ممتا کی مجبوری

اس چھوٹے سے قصبے میں بسوں ویگنوں کا یہ اڈا ابھی نیند سے پوری طرح جاگا بھی نہیں تھا۔ سورج کی پہلی کرنوں نے اس کی ٹوٹی پھوٹی، میلی کچیلی دیواروں کو پہلا بوسہ ہی دیا تھا کہ وہ عورت سہمے سہمے قدم اٹھاتی وہاں داخل ہوئی۔ چکنی مٹی جیسے رنگ کی ایک با وقار سی چادر میں اس نے خود کو لپیٹ رکھا تھا۔ سر کے بالوں کی ایک ضدی لٹ جو چادر سے باہر لٹک رہی تھی، غماز تھی کہ یہ بال عمر نے نہیں حالات نے سفید کیے ہیں۔ چہرے کی حالت ایسی تھی جیسے کسی مزدور کے وہ کپڑے جو اس نے عید پر سلوا تو لئے ہوں مگر پھر اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے اور مزدوریاں کرتے ہوئے انہیں تبدیل ہی نہ کر سکا ہو۔ پیشانی پر ہلکی ہلکی شکنیں، رخساروں پر لو دیتی ہوئی زردی اور آنکھیں، رات پچھلی پہر کے چراغ۔ وہ خود کو سمیٹتی ہوئی ٹکٹوں کی کھڑکی کے پاس آ کر کچھ اس طرح سے بیٹھ گئی جیسے وہ اسی کا حصہ ہو۔

ابھی ابھی کسی کونے کھدرے سے سو کر جاگے، ایک بارہ تیرہ سالہ بچے کی اس پر نظر پڑی تو وہ آنکھیں ملتا ہوا اس کے پاس آیا۔ ”ماں جی! آپ اتنی صبح صبح کیوں آ گئی ہیں؟ ابھی تو کسی بھی بس ویگن کا وقت نہیں ہوا“ لڑکے نے عورت سے پوچھا

”مجھے پہلی بس سے بڑے شہر جانا ہے۔ بہت ضروری کام ہے“ عورت نے وہیں سے سر جھکائے ہوئے جواب دیا۔ اس کے لہجے میں وقار تھا لیکن کچھ جھجک بھی، جیسے وہ کچھ چھپا رہی ہو۔

”لیکن بڑے شہر جانے والی پہلی بس بھی ابھی دو گھنٹے بعد آئے گی۔ آپ دو گھنٹے یہاں کیا کریں گی؟“ لڑکے نے جیسے عورت کو بہت بڑی خبر دی۔

”میرے پہلے آ جانے سے تیرے دو گھنٹے رک نہیں جائیں گے۔ تو جا اپنا کام کر۔ میں یہاں بیٹھی تیرا کیا لے رہی ہوں؟“ عورت کے لہجے میں خفگی نمایاں تھی۔

”لیکن دو گھنٹے یہاں تو نہ بیٹھی رہیں۔ ادھر ویٹنگ روم ہے۔ تب تک وہاں آرام سے بیٹھیں“

”آرام؟ اچھا؟ وہاں آرام ہے کیا؟“ عورت کے لہجے میں طنز نمایاں تھی۔ لڑکا اس کے سوال سے جیسے گھبرا سا گیا۔ وہ بیشک اس عورت کے کسی سوال کا بھی معقول جواب دینے سی قاصر تھا۔ پھر بھی ضد کر کے اسے ویٹنگ روم لے گیا۔ حالانکہ ویٹنگ روم بھی بس برائے نام ہی تھا لیکن وہاں بیٹھنے کی جگہ تو تھی۔ تھوڑی دیر بعد لڑکے نے اپنے حصے کی چائے بھی لا کر اس عورت کو دی۔ عورت نے انکار کیا تو ضد کر کے پلائی۔ چائے پی کر عورت نے اسے کچھ پیسے دینے چاہے مگر لڑکے نے نہیں لئے۔ پھر جب اس کی بس آئی تو اسے بس میں بھی بٹھایا۔ کنڈکٹر کو اپنی طرف سے تاکید بھی کر دی ”ماں جی کا خیال رکھنا ہے۔ انہیں رستے میں کوئی تکلیف نہ ہو“

بس چھوٹی چھوٹی جگہوں پر رکتی، سواریاں اتارتی چڑھاتی تقریباً ً دو گھنٹے میں اس بڑے شہر پہنچی۔ بسوں کے اڈے پر اتر کر وہ پوچھتی پوچھتی دو ویگنیں بدل کر اس علاقے تک آ گئی جہاں اسے جانا تھا۔

علاقہ کیا کہلاتا ہے، وہ جانتی تھی۔ مگر اس کے علاوہ اس کے پاس صرف ایک نام تھا، اقرار حسین شاہ۔ لیکن گلی نمبر، مکان نمبر کیا ہے؟ اسے کچھ خبر نہیں تھی۔ وہ کتنی ہی دیر تک ہر آنے جانے والے سے پوچھتی اس علاقے میں گھومتی رہی۔ مگر اقرار حسین شاہ نام کے بندے کو وہاں کوئی جانتا ہی نہیں تھا۔ وہ پوچھ پوچھ کر تھک چکی تھی جب اس کا سوال ایک پان سگریٹ والے نے سن لیا۔ تب یہ بھید کھلا کہ اقرار حسین شاہ دراصل اس علاقے کے ایک نامی گرامی بدمعاش کا نام ہے جسے وہاں سب لوگ ”بھولی شاہ“ کے نام سے جانتے ہیں۔ پان سگریٹ والے نے اسی وقت ایک لڑکے کی ڈیوٹی لگائی کہ اس عورت کو ”بھولی شاہ“ کے ڈیرے پر چھوڑ کر آئے۔

جب وہ بھولی شاہ کے ڈیرے پر پہنچی تو اسے وہاں موجود مسلح پہرے داروں نے دروازے پرہی روک لیا۔ وہ بھولی شاہ سے ملنے کے لئے منتیں کر رہی تھی مگر وہ اس سے کام پوچھ رہے تھے۔ ویسے بھی وہ چونکہ اسے جانتے نہیں تھے اس لئے کوئی رسک لینے کے لئے تیار نہیں تھے۔ اتفاق سے بھولی شاہ نے اوپر سے انہیں تکرار کرتے ہوئے دیکھ لیا تو اپنے بندوں کو اشارہ کیا کہ اسے آنے دیں۔ پہریداروں نے بتایا کہ عورت نہ صرف یہ کہ انجان ہے بلکہ اس نے وقت بھی نہیں لیا ہوا۔ بھولی شاہ اوپر سے بولا

”میں کوئی سرکاری افسر ہوں کہ مجھ سے ملنے کے لئے کسی کوتوال، تھانیدار کی اجازت لینی پڑے یا پھر فائلوں کا سفر طے کرنا پڑے۔ آنے دو اسے میرے پاس“ اور بھولی شاہ کا ایک بندہ اسے اوپر لے گیا۔ بھولی شاہ نے اسے احترام سے بٹھایا اور لڑکے کو چائے لانے کے لئے کہا۔ لڑکا چلا گیا تو وہ بولا ”جی! اب بتائیے آپ کون ہیں؟ کہاں سے آئی ہیں؟ اور میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟“

وہ بولی ”پہلے تو یہ بتائیے، کیا میں آپ کو بیٹا کہہ کر بلا سکتی ہوں؟“
بھولی شاہ نے چند لمحوں کے لئے اس عورت کا سرسری سا جائزہ لیا، پھر بولا

”جی۔ ماں جی۔ آپ مجھے بیٹا ہی کہیں، مجھے خوشی ہو گی۔ اور یہ آپ جناب بھی نکال دیں بیچ میں سے۔ بیٹے آپ جناب نہیں ہوتے۔ اور مجھے آرام سے بتائیے کیا کام ہے آپ کو؟“

عورت نے پہلے ادھر ادھر دیکھا۔ دو بندے ذرا فاصلے پر کھڑے ان کی باتیں سن رہے تھے۔
وہ بولی ”بات مجھے اکیلے میں کرنی ہے“
بھولی شاہ نے اپنے بندوں کو اشارہ کیا۔ وہ کہیں اندر کی طرف چلے گئے۔
”جی! بتائیے اب۔ اور کوئی نہیں سن رہا اس وقت“

”مجھے زرینہ بی بی نے بھیجا ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ تم اسے روک لو۔ کیونکہ تم ہی اسے روک سکتے ہو۔ ورنہ وہ چودھری جبار کا خون کر دے گا“

”چودھری جبار کا خون کر دے گا؟ لیکن کون اور کیوں؟“
”اس کے سر پر خون سوار ہے، وہ اسے نہیں چھوڑے گا۔ وہ چودھری جبار کو قتل کر دے گا“
”لیکن کون ماں جی؟ کون قتل کر دے گا چودھری جبار کو؟“
”سلیم احمد۔ سلیم احمد ہے اس کا نام۔ وہ تمہارے ساتھ کام کرتا ہے“
”سلیم احمد۔ اچھا۔ مگر یہ زرینہ بی بی کون ہے؟“
”زرینہ بی بی تو ایک لمبی داستان ہے۔ کیا تم پوری کہانی سن سکو گے؟“

”ہماری تو اپنی زندگی کہانیوں سے بھری پڑی ہے ماں جی۔ یہ ٹھیک ہے ہمیں کہانیاں سنانی نہیں آتیں لیکن سننی تو آتی ہیں۔ آپ سنائیں“

عورت سنبھل کر بیٹھ گئی ”تو سن بیٹا! ایک گاؤں تھا جیسے کہ کسی زمانے میں گاؤں ہوا کرتے تھے۔ اس گاؤں کا نمبردار ہی اصل میں وہاں کا بڑا زمیندار، سرپنچ اور چودھری تھا۔ اس کی زمینوں پر ایک ٹیوب ویل بھی تھا۔ جبکہ باقی لوگ نہری پانی یا کبھی کبھار ہونے والی بارشوں پر ہی انحصار کرتے تھے۔ گاؤں کی لڑکیاں، عورتیں اکثر چودھری کے ٹیوب ویل پرکپڑے دھونے آیا کرتی تھیں۔ انہی کپڑے دھونے والیوں میں زرینہ بھی شامل تھی۔

زرینہ کی عمر اس وقت مشکل سے چودہ پندرہ سال رہی ہو گی۔ وہ ایک نہایت ہنس مکھ بلکہ کسی حد تک شرارتی لڑکی تھی۔ اپنی سہیلیوں کے علاوہ آس پاس کی بڑی بوڑھیوں سے بھی اس کی چھیڑ چھاڑ چلتی رہتی تھی۔ سنجیدگی سے تو جیسے اس کی دشمنی تھی۔ ایک دن وہ دوسری عورتوں کے ساتھ کپڑے دھونے ٹیوب ویل پر آئی ہوئی تھی اور کپڑے دھونے کے دوران اپنی سہیلیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ میں بھی مصروف تھی کہ چودھری کے جوان بیٹے کی نظر اس پر پڑ گئی۔

چودھری کا بیٹا جوان تو تھا ہی، خوبصورت بھی تھا اور مغرور بھی۔ گاؤں کی لڑکیاں اسے دیکھ کر آہیں بھرتیں اور اسے رشک کی نگاہ سے دیکھتیں۔ کبھی کبھی آپس میں کھسر پھسر کرتے ہوئے اس کی وجاہت کی تعریف بھی کرتیں۔ چاہتی تو تقریباً سبھی تھیں کہ ان کا ساتھی بھی چودھری کے بیٹے جیسا ہو، لیکن سب جانتی تھیں کہ ایسا ہرگز ہرگز ممکن نہیں ہے۔ اسی فاصلے نے ان کے دل میں چودھری کے بیٹے کے لئے ایک انجان سی عزت پیدا کر دی تھی۔

عزت تو بڑے چودھری کی بھی بہت تھی اور سارا گاؤں کرتا تھا۔ مگر یہ عزت چودھری سے ڈر اور خوف کی بنیاد پر تھی۔ اس میں توقیر یا احترام جیسے کسی جذبے کا شائبہ تک نہ تھا۔

ٹیوب ویل پر کپڑے دھوتی ہوئی زرینہ پر چودھری کے بیٹے کی نظر کیا پڑی، وہ اکثر ایسے موقع پر جب لڑکیاں وہاں کپڑے دھونے آتیں، ادھر کے چکر لگانے لگا۔ وہ زرینہ سے بات کرنا چاہتا تھا مگر دوسری لڑکیوں کی موجودگی میں پرہیز کرتا تھا۔ اس کے باوجود کہ زرینہ اسے اچھی لگتی تھی وہ اپنے غرور کے سنگھاسن سے نیچے اترنے کے لئے تیار نہیں تھا۔

ایک دن زرینہ بی بی گھر کے کاموں میں ماں کا ہاتھ بٹا رہی تھی کہ مائی جنتے اسے بلانے آ گئی۔ مائی جنتے چودھری کے گھر میں بہت پرانی ملازم تھی اور چودھرانی کی بہت قریبی اور رازدار بھی سمجھی جاتی تھی۔ چودھرانی نے زرینہ کو کسی کام سے بلایا تھا اس لئے انکار کی تو گنجائش ہی نہ تھی۔ سو وہ اکیلی مائی جنتے کے ساتھ چلی گئی۔

حویلی میں لے جا کر مائی جنتے نے زرینہ کو ایک کمرے میں بٹھا دیا اور خود چودھرانی کو خبر دینے چلی گئی۔ مگر اس سے پہلے کہ مائی جنتے واپس آتی، چودھری کا بیٹا وہاں آ گیا۔ زرینہ اسے دیکھ کر گھبرا گئی اور باہر نکلنے کی کوشش میں تھی کہ چودھری کے بیٹے نے اسے روک لیا۔ وہ چاہتا تھا کہ زرینہ چپ چاپ اسے اپنی خواہش پوری کرنے دے۔ مگر زرینہ نہیں مانی۔ اس نے پہلے خود کو چھڑانے کی کوشش کی، پھر چیخی چلائی، پر نہ اس کی آواز کمرے سے باہر نکلی اور نہ ہی وہ زور آزمائی میں چودھری کے بیٹے سے جیت سکی۔ اس ظالم نے معصوم اور بے بس زرینہ کی عزت بھی لوٹی تو جیسے کوئی انتقام لیا ہو۔ پھر بعد میں اسے دھمکی بھی دے ڈالی کہ اگر کسی کو بتایا تو اور بھی برا ہو گا۔

زرینہ گھر پہنچ کر ماں کے گلے لگ کر روئی اور اسے ساری کہانی سنا دی۔ ماں نے بھی اسے چپ رہنے کی تلقین کی۔ زرینہ نے چپ تو سادھ لی مگر نفرت کا ایک لاوا تھا جو چودھری کے بیٹے کے خلاف اس کے دل و دماغ میں دن رات پل رہا تھا۔ اگر اس کے بس میں ہوتا تو اس انتقام میں وہ قتل تک کر سکتی تھی۔ مگر وہ حالات کو کوسنے اور جلنے کڑھنے کے علاوہ کچھ کر ہی نہ سکی۔

دکھ کا اصل پہاڑ تو اس وقت ٹوٹاجب اگلے مہینے الٹیاں کرکر کے اس کا برا حال ہو گیا۔ زرینہ کے باپ اور بھائیوں کو خبر ملی تو ماحول سخت کھنچاؤ کا شکار ہو گیا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی دباؤ زرینہ پر ہی تھا۔ بھائیوں کو تو اس کے سوا کچھ سوجھتا ہی نہیں تھا کہ چودھری کے بیٹے کو قتل کر دیا جائے۔ باپ کو بھی غصہ تو بے شمار تھا لیکن وہ بھی بے بسی میں ڈوبا ہوا۔ آخرکار ماں نے ہی سب کو سمجھایا کہ اور جو کچھ بھی کیا جائے گا وہ بدنامی بھی لائے گا اور ہماری تباہی بھی۔

اس لئے بہتر ہے کہ اس بچے کو ضائع کرنے کا کوئی طریقہ ڈھونڈا جائے۔ دیہات کے سادہ لوگ، دائی کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تھا۔ خود زرینہ کا یہ حال کہ بار بار خودکشی کرنے کے بارے میں سوچتی تھی۔ اس کے بس میں ہوتا تو قیامت بپا کرتی اور چودھری کے بیٹے سمیت پوری دنیا کو جلا کر راکھ کر دیتی۔ زندگی میں پہلی بار خود اپنی ذات سے ہی نفرت کا شکار ہو رہی تھی۔ اور اپنے ہی بطن میں پلتے ہوئے بچے سے حقارت اسے بھسم کیے جا رہی تھی۔

دائی سے بات کی تو دائی تک محدود نہ رہی۔ دائی نے مائی جنتے کو بتا دیا۔ مائی جنتے نے چودھرانی کو خبر دی اور چودھرانی نے بڑے چودھری تک پہنچا دی۔ بڑا چودھری گاؤں کی عورتوں کی عزتوں سے کھیلنا تو اپنا حق سمجھتا تھا مگر یہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ اس کی یا اس کے بیٹے کی کوئی اولاد ایسی کسی عورت کی جھولی میں پہنچے۔ اس معاملے میں وہ بہت دور تک کے خطروں کا ناپ تول رکھتا تھا۔ اس لئے اس نے زرینہ کے ماں باپ کو بلایا، ان سے بیٹے کے کرتوت کی معافی مانگی اور کسی اچھی دائی کا بندوبست کرنے کا وعدہ کیا۔

وعدے تو اس نے کئی ایسے بھی کر لئے تھے جنہیں پورا کرنے کی اس کی نیت بھی نہیں تھی۔ لیکن جب گاؤں والی دائی نے زرینہ کا معائنہ کیا تو اس نے بتایا کہ معاملہ اس کے بس کا نہیں ہے۔ پھر شہر سے کوئی دائی بلائی گئی، جس نے ایک زچہ بچہ سنٹر سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔ اب اس سے پہلے کہ چودھری کوئی بندوبست کر کے زرینہ کو شہر کے اس زچہ بچہ سنٹر میں بھجواتا اس کا ساتھ والے گاؤں کے چودھری سے جھگڑا ہو گیا۔ بندوقیں پستولیں نکلیں، لاٹھیاں برسائی گئیں تو معاملات پولیس اور تھانے کچہری تک پہنچ گئے۔ بڑے چودھری کو اس دوران میں زرینہ کا معاملہ نظرانداز کرنا پڑا اور زچہ بچہ سنٹر والا پروگرام التوا کا شکار ہو گیا۔

زرینہ اس دوران میں جلتی کڑھتی چودھری کو بیٹے اور اپنے بطن میں پلتے بچے کو کوستی رہی۔ بس ایک ماں تھی جو اسے ممکنہ حد تک

دلاسا دینے کی کوشش کرتی تھی۔ ہر کام جیسے رکا ہوا تھا لیکن

زرینہ کے بطن میں پلتا ہوا بچہ مسلسل آگے بڑھ رہا تھا۔ یہاں تک کہ بچے نے ماں کو اپنے ہونے کا احساس دلانا شروع کر دیا۔

جب تک چودھری اپنے جھگڑے سے فارغ ہو کر واپس زرینہ کے معاملے پر متوجہ ہوا، بچے نے زرینہ کی کوکھ میں حرکت شروع کر دی۔ اس کی اس حرکت نے زرینہ کو ماں بننے کے احساس میں مبتلا کر دیا۔ اور چند دنوں میں ہی زرینہ کا دماغ پھر گیا۔ وہ جو کئی مہینوں سے چودھری کے بیٹے اور باقی دنیا کے ساتھ ساتھ اس بچے سے بھی نفرت کرتی آ رہی تھی ایک دم بدل گئی۔ وہ اس بچے کی محبت میں گرفتار ہو گئی۔ اب جب سب لوگ شہر والے زچہ بچہ سنٹر سے رابطہ کر رہے تھے تو زرینہ وہاں سے بھاگ جانے کی تدبیریں سوچ رہی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ کہیں دور چلی جائے اور اس بچے کی ماں بنے۔ اس زاویے پر تو وہ سوچ ہی نہیں رہی تھی کہ یہ سب ہو گا کیسے؟ اور کہاں؟ نہ ہی بعد کی مشکلات پر اس کا دھیان جا رہا تھا۔

بڑے چودھری نے شہر کے زچہ بچہ سنٹر سے رابطہ کر لیا تھا اور دوسرے دن زرینہ کو وہاں لے جانے کی تیاری کر لی گئی تھی کہ زرینہ رات کو ہی وہاں سے غائب ہو گئی۔ وہ اس حالت میں بھی کئی میل پیدل چل کر رات کے اندھیرے میں نزدیکی ریلوے سٹیشن پہنچی اور پہلی گاڑی میں سوار ہو گئی۔ ڈبے میں داخل ہوتے ہی اس کی نظر ایک معمر جوڑے پر پڑی جو ڈبے کے ایک کونے میں بیٹھا تھا۔ زرینہ ان کے پاس جا کر اس انداز سے بیٹھ گئی جیسے وہ انہی کی ساتھی ہو۔

گاڑی میں اس وقت ویسے ہی مسافر بہت کم تھے۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ اگلے سٹیشنوں پر اور لوگ چڑھتے گئے اور پورا ڈبہ مسافروں سے کھچا کھچ بھر گیا۔ بوڑھے جوڑے کو تو کسی حد تک اندازہ ہو گیا تھا مگر وہ دونوں خاموش رہے۔ دوسرے مسافر جو بعد میں آئے وہ اسے اس معمر جوڑے کی بیٹی یا بہو سمجھ کر باتیں کرتے رہے۔ زرینہ کی خوش قسمتی کہ کوئی ٹکٹ چیکر بھی نہیں آیا ورنہ نجانے کیا ہوتا۔ کوئی دو گھنٹے کے بعد جب وہ بزرگ جوڑا اپنی منزل پر گاڑی سے اترنے لگا تو زرینہ بھی ان کے ساتھ ہی اتر گئی۔

سٹیشن سے باہر نکلتے ہی زرینہ نے انہیں اپنی ساری داستان مختصر الفاظ میں سنا دی۔ وہ میاں بیوی اس وقت اپنے کسی رشتہ دار سے مل کر اپنے قصبے میں واپس آ رہے تھے۔ انہوں نے تھوڑی سوچ بچار کے بعد زرینہ کی مدد کرنے کا وعدہ کیا اور اپنے ساتھ گھر لے آئے۔ وہ بزرگ (ریاض احمد) ایک ریٹائرڈ سکول ماسٹر تھا۔ اس کی بیوی سکینہ خانم محلے کی بچیوں کو سلائی کڑھائی کا کام سکھاتی تھی۔ دونوں کی اپنے محلے میں کافی عزت تھی۔ ریاض احمد نے زرینہ کو اپنی بھانجی ظاہر کیا جسے وہ لوگ اس کی زچگی کی وجہ سے ساتھ لے آئے تھے کہ اس کے دیہات میں صحت کے سلسلے میں کوئی بھی سہولت میسر نہ تھی۔

ماسٹر ریاض اور سکینہ خانم کی اپنی کوئی بیٹی نہ تھی۔ صرف ایک بیٹا تھا علی احمد، جو اپنی بیوی اور بچوں کو لے کر ایک بڑے شہر میں جا بسا تھا۔ وہ اب کبھی کبھار ہی ماں باپ سے ملنے اس قصبے میں آتا تھا۔ زرینہ بی بی نے دوسرے دن سے ہی گھر کے کاموں میں سکینہ خانم کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ جب وقت ملتا تو دوسری لڑکیوں کے ساتھ مل کر سلائی کڑھائی کا کام بھی سیکھتی رہتی۔

ماسٹر ریاض احمد اور سکینہ خانم کبھی کبھی اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے فکرمند ضرور ہو جاتے کہ اگر آس پاس کے لوگوں کو زرینہ کی

اصل کہانی معلوم ہو گئی یا اس کے رشتہ دار وغیرہ اسے ڈھونڈتے ہوئے وہاں تک آ گئے تو کیا ہو گا؟ لیکن پھر خود ہی یہ سوچ کر حوصلہ پکڑ لیتے کہ شاید اس مظلوم کی مدد کرنے پر خدا ان سے خوش ہو جائے اور ان کی بخشش کا سامان ہو جائے۔ دونوں نے مل کر زرینہ بی بی کا ممکنہ حد تک دھیان رکھا۔ یہاں تک کہ زرینہ بی بی ایک صحت مند بیٹے کی ماں بن گئی۔ ابھی زرینہ کا بیٹا مشکل سے ایک مہینے کا ہوا تھا کہ علی احمد ماں باپ سے ملنے آ گیا۔

اسے جب زرینہ کی صورت حال کی خبر ملی تو وہ طرح طرح کے منصوبے بنانے لگا۔ ماں باپ کو اس نے سمجھا لیا کہ اب چونکہ زرینہ کو ماں بنے بھی ایک مہینہ گزر چکا ہے تو اب اگر وہ اپنے ماں باپ کے گھر نہیں جائے گی تو آس پاس کے لوگ انگلیاں اٹھائیں گے۔ سو کافی سوچ بچار کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ زرینہ اپنے بیٹے سمیت علی احمد کے ساتھ شہر چلی جائے۔ یہاں لوگوں کو بتایا جائے کہ وہ اپنے ماں باپ کے پاس واپس چلی گئی ہے۔ اور ادھر علی احمد اسے شہر میں لے جا کر کہیں کسی گھر میں کام پر لگوا دے گا۔ یوں سب کی عزت رہ جائے گی اور زرینہ کو بھی کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ زرینہ بھی ان کے سمجھانے پر مان گئی۔ علی احمد نے ماں باپ کے سامنے وعدہ کیا کہ وہ اسے اپنی بہن بنا کر رکھے گا۔ مگر علی احمد کے ارادے کچھ اور ہی تھے۔

اپنے شہر میں لے جا کر علی احمد نے پہلے تو زرینہ کو کسی دوست کے پاس ٹھہرانے کی کوشش کی مگر جب کامیابی نہ ملی تو اسے میڈم نشاط کے ہاتھ بیچ دیا۔ میڈم نشاط جسم فروشی کا اڈا چلاتی تھی، اس نے زرینہ کو کام کا مال سمجھ کر خرید لیا۔

زرینہ کو میڈم نشاط کے پاس آئے ابھی چند گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ اسے سارے معاملے کی خبر ہو گئی۔ اس نے میڈم نشاط کو اپنی ساری کہانی سنا کر پورے وثوق سے بتا دیا کہ وہ جسم فروشی کے اس دھندے میں کسی طور بھی شامل ہونا نہیں چاہتی۔ اگر اس کے ساتھ زبردستی کی جائے گی تو وہ کبھی نہ کبھی میڈم کے لئے خطرناک ثابت ہو گی۔ لیکن اگر میڈم اسے اپنے پاس رکھ لے تو وہ میڈم کے گھر کا سارا کام سنبھال لے گی اور اس کی ہر ممکنہ خدمت کرے گی۔

میڈم نشاط نے کافی سوچ بچار کے بعد زرینہ کی بات مان لی۔ ایک تو اسے زرینہ پر ترس بھی آ گیا تھا دوسرے اس نے بھانپ لیا تھا کہ زرینہ جو کہہ رہی ہے وہ کر بھی دکھائے گی۔ سو اس نے خطرے کی بو بھی سونگھ لی تھی۔ لڑکیوں کی تو اس کے پاس ویسے بھی کوئی کمی نہ تھی، گھر کی دیکھ بھال، صفائی ستھرائی اس نے زرینہ کے سپرد کر دی۔ زرینہ نے بھی چند ہی دنوں میں پوری ذمہ داری سنبھال لی۔ یوں زرینہ اور اس کا بیٹا سلیم احمد وہاں آرام سے پلنے لگے۔

زرینہ فالتو وقت میں سکینہ خانم سے سیکھی ہوئی سلائی کڑھائی کی مشق کرتی رہتی۔ میڈم نے اس کے شوق کو دیکھتے ہوئے اسے ایک ماڈرن قسم کی سکائی مشین لے دی۔ یوں زرینہ کا کام ترقی کرنے لگا۔ میڈم نشاط نے کئی بار زرینہ کو شادی کا مشورہ بھی دیا مگر وہ نہ مانی۔ زرینہ پہلے تو کبھی گھر سے باہر نکلتی ہی نہ تھی۔ کبھی کبھار نکلتی بھی تو میڈم کے ساتھ، اس لئے اسے شہر کے بارے میں بھی کم ہی علم تھا۔ یوں بارہ سال بیت گئے۔

سلیم احمد نے خوب قد کاٹھ نکالا اور بارہ سال کی عمر میں ہی وہ پندرہ سولہ کا لگنے لگا۔ پڑھائی میں بھی اتنا برا نہیں تھا لیکن زیادہ تر کھیل کود میں ہی مصروف رہتا تھا۔ باوجودیکہ اسے میڈم والے حصے سے دور رکھنے کی پوری کوشش کی گئی تھی مگر پھر بھی پندرہ سال کی عمر کو پہنچتے پہنچتے اسے میڈم کے دھندے کے بارے میں پوری آگاہی ہو چکی تھی۔ ماں نے بھی وقت کے ساتھ ساتھ اسے اپنی ہر بات بتا دی تھی، سوائے اس کے کہ وہ گاؤں کون سا تھا اور اس چودھری کے بیٹے کا نام کیا تھا؟ سلیم نے ہر بار ماں کو یہی کہا

کہ جب تک وہ اسے پیار کرتی ہے اسے دنیا کی کسی بات کی کوئی پروا نہیں۔ مگر زرینہ اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ کسی کو بھی بتائے بغیر اس بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ ہزار کوشش کے باوجود زرینہ بیٹے کی سوچ پڑھنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ جب اسے خبر ملی تو پانی اس وقت تک سر سے اوپر جا چکا تھا۔ سلیم احمد بدمعاشوں کے ایک گروہ میں شامل ہو چکا تھا۔ اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے تک وہ اپنے گروپ میں نہ صرف نام پیدا کر چکا تھا بلکہ کافی دولت بھی کما لی تھی۔ اس نے ایک چھوٹے قصبے میں بڑا سا گھر خریدا اور ماں کو زبردستی وہاں لے گیا۔ گاڑی، ڈرائیور اور دوسرے ملازموں کے علاوہ اسے وہاں سلائی کڑھائی کی مشینوں کا بندوبست بھی کر دیا۔

اب زرینہ نے وہاں علاقے کی غریب لڑکیوں کو سلائی کڑھائی کا کام مفت سکھانا شروع کر دیا۔ لڑکیاں وہاں کام سیکھتیں اور ساتھ ساتھ اپنے جہیز کا کچھ سامان بھی تیار کر لیتیں۔ وہاں پر ہر کوئی خوش تھا سوائے زرینہ کے۔ اس بے چاری کو ہر وقت دھڑکا لگا رہتا کہ کچھ برا نہ ہو جائے۔ اس کا دل اسے بار بار خطرے سے آگاہ کرتا تھا کہ کبھی بھی کچھ بہت برا ہو سکتا ہے۔ اسی طرح سے سات سال اور بیت گئے۔ سلیم احمد کا اس قصبے میں اچھا خاصا نام ہو گیا۔ غریبوں کی مدد تو خیر وہ کرتا ہی تھا مگر دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی عزت و احترام سے پیش آتا تھا۔ اس لئے جو لوگ اس کے کام کے بارے میں کچھ جانتے بھی تھے وہ بھی اسے ستائش کی نظر سے ہی دیکھتے تھے۔

پھر آخرکار وہ وقت آن پہنچا۔ ایک لڑکا جو سلیم احمد کی گاڑی چلاتا تھا ایک دن اکیلا زرینہ بی بی کے پاس آیا۔ اس نے نہایت رازدارانہ طریقے سے بتایا کہ سلیم احمد نے ڈھونڈ لیا ہے، اس شخص کو جس نے اس کی ماں کو یہ اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور کیا۔ اور اب وہ اسے قتل کرنے کے درپے ہے۔ زرینہ بی بی کے کریدنے پر اس نے بتایا کہ وہ چودھری محمد وقار کا بیٹا چودھری محمد جبار ہے۔ یہ جان کر زرینہ بی بی کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ جانتی تھی کہ سلیم احمد اب چودھری جبار کو قتل کر کے ہی رہے گا اور پھر یقیناً خود سولی چڑھ جائے گا۔ زرینہ پھر سے اس دنیا میں اکیلی اور بے آسرا ہو جائے گی۔ اس لئے اس نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔ اب صرف تم ہو جو اسے اس کام سے روک سکتے ہو ”۔

بھولی شاہ جو اتنی دیر سے ہمہ تن گوش اس کی کہانی سن رہا تھا سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ”آپ یہاں آئیں تو مجھے بیٹا کہنے کی خواہش کی جو میں نے مان لی، حالانکہ عمر میں آپ مجھ سے چار پانچ سال ہی بڑی ہوں گی۔ خیر! پھر مجھے یہ زرینہ بی بی کی کہانی سنائی جس نے مجھے بہت گڑبڑا دیا ہے“

”کیوں؟“
”آخر آپ زرینہ بی بی کی کہانی کو اتنی تفصیل سے کیسے جانتی ہیں؟“
عورت نے ایک بار پھر آس پاس کا جائزہ لیا۔ پھر بھولی شاہ کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی
” اس لئے کہ میں ہی زرینہ بی بی ہوں“
” یہ ہوئی نا بات! اب بڑا کنڈل تو کھل گیا ہے، مگر چھوٹے چھوٹے کچھ باقی ہیں“
” کیوں؟ اب کیا باقی رہ گیا ہے؟“

” جس پاپی نے آپ کے ساتھ ایسی نازک عمر میں اتنی بڑی زیادتی کی، آپ نے اسی کا پاپ بچانے اور پالنے پوسنے میں ساری زندگی ضائع کر دی۔ کیوں؟“

” نفرت تو میں اس سے آج بھی کرتی ہوں اور بے شمار کرتی ہوں۔ اس وقت تو اس نفرت کا درجہ زیادہ ہی بلند تھا اور میں کبھی بھی اس بچے کی ماں نہیں بننا چاہتی تھی لیکن جب میرے بطن میں اس کی حرکت شروع ہوئی تو پتہ نہیں کیوں، مگر مجھے اپنے بچے سے بے انتہا محبت ہو گئی، اور میں نے اسے ہر صورت بچانے کا ارادہ کر لیا“

” چلئے مان لیتا ہوں، ایسا ہی ہوا ہو گا۔ مگر اب اسی شیطان کو بچانے کے لئے میرے پاس چلی آئی ہیں۔ یہ کیا گورکھ دھندا ہے؟“

” میرے بس میں ہو تو اس پاپی کو میں خود اپنے ہاتھوں سے قتل کروں بلکہ تڑپا تڑپا کر اس کی جان لوں۔ مگر اس وقت سوال میرے بیٹے کا ہے۔ اگر سلیم اسے قتل کر دے گا تو خود بھی سولی چڑھ جائے گا۔ ایسے میں میرا کیا ہو گا؟ میری تو ساری زندگی کی عبادت بے کار ہو جائے گی“

” یہ تو ہے۔ اور پھر چودھری جبار کو بچانا تو میری بھی ضرورت ہے۔ وہ میرا بہت بڑا کلائنٹ ہے۔ میرے بہت سے کام اسی کی وجہ سے چلتے ہیں۔ اور یہ سلیم احمد کون ہے؟ جو آپ کا بیٹا ہے۔ اسے تو میں جانتا ہی نہیں۔ کبھی نام بھی نہیں سنا“

”وہ تمہارے ساتھ ہی کام کرتا ہے۔ تم لوگ شاید اسے سلیم کی بجائے چھیما کہہ کر بلاتے ہو“

”اچھا! تو آپ ملک چھیمے کی ماں جی ہیں؟ وہ تو ہمارا جگر ہے ماں جی۔ دیکھیں ہمارے ساتھ یہ بھی زیادتی ہوتی ہے کہ ہمارے اصل نام ہی کہیں چھپ جاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو مجھے بھی اپنا اصلی نام بھول جاتا ہے“

” لیکن میرے لئے تو وہ آج بھی سلیم احمد ہی ہے۔ دوسرے سب نام تو تم لوگوں نے دیے ہیں اسے۔ تم بس اب خدا کے لئے اسے روکنے کا بندوبست کرو“

” وہ تو کرنا ہی پڑے گا ورنہ پہلے اتنا بڑا کلائنٹ جائے گا پھر اتنا پیارا دوست۔ آپ فکر مت کیجئے، میں سنبھال لوں گا سب۔ میں آپ کے سلیم احمد کو بلاتا ہوں۔ آپ اسے لے کر اپنے گھر چلے جائیں اور جب تک میں نہ کہوں اسے واپس مت آنے دیں“

پھر دونوں نے مل کر کوئی بہانہ طے کیا۔ سلیم احمد کو خود بھولی شاہ نے ٹیلی فون کر کے بلایا اور اس کی ماں کے ساتھ بھیج دیا۔

دوسرے دن صبح سلیم احمد نے اخبار اٹھایا تو اس کی دوسری بڑی سرخی تھی

” مشہور سماجی شخصیت چودھری محمد جبار کو اس کے ذاتی ملازم نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا اور خود تھانے میں پیش ہو گیا“

Comments - User is solely responsible for his/her words