شکنتلا کون تھی؟
اگلی صبح وہ دفتر کے لیے روانہ ہوا تو مال سے نکلنے تک کسی حسین اتفاق کا منتظر رہا مگر ایسے اتفاقات روز روز کب ہوتے ہیں۔ دفتر میں جیسے تیسے وقت گزارا اور واپسی کی راہ لی۔ آسمان پر گہرا ابر چھایا تھا اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ اس نے گاڑی نکالی اور ذیلی سڑک سے مین روڈ پر چڑھنے ہی والا تھا کہ اچانک سڑک کنارے شکنتلا نظر آئی۔ وہ شاید کسی ٹیکسی کے انتظار میں تھی۔ اس نے فوراً گاڑی اس کے قریب جا کر روک دی۔
”شکنتلا“
وہ اس کی آواز سن کر چونکی پھر بغیر کچھ کہے اس کے برابر بیٹھ گئی۔
”کہاں جانا ہے؟“ اس نے پوچھا۔
”یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟“ وہ مسکرائی۔
جنید بھی مسکرا اٹھا۔ اس نے گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ابھی سیدھا گھر جانے کی کیا ضرورت ہے۔ پھر ایک اتفاق نے شکنتلا کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع دیا ہے اسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ چناں چہ وہ گاڑی ایک پارک میں لے گیا۔
”یہ آپ مجھے کہاں لے آئے ہیں؟“
”کیوں نہ کچھ دیر یہاں بیٹھ کر موسم سے لطف اندوز ہوں“
شکنتلا نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ انہوں نے اس وسیع و عریض پارک کا ایک ایسا گوشہ منتخب کیا جہاں آمد و رفت نہ ہونے کے برابر تھی۔
”آؤ یہاں بیٹھتے ہیں“ جنید نے ایک پتھر کی بنچ کی طرف اشارہ کیا۔ شکنتلا سر ہلاتے ہوئے اس کے پہلو میں بیٹھ گئی۔ وہی مخصوص خوشبو جنید کے نتھنوں سے ٹکرائی جو اسے پاگل سا کر دیتی تھی۔ شکنتلا نے اپنا سر اس کے کاندھے پر ٹکا دیا۔ جنید کو اس کی گرم سانسیں اپنی گردن پر محسوس ہو رہی تھیں۔ اس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔
شاید شکنتلا کو بھی ایسا محسوس ہوا تھا۔ اس نے اپنا ہاتھ جنید کے سینے پر رکھا تو اس کا دل کچھ اور تیزی سے دھڑکنے لگا۔
”جنید آپ ٹھیک تو ہیں ناں“ شکنتلا نے خمار آلود آواز میں پوچھا۔
”نہیں میں ٹھیک نہیں ہوں۔ تم نے مجھ پر کوئی جادو کر دیا ہے“ جنید بول اٹھا۔
”جادو تو آپ نے مجھ پر کیا ہے۔ میں آپ سے بہت پیار کرنے لگی ہوں۔ میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔“ شکنتلا نے پلکیں اٹھائیں اور نیم باز آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
جنید کو یوں لگا جیسے شکنتلا اس کے بازوؤں کے حلقے میں ہے اور اس کی گرفت سخت ہوتی جا رہی ہے اور شکنتلا جیسے اس میں سما جانا چاہتی ہے۔ اسے بالکل بھی یاد نہ رہا کہ وہ کہاں ہے۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے اس کے چاروں طرف دھند پھیلی ہے۔ وہ بادلوں کے ساتھ کہیں اڑ رہا تھا۔ یہ مدہوشی کا عالم نہ جانے کتنی ساعتوں پر محیط تھا۔ پھر جیسے اسے ہوش آ گیا۔ اس نے جلدی سے بازو ہٹائے۔
”کیا ہوا جنید! کیا میں آپ کو اچھی نہیں لگتی؟“ شکنتلا کے حسین چہرے پر تفکرات کی گہری پرچھائیاں لرزنے لگیں۔ اس کا بدن کانپنے لگا۔
”نہیں میری جان! میں تو تم سے شدید محبت کرتا ہوں۔ اسی دن سے جب سے تمہیں دیکھا ہے لیکن میں تمہارے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا اور تم بھی میرے بارے میں کچھ نہیں جانتیں۔“ جنید کی آواز لڑکھڑا رہی تھی۔
”جاننے کی ضرورت بھی کیا ہے۔ پیار کیا سب کچھ جان کر کیا جاتا ہے۔ میں آپ سے کوئی سوال نہیں کروں گی اور آپ بھی مجھ سے کچھ نہیں پوچھیں گے“
”لیکن شکنتلا! کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کا جاننا ضروری ہوتا ہے“
”بس اب کوئی اور بات نہیں ہو گی۔ کم از کم آج نہیں، آج میں بہت خوش ہوں۔“ شکنتلا نے اس کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
اس شام وہ دیر سے گھر پہنچا تھا۔ نادرہ کچن میں تھی۔
”آج آپ کافی دیر سے آئے ہیں۔ خیریت ہے؟“ نادرہ نے آہٹ پا کر آواز دی۔
”ہاں آج کام کچھ زیادہ تھا۔ میں چینج کر لوں“ جنید نے جلدی سے کہا۔ وہ اس وقت نادرہ کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
رات کو نادرہ تو جلدی سو گئی تھی لیکن جنید کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ مجھے کیا ہو گیا ہے۔ میں ایسا تو نہ تھا۔ بہرحال شکنتلا کا حسین چہرہ آنکھوں میں سمایا تو نیند آ گئی۔
اب یہ معمول بن چکا تھا کہ روز دفتر سے واپسی پر شکنتلا اسے پہلے موڑ پر ملتی اور وہ پہلے پارک میں جاتے پھر ڈیڑھ دو گھنٹے بعد واپسی ہوتی۔ جنید نے نادرہ کو بتایا تھا کہ اب دفتر سے روزانہ اسی وقت آیا کرے گا، اسے بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ جنید پارک میں بنچ پر بیٹھتا تو شکنتلا اس کے پہلو میں ہوتی۔ وہ ٹہلتا تو وہ اس کا ہاتھ تھام کر ساتھ چلتی۔ وہ محبت بھری باتیں کرتے پھر اسی پارک کے ریسٹورانٹ میں کافی پیتے۔ اس کے بعد واپسی ہوتی۔
کچھ دنوں تک تو یہ سلسلہ چلتا رہا۔ پھر ایک واقعے نے جنید کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس دن بھی وہ شکنتلا کے ساتھ وقت گزار کر اپنے گھر آیا۔ تو نادرہ نے ایک سرپرائز دے دیا۔ اسے یاد بھی نہیں تھا کہ آج اس کی سالگرہ ہے۔ نادرہ نے سب اہتمام کر رکھا تھا اور کیک بھی خود بنایا تھا۔ جنید پہلے تو بہت خوش ہوا پھر گہرے رنج و ملال نے اسے گھیر لیا۔ وہ سوچنے لگا کہ میری بیوی مجھ سے کتنا پیار کرتی ہے اور میں اس کے ساتھ بے وفائی کر رہا ہوں۔
رات بھر وہ کروٹیں بدلتا رہا۔ اگلے روز جب وہ شکنتلا کو پارک لے جا رہا تھا تو بالکل خاموش تھا۔ شکنتلا نے شاید اس کی غیرمعمولی خاموشی پر غور نہیں کیا تھا ورنہ ضرور پوچھتی۔ جب وہ اپنی مخصوص بنچ پر بیٹھے تو جنید نے شکنتلا کو بڑی گہری نظروں سے دیکھا۔ ہمیشہ کی طرح وہ جدید تراش کے انتہائی خوب صورت لباس میں تھی۔ اس کا انتہائی دل کش چہرہ جنید کو وہ سب کچھ کہنے سے روک رہا تھا جسے کہے بغیر اب کوئی چارہ نہیں تھا۔
”شکنتلا! مجھے تم سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے“ بالآخر اس نے گفتگو کا آغاز کیا۔
”میں بھی آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں“ شکنتلا نے اس سے لپٹتے ہوئے کہا۔
”پہلے میری بات سن لو“ جنید سنجیدہ تھا۔
”جی نہیں، لیڈیز فرسٹ، پہلے میں بات کروں گی“ شکنتلا نے آنکھیں مٹکائیں۔
جنید آزردگی میں بھی مسکرا اٹھا۔
”اچھا بولو میری جان! کیا کہنا ہے“
”بس بہت ہو گیا یہ باہر ملنا۔ اب مجھے اپنے گھر لے جائیں۔ میں ہر پل، ہر لمحہ آپ کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں۔ میں ساری زندگی آپ کی بانہوں میں رہنا چاہتی ہوں“ وہ جنید کے سینے سے لگ گئی۔ جنید کا دل پگھلنے لگا۔ پھر جیسے کسی نے اسے جھنجھوڑا۔ اس نے بڑی نرمی سے شکنتلا کو خود سے الگ کیا۔
”کاش میں تمہیں ابھی اپنے ساتھ لے جا سکتا، کاش میں تمہیں ہمیشہ اپنے پاس رکھتا لیکن میں تم سے شادی نہیں کر سکتا۔“
اس کی بات سنتے ہی جیسے شکنتلا کو کرنٹ لگ گیا۔
”آپ ایسا نہیں کر سکتے، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ میں آپ سے کتنی محبت کرتی ہوں۔ کہہ دیں کہ آپ نے جھوٹ بولا ہے نہیں تو میں مر جاؤں گی۔“ وہ کسی زخمی پرندے کی طرح چیخی۔
جنید کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ شکنتلا کا بدن بہت بری طرح کپکپا رہا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر اسے بازوؤں میں لے لیا۔
”اگر آج کے بعد آپ نے کبھی ایسی بات کی تو وہ میری زندگی کا آخری دن ہو گا۔ سمجھ گئے آپ! میں اپنی جان لے لوں گی۔“ شکنتلا کی آواز رندھی ہوئی تھی اور آنکھوں سے آنسو آبشاروں کی طرح بہہ رہے تھے۔
جنید کچھ نہ کہہ سکا۔ گھر آیا تو اس کی ایسی حالت تھی جیسے میلوں کی دوڑ لگائی ہو۔ بدن کے ریشے ریشے میں درد تھا۔ نادرہ اس کی حالت دیکھ کر گھبرا گئی۔ ماتھے پر ہاتھ رکھا تو پیشانی جل رہی تھی۔
”آپ کو تو تیز بخار ہے“ اس نے پریشان ہو کر کہا۔
”نہیں میں ٹھیک ہوں۔ معمولی بخار ہے“ جنید نے بات بنائی۔ وہ لیٹ گیا مگر اس کی حالت بگڑتی جا رہی تھی۔ نادرہ نے بڑی منت سماجت کر کے اسے دوا دی۔ پھر پانی میں بھگو بھگو کر اس کے ماتھے پر پٹیاں رکھنے لگی تاکہ بخار کی شدت کم ہو۔ جنید کے دل و دماغ میں طوفان برپا تھا۔ اسے اپنے آپ سے نفرت محسوس ہو رہی تھی کہ اتنا پیار کرنے والی بیوی کو دھوکا دے رہا ہے۔ شکنتلا اس کے پیار میں اندھی ہو چکی ہے لیکن اسے اس مقام تک لانے میں بھی تو اسی کا قصور ہے۔ اسے شکنتلا کی طرف بڑھنا ہی نہیں چاہیے تھا یا شروع میں ہی سب کچھ بتا دینا چاہیے تھا۔
جنید نے نادرہ کی طرف دیکھا وہ اس کا سر دباتے دباتے سو گئی تھی۔ وہ سوچنے لگا کہ جب نادرہ پر میری حقیقت کھلے گی تو مجھ سے شدید نفرت کرنے لگے گی۔ شاید مجھے چھوڑ کر چلی جائے یا شاید زہر کھا لے اور شکنتلا تو پہلے ہی جان دینے کی باتیں کرتی ہے وہ تو صدمہ برداشت نہیں کر سکے گی فوراً اپنی جان لے لے گی۔ میری وجہ سے یہ سب کچھ ہوا ہے مجھے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ خود سے اتنی شدید نفرت اس نے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ ٹھیک ہے اب میری وجہ سے کسی کو تکلیف نہیں ہو گی۔ میں خود اپنے آپ کو سزا دوں گا۔
اس نے جیسے فیصلہ کر لیا اور آہستگی سے اٹھا۔ ایک بار اپنی بیوی کو دیکھا پھر فلیٹ سے باہر آ گیا۔ لفٹ سے بلڈنگ کی چھت پر پہنچ گیا۔ چھت کے کناروں پر چار فٹ کی دیوار تھی۔ وہ کنارے پر آ گیا۔ بس یہاں سے مجھے کودنا ہو گا پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اس نے گہری سانس لے کر سوچا۔
چند سیکنڈ سوچنے کے بعد اس نے سر جھٹکا اور دیوار پر چڑھنے لگا۔
”جنید“ اچانک ایک زور دار چیخ گونجی۔ وہ ہڑبڑا گیا۔ نہ جانے کیسے نادرہ کی آنکھ کھل گئی تھی اور وہ بھی چھت پر تھی۔ وہ اس کی طرف بھاگتے ہوئے آ رہی تھی۔
”نادرہ مجھے مت روکنا“ اس نے چیخ کر کہا اور تیزی سے دیوار پر چڑھنا چاہا۔ نادرہ اتنی دیر میں قریب آ چکی تھی۔ اس نے ٹانگ پکڑ کر کھینچا تو جنید اندر کی طرف گرا۔ بازو پر چوٹ لگنے سے وہ کراہ اٹھا۔ نادرہ شدت سے رو رہی تھی۔
”یہ آپ کیا کر رہے تھے۔ آپ کو میرا ذرا بھی خیال نہ آیا۔ میں آپ کے بغیر کیسے جیتی“ وہ اس سے لپٹی ہوئی تھی۔ جنید کو جیسے ہوش آ گیا۔
”نادرہ! میری جان مجھے معاف کر دو“ اس نے اٹھتے ہوئے کہا۔
نادرہ اسے واپس کمرے میں لے آئی۔ پھر شاید صبح تک جاگتی رہی۔ صبح اس نے جنید کو دفتر بھی نہ جانے دیا۔ البتہ ڈاکٹر کو بلا لیا۔ ڈاکٹر نے بخار کا جائزہ لیا بازو کی چوٹ بھی دیکھی اور بتایا کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں وہ بالکل ٹھیک ہے۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد نادرہ پوچھنے لگی کہ اس نے ایسا کرنے کی کوشش کیوں کی۔ جنید کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر جیسے کسی نتیجے پر پہنچ گیا۔
” میں سب کچھ بتاؤں گا، مجھے تھوڑا سا وقت دو۔ ابھی مجھے دفتر جانے دو“
”ہر گز نہیں۔ میں آپ کو کہیں نہیں جانے دوں گی یا میں آپ کے ساتھ چلوں گی“
جنید اسے سمجھانے لگا۔ ”میرا یقین کرو نادرہ! اب میں دوبارہ ایسا نہیں کروں گا۔ اور اگر اگر کرنا چاہوں تو تم کیسے روک پاؤ گی۔ تم ہر لمحہ ہر سیکنڈ کیسے میری نگرانی کر سکتی ہو۔ اس لیے میرا یقین کرو۔ آدھا وقت ویسے بھی گزر گیا ہے۔ مجھے جانے دو۔ واپسی پر سب کچھ بتا دوں گا۔“
بری مشکل سے نادرہ کو منا کر وہ دفتر آیا۔ آج وہ شکنتلا سے ہر حال میں ملنا چاہتا تھا۔ چھٹی کا وقت ہوا تو وہ باہر آیا۔ طے شدہ معمول کے مطابق شکنتلا اس کی گاڑی میں بیٹھ گئی۔ اس نے پارک کی بجائے گاڑی کا رخ سن رائز بلڈنگ کی طرف موڑ دیا۔ جہاں ان دونوں کے فلیٹ تھے۔ لیکن جنید آج بھی نہیں جانتا تھا کہ شکنتلا کس فلیٹ میں رہتی ہے۔
”یہ ہم کدھر جا رہے ہیں“ شکنتلا چونک اٹھی۔
”فکر نہ کرو، آج میں تمہیں اپنے گھر لے جا رہا ہوں“
”اف اتنی بڑی خوشی کی بات اور آپ کا موڈ بگڑا ہوا لگ رہا ہے، جلدی سے مجھے اپنے گھر لے جائیں۔“ شکنتلا خوش تھی۔ جنید کا دل کٹنے لگا۔ حقیقت معلوم ہونے پر اس کی حالت کیا ہوگی۔ جب وہ اپنے فلیٹ کے دروازے پر پہنچا تو بیل بجاتے ہوئے اس کا ہاتھ کپکپا رہا تھا۔
دروازہ کھلا اور نادرہ کا چہرہ دکھائی دیا۔ جنید چپ چاپ اندر داخل ہوا اس نے شکنتلا سے کہہ دیا تھا کہ مجھ سے کوئی سوال نہ کرنا آج تمہیں ایک حقیقت سے آگاہ کرنا ہے۔ اس کے پیچھے پیچھے شکنتلا بھی اندر آ چکی تھی۔ جنید کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔ نادرہ بھی پتھر کے بت کی طرح ساکت تھی۔
”نادرہ! تمہیں اندازہ تو ہو گیا ہو گا۔“ اس نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
”جنید! میں کچھ نہیں سمجھ پا رہی۔ پلیز آپ مجھے صاف صاف بتائیے“
جنید کا جیسے ضبط ٹوٹ گیا۔
”ہاں یہ میرا قصور ہے۔ مجھے سب کچھ تم کو پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا، شاید مجھے ایسا کرنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ ہاں میں نے تم سے بے وفائی کی ہے۔ میں اس لڑکی سے پیار کرتا ہوں اور یہ بھی۔“ جنید نے شکنتلا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ نادرہ بالکل خاموش تھی۔ جنید نے اس کی طرف دیکھا۔ نادرہ کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے۔ وہ بڑی عجیب نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔
:جنید آپ کو کیا ہو گیا ہے۔ آپ کیوں ایسی باتیں کر رہے ہیں ”
”بس اب میں کیا کہوں۔ میں بھی تمہارے سامنے ہوں اور یہ لڑکی بھی“ جنید نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔ اسے حیرت تھی کہ نادرہ شکنتلا پر چیخی چلائی کیوں نہیں۔ نادرہ بڑی گہری نظروں سے جنید کو دیکھا پھر بولی۔
”کون سی لڑکی جنید! آپ کس کی بات کر رہے ہیں۔“
”یہ لڑکی۔ شکنتلا اور کون“ اس نے تیز لہجے میں کہا۔ لیکن مڑ کر دیکھتے ہی وہ خود دھک سے رہ گیا۔ شکنتلا وہاں نہیں تھی۔
”شکنتلا کہاں چلی گئی، باہر نکل گئی کیا، تم نے اسے جاتے ہوئے دیکھا ہے؟“ جنید نے پریشانی کے عالم میں کہا۔
”کون شکنتلا؟ یہاں میرے اور آپ کے سوا کوئی نہیں“ نادرہ نے الجھ کر کہا۔
”مم میں دیکھتا ہوں۔ کہیں وہ کچھ کر نہ لے، وہ اسی بلڈنگ میں رہتی ہے۔“
”آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ آپ اکیلے ہی آئے تھے۔ آپ کے ساتھ کوئی لڑکی نہیں تھی۔“
”وہ میرے ساتھ ہی تھی“ جنید پریشانی کے عالم میں باہر کی طرف دوڑ پڑا۔ نادرہ بھی اس کے پیچھے لپکی۔ ایک گھنٹہ وہ شکنتلا کو ڈھونڈتا رہا لیکن وہ بلڈنگ میں کہیں نہ ملی۔ نادرہ نے ڈاکٹر کو فون کر دیا تھا۔ اس نے ڈاکٹر کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے جنید سے کئی سوالات کیے۔
”ڈاکٹر صاحب میں پاگل نہیں ہوں۔ میں ثبوت دے سکتا ہوں کہ شکنتلا ہے اور کئی لوگوں نے اسے میرے ساتھ دیکھا بھی ہے۔“ جنید نے غم و غصے سے کہا۔
”چلیے ثابت کیجیے“ ڈاکٹر نے کہا۔ جنید نے ڈاکٹر اور نادرہ کو اپنی گاڑی میں بٹھایا اور پارک لے گیا۔ وہاں وہ ریسٹورانٹ تھا جہاں سے وہ روز کافی پیتے تھے۔
”گل خان! ادھر آؤ“ جنید نے آواز لگائی۔ فوراً ایک سترہ اٹھارہ سال کا لڑکا دوڑ کر آیا۔
”تم گل خان ہی ہو ناں“
”جی صاحب“
”دیکھا یہ مجھے جانتا ہے۔ یہ سب کچھ بتائیے گا“ جنید نے فخریہ لہجے میں کہا۔ نادرہ حیران تھی، ڈاکٹر نے سر ہلایا۔
”اچھا گل خان! یہ بتاؤ کہ کیا میں ہر روز یہاں آ کر کافی پیتا ہوں“
”جی بالکل آپ روز ادھر آتا ہے اور کافی پیتا ہے“
ایک بار پھر جنید نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔
”اب اس لڑکی کے بارے میں ان کو بتاؤ جو میرے ساتھ ہوتی ہے۔“
”لڑکی! کون سا لڑکی صاحب! آپ تو اکیلا ہی آتا ہے۔“
”جھوٹ بولتے ہو۔ سچ سچ بتاؤ ورنہ زبان کھینچ لوں گا۔ ’جنید کو غصہ آ گیا۔
”ہم کو معاف کر دو صاحب! آپ روزانہ دو کپ کافی منگاتا تھا لیکن پیتا ایک ہی تھا اور خود سے باتیں بھی کرتا رہتا تھا۔ ہم نے سوچا ہمارا کیا نقصان ہے، مستقل گاہک ہے۔“ گل خان نے منمنا کر کہا۔
”پھر جھوٹ۔ ابھی سبق سکھاتا ہوں۔“ جنید نے اسے پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ بھاگ اٹھا۔ اچانک ایک شخص سامنے آ گیا۔
”جناب میں اس ریسٹورانٹ کا مالک ہوں۔ لڑکا ٹھیک کہہ رہا ہے۔ آپ اکیلے ہی آتے تھے۔ شاید آپ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے۔“ جنید کا سر گھومنے لگا۔ اسے یوں لگا جیسے ابھی گر جائے گا۔ ڈاکٹر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا۔
”آئیں گھر چلیں۔ اب شکنتلا آپ کو کبھی نہیں ملے گی“


