EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

ڈی آئی جی کی محبوبہ (3)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوسری قسط کا آخری حصہ

تحقیق و تفتیش کا دائرہ وسیع ہوا تو یہ حقیقت بھی آشکار ہوئی کہ عشق اور شادی دونوں میں ناخوش رہنے کے وافر مواقع ہیں۔ میاں کا مزاج اگر پرتشدد نہیں۔ اسے اپنی کمزوریوں کا شعور اور احساس ہے تو شادی کو نبھاﺅ۔ اسے گھر کے دروازے پر بے ضرر ٹاٹ کا پردہ بنا کر لٹکا لو۔ چینوں جاپانیوں نے اس میں اب نت نئے روپ نکال لیے ہیں۔ بہت سجل، نرم و نازک، من بھاﺅنے، ہوادار۔ ان کا مقصد مگر صرف اوٹ کرنا ہے۔ اس سے آنے جانے والوں کے لیے آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنا ہرگز مقصود نہیں ہوتا

٭٭٭   ٭٭٭

 بینو کو لگا کہ رفتہ رفتہ ظہیر بھی ایسا ہی میاں ثابت ہو سکتا ہے جو زندگی کی موٹر وے پر ڈرائیونگ لائسنس کی سی قانونی یقین دہانی اور تحفظ فراہم کرے۔ یہ پاس ہو گا تو ٹریفک پولیس اس کی اہلیت پر سوال اٹھانے کی مجاز نہیں اور اس کا چالان کرنے کا جواز نہ رہے گا۔ ہر عورت کو ایسا میاں درکار ہوتا ہے جو مالی طور پر بھلے سے بل گیٹس اور ولید بن طلال نہ سہی مگر ایسا خسیس بھی نہ ہو کہ ریزگاری کا حساب مانگتا پھرے۔ بینو نے حساب لگایا کہ یہ بندوبست میسر ہوگا تو وہ اپنے لیے خود ہی من چاہا Space آسانی سے نکال لے گی۔

 آپ نے سوچا کہ بینو میں اتنا جلدی اتنا بڑا بدلاﺅ کیسے آیا۔ جب خلاف توقع کوئی بڑی بات بہت چھوٹے انداز میں وقوع پذیر ہوجائے تو انسان میں تبدیلی آنے لگتی ہے۔

لوگ تین وجوہات کی بنیاد پر بدلتے ہیں۔ پہلا سبب یہ ہوتا ہے کہ یکایک یا رفتہ رفتہ انہوں نے بہت کچھ سیکھ لیا ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ان پر کوئی ایسا دکھ آزار یا موقع مسلط ہوجاتا ہے جس سے انہیں اپنے بچاﺅ یا لطف کے نئے حوالے ڈھونڈنے پڑتے ہیں یا تیسرا یہ کہ وہ یکسانیت سے اکتا چکے ہوتے ہیں۔ بینو پر اتفاقاً ان تینوں وجوہات کا اطلاق ہوتا تھا۔

 وہ اس راز سے بخوبی آشنا تھی کہ وجود ذات سے متعلق قید خانے انسان کے اپنے بنائے ہوئے ہیں۔ بہت سی رکاوٹیں بھی خود ساختہ ہوتی ہیں۔ اسی طرح بہت سے زندان خانے اور پنجرے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا حقیقت میں کہیں وجود نہیں ہوتا۔ آپ کو کب، کہاں، کیوں اور کس مقصد کے لیے قید کررکھا ہے یہ شعور آجائے تو مقید وجود کی طرف آزادی کی منزل خود ہی دوڑی چلی آتی ہے۔

بینو کا مطالعہ، یاداشت، تجزیہ اور Critical Thinking کی صلاحیت۔ سب ہی بہت عمدہ تھے۔ عظیم سائنس دان و مصور لیونارڈو ڈا ونچی کہا کرتے تھے کہ ہر شے کا تعلق ہر شے سے بن ہی جاتا ہے۔

بینو نے جب ازدواجی حوالوں سے اپنی درماندگی کا سوچا تو اسے مارلن منرو، سعودی پرنسس امیرہ ال طویل طلال، جیکولین کینیڈی، شہزادی ڈائنا، انجلینا جولی، ریکھا اور کانسٹبل اللہ جوایا کی بھانجی اور اپنی ملازمہ ناجیہ جسے اس کے میاں نے پہلی زچگی کے دوسرے ہفتے گھر سے نکال دیا تھا۔ اسے ان سب کی ازداواجی ناآسودگیاں اور دکھ یکساں اور سانجھے لگے۔

بینو نے سوچا زندگی میں بھی کن کھلے تضادات کی ٹوکری ہے۔ سب کے زمانے اور ادوار مختلف ہیں، ان سب عورتوں کے مرد ان کے جانثار اور ماحول بھی مختلف ہیں۔ مال و منال، شہرت و دلبری کے حوالوں کا تال میل نہ ہوتے ہوئے بھی ایک بات مشترک ہے کہ ان سب کی محرومیاں ایک ہی سرکے میں پالی گئی ہیں۔ اسے لگا کہ دنیا میں مرد کے حوالے سے کوئی شادی شدہ عورت خوش نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہر عورت اپنے اپنے حساب سے بے نیل مرام ہے۔

اب عورت کے خوش ہونے کا فیصلہ اس کا اپنا بھی ہوسکتا ہے۔ شہزادی ڈائینا اپنے کینگ سنٹن پیلس میں ناخوش تھی اور یہ مالی اور ایتھوپیا کی عورتیں اپنے مٹی کے گھروندوں اور کوئلے پر کافی بناتے ہوئے بھی خوش دکھائی دیتی ہیں۔ بتیل عربی میں اس کنواری عورت کو کہتے ہیں جو لاتعلق رہتی ہو۔ بتیل کھجور کے اس پودے کو بھی کہا جاتا ہے جو دوسری جگہ سے لاکر کہیں اور لگا دیا جائے۔ سو بینو بی بی یہ عظیم راز محرومی جان کر بی بی بتیل ہوتے ہوئے بھی لاتعلق نہ رہیں۔

خود آگاہی کی اس موج سر مست نے، اس میں اعتماد، خود مختاری، سمجھوتے اور چالاکی کے وہ طلسماتی باب وا کردیے جو اس کے نہاں خانہ وجود میں موجود تو تھے مگر دور کہیں گم گشتہ پڑے تھے۔ ان پر احتیاط، تربیت، کلچر، نسوانیت کے زنگ زدہ تالے پڑے تھے۔ ان تک پہنچنے والی راہدریاں بھی طویل تھیں دروازوں پر دبیز پردے بھی پڑے تھے۔ جنہیں بد احتیاطی سے چھیڑنے پر حفاظتی گھنٹیاں بج جاتی تھیں۔

ظہیر دفتر میں ہوتے تو وہ تنہا گھر پر ہوتی تھی۔ الم غلم بہت کچھ دیکھ، پڑھ ڈالا۔ لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ نے اس کو بہت باخبر، ٹرینڈز آشنا اور شعور مند بنایا۔ تین ماہ بعد اسے ملتان میں گھر کے قریب ہی ایک سرکاری اسکول میں ڈی آئی جی ٹوانہ صاحب نے استانی لگوا دیا۔ اس سے وقت اچھا گزرنے لگا۔

 اس مطالعے اور تنہائی کا پہلا نتیجہ تو یہ نکلا کہ اس نے اندر ہی اندر ایک اور بینو کو تراش لیا۔ اس بینو کو اس کی alter ego کہہ لیں۔ ہندی میں اس طرح کی ذات کو انت رنگ متر اور اردو میں ہم زاد کہتے ہیں۔ اس وجود ثانی کو سمجھے بغیر مزہ نہیں آئے گا۔

 alter ego کو آسان نفسیاتی انداز میں ثانوی وجود سمجھ لیں۔ ماہرین نفسیات کے مطابق یہ وجود آباد تو فرد مذکور میں ہی ہوتا ہے مگر لازم نہیں کہ وہ اس کے نارمل سیلف جیسا ہی ہو۔ وہ مکمل پر طور پر ایک ایسی ہستی ہوسکتا ہے جس سے فرد مذکور نے شعوری یا غیر شعوری طور پر کوئی بہت گہرا اثر قبول کررکھا ہے۔ اسی وجہ سے جب اسے دوسری اختیاری جون بدلنی ہوتی ہے تو مشکل پیش نہیں آتی۔ آپ نے کئی لڑکیوں کو دیکھا ہوگا جب انہیں دورہ پڑتا ہے تو وہ مرد جن کا روپ اور توانائی جمع کرکے کر انہی کے انداز میں بولتی اور حملہ آور ہوتی ہیں۔ ہمزاد اس سے مختلف ہے۔ وہاں غیر جسمانی غیر مرئی حوالہ غالب رہتا ہے۔ اس لیے اسے انگریزی میں alter ego  پکاریں تو مناسب ہوگا۔

 ایک ایسا متوازی مخفی وجود۔ جس وجود کو ذات کے اس برساتی جنگل (Rain-Forest)  میں جہاں درختوں کے گہرے سبز پتوں کے ہریالے نمناک، خنک سائے تھے۔ ایسے تو وہاں دن میں بھی با آسانی کچھ کھوجنا آسان نہ ہوتا لیکن محبت اور توجہ کی ٹارچ لے کر کوئی کھوج لگاتا تو ایسا نہ تھا کہ یہ مخفی بینو دکھائی نہ دیتی۔

جس پہلی سرچ پارٹی کو بینو اپنی نسوانی آب و تاب سے دستیاب ہوئی، وہ ٹیپو تھے۔ وہ بینو کی زندگی کے خوابیدہ دالان میں ڈی آئی جی صاحب اور ظہیر کے توسط سے پچھلی دیوار پھاند کر داخل ہوئے۔

 کسی لمحہ وحشتِ وصال میں انہوں نے بینو کو بتایا کہ ان کا اصلی نام فہد خان ہے۔ وہ ایک طاقتور خفیہ ادارے سے وابستہ ہیں۔ پینتیس برس کے خفیہ اداروں سے جڑے افراد کا اصلی نام تو ان کی دائی اور بیگمات بھی استعمال نہیں کرتیں چہ جائیکہ غیر متعلقہ افراد۔ پنڈی میں سب انہیں فیصل اور یہاں ملتان میں ٹیپو کہتے تھے۔ ہم ان کے ادارے پر بات نہیں کریں گے اور ان کا نام بھی ملتان والا ہی استعمال کریں گے۔۔

 ٹیپو مضبوط بدن، ہینڈ سم، خوش مزاج، خوش گفتار، ذہین، بااثر و رسوخ بھی تھے۔ بالکل ویسے ہی مرد جیسے بینو کو پسند تھے۔ ترکی اداکار جان یمان جیسے، جن کا نام Can Yaman لکھا جاتا ہے۔ یہ ارطغرل والے اینگن ایل طین دوزیاتان (Engin Altan Düzyatan) سے بہت پہلے کی بات ہے۔ یاد ہے نا بینو کو کیسے مرد پسند تھے۔ بل فائٹر (matador) قسم کے۔ سانڈ کے دل میں تلوار گھونپنے والے۔ matador  ہسپانوی زبان میں  قاتل اور toros سانڈ کو کہتے ہیں۔

بینو کو پتہ چلا کہ وہ پختون ہیں۔ کہاں کے اور کس قبیلے کے ہیں یہ نہ اس نے پوچھا نہ انہوں نے کبھی بتایا۔ بینو نے جلد ہی بھانپ لیا تھا کہ ان کی جانب سے توجہ ہمیشہ مکمل، احساس تحفظ اور لگاوٹ بھرپور ہوتا ہے مگر اپنے بارے میں گفتگو سے کامل پرہیز کرتے ہیں۔ وہی بات بتاتے جو ان کے تعلق میں معاون اور سہولت رساں ہو۔ اس ادائے گریزاں اور سلوکِ اجتناب کو انہوں نے بارہ لچھوں کی  Plasma Rope (دنیا کی مضبوط ترین رسی) سے یہ انکشاف کرکے باندھ دیا کہ جنوبی پنجاب کے علاقے میں وہ اپنے خفیہ ادارے کی جانب سے دہشت گردی کے خاتمے میں مصروف ایک خاص یونٹ کے سربراہ ہیں۔ ان کے بارے میں یا ان سے وابستہ افراد کے بارے میں دہشت گردوں کے ہاتھ معمولی سی اطلاع کا پہنچنا بھی ان کے لیے بھی اور ان کے قریبی افراد کے لیے بھی بہت مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس سے اغوا، قتل، بلیک میلنگ جیسے نقصانات پہنچنے کا احتمال ہے۔ سو مکمل رازداری میں ہی سلامتی ہے۔

بینو کو لگا کہ یہ احتیاط اور بچاﺅ ان کے اپنے لیے کم اور اس کے تحفظ کے لیے زیادہ ہے۔ یہ سن کر اس نے انہیں بھرپور انداز میں چومتے ہوئے یہ کہا تھا۔ ”سب کا کوئی نہ کوئی ہے، میرے صرف آپ ہیں۔ میری کسی نادانی یا بد احتیاطی سے آپ کی چھوٹی انگلی کا ناخن کو بھی کچھ ہو تو میں ساری عمر اپنے آپ کو معاف نہیں کر پاﺅں گی“۔ یہ سن کر ٹیپو جی نے اس کے سارے بوسے اور وحشت آمیز ہم آغوشیاں آئی۔ ایم۔ ایف کا قرضہ مان کر سود کے ساتھ لوٹا دیے۔

مزید ایک قدرے دلچسپ و بے ضرر سی تفصیل جو انہوں نے ظاہر کی مگر جو بینو کو اہم اور دل چسپ لگی، وہ یہ تھی کہ طالب علم فہد خان کی جاسوسی میں دل چسپی کے  رجحان کی پرورش کالج کے دنوں سے ہوئی۔ جاسوسی ناولوں کا ایک بڑا ذخیرہ اس کے والد گھر اٹھالائے تھے۔ کمشنر صاحب کی کوٹھی میں پلپ فکشن کے اس ذخیرہ بیش بہا پر گرد جمع ہو رہی تھی۔ نئے تعینات ہونے والے کمشنرکے احکامات کی تعمیل میں غیر متعلقہ سامان کو ٹھکانے لگا کر کوٹھی کو رنگ روغن کرانے ذمہ فہد کے تحصیلدار والد کا تھا۔ فہد ان دنوں گورنمنٹ کالج سیدو شریف میں تعلیم حاصل کررہے تھے۔ والد کاحکم تھا کہ انگریزی بہتر بناﺅ۔ فضول وقت مت ضائع کرو۔ کتابوں سے انگریزی بہتر ہوتی ہے۔ ناولوں کے کردار اور ان سے سیکھے گئے اسباق فہد کے دماغ کا وکی پیڈیا بن گئے۔ اسی وجہ سے ان کی خفیہ ادارے میں آمد ہوئی کیوں کہ ان کے انتخاب کی سفارش کرنے والے بریگیڈئیر صاحب نے بھی Frederick Forsyth  کا ناولThe Day of the Jackal  دو کے پہاڑے کی طرح یاد کررکھا تھا۔ بینو سے ملاقات میں ان کا نام ٹیپو ظاہر کیا گیا۔

ٹیپو شروع سے ہی تنہائی پسند تھے۔ شخصیت میںطاقت کا شعور تو تھا مگر اسے بلا وجہ جتلانے سے گریز کا قرینہ، پیشہ ورانہ تقاضوں اور مطالعے نے پیدا کردیا تھا۔ یوں شخصیت بہت جان لیوا تھی۔ لباس اور وضع قطع پر بہت توجہ دیتے تھے۔ برانڈیڈ کپڑے، جیکٹ، کوٹ، پتلون۔ رنگوں کا تضاد اور تال میل بہت من بھاﺅنا ہوتا۔ یہ ہی نہیں کسی اضافی مفلر، جان بوجھ کر ڈھیلی گرہ کی ٹائی یا جیب میں سلیقے سے اڑسا رنگ برنگا رومال سے ایسا سحر طاری کرتے کہ دل ڈول جاتا۔ بہت  Dapper  لگتے تھے۔ مردانہ وجاہت اور تمکنت کا ایک دلربا پیکر۔ مصوری کے پرانے اطالوی شہ پاروں میں اگر آپ نے سیدنا عیسیٰ علیہ سلام کی شبیہ دیکھی ہو تو بالکل ویسا رخ پرنور تھا۔ اثر انگیز اور مقناطیسی شخصیت کے حامل۔

یہ روپ سروپ جاسوسی کے بالکل برخلاف تھا۔ اس طرح کے اداروں میں Drop – Dead ہینڈسم جیمز بانڈ اور اس کی تصویر مجسم شان کونری اور ڈئنیل کریگ۔ پیرس برانسن جیسے اداکار دنیا کے ناکام ترین جاسوس مانے جاتے۔ انہیں شناخت کرنا آسان ہوتا ہے۔ جاسوس تو آنکھ کے کاجل اور شربت میں برف کی ٹھنڈک بن کے رہنے والا ایجنٹ ہوتا ہے۔ سمائیلی پیپلز میں سر الیک گینس جیسا ستر کی دہائی کی مشہور سیریز کولمبو کے پیٹر فاک جیسا۔ ماحول میں رل مل کے رہنے والا۔ ٹیپو تو برسوں یاد رہنے والا وجود تھا۔

 وہ ملتان میں سی ٹی پی   (Counter- Terrorism Pursuit) ٹیم کے انچارج تھے یعنی انسداد دہشت گردی۔ ان کے ذمے ملک بھر میں پھیلے ہوئے القاعدہ کے عرب کارندوں اور بھارت سے جڑے پنجابی طالبان کے نیٹ ورک پر نگاہ رکھنا اور اس کا قلع قمع کرنا تھا۔

ٹیپو ڈی آئی جی محمود ٹوانہ صاحب سے رابطہ کرتے اور خاموشی سے ان دہشت گردوں کو گرفتار کرکے پنجاب بھر میں پھیلے کسی تحقیقاتی مرکز کے سیف ہاﺅس میں بھجوا دیا جاتا۔ ٹوانہ صاحب کے دفتر میں آوت جاوت میں ان کا رابطہ ظہیر سے ہوا۔

 میاں کے ساتھ بینو کا برتاﺅ وہی دلہنوں والا رہا۔ رات ویسے ہی بن ٹھن کر بستر میں آتی۔ لگ لپٹ کر سوتی۔ یہ سوچ کر کہ انسان نے آگ جلانا بھی پتھروں کو رگڑ رگڑ کر سیکھا۔ وہ بھی ایک چقماق ہے۔ ممکن ہے کسی انجانی رگڑ سے سرکنڈے آگ پکڑ لیں۔ ظہیر کو اس ادائے دلبرانہ پر شروع میں تعجب ہوتا تھا۔ وہ پوچھتا کہ بینو ایسا کیوں کرتی ہے تو جواب ملتا کہ امریکہ میں اب بھی چالیس فیصد لڑکیاں Stuffed Animals  کے ساتھ سوتی ہیں۔ تم بھی میرے ٹیڈی بیئر ہو۔ تم بھی مجھے، نرم  cuddly  اور تحفظ کے احساس سے بھرپور لگتے ہو۔ اس دل موہ والی وضاحت کا نتیجہ یہ نکلا ظہیر کے اسٹینڈرڈ رویے میں ازدواجی تسلط بے وقتی شہوت کی جگہ برادرنہ شفقت اور پر اعتماد رفاقت کا عنصر شامل ہوگیا۔ اپنی نامردی کو اس نے بردارانہ شفقت و رعایت کے بے دریغ ہرجانے کے اکاﺅنٹ میں جمع کرادیا۔ بینو نے بھی بھولے سے کبھی نہ جتایا کہ وہ ایک نامکمل مرد ہے۔ بینوکی جانب سے اس اجتناب احتیاط اور پردہ راری کے اہتمام پر وہ بہت ہی آسودہ رہا۔

 ٹوانہ صاحب کی ملتان پوسٹنگ کو بمشکل آٹھ ماہ ہوئے تھے کہ ظہیر کو پہلا صدمہ ہوا۔ ان ہی دنوں دہشت گردی میں ملوث کسی مذہبی جماعت کا ایک اہم سہولت رساں پکڑا گیا۔ کام ٹیپو جی کا تھا مگر اس کی رہائی میں رکاوٹ کا سارا وزن ٹوانہ صاحب کے شانہءناتواں پر ڈال دیا گیا۔ اسی وجہ سے ڈی آئی جی ٹوانہ صاحب کی کسی بڑے صاحب سے ناراضگی ہوگئی۔

ان سیاست کار کا شمار مقامی سیاست کے ہیوی ویٹ افراد میں ہوتا تھا۔ جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت نے سویلین سیٹ اپ کا گھاگھرا چولی پہن کر ٹھمکنے کا جو اہتمام کیا تھا اس نظریہ ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیائے سیاست کے اس ماہ منیر کی شمولیت اور سیاسی تعاون ایک ناگزیر حقیقت تھی۔ وہ دہشت گرد کو چھڑوانے پر بضد تھے۔ وہ رہائی پاتا تو ان کی طاقت اور دھاک دونوں میں اضافہ ہوتا۔ یوں یہ معاملہ دہشت گردی سے زیادہ خالصتاً سیاسی تناظر میں دیکھا گیا۔ رہائی پر  مصر جو صاحب جس سیاسی جماعت سے تعلق دار تھے اُسے چھوڑ کر آنے کے لیے ان کی فوجی بڑوں سے بات چیت چل رہی تھی لہذا ان کی ہر جگہ شنوائی ہو رہی تھی۔ دونوں طرف سے پنجہ آزمائی نے زور پکڑا تو ٹوانہ صاحب کمزور پڑ گئے۔

 طاقت کی اس پنجہ آزمائی میں وہ اپنی شکست پر رنجور تھے مگر ٹیپو نے اپنے بڑوں سے بات کرکے ٹوانہ صاحب کو بہت خاموشی سے لاہور میں ڈی آئی جی ریسرچ لگوا دیا۔ یہ کوئی ایسی بری پوسٹنگ نہ تھی۔ ٹور ٹہکا یوں بھی ٹوانہ صاحب کے مزاج کا حصہ نہ تھا۔ پنجاب کے افسر سندھ کے غیر یقینی ماحول میں تعینات ہوئے تو جلد یہ راز پالیا کہ ممبئی اور کراچی دھونس اور طاقت کے بے جا دکھاﺅے کی بجائے دھندے کے دھام ( ہندی مقام یا بستی) ہیں۔ مال بناﺅ تے نہال ہوجاﺅ۔

ٹوانہ صاحب کی جگہ جو نئے ڈی آئی جی صاحب تعینات ہوکر آئے وہ کچھ اور مزاج کے تھے۔ پنجاب پولیس کے رنگ میں رچے بسے۔ ان کے دماغ میں جانے کیا آئی کہ انہوں نے ہر سطح پر اپنی نئی بساط بچھائی۔ ان کے اپنے پسندیدہ عملے کی تعداد معقول تھی۔ انہوں نے کچھ کہنے سنے بغیر ظہیر کو لاہور ہیڈ آفس سرنڈر کردیا۔ ظہیر کو ابتدا میں لاہور میں رہائش کا مسئلہ تھا۔ وہ کسی دوست کے ساتھ رہتا تھا۔

﴿جاری ہے﴾

Latest posts by اقبال دیوان (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 66 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے