الوداع! دلیپ کمار صاحب


سہانا سفر اور یہ موسم حسیں
ہمیں ڈر ہے ہم کھو نہ جائیں کہیں

یہ وہ گانا ہے جو ہم زمانہ طالب علمی میں سکول، کالج یا کسی بھی نجی ٹرپ پہ جاتے ہوئے کورس میں گایا کرتے تھے۔ دلیپ صاحب کی فلم ”مدھومتی“ کا یہ گانا مقبول عام تھا۔ مدھومتی کا مرکزی خیال آوا گون کا نظریہ تھا۔ کون جانتا تھا اس فلم کا ہیرو سرما کی ایک ٹھٹھرا دینے والے دن کو 11 دسمبر 1922 کو پشاور کے ایک پھل فروش کے ہاں پیدا ہوا۔ یہ بچہ گوری رنگت سیاہ بال اور سیاہ آنکھوں والا گویا کہ پٹھانوں کے مخصوص حسن سے مالا مال تھا۔

خاندان والے اسے بچا بچا کر رکھتے کہ کہیں نظر نہ لگ جائے۔ پھولوں کے شہر پشاور کے قصہ خوانی بازار کے محلہ خدا آباد میں ان کا پشتینی مکان تھا۔ ان کے والد کا وہاں پھلوں کا کاروبار تھا۔ قصہ خوانی بازار کو قصہ خوانی اس لیے کہا جاتا کہ وہاں کے بیوپاری ایک دوسرے کو مختلف قصے سناتے۔ وقت وہیں پہ اپنے پنوں پہ دلیپ کمار کا قصہ بھی لکھ رہا تھا۔ یوسف خان کے والد سرور خان نے اپنے پھل فروشی کے کاروبار کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے سفر کا قصد کیا۔

پہلے وہ کلکتہ گئے اور اس کے بعد بمبئی۔ سرور خان نے بمبئی کی کرافورڈ مارکیٹ میں اپنی ایک دکان خرید لی۔ سرور خان کو اپنا گھرانا بہت یاد آتا۔ انہوں نے اپنے اہل خانہ کو بمبئی لانے کا فیصلہ کیا۔ یوں وہ سب بمبئی منتقل ہو گئے۔ یوسف خان کا خاندانی کاروبار اتنا پھیل چکا تھا کہ ان کا بڑا خاندان بھی اس میں کھپ سکتا تھا۔ لگتا ہے یوسف کی تقدیر پہلے ہی لکھی جا چکی تھی۔ تاہم حالات نے پلٹا کھایا اور سرور خان کا کاروبار ایک دم بیٹھ گیا۔

اپنے والد کو زوال سے نکالنے کے لیے یوسف خان نے کچھ کرنے کی ٹھانی۔ دلیپ صاحب بمبئی سے نینی تال گئے۔ وہیں ان کی ملاقات اپنے دور کی مشہور ادا کارہ دیویکا رانی سے ہوئی۔ بمبے ٹاکیز کی حصہ دار اور دیویکا رانی نے یوسف خان کو پہلی فلم ”جوار بھاٹا“ میں موقع دے کر یوسف خان سے دلیپ کمار بنا دیا۔ مجھے ہمیشہ سے نامور شخصیات کی سوانح عمری اور سوانح حیات پڑھنے کا بہت شوق ہے۔ میری سٹڈی میں دیگر شخصیات کی سوانح عمری کے ساتھ بھارتی فلم انڈسٹری کے مشہور صحافی بنی روبن کی کتاب دلیپ کمار کے نام سے موجود ہے۔

اگر دلیپ صاحب کی زندگی کے بارے میں یہ کتاب نہ ہوتی تو ہم ان کے بارے میں اتنا کچھ نہ جان پاتے۔ دلیپ صاحب کی کہانی سے پتہ چلتا ہے کہ زندگی کیسے ٹکڑوں میں پلتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ بچپن میں جب لوگ ان کے بالوں کے تعریف کیا کرتے تھے تو ان کے جانے کے بعد دادی کے کہنے پر ماں میری نظر اتارا کرتی۔ یوسف خان کے تیرہ بہن بھائی تھے۔ ان کے بچپن کا زمانہ شور شرابے، قہقہوں اور شرارتوں سے بھرا ہوا زمانہ تھا۔ البتہ انہیں اپنے دادا حاجی محمد خان کی موجودگی میں خاموش رہنا پڑتا تھا۔

یوسف خان کے دادا خاندان کے حقیقی سر براہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ اگرچہ وہ ایک مذہبی گھرانا تھا لیکن گھرانے کی ساری لڑکیاں تعلیم یافتہ اور اردو لکھ پڑھ سکتی تھیں۔ دادا گھر میں فارسی بولا کرتا اور بچوں کو فارسی کتابیں پڑھ کر ہندکو میں ترجمہ کر کے مفہوم سمجھاتا۔ یوسف خان کو خوبصورت الفاظ اور شعر و شاعری کا شوق شاید دادا ہی سے ورثے میں ملا۔ اسی لیے یوسف بھی اپنی گفتگو میں کثرت سے شعر سنایا کرتا۔ جب پورا خاندان بمبئی منتقل ہو گیا تو وہ انجمن اسلام ہائی سکول میں پڑھنے لگے۔

لیکن ہر سال موسم گرما میں دادا دادی کے پاس پشاور آنا جانا لگا رہتا۔ وہ اپنے محلے خدا آباد میں اپنے آغا جی کے کہنے پر انگریزی کی نظمیں پڑھ کے سناتے تو سب لوگ خوب متاثر ہوتے کہ یہ لوگ اب ایک بڑے شہر میں رہتے ہیں۔ فلم انڈسٹری کو دلیپ کمار صاحب نے نئی تہذیب، زبان اور سپر سٹار کی اصطلاح سے متعارف کروایا۔ یوسف خان صاحب وہ عظیم انسان تھے جو دو ایسے ملکوں میں جہاں محبت اور نفرت کا کھیل چھپن چھپائی کی طرح جاری رہتا ہے وہ بیک وقت یوسف خان اور دلیپ کمار تھے۔

وہ سراپا محبت تھے۔ انڈین فلم انڈسٹری کے ہر ادا کار نے دلیپ صاحب سے بہت کچھ مستعار لیا لیکن دلیپ نہ بن سکا۔ ان کی موت پہ دکھ کا اظہار کرتے ہوئے امیتابھ نے ٹویٹ کیا ”آج کے بعد فلمی صنعت اس طرح یاد رکھی جائے گی۔“ ”دلیپ کمار سے پہلے اور دلیپ کمار کے بعد ۔“ گویا دلیپ کمار ایک انسان نہیں ایک عہد تھا۔ انداز فلم میں کام کرنے کے بعد دلیپ کمار صاحب ایک لو کے طور پر ابھرے۔ لیکن دور اندیش دلیپ کمار کے لیے ایک فرمے میں ڈھل جانا ایک فن کار کی موت کے برابر تھا۔

یوں انہوں نے دیو داس میں ایک قابل رحم موت کالا فانی کردار ادا کیا تو انہیں ٹریجڈی کنگ کہا جانے لگا۔ پھر رام اور شیام میں ان کی اداکاری کی کاملیت عروج پر دیکھی جا سکتی ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں ہمارے گھر میں پاپا کے پسندیدہ گانے ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈر پہ بجتے رہتے ”اے میرے دل کہیں اور چل غم کی دنیا سے دل بھر گیا۔“ ”نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے تیرا وجود ہے بس صرف داستاں کے لیے“ ۔ آرٹسٹ جب تک اپنے کردار میں ڈھل نہ جائے اس میں حقیقت اور کاملیت کا رنگ آہی نہیں سکتا۔

دلیپ کمار صاحب اپنی سوانح عمری میں بتاتے ہیں کہ ان کی مرحومہ والدہ دمے کی مریض تھیں۔ ایک مرتبہ وہ شدید بیمار ہو گئیں تو میں نے اپنے قبلہ مرحوم والد صاحب کو بری طرح نروس اور پریشان دیکھا کہ وہ چلا چلا کر کہہ رہے تھے جاؤ بھاگ کر گلی کی نکڑ سے ڈاکٹر کو بلا لاؤ۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ جب میں نے فلم مشال میں اپنی بیمار بیوی کو بچانے کے لیے لب سڑک چیخنے چلانے کا کردار کیا وہ اپنے آغا جی کی اسی کیفیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے کیا۔

اسی طرح کہتے ہیں کہ ”گنگا جمنا“ اتر پردیش کے پس منظر میں بننے کی وجہ سے اس کے مکالمے بھوج پوری بولی جو اتر پردیش میں بولی جاتی تھی میں لکھے جاتے تھے۔ اس کے لیے یوسف خان نے اپنے دیولالی والے بہاری مالی اور اس کی بیوی کی یادوں سے مدد لی تھی۔ یوں ان کی ادا کاری میں بے ساختگی اور سچائی جھکتی تھی۔ دلیپ کمار صاحب بہت اچھا گاتے بھی تھے۔ شاید یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ مسافر فلم میں انہوں نے لتا جی کے ساتھ ایک گانا بھی گایا۔

دلیپ کمار صاحب انڈین فلم انڈسٹری کے سب سے طویل العمر اداکار تھے۔ وہ برصغیر کے ایک منفرد اور صاحب کمال فنکار تھے۔ پاکستان نے بھی انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنا سب سے بڑا سول اعزاز نشان امتیاز انھیں پیش کیا۔ دلیپ کمار صاحب نے دو مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا۔ پہلی مرتبہ 1988 میں اور دوسری مرتبہ 1998 میں جب ”نشان امتیاز“ دیا گیا۔ دونوں مرتبہ ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا۔ عوام نے اپنی بھر پور محبت ان پہ لٹائی۔

دونوں مرتبہ انڈیا واپس جانے کے بعد کچھ لوگ انڈیا سے ان کی وفاداری پہ سوال اٹھاتے رہے۔ دلیپ صاحب صدیوں یاد رکھے جائیں گے۔ وہ بلا شبہ نہ صرف انڈیا بلکہ پاکستان کے بھی ہیرو تھے۔ موت تو برحق ہے۔ موت نے آ کر رہنا ہے۔ انوپم کھیر نے دلیپ کمار صاحب کو کچھ اس طرح خراج تحسین پیش کیا ہے : ”دلیپ صاحب جیسی صوفیانہ شخصیت اوپر والا اس دنیا کو بہت سوچ سمجھ کر بخشتا ہے۔ ہم سب آپ کے مرید ہیں۔“ الوداع! دلیپ صاحب۔ سائرہ بانو نے بھی محبت اور وفا کی نہ بجھنے والی شمع آخر وقت تک جلائے رکھی۔ خدا جانے والی روح اور پیچھے رہ جانے والی روح دونوں کے لیے آسانیاں کرے۔ آمین!

Comments - User is solely responsible for his/her words