انارکلی جو کینیڈا کی مٹی کو بھا گئی


انارکلی کی آپ بیتی ٹکڑوں کی صورت میں میں دوپہر سے شروع ہو چھبیس دسمبر کی شام تک وقفہ وقفہ سے ملتے میرے دکھ کی شدت میں اضافہ کرتی جا رہی تھی۔ صبح ناشتہ کی میز پر رات دیر سے آئے پیرا گراف سینہ چیر رہے تھے۔

” پھر بی اے میں داخلہ مل گیا سکالرشپ کے ساتھ۔ میں بڑے شہر کے کالج میں پڑھنے اور ہوسٹل میں رہنے لگی۔ مجھے ڈانس، شاعری اور لکھنے کا بہت شوق تھا مگر ابا جی نے وارننگ دے کے بھیجا تھا کہ اگر یہ لچھن اپنائے تو گولی مار دوں گا۔ سب گھر والے مجھے طلاق یافتہ کے کچوکے لگاتے اور منحوس کہتے۔ میرا گھر سے ناتا واجبی سا تھا۔ دو مہینہ بعد چکر لگانا ورنہ ہاسٹل کی لائف انجوائے کرنا۔ پورے کالج میں میرے حسن، سادگی اور ذہانت کی دھوم تھی۔

میں چوری چھپے کالج کے ڈرامے میں امراؤ جان ادا بھی بن گئی۔ ان ہی دنوں میرے بھائی، ایک مالیاتی ادارے میں افسر، کے رشتے کی بات جنوبی پنجاب کے ایک بڑے شہر کے متموؔل گھرانے میں چلی۔ اس کی منگنی پہ مجھے کسی نے نہ بلایا۔ تاریخ طے کرانے جب یہ لوگ آئے تو سلیم جو ہونے والی بھابھی کے بڑے بھائی تھے، بھی ساتھ تھے۔ شمالی پنجاب کی ایک معروف یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔ میری بھابھی کی بہن اور میری باجی میرے بارے میں باتیں کرتی رہیں۔

باجی روتے ہوئے دکھ سناتی رہیں۔ سلیم کہتے، میں نے قسم کھا لی کہ اسی سے شادی کروں گا۔ خیر بارات کے ساتھ گئی تو اس نے پہلی بار مجھے دیکھا اور بس دیکھتا ہی رہا۔ پھر مجھے پانے کے لئے وہ بندہ ڈٹ گیا کہ اس کے گھر والوں کو کوئی اعتراض نہ تھا، رکاوٹ پھر ابا جی۔ بہر حال سلیم جیت گئے۔ وہ مجھے اتنی دھوم دھام اور باجے کے ساتھ بیاہنے آیا کہ دنیا حیران تھی۔ سلیم دوسری برادری سے تھے اور ( یہاں تین نام لکھے ہیں جو پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کا معروف حصہ اور موجودہ و سابقہ ایوان ہائے اقتدار کے رکن رہے اور ہیں ) ان تینوں کے کزن۔

اس بندے نے مجھے عرشوں پر بٹھا دیا۔ نوکر چاکر، گاڑیاں، اور سب سے بڑھ کر شوہر کی دیوانگی کی حد تک محبت۔ مجھے اکثر ڈر لگتا بھائی۔ میں اتنی خوش قسمت نہیں تھی۔ ہر وقت اس کی سلامتی کی دعائیں، ایک عجیب سا خوف گھیرے رکھتا۔ (۔ تاریخ مہینہ اور سال۔ اسی کی دہائی کی آخری چوتھائی کا لکھا ہے ) کی صبح وہ جاگے نہیں، دیکھا تو جا چکے تھے، مجھے اور اپنے تین معصوم بچوں کو چھوڑ کے۔ ہارٹ فیل نے سب کچھ چھین لیا۔ جس کو کبھی بخار نہ ہوا کتنی آسانی سے موت کا شکار ہوا۔

تاریخ دہرائی گئی۔ میں سال کی ماں کو کھو چکی تھی اور اب میری چھوٹی بیٹی سال کی تھی تو باپ کو کھو دیا ”

” بس پھر آپ سوچ لیں ہمارے معاشرے میں جوان، خوبصورت، بیوہ اور لوگوں کی توقعات۔ یہ تلخی اور کڑواہٹ اسی وجہ سے ہی میرے اندر ہے۔ بڑے بڑے ایم این اے اور ایم پی اے خفیہ پیغامات اور سلام میری نوکرانی کے ہاتھ بھیجتے۔ میں نے کہا میری ساس سے میرا رشتہ مانگ لو۔ بیوی بنوں گی، داشتہ نہیں۔ میں سسرال ہی میں رہی۔ شہر کے ایک پاکستان بھر میں مؤقر سکول کے سامنے ہماری بہت بڑی کوٹھی ہے۔ میرے تین دیور وہیں رہتے ہیں۔ مجھے وہاں پڑھانے کی ملازمت مل گئی۔

دس سال وہاں پڑھایا۔ پھر بچوں کی اعلی تعلیم کے لئے شمالی پنجاب کے ایک بڑے شہر میں اسی سکول میں ریٹائر منٹ تک پڑھایا۔ بڑی بیٹی کی کینیڈا شادی ہوئی اور اس کی سپانسر شپ پہ امیگریشن مل گئی۔ مگر قسمت دیکھئے کہ وہ میری ریٹائرمنٹ سے دو سال قبل کچھ سالوں کے لئے پاکستان شفٹ ہو چکی تھی۔ میں آنا نہیں چاہتی تھی، اس بیٹی نے میڈیکل سہولت کی وجہ سے مجھے منت کر کے بھیجا۔ ہر بچی اپنی ماں کو سیکیور کرنا چاہتی ہے۔ اس کے بعد بیٹا ہے وہ ایک انٹرنیشنل ادارے میں ہے اور فرائض کے سلسلے میں کبھی کبھار کینیڈا کا چکر لگتا ہے۔ چھوٹی بیٹی امریکہ کی ایک ریاست میں مقیم ہے۔ سب کے بڑے پیارے پیارے بچے ہیں ماشاءاللہ۔ اب جب مجھے ان کے ساتھ کھیلنا، اپنی عمر بھر کی تھکن اتارنا، غم بھلانا تھا تو یہاں آ بیٹھی۔“

” میں نے ایم اے اردو، بی ایڈ، ایم ایڈ، انگلش ڈپلومہ، اور پھر کینیڈا آ کر پہلے سکیوریٹی گارڈ کا لائسنس لیا، پھر پچھلے سال میڈیکل اسسٹنٹ افسر کا ڈپلومہ جوائن کیا جو پرسوں چوبیس دسمبر کو مکمل ہوا اور میرا رزلٹ زیادہ تر سو فیصد ہے جبکہ مجموعی طور ننانوے فیصد رہا ہے۔ مجھے جاب تو کوئی نہیں ملی ابھی تک۔ شاید اس ڈپلومہ کے بعد مل جائے۔ میں ( گریٹر ٹورنٹو ایریا، جی ٹی اے، کی حدود میں ایک چھوٹے سے شہر کا نام ) ایک کزن کپل کی فیملی کے ساتھ رہتی ہوں۔ بہت محبت احترام کرتے اور خیال رکھتے ہیں سب، اللہ پاک ان کو اجر دے۔“

پھر یہ چند سطور۔

” اللہ آپ کو اجر عظیم سے نوازے۔ میرا غم سن لیا، مانو میرے زخموں پہ پھاہا رکھ دیا۔ شکریہ لئیق بھائی۔ سلامت رہیں میرے لئے بھی۔ آمین“

پھر فون نمبر لکھا تھا اور ساتھ ”میرے کزن کا ایک بیٹا برامپٹن میں ہی رہتا ہے اور دوسرا فلاں معروف سڑک پر۔ ورکشاپ کا مالک ہے۔ فلاں ادارے کے نزدیک۔“ آگے تھا

” آج خود بھی رج کے روئی ہوں اور آپ کو بھی رنجیدہ کیا۔“

ستائیس دسمبر کی صبح ناشتہ کی میز پر بیٹھے یہ آخری حصے پڑھتے مجھے اپنی ناشتہ بناتی بیگم سے آنسو چھپانا مشکل ہو گیا تھا۔ میں مصائب و آلام کا زندگی بھر جرات و استقامت کے ساتھ مقابلہ کرنے کے حوصلہ کی داد دینے اور مشکلات کے بعد آسانیاں آنے کی قرآنی بشارت پر اپنے یقین کی تسلی اور دعا کے ذکر کے علاوہ یہ ہی لکھ سکا، کہ آپ کی کہانی آپ کی پیدائش کے زمانے کے گیت ”نربل سے لڑائی، بلوان کی۔ یہ کہانی ہے دیے کی اور طوفان کی“ کی ہے یقیناً خدا آئندہ بہتر دن لائے گا۔

اب اس سے تین گھنٹہ بعد ساڑھے گیارہ بجے کی یہ دل ہلا دینے والی تحریر سامنے ہے۔

” کہتے ہیں، بارہ سال بعد روڑی ( کوڑا کرکٹ ) کے بھی بھاگ جاگ جاتے ہیں۔ لئیق بھائی۔ کیا میں روڑی بھی نہیں تھی۔ میرا کسی کہاوت، کسی آیت، کسی نصیحت، کسی معجزے، کسی رشتے پر اعتبار نہیں رہا۔ جب حاضر لا حاصل تو غائب پر کیسا یقین۔ وہ جو ستر ماؤں سے بڑھ کر پیار کرنے کا دعوی کرتا ہے، وہ ایک ماں کو ہی زندہ نہیں چھوڑتا۔ بلکتے، تڑپتے :سسکتے، بھوک سے کرلاتے معصوم چڑیا کے بوٹ جیسے بچوں کو دیکھ کر سکون پاتا ہے۔ کبھی مائیں جوان بچوں کے لاشے اٹھا کر روتی بلکتی پیوند خاک ہو کر ہی سکون پاتی ہیں؟

میں نے بے بسی کی زندگی گزار لی، اس آس پر کہ کبھی تو میرے نصیب کا سورج بھی طلوع ہوگا۔ مگر اپنے بچوں کی یتیمی جس کٹے کلیجے سے گزاری، وہ بہت اذیت ناک ہے۔ میں بہت سے محاذوں پر بیک وقت لڑتی رہی۔ آپ دیکھئے لئیق بھائی، ہمارے معاشرے میں یتیمی، مطلقہ، بیوگی ناپسندیدہ اور مکروہ سمجھے جاتے ہیں۔ مجھے یہ سارے ہی عطا کیے گئے۔ میں ہی کیوں قابل نفرین ٹھہری۔ کیوں میری زندگی میں کوئی ساتھی، ہم سفر، ہمدرد نہیں تھا۔ کیوں پھولوں سا بچپن، چاند سی جوانی تنہا کاٹ دی۔ اور پھر چند نا گریز وجوہات کی بنا پر اپنے بچوں سے دور رہنا پڑ رہا ہے“

میری چیخیں نکل رہی تھیں۔ مگر میں نے جواب دیا، ”آپ نے تو تسلی دینے کے قابل بھی نہیں چھوڑا۔ مگر اس رنگ میں سوچیں کہ آپ کی قربانیاں، اور سہی مصیبت اور اذیت، اب آپ کے بچوں کو ان آزمائشوں سے بچا گئیں۔ ان کا مستقبل تو سنوارا نا۔ اور اب یہ زمانہ کہ ایک کلک کیا، ان کو دیکھ لیا، بات کرلی۔ مگر ہاں یہ تو ہے۔

سب کا تو مداوا کر ڈالا اپنا ہی مداوا کر نہ سکے۔
سب کے تو گریباں سی ڈالے اپنا ہی گریباں بھول گئے۔

میسنجر پہ دو دن میں ابھری یہ عبارتیں چونسٹھ سال پہ محیط دکھ اور نصیب کے لکھے کا نقشہ پیش کر چکی تھیں اور اب رخ فون پر گفتگو کی طرف مڑ چکا تھا اگلے چند روز میں مجھے اندازہ ہو چکا تھا کہ اس نے بی اے کے بعد کی ساری تعلیم خاوند کی ابدی جدائی کے بعد ملازمت سے پہلے اور ملازمت کے دوران حاصل کی تھی۔ چونسٹھ سال کی عمر میں بھی سو فیصد نمبر لینا اس کی لیاقت اور ذہانت کے اعلی معیار کی تصدیق تھیں۔ یہ کہ اس کو نہ باپ کے ورثہ سے کچھ ملا نہ اسے اور بچوں کو اس کے خاوند کی وراثت کا حق دار سمجھا گیا۔

اور جب وہ حق رسی میں مدد کی اپیل لئے خاوند کے نزدیک دور کے کے اونچے شملے والے سرداروں اور قوم کے رہنماؤں کے پاس گئی تو یا بے اعتنائی ملی، یا للچائی نگاہیں۔ اس نے بتایا کہ ایک بھائی خاصا معروف شاعر ہے اور ایک معروف نشریاتی ادارے سے ریٹائر مشہور ادیب۔ اب کورونا نے کبھی کبھار اپنی ملازمت کی بنا آتے چکر لگا جانے والے بیٹے کی ملاقات بھی سے محروم کر رکھا تھا۔

میں اور میری بیگم کورونا کی سخت پابندیوں کے ختم ہونے پر اسے ملنے جانے کا پروگرام بنا چکے تھے کہ بیگم ایک اور سہیلی گپ شپ کے لئے ملتی نظر آ رہی تھی۔

رواں سال جنوری میں چند دن فون پہ رابطہ نہ ہونے کے بعد ایک دن طبیعت کچھ سست اور در دیں محسوس ہونے اور چیک اپ کے ذکر کے بعد ، کسی آیت، کسی معجزہ سے مایوس یہ انارکلی واٹس ایپ پہ یہ پیغام دے رہی تھی۔ ”میرے لئے دعا کرنا۔ مگر بلڈ میں کچھ گڑ بڑ ہے۔ ذرات نہیں بن رہے۔ بون میرو کینسر تشخیص ہوا ہے۔ مکمل قابل علاج ہونے کا یقین دلایا گیا ہے۔ دو تین دن میں علاج شروع ہوگا۔ بس میرے لئے دعا کرنا لئیق بھائی۔

میرے لئے یہ خبر ایک دردناک دھماکہ تھی۔ تو کیا یہ روڑی اب بھی دن پھرنے کی بجائے مٹی میں مٹنے جا رہی تھی۔ یا اللہ رحم۔ فروری میں پیغامات کے تبادلہ میں ہسپتال میں پری چیک اپ۔ ٹیسٹ۔ معائنہ۔ دوا دارو۔ سولہ فروری کو پہلا انجیکشن اور اکیس گولیاں دوا کی۔ کی خبر دیتے بہتری کی امید بتائی۔ مگر اب ٹیلیفون کرنا ختم تھا فیس بک پہ کوئی پوسٹ نہ آ رہی تھی۔ بار بار پیغام کے بعد اکتیس مارچ کو تمام پیغامات کے جواب میں ایک فقرہ تھا۔

”جزاک اللہ۔ علاج جاری ہے۔ دعا کریں۔“ اس کے بعد کے فونوں اور پیغامات کے بعد صرف ایک سوال کا جواب۔ ”نہیں کوئی بچہ نہیں آ سکا۔ ویزا نہیں ملا“ میرے ساتھ آخری رابطہ تھا۔ رابطہ کی لگاتار ہر ممکن کوشش سے مایوس جون کے دوسرے تیسرے ہفتہ میں بہت گھبراہٹ ہوتے اچانک خیال آتے اس کا فیس بک اکاؤنٹ کھولا تو اس انار کلی کے ”یہاں پھر نہ مل سکنے کے باعث اگلے جہان ملنے چلے جانے“ کی تعزیتی پوسٹس سہیلیوں کولیگ اور شاگرد کی موجود تھیں۔

کسی رشتہ دار کا وجود نہ ملا۔ کوشش کے باوجود ان میں سے کسی سے تفصیلات تدفین کی نہ ملی تھیں۔ ”دیوانی مر گئی آخر تو پھر اس پہ کیا گزری“ ۔ کی بے چینی میں اس لکھا فقرہ گونجا فلاں سڑک پہ ورکشاپ۔ تین چار جگہ سے مایوس۔ ایک گورے سے مسلم اور پاکستانی کی نشاندہی ملنے پر جا مدعا عرض کیا۔ پہلے تو جھجھکا۔ تفصیلی تعارف پر اس نے ٹولز رکھے دستانے اتارے اور کرسی پہ بیٹھ دکھی لہجہ میں جو بتایا مختصراً یہ تھا۔ وہ ہماری کوئی رشتہ دار نہ تھیں پاکستان سے آتے ماں کی ہمسفر ہوئیں اور اکیل پن کا سن ماں نے ساتھ رکھ لینے کی پیشکش قبول کرتے اب وہ واقعی گھر کے فرد کی طرح رہیں۔

سوائے بچوں کے کبھی کسی نے رابطہ نہیں کیا البتہ وفات پر کئی رشتہ دار نکل آئے۔ ایک سوال کے جواب پر اس کی آواز بھرؔا گئی۔ ایک کاغذ کے ٹکڑے پر بیوی کا نام فون نمبر لکھا۔ کہ اسی نے تیمارداری تدفین فون سب کچھ سنبھالا۔ اگلی صبح وہ بیٹی مجھے کہہ رہی تھی ”بس انکل کوئی اتنی جلدی نہیں کرتا۔ پہلی کیمو تھراپی ہی مکمل برداشت نہ ہوئی۔ شاید جانے کی جلدی تھی۔ شاید اب لڑنے مقابلہ کرنے کی ہمت نہ رہی تھی۔ یا دل چھوڑ چکی تھیں۔

دوسری کیمو تھراپی کے بعد بہت مشکل تھا جسیم ہونے کے باعث اوپر سیڑھیوں سے نیچے لانا مشکل تھا۔ ہسپتال میں ہی رکھا گیا۔ ہسپتال میں کسی بھی تیماردار کے داخلہ کے باوجود مجھے خصوصی کچھ وقت کے لئے اجازت تھی۔ شام ان کے پاس سے اٹھ کے آئی صبح چار بجے فون آ گیا۔ خدا کے حضور حاضر ہو چکیں۔ امریکا والی بیٹی کئی دن بارڈر پہ بیٹھی رہی۔ ڈاکٹروں کے خط کے باوجود اجازت نہ مل سکی۔ تدفین یہیں ہوئی میں آپ کو قبرستان اور قبر کی تفصیل بھیج رہی ہوں۔ کچھ مزید نہ پوچھ سکا۔ بس ایک بھائی کی طرف سے بہن کی خدمت کا شکریہ کا ہدیہ پیش کر سکا۔

کل صبح برستی بارش میں اپنے گھر سے کوئی بہت زیادہ دور نہیں واقعہ کئی مربع کلو میٹر پہ پھیلے قبرستان کے ایک قطعہ میں تازہ بنی ہوئی قبروں کی لائن کی ایک قبر پر کھڑا تھا۔ سرہانے بالکل سوکھی ٹہنیوں والا سفید پلاسٹک میں لپٹا ایک گلدستہ پڑا تھا۔ اور فاتحہ کے بعد تیز ہوتی بارش اس تیزی سے گرتے میرے آنسو ساتھ لئے جا رہی تھی۔ قبر ابھی پھیلی مٹی کا ڈھیر تھی۔ ( ساتھ والی ساری بھی، کہ مٹی بیٹھنے کے بعد زمین کے برابر کر گھاس بچھا دی جاتی ہے۔

پاؤں میں قبر نمبر کی پلیٹ اور سرہانے نصیب ہوں تو کتبہ۔ ) چیخیں نکالتے میں اس انار کلی کی طرح خزاں میں بھی کھلی رہنے والی، حوادث زمانہ سے ہار نہ مانتی۔ قدرت کے آگے ہتھیار ڈال چکی اس منہ بولی چھوٹی بہن جسے ملا نہ دیکھا، جسے کینیڈا کی مٹی نے پیار سے سنبھال لیا تھا، کی قبر پر کھڑا اپنے فون پر واٹس ایپ پر اسی انارکلی کے کئی ماہ قبل بھیجے یہ اشعار پڑھ رہا تھا۔ جو مجھے لگتا ہے اس کے کسی بہت ہی اپنے نے کسی وجدان میں اسی کے لئے لکھ بھیجے ہوں۔

حالات سے وہ معرکہ آرائی کیا ہوئی
کچھ بول تیری قوت گویائی کیا ہوئی
ہونٹوں کی آگ جسم کا کندن کدھر گیا
وہ آسماں کو چومتی انگڑائی کیا ہوئی
گلیوں میں میرے نام کے پرزے بکھر گئے
پاگل ہوا سے میری شناسائی کیا ہوئی
خدا اس کی مغفرت فرمائے۔ اس کے لئے ایک دعائے مغفرت اور بچوں کو صبر کی توفیق ملنے کی دعا۔

Facebook Comments HS