EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

بے نظیر بھٹو کا اگست 1977 میں کیا گیا انٹرویو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ کہاں سے آئے ہیں؟
پارٹی کارکن ہیں؟

چیر مین صاحب خیریت سے ہیں۔ آپ لوگ پریشان نہ ہوں۔ انھیں کارکنوں کی بہت فکر ہے۔ انشا اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔

دھیمی آواز میں رک رک کر جملوں کو ناپ تول کر بے نظیر بھٹو کراچی اور بیرون کراچی سے آنے والے کارکنوں اور اسمبلی کے سابق ممبروں سے محو گفتگو تھیں۔ آ نے والے سر دھڑ کی بازی لگا دینے، خون دینے خون لینے اور ہر حکم بجا لانے کے وعدے کرتے اور چلے جاتے تھے لیکن بے نظیر اس جذباتی ماحول سے قطعی مختلف انداز میں انھیں انتہائی یکسانیت سے ایک ہی پیغام دیے جا رہی تھیں۔

گلابی رنگ کے پرنٹڈ سوٹ پر جالی کا دو بٹہ اوڑھے اردو بولتی ہوئی بے نظیر کو دیکھ کر قطعاً یہ احساس نہیں ہو رہا تھا کہ اس نے ایک طویل عرصہ ملک سے باہر گزارا ہے۔

کارکنوں سے دو گھنٹے محو گفتگو رہنے کے بعد میری باری آئی اور قبل اس کے کہ میں کچھ پوچھتی پہلے انھوں نے انٹرویو کا مقصد پوچھ لیا اور اس اطمینان کے بعد کہ انٹرویو غیر سیاسی نوعیت کا ہے وہ سکون سے بیٹھیں تو میں نے پوچھا کہ حکومت کی تبدیلی کی اطلاع ان کو کس وقت ملی؟ وہ کیا کر رہی تھیں؟ خبر سننے کے بعد ان کے کیا جذبات تھے؟

انھوں نے کہنا شروع کیا کہ ”ان کی والدہ نے انھیں یہ خبر سنائی۔ خبر سن کرا نہیں بہت دکھ ہوا لیکن اپنے خاندان یا اپنی ذات کا نہیں تھا بلکہ اس بات کا تھا کہ پانچ سال کے دوران ان کے والد نے کتنی محنت سے ملک کو سنوارا تھا اگر انھیں مزید پانچ سال ملتے تو وہ اور بہت کچھ کر سکتے تھے“ ۔

بے نظیر! آپ کے نزدیک اس ملک کا سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ ٔ کیا ہے؟

میرے سوال پر انھوں نے سوچتے ہوئے جواب دیا کہ ”کوئی اہم مسئلہ ٔ نہیں ہے۔ لوگوں کے چھوٹے چھوٹے مسائل ہیں جن پر ایک دنیا یا ایک سال میں قابو نہیں پایا جا سکتا۔ اس کے لئے وقت چاہیے کہ یہ مسائل ایک مسلسل عمل سے گزر کے ہی حل ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لئے لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ انھیں بھڑکایا جاتا ہے۔ مرنے مارنے پر آمادہ کیا جاتا ہے لیکن یہ سب بھی ان کے مسائل کا حل نہیں ہے۔

آپ کے والد جن نعروں اور فلسفے کے ساتھ عوامی سیاست میں آئے تھے آپ کے خیال میں وہ ایک ہی راستے پر چلتے رہے یا انھیں مفاہمت کرنی پڑی اگر کی تو کیا ٹھیک کیا؟ غور سے سوال سننے کے بعد بے نظیر نے سوال دوبارہ پوچھا اور کہا ”میرے والد کے نعرے اور فلسفہ وقت کا تقاضا تھا انھوں نے جو کچھ کہا تھا وہ کر دکھایا اور جن حالات میں کیا وہ سب جانتے ہیں۔ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے انھوں نے کسی پرنا جائز دباؤ نہیں ڈالا بلکہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی اس مقصد کے لئے انھیں مفاہمت بھی کرنا پڑی۔

جو میرے خیال میں ضروری تھی۔ انھوں نے کہا میرے والد نے ملک کو آئین دیا۔ جس کا بننا بہت مشکل تھا۔ دنیا میں پاکستان کو عزت دلوائی۔ جب کہ 1971 کی جنگ کے بعد ملک کا وقار ختم ہو چکا تھا۔ عوام کے مسائل حل کیے ان کی بہبود پر ہر ممکن توجہ دی ان تمام کاموں کی تکمیل کے لئے اگر وہ کسی جگہ اپنے نعروں سے ہٹے تو کچھ غلط کام نہیں کیا۔“

میں نے ان سے پوچھا کہ گزشتہ دنوں ہونے والے ہنگاموں کو ان کے والد نے امریکی مداخلت قرار دیا تھا۔ ملک سے باہر رہتے ہوئے انھوں نے کیا محسوس کیا؟ کیا یہ بات صحیح ہے؟ غیر ملکیوں کا اس پر کیا ردعمل تھا؟

انھوں نے کہا کہ ”برطانوی قوم کے نظریات افکار بھی خاصی حد تک امریکہ سے متاثر ہیں۔ اس لئے ان لوگوں نے اس پر خاص توجہ نہیں دی۔ وہاں اخبارات نے تقریر کا تذکرہ ضرور کیا لیکن تبصرہ نہیں کیا۔ البتہ جان پہچان اور میل جول کے لوگوں نے چلی اور انڈونیشیا کا تذکرہ کرتے ہوئے اسے بھی کھلم کھلا سی آئی اے کی مداخلت قرار دیا۔ بے نظیر نے اس موقع پر انور سادات کی مثال دیتے ہوئے کہا وہاں بھی اس وقت سی آئی اے برسرپیکار ہے۔ ان کی گفتگو کے اختتام پر میں نے پوچھا“ آپ عملی سیاست میں محض اس لئے حصہ لیں گی کہ سابق وزیراعظم کی بیٹی ہیں یا آپ ذاتی دلچسپی رکھتی ہیں؟ کیا اس ضمن میں آپ کے پیش نظر سنجے گاندھی اور گوہر ایوب کی مثالیں ہیں؟

انھوں نے بڑے جوش سے کہا مجھے سیاست سے دلچسپی ضرور ہے لیکن یہ بات ابھی طے نہیں ہوئی کہ میں عملی سیاست میں حصہ لوں گی۔ اس بات کا انحصار میرے والد پر ہے اگر وہ اجازت دیں گے تو میں پارٹی کے لئے کام ضرور کروں گی۔ لیکن سابق وزیر اعظم کی بیٹی ہونے کے ناتے نہیں کہ میں نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے اپنا کام خود کروں اپنے کاموں کے لئے باپ کے عہدے کا استعمال میں نے کبھی نہیں کیا۔ انھوں نے سنجے اور گوہر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ آ لوگوں نے تجارت اور ذاتی فائدوں کے لئے اپنے والدین کے عہدوں کا ناجائز استعمال کیا تھا۔ جس کا حشر ان کے سامنے ہے جب کہ مجھے ایسی چیزوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

میں نے پوچھا ایک زمانے میں آپ فارن آفس میں ڈائریکٹر بنی تھیں وہ کیا سلسلہ تھا؟ کس چیز پر ریسرچ کی تھی؟

انھوں نے جواب دیا کہ وہ بہت ہی خفیہ معاملہ تھا جس کی حفاظت کے پیش نظر فارن آفس نے ان سے باقاعدہ حلف لیا تھا۔ اس کے بارے میں وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہہ سکتیں کہ اس ریسرچ کو پڑھنے کے لئے ایک زمانہ بے تاب ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ریسرچ مکمل ہو چکی ہے۔

بے نظیر آپ کی ذاتی زندگی ماڈرن اور عوام سے کٹی ہوئی ہے کیا یہ سیاسی اور سماجی کاموں میں رکاوٹ نہیں بنے گی؟

انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا ”یہ میرا اپنا ملک ہے یہاں عوام میں ایڈ جسٹ ہونے یا جگہ بنانے میں مشکلات کا سامنا کبھی نہیں ہو سکتا کہ ان مسائل کا سامنا تو غیر ممالک میں کرنا پڑتا ہے۔ اور جب انھیں وہاں مشکلات پیش نہیں آئیں تو اپنے ہاں کیسے آ سکتی ہیں۔

غیر مما لک میں ان کے ایڈجسٹ ہونے کے تذکرہ پر مجھے ان کی ڈبیٹنگ سوسائٹی کے انتخابات یاد آ گئے تو میں نے پوچھا انتخابات میں پاکستانی سفارت خانے ان کی کس حد تک مدد کی تھی؟

انھوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا وہاں انتخابات اثر رسوخ یا امداد کے بل بوتے پر نہیں لڑے جا سکتے۔ اصل چیز مقررانہ صلاحیت ہوتی ہے۔ اور انھیں ووٹ ان کی اسی صلاحیت کے سبب ملے تھے۔

جب بات ان کے قیام برطانیہ کی طرف چلی گئی تو ان سے ان کے گزشتہ دنوں سکاٹ لینڈ یارڈ کی حفاظت میں رہنے کا ذکر بھی نکل آیا۔ انھوں نے بتایا کہ پی این اے کے کچھ حامیوں نے انھیں اغوا کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔ لیکن پولیس کو خبر ہو جانے کے سبب وہ اپنے ارادوں میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ انھوں نے بتایا کہ ویسے بھی لندن میں پی این اے کے حامیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب کہ لندن میں اکثریت پی پی پی کے چاہنے والوں کی ہے اور وہ لوگ ان کا بہت خیال رکھتے ہیں۔

خیال رکھنے کی بات پر مجھے لندن سے آنے والوں کے تبصرے یاد آ گئے جن میں وہاں کے باسی انھیں ”ٹام گرل“ کے نام سے پکارتے تھے۔ اس بات کی تصدیق میں نے ان سے کرنی چاہی تو انھوں نے چونکتے ہوئے کہا ”مجھے ٹام گرل کون کہتا ہے“ یہ سب خبریں سستے اخبار پھیلاتے ہیں۔ انھوں نے بہت ہی جذباتی انداز میں کہا کہ انھیں کبھی کسی نے ٹام گرل کے نام سے نہیں پکارا اور نہ ہی انھوں نے وہاں کبھی ایسی حرکتیں کیں کہ انھیں اس قسم کے خطابات ملتے۔

بے نظیر کا موڈ بدلنے کے لئے ان سے سابق وزیر اعظم کے ساتھ شملہ پیرس اور رومانیہ کے دوروں میں شریک رہنے کا تذکرہ کیا تو ان کی مسکراہٹ واپس آ گئی انھوں نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ وہ شملہ معاہدے کے دورے میں بحیثیت پرائیویٹ سیکریٹری کے گئی تھیں جبکہ پیرس اور رومانیہ میں نجی طور پر۔ انھوں نے کہا اندوروں سے آئے ہیں بڑے تجربات حاصل ہوئے جو یقیناً آئندہ زندگی میں کام آئیں گے۔

بے نظیر سے اس گفتگو کے دوران پیپلز پارٹی کی چند سر کردہ خواتین بھی بیٹھی ہوئی تھیں۔ ان کی موجودگی میں مجھے بے اختیار وہ خواتین یاد آ گئیں جو انتخابات کے نزدیک پت جھڑ کے پتوں کی طرح ٹپکی تھیں لیکن جن کا اب کہیں نام و نشان نہ تھا۔ لہذا میں نے بے نظیر سے پوچھا کہ پی پی پی میں مشکوک کردار جو بیگمات آئی تھیں جن کے کردار اور اعمال ہر دور میں یکساں رہے ہیں جن کے آنے سے مستحق خواتین کی حق تلفی بھی ہوتی ہے۔ آپ کے خیال میں یہ سب ٹھیک ہے؟

ایک لمحے تک مجھے تکتے رہنے کے بعد وہ یوں گویا ہوئیں ”آپ کو معلوم ہے میں ایک عرصے تک ملک سے باہر رہی ہوں مجھے پارٹی کی سر گرمیوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے کچھ جاننے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ لیکن اگر ایسا ہوا ہے تو اب اس کا تدارک کیا جائے گا۔

سوشلزم کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ میرے سوال پر وہ ٹھٹکیں ضرور لیکن فوراً ہی وضاحت شروع کرتے ہوئے بولیں ”سوشلزم کے معنی تو روس اور چین میں بھی الگ الگ ہیں۔ اپنی اپنی ضروریات کے حساب سے انھوں نے مطلب نکال لئے ہیں۔ پاکستان میں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں لوگ نہ تو بھوکے مر رہے ہیں نہ ہی ننگے یہ ضرور ہے کہ کچھ لوگ بہت امیر ہیں کچھ غریب ہیں چونکہ حکومت کے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے کہ وہ سب کے مسائل حل کر سکے اس کے لئے ضروری ہے کہ امیروں سے پیسہ لے کر غیب کو برابر کیا جائے۔ انھوں نے کہا پی پی پی کی حکومت نے اس ضمن میں کام بھی شروع کر دیا تھا لیکن مسائل اتنے زیادہ تھے کہ ان سب کا حل ہونا بہت مشکل تھا۔ اس موقع پر انھوں نے اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ پاکستان کے پاس تیل نہیں ہے۔ معدنیات نہیں ہیں ان حالات میں سب کچھ ایک دم کیسے ہو سکتا ہے۔

بے نظیر گفتگو کے دوران وقتاً فوقتاً اپنے والد کے کارناموں اور باتوں کے حوالے دے رہی تھیں۔ یوں بھی وہ اپنے والد سے زیادہ متاثر ہیں۔ ان کی اس گفتگو کے درمیان نے میں نے پو چھا ”کیا آپ نے اس امر پر غور کیا ہے کہ بھٹو صاحب کیوں ناکام ہو گئے؟

انھوں نے بڑے دھیمے انداز میں کہا ”میرے والد سیاستدان ہیں اور یہ جو کچھ ہوا سیاست نہیں ہے۔ میرے والد ناکام نہیں ہوئے اس بات کا اقرار ضیا الحق نے بھی کیا ہے۔ حالات ان کے ہاتھ سے نکلے نہیں وہ اب بھی کامیاب ہیں جو کچھ ہوا ہے اس سے صرف اصغر خان جیسے لوگوں کو نقصان پہنچے گا۔ انھوں نے اس موقع پر ری پرو سنگ پلانٹ کا تذکرہ بھی کیا اور کہا وقت سب کچھ ٹھیک کردے گا۔ انھوں نے کہا خدا کا شکر ہے ان کے خاندان کے پاس بہت کچھ ہے۔ ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہو کے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ اصغر خان کی طرح نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا اس کے پاس کون سی جائیدادیں ہیں جن کے بل بوتے پر وہ اتنے اخراجات کر رہے ہیں۔ یقیناً یہ سب اسے باہر سے مل رہا ہے۔

مستقبل میں بے نظیر کا ارادہ ملک کی خدمت کرنے کا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر حالات ٹھیک رہے تو وہ وزارت تعلیم میں کام کریں گی۔ بے نظیر لڑکیوں کی ملازمت کے حق میں ہیں۔ لیکن اس صورت میں کہ انھیں ضرورت ہو یا ملازمت ان کے مطلب کی ہو اور وہ بھی ان حالات میں کہ گھر والے اجازت دیں۔

بے نظیر کی گفتگو کا انداز خاصی حد تک والدہ جیسا ہے۔ رک رک کر سنبھل سنبھل کر بو لتے دیکھ کر تو کسی طور یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ سیاسی والدین کی بیٹی ہیں لیکن بیشتر باتوں ان کی خاموشی، حالات کا حوالہ دینا، گفتگو کو گھما دینا اس بات کا احساس ضرور دلا جاتا ہے کہ ان میں سیاسی خو بو ہے۔ اور صرف آگے بڑھنے کا اشارہ دینے کی ضرورت ہے۔ یوں بھی ان کا کہنا ہے کہ وہ فالتو وقت میں سیاسی کتب کا مطالعہ زیادہ کرتی ہیں بہ نسبت معاشی یا دوسری نوعیت کی کتابوں کے، معاشیات میں حساب کتاب کے چکروں سے الجھن ہوتی ہے اور سیاسی کتب میں جوڑ توڑ کے معاملات اچھے لگتے ہیں۔

میں نے یہ سوچتے ہوئے کاغذات سنبھالے کہ یہ سیاسی معاملات یقیناً رنگ لائیں گے۔

اس انٹرویو میں ان سے کچھ بے ضرر سی باتیں بھی ہوئیں تھیں جیسے انھیں کھانے میں کھچڑی، چاول پسند تھے۔ تمام قسم کے لمبے لباس بشمول شلوار قمیض اچھے لگتے تھے۔ شہروں میں کراچی لاہور اور پنڈی پسند تھا۔ بھٹو، قذافی اور انور سادات پسندیدہ تھے۔ رنگ گلابی، زیور انگوٹھی، پھول گلاب، موسم بہار کا اچھا لگتا تھا۔ موسیقی ہر قسم کی۔ خواتین کے دیگر شوق یعنی کھانا پکانے کپڑے سینے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ البتہ انھیں چائے کافی کے علاوہ انڈا ابالنا بھی آتا تھا۔

ان کی خواہشات میں سے ایک خواہش یہ بھی تھی کہ شوہر بزنس مین نہ ہو البتہ ذہین اور اچھی عادات کا حامل ہو۔ انھیں کبھی کسی استاد نے سزا نہیں دی۔ عام زندگی میں والد سے بہت متاثر تھیں۔ بہن بھائیوں کے روایتی جھگڑے بھی کھیلے ہیں لیکن جلد ہی دوستی ہوجاتی تھی۔

یہ انٹرویو چوالیس سال پہلے ہفت روزہ معیار کے لئے کیا گیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے