بالی وڈ میں بڑا اداکار کون۔۔۔ دلیپ، راج یا امیتابھ؟

مرزا اے بی بیگ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

 دلیپ کمار کو انڈین سینما میں اداکاری کا آفتاب کہا جائے جس کے گرد فلم سٹارز کا نظام شمسی چکر کاٹتا ہے، تو بے جا نہ ہو گا۔ اس بات کا اعتراف ان کے زمانے کے سب سے بڑے حریف اور مداح راج کپور نے تو بہت پہلے کر لیا تھا اور پھر ’سٹار آف دی ملینیم‘ یعنی صدی کے عظیم ترین اداکار کا خطاب پانے والے امیتابھ بچن تو دلیپ کمار کی اداکاری کے شروع سے ہی مداح و مرید رہے ہیں۔

بالی وڈ میں مقابلہ عام بات ہے چاہے وہ گائیکی کے شعبے میں ہو یا اداکاری کے۔ ایک زمانہ رہا کہ کوئی محمد رفیع کو سب سے بڑا مانتا رہا تو کوئی کشور کمار کو، کوئی مکیش کو تو کوئی طلعت محمود۔ اسی طرح لتا منگیشکر اور آشا بھونسلے کے درمیان بھی سخت مقابلہ رہا۔

اداکاروں اور اداکاراؤں میں یہ مقابلہ آج تک جاری ہے لیکن جو مقابلہ دلیپ کمار، راج کپور اور دیو آنند کے درمیان رہا وہ کسی دوسرے کے درمیان نہیں دیکھا گیا۔

اگرچہ اس زمانے کے سب سے کامیاب اداکار راجیندر کمار تھے جنھیں ’جوبلی کمار‘ بھی کہا جاتا تھا (کیونکہ ان کی فلمیں سلور جوبلی اور گولڈن جوبلی مناتی تھیں) لیکن وہ اس مقابلے سے باہر تھے اور یہی حال ادکار راج کمار کا بھی تھا لیکن ان کے اپنے مداح بھی کم نہ تھے جو انھیں کسی سے کم شمار کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔

یہ بات سب کو معلوم ہے کہ راج کپور اور دلیپ کمار پہلی اور آخری مرتبہ سنہ 1959 میں محبوب خان کی فلم ’انداز‘ میں سامنے آئے اور اس فلم نے اپنے زمانے کے دو ابھرتے ہوئے ستاروں کو ایک دوسرے کے مخالف کھڑا کر دیا۔

اس فلم سے متعلق بہت سے فسانے بنائے گئے جن میں سے ایک یہ ہے کہ راج کپور نے دلیپ کمار سے کہا کہ ان کی کامیابی کی بنیاد محمد رفیع کے نغمے اور ہیرو والے کردار ہیں ’ورنہ بڑا اداکار تو میں ہوں۔‘

دلیپ کمار نے ان کا یہ چیلنج قبول کیا اور اس فلم میں انھوں نے اینٹی ہیرو کا کردار ادا کیا اور ان کے لیے مکیش کی آواز میں گیت فلمائے گئے جبکہ راج کپور کو ہیرو کا کردار دیا گیا اور محمد رفیع کی آواز میں ان پر گیت فلمائے گئے۔

ورنہ یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ مکیش بطور خاص راج کپور کی پسند تھے اور محمد رفیع کی آواز دلیپ کمار پر جچتی تھی۔

اداکارہ نرگس کی فلم میں راج کپور سے محبت کے باوجود فلم ’انداز‘ دلیپ کمار کے حصے میں چلی گئی اور لوگوں نے اسے راج کپور کے بجائے دلیپ کمار کی فلم قرار دیا۔

سنہ 1964 میں آنے والی فلم ’سنگم‘ نے کئی ایوارڈ حاصل کیے جس میں راج کپور کو بہترین ہدایتکار کا ایوارڈ بھی ملا۔ اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ راج کپور نے سب سے پہلے دلیپ کمار کو وہ کردار پیش کیا تھا جسے بعد میں راجیندر کمار نے ادا کیا۔

یہ فلم بھی محبت کا ایک مثلث بناتی ہے۔ دلیپ کمار نے کہا کہ راج کپور اگر انھیں اس فلم کی فائنل ایڈیٹنگ کا حق دیتے ہیں تو وہ اس فلم کے لیے تیار ہیں لیکن راج کپور تیار نہیں ہوئے۔

پھر انھوں نے اس کردار کے لیے دیو آنند سے رجوع کیا جنھوں نے اپنی مصروفیت کی بنا پر اس سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ پھر راج کپور نے اتم کمار سے رجوع کیا اور انھوں نے بھی انکار کر دیا۔ بالآخر وہ کردار راجیندر کمار کی جھولی میں آ گرا۔

در اصل راج کپور نے اس کہانی پر بہت پہلے ’گھروندا‘ نام سے فلم بنانے کا ارادہ کیا ہوا تھا جس میں وہ، دلیپ کمار اور نرگس ہوں گے لیکن جب ’سنگم‘ کے نام سے یہ فلم بنی تو اس میں نرگس بھی نہیں تھیں۔

کیونکہ اس وقت تک راج کپور سے ان کا تعلق ختم ہو گیا تھا اور ان کی فلم ’مدر انڈیا‘ ریلیز ہو چکی تھی جس میں انھوں نے راجیندر کمار کی ماں کا کردار ادا کیا تھا اس لیے اس فلم میں وہ ان کی محبوبہ کا کردار کرنے کے لیے راضی نہ ہوئيں۔

بہرحال دلیپ کمار کے پرستاروں کا کہنا ہے کہ دلیپ کمار نے اس فلم کے لیے دو شرائط رکھی تھیں۔ ایک یہ کہ جو کردار راج کپور ادا کر رہے ہیں اگر وہ انھیں دیا جاتا ہے اور اگر وہ تیار نہیں ہیں تو راج کپور کے علاوہ اگر کوئی دوسرا ہدایتکار اس کی ہدایتکاری کرتا ہے تو وہ گوپال (راجیندر کمار) کے رول کے لیے تیار ہیں۔

بہت سے لوگوں کو معلوم ہے کہ دیو آنند اور دلیپ کمار نے ایک فلم ’انسانیت‘ میں ساتھ کام کیا جو سنہ 1955 میں ریلیز ہوئی اور ایک بار پھر فلم کا کریڈٹ دلیپ کمار کو گیا۔

فلم سنگم کے لیے راج کپور کی کوشش سے پتا چلتا ہے کہ وہ دلیپ کمار کے بعد جس کو بڑا اداکار مانتے تھے وہ دیو آنند تھے اور یہی وجہ ہے کہ دلیپ کمار کے انکار کے بعد انھوں نے دیو آنند سے رجوع کیا تھا۔ یہ سب ایک دوسرے کے دوست تھے اور ایک دوسرے کو ’لالے کی جان‘ کہتے تھے۔

دلیپ کمار کی سوانح ’دی سبسٹینس اینڈ دی شیڈو‘ میں اداکارہ شرمیلا ٹیگور لکھتی ہیں کہ دلیپ کمار نے اپنے کریئر کے شروع میں ہی ایک وقت میں ایک فلم کا اصول اپنا لیا تھا لیکن ’ان کے زیادہ تر ہم عصر بیک وقت کئی فلموں میں کام کر رہے تھے۔‘

چونکہ دلیپ کمار، راج کپور اور دیو آنند کی طرح ڈائریکٹر پروڈیوسر نہیں تھے تو بہت سے لوگوں کو ان کی حکمت عملی احمقانہ نظر آتی ہو گی لیکن یہ یوسف صاحب کے اپنے اوپر اعتماد کے بارے میں بہت کچھ کہتی ہے۔ وہ پہلے اور سب سے آگے ایک اداکار تھے نہ کہ بزنس مین۔

دلیپ کمار، راج کپور اور دیوآنند کو بالی وڈ یا ہندی سینما کا گولڈن ٹرایو یا ’تریدیو‘ کہا جاتا ہے۔ ان کی اداکاری کا جتنا موازنہ کیا گیا ہے شاید اتنا موازنہ کسی کا نہیں کیا گیا۔

یہ تو سب کو معلوم ہے کہ دلیپ کمار کو سب سے پہلے ’میتھڈ ایکٹر‘ کا خطاب معروف فلمساز اور ہدایت ار ستیہ جیت رے نے دیا تھا۔

بچپن میں ہم دلیپ کمار کے مداحوں سے سنتے آ رہے تھے کہ ایک بار تینوں کے درمیان یہ مقابلہ ہوا کہ کون بڑا اداکار ہے۔ چنانچہ فلم ساز، اداکار اور ہدایتکار گرو دت نے تینوں کو مدعو کیا اور کہا کہ آپ کو ایک سیچوئیشن دی جائے گی اور آپ کو اداکاری کرنا ہے۔

چنانچہ اسی زمانے کے معروف کامیڈین جانی واکر سے کہا گیا کہ وہ باری باری تینوں کے پاس جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ ان کی ماں وفات پا گئی ہیں اور یہ نوٹس کیا جائے گا کہ کس کا رد عمل کیسا ہوتا ہے۔

چنانچہ جانی واکر دیوآنند کے پاس جا کر یہ جاں سوز خبر دیتے ہیں کہ ان کی ماں نہیں رہیں تو دیو آنند تڑپ اٹھے اور ’ماں، میری پیاری ماں‘ کی رٹ لگانے لگے۔

یہی بات جب راچ کپور سے کہی گئی تو وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور ماں کو یاد کر کے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔

پھر جانی واکر نے یہ خبر دلیپ کمار کو دی جو کہ چند دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف سگریٹ پی رہے تھے۔ انھوں نے بظاہر کوئی ردعمل نہیں ظاہر کیا بلکہ بت بن گئے یہاں تک کہ سگریٹ ان کی انگلی کو جلانے لگی تو دوڑ کر راج کپور نے سگریٹ پھینکتے ہوئے کہا ’بس بس بہت ہو گیا۔‘

اردو کے معروف شاعر احمد فراز کے لفظوں میں ’کہانیاں ہی سہی سب مبالغے ہی سہی‘ لیکن دلیپ کمار کی اداکاری کے متعلق ان کے پرستاروں کی باریک نگاہی یہ بتاتی ہے کہ اپنے زمانے کے تمام ہر دلعزیز اداکاروں پر وہ کس قدر گہری نظر رکھتے تھے۔

دلیپ کمار اور راج کمار سب سے پہلے سنہ 1959 میں ریلیز ہونے والی فلم ’پیغام‘ میں ایک ساتھ آئے۔ اس میں راج کمار نے رتن یعنی دلیپ کمار کے بڑے بھائی رام لال کا کردار ادا کیا ہے لیکن یہ فلم بہت حد تک دلیپ کمار کے گرد گھومتی رہتی ہے۔

اگرچہ اس فلم میں اداکاری کے لیے بہترین معاون اداکار کے طور پر راج کمار کی نامزدگی سامنے آئی لیکن اس فلم کو بہترین ڈائیلاگ کا ایوارڈ ملا کیونکہ دونوں اداکار مکالمے کے اپنے مختلف انداز کے ماہر مانے جاتے رہے ہیں اور دونوں سلیس اردو بولنے میں یکتائے روزگار تھے۔

اس فلم کے بعد دونوں کی راہیں جدا ہو گئیں لیکن ایک زمانے یعنی 32 سال بعد پھر دونوں آمنے سامنے تھے اور اس کا سہرا فلمساز سبھاش گھئی کے سر جاتا ہے۔

اس فلم ’سوداگر‘ میں دلیپ کمار اور راج کمار بچپن کے دوست ہوتے ہیں لیکن دلیپ کمار دیہی زبان (ہریانوی) بولتے ہیں جبکہ راج کمار خالص اردو بولتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ راج کمار ہر طرح کی زبان بولنے پر قدرت نہیں رکھتے تھے جبکہ دلیپ کمار اس کے لیے معروف رہے ہیں۔

اپنے زمانے کے سپرسٹار امیتابھ بچن کا تو کہنا ہے کہ انھوں نے دلیپ کمار کی فلم ’گنگا جمنا‘ کئی بار صرف اس لیے دیکھی کہ پشاور کا کوئی شخص پوربی زبان کو اتنی مہارت سے کیسے بول سکتا ہے۔

دلیپ کمار نے اپنے ہم عصروں پر تو سبقت ثابت کر دی تھی لیکن پھر ان کا مقابلہ ایک ابھرتے ہوئے ستارے اور تازہ سپر سٹار امیتابھ بچن سے کیا جانے لگا۔ ایسا لگا کہ یہ مقابلہ دو نسلوں کے درمیان ہے۔

ایک نسل جو کہ ’اداس‘ تھی جس کا اظہار دلیپ کمار کی فلم ’داغ‘ اور ’دیوداس‘ میں ہوتا ہے جبکہ دوسری نسل ’ناراض‘ تھی جس کا اظہار امیتابھ بچن کے ’اینگری ینگ مین‘ والی فلموں میں ہوتا ہے۔

سنہ 1982 میں فلمساز اور ہدایتکار رمیش سپی نے فلم ’شکتی‘ میں اپنے اپنے زمانے کے دو ہر دلعزیز اداکاروں کو ایک ساتھ لانے کا کارنامہ انجام دیا اور دونوں کے پرستاروں نے اپنے اپنے انداز میں فلم کی کامیابی کا سہرا اپنے اپنے سٹار کے سر کر دیا لیکن فلم فیئر ایوارڈ نے اس فلم میں اداکاری کے لیے بہترین اداکار کا ایوارڈ دلیپ کمار کو دے کر اس بحث کو ختم کر دیا۔

لیکن امیتابھ کے پرستار یہ الزام لگانے میں پیچھے نہیں رہے کہ امیتابھ کے بہت سے ایسے مناظر کو دلیپ کمار نے فلم سے نکلوا دیا جس میں وہ ان پر سبقت رکھتے تھے جبکہ دلیپ کمار کے پرستاروں نے کہا کہ امیتابھ تو خود دلیپ کمار کی کاپی ہیں اور جب ان کے سامنے ہی ان کے انداز میں اداکاری کرنے کی کوشش کر رہے تھے تو ایک ہی سین کو بار بار ری ٹیک کیے جا رہے تھے۔

ایک بار امیتابھ نے بطور خاص اس منظر کے بارے میں، جس میں وہ فلم میں اپنے والد اشونی کمار کی گود میں دم توڑتے ہیں، کہا تھا کہ اس سین سے پہلے وہ بہت نروس تھے۔

اگرچہ اس فلم میں بیسٹ ایکٹر کا ایوارڈ دلیپ کمار کے حصے میں آیا لیکن ہدایتکار رمیش سپی نے کہا کہ جس طرح ایک ناراض بیٹے کا کردار امیتابھ نے ادا کیا کوئی دوسرا ایکٹر اس سے بہتر اداکاری نہیں کر سکتا تھا۔

بہرحال یہ واقعہ تو بہت مشہور ہے کہ اس فلم کو دیکھنے کے بعد دلیپ کمار کے دوست اور حریف راج کپور نے بنگلور سے فون کیا اور دلیپ کمار سے کہا: ’لاڈے آج فیصلہ ہو گیا کہ تم آج تک کے سب سے عظیم فنکار ہو۔‘

فلم ’پریم روگ‘ کے دوران راج کپور نے رشی کپور کو ڈانٹتے ہوئے کہا تھا کہ ’مجھے یوسف چاہیے۔‘

ایک منظر میں وہ شدت جذبات کا اظہار چاہتے تھے اور اس لیے انھیں یوسف کی تلاش تھی۔ شاید اسی وجہ سے دلیپ کمار کو بہت سے لوگ ’شہنشاہ جذبات‘ بھی کہتے ہیں۔

بہت سے لوگ دلیپ کمار اور سنجیو کمار کا بھی موازنہ کرتے ہیں۔ یہ دونوں فلم ’سنگھرش‘ میں ساتھ آئے تھے اور اس فلم کے لیے دلیپ کمار کو بہترین اداکار نامزد کیا گیا تھا۔

پھر فلم ’ودھاتا‘ میں بھی دونوں ایک ساتھ آئے لیکن اداکاروں کی ایک طویل فہرست میں دلیپ کمار کا کردار سب سے زیادہ تھا جبکہ سنجیو کمار کو معمولی کردار دیا گیا تھا۔

ایک پرستار کا کہنا ہے کہ سنجیو کمار کا اتنا چھوٹا کردار قبول کرنا ہی بتاتا ہے کہ وہ دلیپ کمار کو کتنی اہمیت دیتے تھے۔

دلیپ کمار اپنی اداکاری کو اتنی سنجیدگی سے لیتے تھے کہ وہ ہر کردار میں ڈوب جانے کی کوشش کرتے چنانچہ فلم ’کوہ نور’‘میں ستار بجانے کے ایک منظر کے لیے انھوں نے باقاعدہ ستار کی تربیت لی جبکہ فلم ’نیا دور‘ میں تانگہ چلانے کے لیے تانگے والوں کے ساتھ وقت گزارا۔

ان کی فلم ’مشعل‘ کے بارے میں یہ بات کہی جاتی رہی کہ ایک ہی منظر کو دو بار فلمایا گیا حالانکہ ایک ہی سین کو فلیش بیک میں دکھایا جا سکتا تھا۔ یہ منظر فلم میں ان کی اہلیہ وحیدہ رحمان کو ہسپتال لے جانے کے لیے گاڑی رکوانے اور لوگوں سے مدد کی بھیک مانگنے پر مبنی ہے۔

دلیپ کمار کے مداح کا کہنا ہے کہ راج کپور یہ بات ماننے کے لیے راضی نہیں تھے کہ کوئی اتنی حقیقی ایکٹنگ کیسے کر سکتا ہے ضرور اس میں کسی تکنیک کا استعمال کیا گیا ہے تو پھر دلیپ کمار نے سکرپٹ میں تبدلی کروائی اور اس منظر کو پھر سے پیش کرنے کا جواز پیدا کیا۔ حالانکہ فلم دیکھ کر یہ بات پرستاروں کی اختراع ہی معلوم ہوتی ہے۔

فلم ’دل دیا درد لیا‘ سنہ 1966 میں آئی۔ اس میں دلیپ کمار اور وحیدہ رحمان پہلی بار ساتھ آئے تھے۔ میں نے سنہ 80 کی دہائی کے آخر میں کسی فلم ميگزین میں پڑھا تھا کہ اس فلم کا اختتام بھی دلیپ کی موت پر ہوا تھا۔

فلم میں پران کے ہاتھوں دلیپ کمار کی درگت تو سب کو یاد ہے اور شنکر یعنی دلیپ کمار سب ظلم اپنی محبت (روپا) کے لیے سہتے ہیں لیکن پھر فلم بنانے والوں کو خیال آیا کہ دلیپ کمار کے دیوداس کے غم سے ان کے مداح ابھی باہر نہیں آئے ہیں اس لیے اس کا اختتام تبدیل کرنا ہو گا نہیں تو وہ برداشت نہیں کر پائیں گے۔

چنانچہ فلم کا اختتام دلیپ کمار اور وحیدہ رحمان کے ملن پر ہوتا ہے۔ حال ہی میں وحیدہ رحمان نے ’قومی آواز‘ سے بات کرتے ہوئے اس فلم کو یاد کیا۔

دلیپ کمار کی اداکاری کے ایک بڑے مداح منوج کمار بھی رہے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دلیپ کمار کے انداز کی سب سے زیادہ نقل کرتے رہے ہیں۔ دونوں فلم ’آدمی‘ میں ساتھ آئے تھے جس میں دلیپ کمار نے ایک بار پھر اینٹی ہیرو کا کردار ادا کیا تھا لیکن اس بار وہ اداکارہ کا دل جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

بہرحال دلیپ کمار کی دوسری اننگ کا سہرا منوج کمار کے سر جاتا ہے جنھوں نے فلم ’کرانتی‘ سے دلیپ کمار کی واپسی کرائی تھی۔

ملٹی سٹار اس فلم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک منظر کے لیے سیٹ تیار تھا لیکن دلیپ کمار اپنے سانگا والے کردار میں داخل نہیں ہو پا رہے تھے اور جب انھیں محسوس ہوا کہ وہ سانگا ہیں تو فوراً ہی سیٹ پر آئے اور شوٹنگ شروع ہوئی جس کے لیے سب تیار نہیں تھے۔

اسی طرح فلم ’سگینہ‘ میں ایک منظر کے لیے دلیپ کمار بتاتے ہیں کہ وہ کیفیت پیدا کرنے کے لیے انھوں نے ایک گھنٹے کی دوڑ لگائی تھی اور پھر پسینے سے شرابور ہو کر اس منظر کو فلم بند کیا گیا۔

اپنی اداکاری میں حقیت کو اتارنے کے لیے دلیپ کمار کے بے شمار قصے مشہور ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ایک افواہ زمانے تک گردش کرتی رہی کہ دلیپ کمار کی ایک فلم ’کفن‘ یا ’کفن دفن‘ تیار ہے جو ان کی موت کی اصل شوٹنگ کے بعد ریلیز کی جائے گی۔

دلیپ کمار کی تدفین ہو گئی اور ایسا کچھ نہیں ہوا لیکن ان کے چاہنے والوں کو اس افواہ پر بہت حد تک یقین تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words