امریکہ میں در پیش پرائیویسی کے مسائل
امریکی ریاست ٹیکساس کے دارالحکومت آسٹن میں شہریوں کو درپیش پرائیویسی کے مسائل پر ایک سیمینار جاری تھا۔ اس ورکشاپ میں ماہر ین نفسیات اور قانون، مقامی دانشور، شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے والی انجمنوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔ اس تقریب میں شامل سبھی لوگ باری باری اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے لیکن شہریوں کی پرائیویسی کو لاحق خطرات کے حوالے سے چند شرکاء کی آراء اور تبصرے بڑے دلچسپ تھے جو اس کہانی کا حصہ بنائے گئے ہیں۔ بالخصوص سیمینار میں شامل ایک خاتون جولیا کی کہانی جس نے اپنا ذاتی تجربہ بیان کر کے وہاں موجود سب شرکاء کو چونکا دیا۔
جولیا ایک بڑی مارکیٹنگ کمپنی میں ڈیٹا انٹری کرنے کا کام سرانجام دے رہی تھی۔ وہ کمپنی مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی انفارمیشن کو ایک جگہ اکٹھا کرتی جن میں شہریوں کے ایڈریس، رابطہ نمبر، ذرائع آمدن، کھانے پینے اور پیسہ خرچ کی عادات اور کچھ ذاتی قسم کی معلومات شامل ہوتیں۔ کمپنی کو حاصل کردہ معلومات کا تجزیہ کیا جاتا، ان کی درجہ بندی ہوتی اور پھر کچھ نامعلوم خریداروں کو شہریوں کا وہ ڈیٹا سستے داموں بیچ دیا جاتا تھا۔
جولیا سیمینار کے دوران اپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے جذباتی ہو گئی اور اپنی روداد بیان کرتے ہوئے سسکیاں بھرنے لگی۔ اس نے کہا کہ وہ اپنا کام اچھی طرح جانتی ہے اور کمپنی کی جانب سے دیا گیا ہر ٹاسک وہ اپنی پوری ایمانداری کے ساتھ اور وقت پر ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن جب سے اسے معلوم ہوا کہ کمپنی کی پالیسی کے مطابق ہر ملازم کی دن کے آٹھ گھنٹے لگا تار مانیٹر نگ کی جاتی ہے اور اس کی سپر وائیزر اس کے لیب ٹاپ کی سکرین کو ہر وقت مانیٹر کر رہی ہے تو اس کے کام کرنے کی صلاحیت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
جولیا نے حاضرین کو بتا یا کہ کمپنی کی اپنے ملازمین کی سخت نگرانی کی پالیسی اور دیگر شہریوں کا پرائیویٹ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے حربے نے اسے ایک ذہنی مریض بنا دیا ہے۔ شاید باقی ملازمین کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو، لیکن اس کے اندر ایک ان جان سا خوف سرایت کر گیا ہے۔ وہ گھر میں اکیلے بھی ہو تو اسے یہ احساس رہتا ہے کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے، کوئی اسے سن رہا ہے اور یہ کہ وہ ہر وقت کسی کی زیر نگرانی زندگی گزار رہی ہے۔
جولیا اپنی پرائیویسی کی خاطر بہت پریشان نظر آ رہی تھی اور اس کا کہا، مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی بھوت کا سایہ ہر وقت میرا پیچھا کر رہا ہو۔ اس نے برملا اقرار کیا کہ وہ اپنے کچھ معاملات اور اپنی کچھ پرائیویٹ باتیں دوسروں سے مخفی رکھنا چاہتی ہے جو اس کا بنیادی حق ہے لیکن اب وہ سمجھتی ہے کہ اس کے راز داری کے تمام حقوق پامال ہو رہے ہیں، کوئی اس کے بارے میں سب جانتا ہے اور وہ اپنے آپ کو ایک ایسا بے بس انسان تصور کرنے لگی ہے جو کسی کے رحم و کرم پر جی رہا ہو۔
جولیا کی باتیں سن کر اور اس کا جذباتی رویہ دیکھ کر جہاں انسانی حقوق کے علمبردار چونک گئے، وہیں سیمینار میں موجود ماہرین نفسیات نے جولیا کے مسئلے کو ایک خاص نفسیاتی بیماری کا نام دیا اور اس کے مرض کی کئی سائنسی تاویلیں پیش کیں۔ وہ جولیا کو کسی ماہر نفسیات سے مشاورت کا مشورہ دے رہے تھے لیکن جولیا جس وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار بنی اس پر انہوں نے اپنی کوئی رائے پیش نہیں کی۔ ماہرین نفسیات نے بس اتنا کہا گیا کہ ہر انسان فطری طور پر اپنی کچھ حقیقتیں، اپنے راز اور اپنے پرائیویٹ معاملات دوسروں سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انسانوں کی پرائیویسی کا خیال نہ رکھا جائے تو ان کے سماجی تعلقات، کسی بھی جگہ کام کرنے کی صلاحیت اور کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
سیمینار کے شرکا ءمیں شامل ایک دانشور کا تبصرہ سب کو بڑا دلچسپ لگا اور وہاں موجود لوگوں نے خوب تالیاں بجا کر اسے داد دی۔ دانشور نے اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم میں سے ہر ایک اپنا کچھ نہ کچھ صیغہ راز میں رکھنا چاہتا ہے۔ مگر کس سے، اپنے کسی دوست سے یا پھر اپنے کسی حریف، مخالف یا دشمن سے۔ اس کی رائے تھی کہ دوست سے بھلا کوئی کیا چھپائے گا مگر ہاں دشمنوں سے ہم اپنی باتیں، اپنے کام اور اپنی کمزوری ضرور چھپاتے ہیں۔
بوڑھے دانشور نے ایک بڑی دلچسپ مثال پیش کی اور کہا، کسی مریض کے مرض کو خفیہ کیوں رکھا جاتا ہے تاکہ اس کی بیماری کا حال جان کر کوئی اس سے ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اس نے سوال اٹھایا کہ کیا آپ اور میں کسی ایسی کمپنی کا سٹاک خریدیں گے جس کے سی ای او کے بارے میں ہمیں پیشگی معلوم ہو کہ وہ ایک سال بعد کینسر سے مر جائے گا اور کمپنی کی ترقی کا سارا دار و مدار اس کے چیف ایگزیکٹیو کی صلاحیتوں پر ہے۔
دانشور کی باتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے وہاں موجود تھیالوجی کے ایک ریٹائر پروفیسر نے کہا، جس طرح سی ای او کی پرائیویسی کا تحفظ اور اس کی کسی کمزوری کا پردہ رکھنا ایک کمپنی کے اپنے مفاد میں ہے اسی طرح شہریوں کی پرائیویسی کے حقوق کا خیال رکھنا بھی کسی ریاست کو انتشار سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔ پروفیسر صاحب نے مزید کہا کہ انسانوں میں ہر وقت زیر نگرانی رہنے کا احساس کوئی نئی بات نہیں، دنیا میں ازل سے ایک خدا کا تصور موجود ہے جس کے بارے یقین رکھا جاتا ہے کہ وہ ہر وقت انسان کو دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے اور وہ ان کا نگران ہے۔
خدا کچھ باتوں سے خوش ہو تا ہے اور کچھ باتوں سے ناراض۔ لیکن ساتھ ہی انسان کو تعلیم دی جاتی ہے کہ ناراض خدا کو کیسے راضی کرنا ہے۔ انسانوں کو امید دلائی جاتی ہے کہ خدا مہربان ہے، معاف کرنے والا ہے اور وہ محبت کا سرچشمہ ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ انسانوں کا اپنے خدا سے تعلق خوف اور امید کے ذریعے قائم رہتا ہے۔
پروفیسر کی باتوں سے اختلاف کرتے ہوئے انسانی حقوق تنظیم کی ایک خاتون کارکن کھڑی ہوئی اور بولی، ہمارے پرائیویسی کے مسائل سے خدا اور مذہب کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ شہریوں اور ریاست کا مسئلہ ہے۔ اس لیے آج کے سیمینار کے موضوع پر زیادہ توجہ مرکوز رکھی جائے تو بہتر ہو گا۔ اس نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج ریاست اپنے شہریوں کو صرف خوف سے اور ڈرا دھمکا کر اپنا وفادار رکھنا چاہتی ہے۔ خاتون نے کسی حد تک پروفیسر صاحب کی باتوں کی تائید بھی کی اور کہا کہ ریاست ماں بن کر اپنے شہریوں کی نگرانی تو کر سکتی ہے جیسے ایک کیتھولک ماں جو اپنے بچوں کے جنسی رویوں پر گہری نظر رکھتی ہے لیکن کوئی ریاست ایک منافع خور کمپنی یا ان دیکھے خدا کی طرح اپنے شہریوں کی ہر وقت نگرانی نہیں کر سکتی۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انسانی حقوق کی کارکن نے کہا، کمپنی والے لوگوں کو تنخواہ دے کر اپنا غلام سمجھتے ہیں کیونکہ وہ شہریوں کے وقت کی قیمت ادا کر رہے ہوتے ہیں اور اگر وہ ملازمین کی نگرانی کریں تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن ریاست کا وجود تو شہریوں کے دم سے ہوتا ہے اور ان کے ادا کے گئے ٹیکس کی وجہ سے ایک ریاست اپنا وجود قائم رکھ سکتی ہے۔ اس خاتون نے سیمینار کے دوران کئی تلخ سوال بھی اٹھائے اور کہا کہ بھلا ایک ریاست، اپنے ہی شہریوں کو کیسے غلام بنا سکتی ہے۔
کیا ریاست اور شہری کا تعلق ایک آجر اور اجیر جیسا اختیاری ہے، کیا ریاست اور ایک شہری کے درمیان ایک دوسرے کے تحفظ کر نے کا غیر تحریری معاہدہ نہیں ہوتا؟ اس نے ریاست اور شہریوں کے تعلق کی نوعیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ ریاست اپنے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ہے اور شہری وقت آنے پر ریاست کی حفاظت کے لیے اپنی جان بھی قربان کر دیتے ہیں۔
سیمینار کے منتظمین نے خاتون کو تقریر ختم کرنے کا اشارہ دیا کیونکہ وہ اپنے مختص وقت سے زیادہ بات کر رہی تھی۔ لیکن خاتون نے معذرت کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی اور ریاست کے اپنے شہریوں کی سخت نگرانی اور ان کے خلاف جارحانہ رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا، جب ایک ریاست اپنے شہریوں کی کڑی نگرانی شروع کر دے تو گویا یہ ریاست کا اپنے شہریوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہو تا ہے۔ اپنے ہی ملک میں شہری مشکوک سمجھے جانے لگتے ہیں۔ نتیجتاً، حکمران طبقہ اپنے حفاظتی اقدام بڑھا لیتا ہے اور شہریوں کے دیے گئے ٹیکس کا پیسہ عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے حکمرانوں کی جان اور مفادات کی حفاظت پر خرچ ہو نا شروع ہو جاتا ہے جس سے عام لوگوں میں عدم تحفظ بڑھنے لگتا ہے۔
انسانی حقوق کی کارکن کو پھر سے اپنی بات ختم کرنے کا کہا گیا لیکن اس نے اپنی بات جاری رکھی اور کہا کہ تیسری دنیا کی طرز پر اب امریکی ریاست بھی اپنا فلاحی کردار بھول کر اندرونی اور بیرونی دشمنوں کا ہوا کھڑا کرتی ہے تاکہ لوگوں میں خوف پیدا ہو، ان کی نگرانی بڑھانے کا جواز پیدا کیا جا سکے اور ریاست کے خلاف ان کے بڑھتے غصے پر کنٹرول حاصل کیا جائے۔ اس خاتون نے خبردار کیا جب ریاست شہریوں کے مقابلے میں اپنے آپ کو مضبوط کر نے پر زیادہ توجہ مرکوز کرتی ہے تو شہری بھی ریاست کو ٹیکس دینے کی بجائے اپنے آپ کو مضبوط کر نا شروع کر دیتے ہیں، ٹیکس چوری عام ہو جاتی ہے، ریاستی اداروں میں کرپشن بڑھنے لگتی ہے اور جلد ہی ریاست کا دھڑام تختہ ہو جاتا ہے۔
آخر کار تقریب کے منتظمین کو خاتون کا مائیک بند کرنا پڑا اور سیمینار کی کارروائی آگے بڑھاتے ہوئے دیگر مقررین کو اپنی رائے کے اظہار کا موقع دیا گیا۔ اس سیمینار کے دوران امریکہ میں در پیش عام آدمی کی پرائیویسی کے حوالے سے چند مسائل کی نشان دہی کی گئی اور بتایا گیا کہ اگرچہ امریکہ میں شہریوں کے پرائیویسی لاز بہت مضبوط ہیں لیکن نائن الیون کے بعد ہوم لینڈ سیکورٹی کے نام پر لوگوں کی حرکات و سکنات پر نظر کھنے کے لیے سخت قوانین متعارف کروائے جا چکے ہیں اور ریاستی اداروں نے شہریوں کی حفاظت کے نام پر ان کی نگرانی بہت حد تک بڑھا دی ہے۔
سیمینار میں اس بات پر توجہ دلائی گئی کہ امریکی شہری اپنے ذاتی معاملات کو راز داری میں رکھنا پسند کرتے ہیں اور وہ اپنے بنیادی اور آئینی حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار نظر آتے ہیں لیکن جدید دور، بالخصوص سوشل میڈیا کے زمانے میں شہریوں کو اپنے نجی زندگی اور معاملات کو پرائیویٹ رکھنے میں کئی مشکلات کا سامنا ہے۔
سیمینار میں اس نقطے پر زور دیا گیا کہ آج انسانوں کی کوئی بھی حرکت، سوشل میڈیا اور جد ید ٹیکنالوجی کے بڑے بڑے جنات کی نظروں سے اوجھل نہیں رہ سکتی ہے۔ لوگوں میں اس حوالے سے بے چینی بڑھ رہی ہے جبکہ دوسری طرف امریکہ کا مراعات یافتہ طبقہ معاشرے کی تشکیل نو چاہتا ہے جس میں نئے پرائیویسی لاز اور مسائل کے حوالے سے حکومت اور بڑی بڑی کارپوریشنز پر شہریوں کے اعتماد کو بڑھایا جا سکے۔ امریکہ کے اکثر لوگ اسی احساس کے ساتھ زندہ رہتے ہیں کہ کوئی سب کچھ دیکھ رہا ہے، کوئی سب کچھ سن رہا ہے۔
سیمینار میں سماجی رویوں میں بدلاؤ پر گہری نظر رکھنے والے کچھ محققین اور ماہرین نے اس بات ہر زور دیا کہ ہر وقت زیر نگرانی رہنے کے احساس سے شہریوں میں غصہ بڑھ رہا ہے۔ لوگوں کی اکثریت ہر وقت کسی بھوت کی نگرانی میں رہنے کی اذیت سے نجات پانا چاہتے ہیں اور اس حوالے عوام کے غم و غصے کا ریلا کسی بھی وقت بڑی بڑی کارپوریشنز کو اپنی زد میں لے سکتا ہے اور اگر ریاست نے اپنے خلاف بڑھتے ہوئے عوامی جذبات کا ادراک نہیں کیا تو ریاستی نظام کو کسی بڑی بغاوت یا انقلاب کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی جہت کا تعین وقت اور دنیا کے بدلتے ہوئے حالات طے کریں گے۔


