پہلا قدم
میں بتا رہی ہوں تمھارے بابا کو پتا چلا کہ تم کالج میں داخلہ لے رہی ہو ٹانگیں توڑ دیں گے۔ فاطمہ بی نے ماہ نور کو کالج کا داخلہ فارم بھرتے دیکھ کر دھمکانے کی کوشش کی۔
اماں میں آپ کو بتا رہی ہوں بابا کچھ نہیں کہیں گے۔
خود تو بھگتو گی اور میری پرورش پر انگلیاں اٹھواؤ گی۔
اماں بس کردیں کون سا کوئی غلط کام کر رہی ہوں۔ تعلیم حاصل کرنا کوئی گناہ ہے جو نہ حاصل کروں میری تمام دوستوں نے داخلہ لیا ہے میں کیوں نہیں لوں؟
بیٹا ہر گھر کا اپنا ماحول ہوتا ہے۔
اماں تعلیم کے لیے ماحول کو پیچ میں نہ لائے دیکھا ہے میں نے باقی بہنوں کا حال بچوں میں گھن چکر بنی رہتی ہیں اور جہاں کسی دوست نے اپنی تعلیم کا ذکر کیا وہاں آپ کو اور ابا کو کوسنا شروع کر دیا۔ اس کے باوجود آپ مجھے منع کر رہی ہیں؟
بیٹا دیکھو تمھاری بہنیں کچھ بھی کہے مگر شوہروں کے ساتھ خوش ہے۔
خوش شوہروں کے ساتھ جو بیوی بیمار ہوئی میکے بھجوا دیا، ڈیلیوری ہوئی میکے بھجوا دیا ایسا لگتا ہے بچے جہیز میں لے کر گئی ہو ان کے نہ ہو۔ ماہ نور بغیر سوچے سمجھے بے تکان بولے جا رہی تھی۔
پتا نہیں تمھاری کیسے گز بھر لمبی زبان ہو گئی میری باقی بیٹیاں تابعدار ہیں، بیٹا خاندان کی کوئی لڑکی کالج نہیں گئی چلو تمھیں پڑھنا ہے پرائیویٹ پڑھ لو۔
میں نے مان لیا مجھ سے زیادہ بدتمیز کوئی نہیں اور میں پرائیویٹ نہیں پڑھوں گی میں کالج میں ہی داخلہ لوں گی۔ اب میں فارم بھر رہی ہوں۔
جو تمھاری بابا نے مجھے کچھ کہا دیکھنا کیا کرتی ہوں میں تمھارے ساتھ۔ یہ کہتے ہوئے فاطمہ بی کھڑی ہوئی اور چل دی۔
٭ ٭ ٭
فاطمہ بی اور نور صاحب کا تعلق متوسط طبقہ سے تھا شادی کو بائیس سال ہو گئے تھے اللہ نے چار بیٹیوں کی نعمت سے نوازا تھا مگر بیٹا نہ ہونے کا قلق ساری زندگی ہی رہا تھا اور اگلے کئی سال رہنے والا تھا۔ نور صاحب کا بڑا پن او ر بیٹیوں سے انتہا پر محبت تھی کہ بیٹے کے حصول کے لیے دوسری شادی نہیں کی اور بیگم کو بھی یہی کہتے کہ اللہ قرآن شریف میں فرماتا ہے ہم جیسے چاہے بیٹیاں دیں، جیسے چاہے بیٹے، جیسے
چاہے دونوں اور جیسے چاہے محروم رکھے۔ پھر ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں محروم نہیں رکھا چار رحمتوں سے نوازا ہے۔
انھیں بیٹیوں سے انتہا پر پیار تھا وہ ان کو بیٹوں کی طرح پڑھانا لکھانا چاہتے تھے مگر ان کی خاندانی روایات اور اللہ بخشے ان کی اماں کی سختی نے انھیں بیٹیوں کو اعلی تعلیم حاصل کرانے سے روکے رکھا وہ کبھی بیٹیوں سے اس بات کا اظہار نہیں کرتے تھے کہ وہ انھیں اعلی تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کو پتا تھا ایک بار یہ خواب انھوں نے بیٹیوں کو دیکھا دیا مگر اپنی والدہ ماجدہ اور خاندانی روایات کے باعث پورا نہ کرسکے تو بیٹیاں شکوہ کریں گی کے یہ خواہش ہمارے اندر بوئی ہی کیوں تھی؟
ان کی تین بیٹیوں نوشین، کومل اور صنم کی شادی میٹرک کے بعد ہو گئی تھی اوپر تلے کی تھی اس لیے شادیاں بھی ایک ایک سال کے فرق سے انجام پا گئے تھی اور آج ماشاء اللہ سے بچے کھلا رہی تھی۔
ماہ نور سب سے چھوٹی تھی اور ابا کی لاڈلی۔ اس نے میٹرک کا امتحان دیا تھا اور کالج میں داخلہ لینے کو تیار تھی وہ تو دادی جنت سدھار گئی تھی اس لیے صرف اماں روک ٹوک کر رہی تھی۔ وہ اماں کے انکار کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جو منہ میں آتا تھا بولے جاتے تھی۔ اگر دادی ہوتی اور سنتی تو لگ پتا جانا تھا۔ مگر ان کے جانے کے بعد تو ایسا لگتا تھا کہ ماہ نور نے پچھلے سولہ سال کے دل میں چھپائے سارے ارمان پورے کر لینے تھے۔ ان کے جانے کے بعد دوستوں کے گھر آنے جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، ڈائجسٹ پڑھنے، راتوں کو جاگنے اور تو اور جم نہ جانے کی پابندی بھی اٹھ گئی تھی۔
اس کے اس رویہ کی جو خبر پھوپھو تک پہنچی تو وہ آ دھمکی اور یہی کہی سنائی بھائی کو کہ ایسا لگتا ہے ہماری ماں کے جانے کا انتظار تھا تمھاری بیٹی تو بے مہار چھتا ہو گئی ہے شادی کراؤں اس کی۔ نور صاحب نے بہن کی بات سن لی مگر بیٹی کو کچھ نہ کہا۔
اب ماہ نور صاحبہ ایک اور کارنامہ سرانجام دینے کو تیار بیٹھی تھی جس کے بارے میں اماں کو پتا چلا تو ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔ بہنوں نے سنا تو کہنے لگی ہاں لے لو داخلہ کون سا دادی زندہ ہے جن کی ڈانٹ پھٹکار اور گھر کا سکون خراب ہونے کا خطرہ ہو۔ نوشین آپا یہ تک کہہ گئی بڑھیا پہلے مر جاتی تو کیا تھا؟
کومل کا یہ کہنا تھا ابا تو ہمارے ہی ہیں انھیں ہماری خوشی زیادہ عزیز تھی جو ہوا دادی کی وجہ سے ہوا۔
صنم نے کہا دادی کو سارا الزام مت دوں اگر ہم چاہتی تو ضد پکڑ کر دادی کو سمجھا کر آگے پڑھ سکتی تھی لیکن اگر یاد ہو نوشین آپا آپ تو فیضان بھائی کی تصویر دیکھ کر ایسی فدا ہوئی تھی کہ بس چلتا تو فوراً نکاح کر لیتی اور آج ان سے زیادہ برا کوئی نہیں۔
کھی کھی کھی سب ہنسنے لگی۔
بس کردو صنم تم بھی کوئی کم نہیں۔
میں سسرال کی برائیاں کرتی ہوں شوہر کی نہیں۔
ایک ہی بات ہے۔
کیسے ایک ہی بات ہے مجازی خدا ہے شکر ہے مزاجی نہیں اور ساس، سسر مزاجی خدا اور نند تو ہوتی ہی گند ہے۔
ارے آپ سب آپس کے جھگڑوں میں لگ گئے میں نے ابا کو بتائے بغیر تو داخلہ نہیں لینا دعا کریں جیسا ہم سوچ رہے ہیں کہ ابا کو میری خوشی عزیز ہے ویسا ہی ہو۔
٭ ٭ ٭
ماہ نور بیٹا طبیعت ٹھیک ہے؟ کھانے کی میز پر ماہ نور کو چپ چاپ کھانا کھاتا دیکھ کر نور صاحب نے پوچھا کیونکہ ماہ نور کے لیے چپ رہنا اس کی زندگی کا مشکل ترین کام تھا اور وہ بھی ابا کے سامنے چپ رہنا تو نا ممکنات میں سے تھا۔ اس لیے ابا کی پریشانی یقینی تھی۔
وہ ابا میں نے کالج میں داخلہ لینا ہے فارم میں نے لے لیا ہے اور بھر بھی لیا ہے جمع کروانا ہے۔
دیکھے میں نے اسے بہت سمجھایا ہے کہ اگر پڑھنا ہے تو پرائیویٹ پڑھ لے مگر اس کو کوئی بات نہیں سننی۔
کالج جانا ہے میری بیٹی کو؟ نور صاحب نے پیار سے پوچھا۔
ہاں بابا۔
کیا پڑھے گی میری بیٹی؟ اس انداز پر فاطمہ بی کی آنکھیں پھیل رہی تھی ان کا خیال تھا نور صاحب اٹھے گے اور کھانا چھوڑ کر چلے جائے گے مگر یہاں تو تفاصیل معلوم کی جا رہی تھی۔
بابا آرٹس کے مضامین لوں گی۔
کیوں؟ میری بیٹی کے کاندھوں پر ایسا کون سا بوجھ ہے جو وہ میڈیکل، انجینیئرنگ اور کامرس پڑھنے سے قاصر ہے؟
بابا وہ بابا وہ میں سمجھی آپ بہت ناراض ہوں گے ورنہ میں نے کامرس پڑھنی ہے۔
ہاں بیٹا کامرس پڑھو۔
میاں صاحب آپ کو اندازہ ہے آپ کیا کہہ رہے ہیں؟
فاطمہ بی مجھے معلوم ہے میں کیا کہہ رہا ہوں پچھلے کچھ عرصہ میں مجھے اس بات کا اندازہ ہوا ہے کہ ہمارے خاندان میں لڑکیاں پڑھنا چاہتی ہیں۔ مگر اس بات کی منتظر ہے کہ کوئی پہلا قدم اٹھائے دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی لیکن ہم ابھی بھی رسموں، رواج میں جکڑے ہیں میٹرک کے بعد شادی کر دیتے ہے موبائل اور نیٹ فراہم کرتے ہیں ایسے بھی تو وہ دنیا میں داخل ہوجاتی ہیں پھر تعلیم کے معاملے میں اتنی روک ٹوک اب کس کھاتے میں ہے پہلے تو ہر چیز تک رسائی روک کر تعلیم کے لیے دروازے بند کیے جاتے تھے اور آج سب دے کر بند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے عجیب رسمیں ہیں میں نے بھی اپنی بیٹیوں کو ان فضول رسموں کی بھینٹ چڑھا دیا مگر ماہ نور کالج جائیں گی اعلی تعلیم حاصل کریں گی اور باقی لڑکیوں کے لیے تعلیم کے دروازے کھلے گی۔ یہ کہتے ہوئے نور صاحب نے ماہ نور کو گلے لگا لیا۔


