ہم فیمینیسٹ عورتیں



عورتوں کے ساتھ مسلسل ہونے والی زیادتیوں میں اتنی بے شمار چیزیں آ جاتی ہیں کہ سمجھ نہیں آتا پہلے کس پہ آواز اٹھائیں۔ ہراسمنٹ پہ بات کر رہے ہوتے ہیں تو اچانک سے ریپ کیس سامنے آ جاتے ہیں۔ ریپ پہ بات کر رہے ہوں تو گینگ ریپ سننے میں آ جاتا ہے۔ اس کے بعد قتل چاہے وہ ریپ کے بعد قتل ہو یا پھر غیرت پہ ہو، پسند کی شادی جرم ٹھہرے یا پھر گول روٹی نہ بنا پانا ہو۔ عورت کا جرم بس عورت ہونا ہے اور کچھ نہیں۔ سمجھ تو یہی آتا ہے بس۔

پچھلے ایک ہفتے کے دوران مسلسل عورتوں کے ساتھ ہونے والے جن واقعات نے دماغ کو نچوڑ کے رکھ دیا ہے۔ اس میں سرفہرست نور مقدم قتل ہے۔ مجھ سے بات کرنے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی کجا کہ اس پہ لکھا جا سکے۔ ایسا لگتا ہے کہ لفظ معنی کھو بیٹھے ہیں۔

نور مقدم قتل میں سوشل سٹیٹس سیم ہے۔ امیر غریب کا چکر نہیں ہے۔ ماڈرن لڑکا لڑکی ہیں جو اعلی تعلیم یافتہ بھی ہیں۔ اس قتل میں بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو آپ کے ذہن کو ڈسٹرب کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ لڑکا لڑکی لیونگ ریلیشن شپ میں ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق لڑکی ریلیشن شپ ختم کرنا چاہتی تھی۔ یا شادی سے انکار کر دیا تھا۔ بحث یہاں سے ہی شروع کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا پہ نور مقدم کیس کو لے کر جہاں لوگوں میں خوف اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے وہاں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے۔ جو ہمیشہ کی طرح وکٹم بلیمنگ کرنا اپنی ڈیوٹی سمجھتے ہیں۔ باتیں سنئیے۔

”بنا نکاح کے لڑکی لڑکے کے گھر کیوں گئی۔ وہ زانیہ تھی اور ایک زانی نے اس کو قتل کر کے سزا دے دی۔ اب زانی کو بھی سزا مل جائے گی۔ مرنے والی میرا جسم میری مرضی کو پروموٹ کرتی تھی اب دیکھا پھر کیسے جسم پہ کسی اور کی مرضی چلی۔ عورت مارچ کو سپورٹ کرنے والی کے ساتھ یہی ہونا بنتا تھا۔ اس قتل کی ذمے دار عورت مارچ کرنے والیاں ہیں۔ اب لگائیں نعرے میرا جسم میری مرضی۔ ان سب کے علاوہ بھی بے شمار ایسی باتیں ہیں جو لکھنا میرے بس کی بات نہیں۔“

اب ہم پہلے بات کرتے ہیں کہ مجرم ظاہر کو جب یہ پتہ چلتا ہے کہ مقتولہ اس سے تعلق ختم کر رہی ہے تو اس کی انا کو ایک گہری ضرب پہنچی۔ مردانہ انا کے ساتھ ساتھ اس میں پیسے کی اکڑ بھی شامل تھی۔ ایک لڑکی پہ عام طور پہ یہ الزام لگتا ہے کہ وہ بھری جیب کے مرد سے تعلق بناتی ہے اور پیسے کے لیے ہی توڑتی ہے۔ نور خود بھی ویل آف خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ اس لیے پیسے کی کمی یا زیادتی اس کا ایشو نہیں ہو سکتا۔

ظاہر جیسے مرد کے لیے یہ بات ناقابل برداشت ہے کہ اس جیسے سوشل سٹیٹس رکھنے والے مرد کو کوئی لڑکی انکار کرے۔ آپ قتل کے طریقہ کار اور اس کی پوری نفسیات پہ غور کریں۔ یہ عام قتل نہیں ہے۔ اس قتل میں مقتولہ کے جسم کو جیسے کاٹا گیا اور آخر میں سر الگ کر دیا گیا۔ یہ عموماً تب ہوتا ہے جب کسی بھی طرح آپ کے اندر غصے کی آگ ٹھنڈی نہ ہو رہی ہو۔ اور آپ اگلے کو سبق سکھانے پہ تلے بیٹھے ہوں۔ سر تن سے جدا ایکسٹریم لیول کی نفرت و غصے کا اظہار ہے۔

وہ وہاں کیوں گئی۔ اس نے دو تین سال تعلق کیوں چلایا۔ نکاح کے بغیر ساتھ کیوں رہتے تھے۔ والدین کو مذہبی اجتماع میں جانے کا کیوں کہا۔

ہم ایک لمحے کے لیے ان سب باتوں کو سائیڈ پہ رکھ کے صرف اس بات کو سوچیں کہ مرنے سے پہلے اس لڑکی نے کتنی تکلیف اور اذیت سہی ہو گی تو روح کانپ کے رہ جاتی ہے۔ آپ لاکھ غلطیاں نکال لیں لیکن ایک قتل کو جسٹیفائی نہیں کر سکتے۔ آپ کو جرم کو جرم کہنا پڑے گا۔

ہمارا معاشرہ اخلاقی پستی کے لحاظ سے کہاں کھڑا ہے اس کی ایک تازہ مثال سنئیے۔ میں دو دن پہلے رات کو اپنے شریک حیات کے ساتھ بائیک پہ ایک دوست کے گھر جا رہی تھی۔ پیچھے سے آنے والی بائیک پہ دو لڑکوں نے پانی کی پوری بھری بوتل میرے اوپر پھینک دی۔ اور قہقہے لگاتے ہوئے تیزی سے بائیک بھگا لے گئے۔ میں اس وقت دماغی طور پہ حاضر ہی نہیں تھی۔ لٹرلی اس وقت میں نور مقدم کی اذیت کے متعلق سوچ رہی تھی جب مجھ پہ پانی گرا میں شاکڈ ہو گئی۔

میرے ہسبینڈ کو جب تک سمجھ لگی تب تک وہ بھاگ چکے تھے۔ اب آپ سوچیں کپڑے بھی میرے پورے تھے۔ محرم بھی میرے ساتھ تھا۔ مگر پھر بھی میں محفوظ نہیں تو ہم اپنے بچوں کو اس معاشرے میں کیسے آزادی سے باہر نکال دیں۔ میرا ذہن اسی شاک میں رہا کہ ایسے ہی آسانی سے آپ کسی پہ بھی تیزاب پھینک سکتے ہیں۔ گولی مار سکتے ہیں۔ ریپ کر سکتے ہیں۔ اور گلا کاٹ سکتے ہیں۔ یہ پانی پھینکنے جتنا ہی آسان ہے کیونکہ آپ کو پانی پھینکنے کے لیے بھی ہمت و جرات چاہیے۔

ہم سال میں ایک دن اپنے حقوق کے لیے گھروں سے باہر نکلتی ہیں تو آپ سے وہ برداشت نہیں ہو پاتا۔ آپ پورا سال ہمیں ریپ کرنے کو تیار ہوتے ہیں، قتل کرتے ہیں، ہراس کرتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں۔ پھر بھی آپ خوش نہیں ہوتے۔ آپ چاہتے ہیں کہ ہم روبوٹ بن جائیں جو کام تو سارے کرے مگر سوال نہ کرے۔

آپ مردوں کو آج تک یہ سمجھ نہیں آ سکی کہ ہمیں مردوں سے گلہ نہیں ہے۔ ہم تو ان رویوں کی بات کرتے ہیں جو ایک مرد ایک عورت سے روا رکھتا ہے۔ ہم جنس کی بنیاد پہ اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پہ بات کرتے ہیں۔ آپ ہمیں انسان سمجھ لیں خدا کی قسم ہم اپنی گاڑی کے ٹائر بھی خود بدل لیں گے اور کما بھی خود لیں گے۔ ہمیں کمانے سے مسئلہ نہیں آپ کو ہمارے انڈیپینڈنٹ ہونے سے مسئلہ ہے۔ کیونکہ ایسے آپ کی پدرسری سوچ کو چوٹ پہنچتی ہے۔

آپ ایک دیوتا کے سنگھاسن پہ بیٹھنا چاہتے ہیں۔ تا کہ داسیاں آپ کے سامنے روٹی کپڑا اور چھت ملنے کی خوشی میں ناچتی رہیں۔

ہم مردوں کو گالیاں نہیں دیتے ہم اس رویے کو گالی دیتے ہیں جو ایک گھٹیا مرد اپنی بیوی بیٹی بہن ماں یا گرل فرینڈ کے ساتھ کرتا ہے۔ نامرد وہ نہیں جس کی جنسی طاقت کم ہو نامرد وہ ہے جو عورت کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے۔

وکٹم بلیمنگ کے رویے کو پروموٹ کرنا چھوڑ دیں۔ جرم کو جرم کہنا سیکھیں۔ اگر شادی ہی عورت کی زندگی کی ضمانت ہوتی تو قرۃ العین قتل نہ ہوتی۔

ابھی تو آپ سے عورت مارچ کا ایک دن برداشت نہیں ہوتا۔ میں سوچتی ہوں اگر عورتوں نے یہی سلوک آپ کے ساتھ کرنا شروع کر دیا تو آپ کا کیا بنے گا۔ ذرا سوچئیے آپ بس میں، سڑک پہ، بازاروں میں ہراس ہونے لگیں۔ آپ گھر اور گھر سے باہر اس خوف کے ساتھ جئیں کہ آپ کو کسی بھی وقت ریپ کیا جا سکتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ آپ شادی شدہ ہیں یا غیر شادی شدہ بچوں والے ہیں یا بنا بچے۔ آپ تین سال کے ہیں یا قبر میں پڑے مردے آپ محفوظ نہیں۔ آپ جینز پہنیں یا برقع آپ کی عزت کی حفاظت کی کوئی گارنٹی نہیں۔ تھوڑا سا سوچنا تو شروع کریں ذرا۔

آخر میں وزیر اعظم سے ایک سوال ہے مرد روبوٹ نہیں، عورت لباس کا خیال رکھے، کل پانچ بندوں نے ایک بکری کو ریپ کیا جس سے وہ مر گئی۔ بکری کے لیے کیا حکم ہے؟

Facebook Comments HS