے جھٹ اپنا ہاتھ زارا کے ہونٹوں پر رکھ دیا، نا میرا پتر نا ایہو جیاں گلاں نا کیا کر، مینوں ڈر لگدا ائے، ”نہیں بچی ایسی باتیں نہیں کرتے، مجھے ڈر لگتا ہے“ زارا نے سنی ان سنی کرتے ہوئے تیوری پر بل چڑھا کر خفگی کا مصنوعی اظہار کرتے ہوئے کہا، بے بے میں تینوں کنی واری اکھیا، مینوں پتر نا بلایا کر میں تے تیری دھیی آں، ”بے بے میں نے تجھ سے کتنی بار کہا ہے کہ مجھے بیٹا مت پکارا کر، میں تو تیری بیٹی ہوں“ ہاں ہاں مینڈی دھیی مینڈی سونی دھیی، ”ہاں ہاں میری بیٹی میری پیاری بیٹی“ فردوس بی بی نے پیار سے زارا کے رخسار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، میں تے بس ائے چانی آں کہ توں پڑھ لکھ جا، تے اپنے پیراں اوتے کھلو جا، تے فر میں چنگا تے سونا جیا منڈا ویکھ کے تیرا وہیا رچا دیاں، ”میں تو بس یہ چاہتی ہوں کہ تو پڑھ لکھ جا اور اپنے پیروں پر کھڑی ہو جا، تو پھر میں کوئی اچھا سا لڑکا دیکھ کر تیری شادی کو دوں“ ۔

زارا نے مسکراتے ہوئے شرارت بھری نظروں سے فردوس بی بی کی طرف دیکھا، اور قریب ہی میز پر رکھی کتاب معیشت کا تاریخی پس منظر سے اخبار کا ایک تراشا نکالا اور بے بے کے سامنے رکھ دیا، اس تراشہ میں ایک نوجوان کی تصویر تھی اور اس کے نیچے خبر چھپی ہوئی تھی، فردوس بی بی نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے تصویر پر نظریں جما دیں جیسے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہوں، انھوں نے تصویر سے نظریں ہٹائے بغیر زارا کی بدلتی کیفیت سے بے خبر دریافت کیا، ائے منڈا کون ائے، ”یہ لڑکا کون ہے“ ۔

زارا کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں تھیں، اس نے اپنی کانپتی ہوئی انگلی تصویر پر رکھی اور کہنے لگی، بے بے جے توں میرا وہیا چانی ہے، تے فر ایہو جیا منڈا ڈھونڈ دے، ”بے بے اگر تو میری شادی کا ارادہ رکھتی ہے، تو پھر ایسا لڑکا ڈھونڈ دے“ میں فورا شادی کر لوں گی تیری قسم، فردوس بی بی نے سر اوپر اٹھایا، آئے ہائے زارا جھلی نا ہوئے تے، بے شرم، انھوں نے مصنوعی خفگی اور پیار کے ملے جلے انداز میں زارا کے رخسار پہ ہلکی سی چپت رسید کر دی، اور بڑی بے صبری سے دریافت کرنا شروع کر دیا، پر زارا مینوں ائے تے دس ایدا نام کی اے تے ریندا کتھے ائے، تیرے کالج دا ساتھی ائے کہ ہسپتال دا، چل میرا پتر چھیتی نال دس، ”زارا مجھے یہ تو بتا کہ اس نام کیا ہے، رہتا کہاں ہے تیرا کلاس فیلو ہے یا کولیگ، چل شاباش جلدی جلدی بتا“ ۔

زارا کے چہرے کا رنگ اچانک پھیکا پڑ گیا، آنکھوں میں جیسے اداس شام اتر آئی ہو، الفاظ جیسے حلق میں پھس کر رہ گئے ہوں، آس نے گلا کھنکارتے ہوئے رندھی ہوئی کھوئی کھوئی سی آواز میں کہنا شروع کیا، بے بے اس کا نام مشعال خان ہے اور میں اس سے کبھی نہیں ملی لیکن بے بے یہ میرا ساتھی تھا ہم سب کا ساتھی، اتنا کہہ کر زارا ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئی، اس نے حلق میں پھنسے ہوئے آنسوؤں کو نگلا اور پژمردہ سی آواز میں پھر گویا ہوئی، بے بے اسے بڑی بے رحمی سے مار دیا گیا، یہ سنتے ہی فردوس بی بی غم زدہ ہو گئیں، انھوں نے درد بھرے لہجے میں زارا کی بات دہرائی، مار دیا انے سونے منڈے نوں مار دیا، پر زارا کس نے اور کیوں۔

بے بے، زارا نے مزید کہنا شروع کیا تو اس کی آواز میں حد درجہ نقاہت در آئی، یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ غم خوار آواز بس گھٹنے کو ہے، زارا بمشکل کہنے پر آمادہ ہوئی، بے بے بس ایک ہجوم تھا شوریدہ سر بے چہرہ و بے آواز، غصے میں بپھرا ہوا، شور مچاتا حواس باختہ ہجوم، آیا اور زندگی کو اپنے خوں خوار پنجوں تلے روندتا چلا گیا، زارا نے مشعال خان کی تصویر کو افسردگی سے دیکھتے ہوئے بات جاری رکھی، بے بے وہ کتنا چیخا ہو گا اس نے کتنی دہائی دی ہو گی، لیکن کسی کو اس پر رحم نا آیا، اور آتا بھی کیسے کوئی انسان ہوتا تو رحم کھاتا، وہ تو بس ایک ہجوم تھا جو نا تو اپنی پہچان رکھتا ہے نا دوسروں کی شناخت، بے بے ایسی حالت میں وہ دوست اور دشمن میں کیا تمیز کرتا، وہ یہ کیسے جان پاتا کے مشعال خان تو انسان دوست تھا۔

اس کا قصور تو بس یہ تھا، کہ اس نے رات کے چہرے سے سحر کا نقاب نوچ کر شب اندوہ کو آئینہ دکھانے کی کوشش کی تھی، وہ ظلم اور نا انصافی کے خلاف سراپا احتجاج تھا۔ اتنا کہہ کر زارا خاموش ہو گئی، ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے، زارا کی آنکھوں سے ٹپکنے والے آنسو مشعال خان کی تصویر پہ جا گرے، زارا نے اخبار کا تراشہ اٹھایا مشعال خان کے چہرے سے آنسو پونچھے اور ایک عزم کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی۔

بے بے کافی رات ہو گئی ہے اب تو سو جا، میں ایک درخواست لکھ کر آتی ہوں، درخواست فردوس بی بی نے تعجب سے دہرایا، کیڑی درخواست، ”کون سی درخواست“ بے بے ایک شکایت لکھنی ہے ہسپتال کے مینیجر کے خلاف، بڑا تنگ کر رکھا ہے اس نے سب نرسوں کو، Temporary نرسوں کو permanent نوکری کا جھانسا دے کر غریب لڑکیوں سے اپنے نا جائز مطالبات منواتا ہے، بے بے بڑا گندا بندہ ہے یہ، کل میں Top management کو اس کے خلاف با قاعدہ درخواست دینے جا رہی ہوں اور ساری نرسوں کے اس میں دستخط بھی ہوں گے، تو سو جا بے بے میں آتی ہوں۔

فردوس بی بی چونک کر اٹھ بیٹھیں، TV کے سامنے بیٹھے بیٹھے یوں ہی ذرا دیر کے لیے ان کی آنکھ لگ گئی تھی، TV خاموش ہو گیا تھا اور پنکھا بند، بجلی جا چکی تھی شاید یہی وجہ تھی کہ ان کی آنکھ کھل گئی، انھوں نے دوپٹہ سے گردن پہ آئے پسینہ کو پونچھتے ہوئے مکان کے داخلی دروازے پر نظر دوڑائی جہاں شام کے سائے ان کی دہلیز پر منڈلا رہے تھے، حسب عادت فردوس بی بی پریشانی میں بڑبڑانے لگیں، ہائے زارا توں کتھے رہ گئیں ائے، انی دیر کر دتی تے بجلی وی کوئی نئی، ”زارا کہاں رہ گئی ہے، اندھیرا ہونے کو ہے اور بجلی بھی نہیں ہے“ ۔

فردوس بی بی نے دوپٹہ ایک طرف رکھا سبزیوں کی ٹرے اٹھائی اور باورچی خانہ کا رخ کیا ہی تھا کہ ان کے موبائل فون کی گھنٹی بجنا شروع ہو گئی، نجانے کیوں آج موبائل فون کی گھنٹی کی آواز غیر معمولی طور پر اونچی تھی، پورا گھر سر پہ اٹھا رکھا تھا، فردوس بی بی نے لپک کر فون اٹھایا تو اسکرین پر زارا کی مسکراتی ہوئی تصویر ابھری، انھوں نے فون کان سے لگاتے ہی کہنا شروع کر دیا۔

ہائے زارا میرا پتر کتھے رہ گئیں اے، کنی واری اکھیا اے دیر نا کیا کر مینوں ہول اٹھدے پئے نے، ”زارا میری بچی کہاں رہ گئی ہے، کتنی بار کہا ہے کہ دیر نا کیا کر مجھے فکر ہونے لگتی ہے“ دوسری طرف سے زارا کی آنسوؤں میں رندھی ہوئی سہمی سہمی سی آواز آئی، بے بے، فردوس بی بی کا کلیجہ منہ کو آ گیا انھوں نے گھبرا کر دریافت کیا، زارا میرا پتر کی ہویا اے، تے ائے شور کیڑا ائے، ”زارا میری بچی کیا ہوا ہے اور یہ شور کیسا ہے“ فردوس بی بی کو دوسری طرف سے آنے والا بے چہرہ مخبوط الحواس شور صاف سنائی دے رہا تھا، زور زور سے دروازہ پیٹنے کی آوازیں ان کا دل دہلا رہی تھیں دھڑ دھڑ دھڑ دھڑ، دھڑ دھڑ دھڑ دھڑ، زارا کی وہی سہمی سہمی سی پھسی ہوئی آواز ایک دفعہ پھر ابھری اور بمشکل اتنا کہہ پائی، بے بے وہ لوگ یہاں بھی آ گئے ہیں، کہہ رہے ہیں میں نے گستاخی کی ہے۔

اتنا سننا تھا کہ فردوس بی بی کے ہاتھ سے سبزیوں کی ٹرے چھوٹ کر فرش پہ جا گری چاروں طرف کٹی ہوئی سبزیاں بکھر گئیں، خوف سے ان کے پورے وجود پہ لرزہ طاری ہو گیا، اس سے پہلے کہ وہ زمین میں ڈھیر ہو جاتیں انھوں نے باورچی خانہ کی دیوار مضبوطی سے تھام لی، انھیں اپنی کل پونجی لٹتی دکھائی دے رہی تھی، جسے بچانے کی نحیف کوشش میں وہ جت گئیں، نا زارا نا توں تے کوئی گستاخی نئی کتی، ہیں میرا پتر حوصلہ رکھیں، بے بے آ رہی ہے، پر زارا میرا پتر دروازہ نا کھولیں، فردوس بی بی یہ کہتے ہوئے ننگے سر ننگے پاؤں دیوانہ وار بیرونی دروازہ کی طرف لپکیں، خستہ حال دروازہ سے نکلی ہوئی لکڑی کے ایک ٹکڑے میں ان کی قمیض پھس گئی پاؤں ڈیوڑھی سے ٹکرایا اور وہ گلی میں پختہ چبوترے پہ منہ کے بل جا گریں، ان کے کپڑے تار تار ہو گئے سر اور ہونٹ بری طرح سے پھٹ گئے جن سے خون ابل پڑا، چہرہ پر شدید چوٹیں آئیں ڈیوڑھی میں پاؤں پھنسنے کی وجہ سے انگوٹھے کا ناخن اکھڑ گیا تھا، لیکن وہ اس سب سے بے پرواہ، تیزی سے کھڑی ہوئیں ان کا ہاتھ اب بھی کان پر موجود تھا، زارا میرا پتر دروازہ نا کھولیں، بے بے آ رہی ہے۔

لیکن پھر انھیں احساس ہوا کہ فون تو ان کے پاس ہے ہی نہیں، وہ تو کہیں دور جا گرا تھا، صرف ہاتھ تھا جو کان سے لگا ہوا تھا، انھوں نے آنکھوں پہ آیا بہتا خون پونچھا اور زمین پر نظریں دوڑائیں تو ذرا فاصلے پر انھیں فون پڑا مل گیا، انھوں نے لپک کر فون اٹھایا کان سے لگایا، زارا میرا پتر دروازہ نا کھولیں بے بے آ رہی، انھوں نے بلکتے ہوئے نحیف سے التجائیہ انداز میں کہا، وہ خود کو بمشکل گھسیٹ پا رہی تھیں کہ اچانک تھم گئیں، جیسے سکتہ طاری ہو گیا ہو، دوسری طرف مکمل خاموشی تھی، زندگی کی کوئی رمق باقی نہیں تھی، موت کا بھیانک سناٹا فردوس بی بی کے رگ و پے میں اتر کر ان کی ہڈیوں کو چکنا چور کرتا چلا گیا، ان کے ہاتھ سے خاموش فون چھوٹ گیا اور وہ زمین میں ڈھیر ہو گئیں، نیم برہنہ تن زخموں سے چور انھوں نے اپنے بال نوچتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھا، اور پھر ایک دل دوز چیخ بلند ہوئی، اس سے پہلے کہ یہ چیخ آسمان کا سینہ چیرتی، قریب کی مسجد سے مغرب کی اذان بلند ہوئی اور یہ گستاخ چیخ بھی دم توڑ گئی۔

Latest posts by ریاض احمد، جنوبی افریقہ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words
ریاض احمد، جنوبی افریقہ کی دیگر تحریریں