تحریک انصاف کے موثر ہتھیار۔ سوشل میڈیا اور ڈیٹا
اخبار کے لئے لکھا کالم تحقیقی مضمون نہیں ہوتا۔ برجستہ لکھا جاتا ہے۔ تاریخی حوالے دیتے ہوئے اس کے باوجود محتاط رہنا لازمی ہے۔ اس تناظر میں مجھ سے بھی ایک فاش غلطی سرزد ہو گئی۔ روانی میں دعویٰ کر دیا کہ آزادکشمیر نواز شریف کے نام سے منسوب ہوئی مسلم لیگ نے وہاں 2016 کا انتخاب لڑنے کے لئے اپنی الگ شناخت کو اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جبکہ یہ واقعہ 2011 میں ہوا تھا۔ ان دوستوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے اس غلطی کی نشان دہی کی۔
آزادکشمیر کے انتخاب کی بابت لکھے کالموں میں بارہا اعتراف کرتا رہا ہوں کہ مجھے وہاں کے زمینی حقائق سے کماحقہ آگاہی میسر نہیں۔ گوشہ نشین ہوئے رپورٹر کو اسلام آباد کے با اثر حلقوں سے جو اشارے ملتے رہے ان کی بنیاد پر اندازے لگاتا رہا۔ مذکورہ تناظر میں یہ بھی لکھ دیا تھا کہ محترمہ مریم نواز صاحبہ کے پرہجوم اور پرجوش جلسوں کے باوجود ان کی جماعت کو ”5 سے 6 نشستوں“ تک محدود رکھنے کی بات چل رہی ہے۔ پیپلز پارٹی اس کے برعکس دوسرے نمبر پر آتی بتائی جا رہی ہے۔ انتخابی نتائج نے مجھ تک پہنچی اطلاعات کو درست ثابت کیا۔
ہمارے ہاں مابعد انتخاب تجزیے کی روایت قائم نہیں ہوئی ہے۔ ہارنے والے محض ”دھاندلی“ کی دہائی مچاتے رہتے ہیں۔ اس دہائی پر اکتفا ہمیں برسرزمین موجود حقائق سے غافل رکھتا ہے۔ ہماری ریاست کے یقیناً چند دائمی ادارے ہیں۔ وہ جائز و ناجائز وجوہات کی بنا پر سیاسی منظر نامے پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ دنیا بھر کی ریاستوں میں ایسی نگرانی ہوتی ہے۔ اصل گڑبڑ مگر اس وقت شروع ہوتی ہے جب سیاسی منظر نامے پر محض نگاہ رکھنے کے بجائے اسے اپنی ترجیح کے مطابق تشکیل دینے کی کوشش طاقت ور حلقوں کے ذہنوں پر حاوی ہو جائے۔
پاکستان میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر عام انتخاب پہلی بار 1970 میں ہوئے تھے۔ اس کے نتائج کی بابت ہمارے ریاستی اداروں نے جو اندازے لگائے تھے پریشان کن حد تک غلط ثابت ہوئے۔ اس سے خوفناک نتیجہ یہ بھی برآمد ہوا کہ شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے ان دنوں کے مشرقی پاکستان میں اپنی کامل اجارہ داری دکھائی۔ صوبائی خود مختاری کی بنیاد پر اس جماعت کے 1966 کے برس سے چند ٹھوس مطالبات تھے۔ مغربی پاکستان کی واحد اکثریتی جماعت کے طور پر ابھرنے والی پیپلز پارٹی انہیں تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھی۔ شیخ مجیب کے چھ نکات کی مزاحمت کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو کی نگاہ میں یہ حقیقت بھی تھی کہ مغربی پاکستان کے دو چھوٹے صوبوں یعنی ان دنوں کے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی طاقت ور ترین جماعت کے طور پر سامنے آئی۔ صوبائی خودمختاری کے حوالے سے اس کے نظریات عوامی لیگ کے قریب تر تھے۔ جنرل یحییٰ کی حکومت 1970 کا انتخاب جیتنے والی جماعتوں کو سیاسی سمجھوتوں کی جانب راغب کرنے کے بجائے ان کے مابین اختلافات کو ہوا دیتی رہی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان بالآخر دولخت ہو گیا۔ ”سقوط ڈھاکہ“ کے سانحے کے بعد ریاستی اداروں نے طے کر لیا کہ انتخابی عمل ان کے لئے پریشان کن حیرانیاں پیدا نہ کرے۔
مذکورہ سوچ کے تحت ہی 1988 کے انتخاب سے قبل محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کی جماعت کو اس کی ”اوقات“ تک محدود رکھنے کے لئے پیپلز پارٹی کی تمام مخالف جماعتوں کو آئی جے آئی نامی اتحاد میں یکجا کر دیا گیا تھا۔ انتخابی نتائج آ جانے کے بعد پاکستان کا آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ اس اتحاد کی بدولت پیپلز پارٹی کے ہاتھ نہیں آیا۔ یہ سوچنا بھی لیکن دانشورانہ بددیانتی ہے کہ ریاستی ادارے محض زور زبردستی کی بنیاد پر اپنی پسند و ترجیح کا سیاسی منظر نامہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
انتخابی عمل اپنے تئیں ایک بہت ہی پیچیدہ عمل ہے۔ اسے اپنے قابو میں لانے کے لئے لازمی ہے کہ برسرزمین حقائق کو ٹھوس اعداد و شمار کے ذریعے سمجھنے کی کوشش ہو۔ آج کی دنیا میں اسے ڈیٹا Analysis کہا جاتا ہے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا نے ڈیٹا جمع کرنے والی قوت کو توانا تر بنا دیا ہے۔ اس کا عملی اظہار برطانیہ کے اس ریفرنڈم کے دوران ہوا جو یورپی یونین سے علیحدگی کے سوال کی بابت ہوا تھا۔ برطانیہ کی نام نہاد Deep State یا دریں دولت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ امریکہ کی Establishment بھی ٹرمپ کی کامیابی سے زیادہ خوش نہیں تھی۔ وہ مگر امریکہ کی سفید فام اکثریت کے دلوں میں نسلوں سے موجود تعصبات کو بھڑکاتے ہوئے چھا چھو گیا۔
بھارت میں نریندر مودی کی جماعت بھی ڈیٹا کے ٹھوس تجزیے کے بعد ہی مسلسل کامیابیوں کی جانب سفر کرتی رہی ہے۔ وہ ڈھٹائی سے اصرار کرتی ہے کہ بھارت ایک ہندو اکثریتی ملک ہے۔ انتخاب جیتنے کے لئے لہٰذا لازمی ہے کہ ہندو اکثریت کے دلوں میں موجود تعصبات و خدشات کو بھڑکایا جائے۔ بھارت کے کئی صوبوں میں لیکن اس کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہوئی۔ کیرالہ اور مشرقی بنگال اس کی واضح مثال ہیں۔ بھارتی پنجاب میں بھی اس کا جادو چل نہیں پایا ہے۔
بھارت میں ڈیٹا کا تجزیہ کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے لئے انتخابی مہم مرتب کرنے والا ایک ماہر ہے۔ نام ہے اس کا پریشانت کشور۔ بھارتی بنگال میں اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لئے ممتا بنیر جی نے اس سے رجوع کیا۔ مودی اور امیت شا کی چالاکیاں اور بھاری بھر کم جلسے پریشانت کی بنائی حکمت عملی کا توڑ فراہم نہ کر پائیں۔ ٹھوس اعداد و شمار کی بنیاد پر بنائی اس کی حکمت عملی انتہائی اعتماد سے دعویٰ کرتی رہی کہ بنیر جی کی جماعت کو کم از کم اتنی سیٹیں ملیں گی۔ انتخابی نتائج نے اس کے دعویٰ کو درست ثابت کیا۔
کوئی تسلیم کرے یا نہیں عمران خان صاحب کی تحریک انصاف پاکستان کی وہ پہلی جماعت ہے جو سوشل میڈیا اور ڈیٹا کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔ اس ضمن میں Same Page والی حقیقت بھی اسے فائدہ پہنچا رہی ہے۔ یہ تسلیم کرنے کے بعد سیاست کا طالب علم ہوتے ہوئے میں نہایت اعتماد سے یہ دعویٰ کرنے کو بھی مجبور ہوں کہ تحریک انصاف کا توڑ ڈیٹا Analysis کی بنیاد پر ہی بآسانی ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر سندھ میں ابھی تک اس جماعت کی حکمت عملی قطعاً ناکام رہی ہے۔ آزادکشمیر کے حالیہ انتخاب کے دوران بھی پیپلز پارٹی اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تگڑے امیدواروں اور مناسب حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتری۔ نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کا یقیناً ایک طاقت ور ترین ووٹ بینک ہے۔ مریم نواز صاحبہ کی صورت اسے کرشماتی ووٹ Puller بھی مل چکا ہے۔ اس جماعت کی صفوں میں لیکن مفاہمت یا مزاحمت کے سوال نے ذہنوں کو الجھا دیا ہے۔ تحریک انصاف اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے۔
بدھ کے روز پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے ایک حلقے میں تحریک انصاف کی کامیابی بنیادی طور پر ڈیٹا کی بنیاد پر بنائی حکمت عملی کا بھرپور اظہار تھی۔ روزنامہ جنگ کے لئے تحریک انصاف کے ایک حامی لکھاری منصور آفاق صاحب ایک کالم لکھتے ہیں۔ چند روز قبل انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ تحریک انصاف کا امیدوار کم از کم 60 ہزار ووٹ لے کر جیت جائے گا۔ وہ بالآخر درست ثابت ہوئے۔ دھاندلی کی دہائی مچانے کے بجائے مسلم لیگ (نون) کو فی الوقت اپنی صفوں میں موجود ذہنی الجھاؤ سے نجات کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد ہی ڈیٹا پر توجہ دیتے ہوئے کامیابی کو یقینی بنانے والی حکمت عملی تشکیل دی جا سکتی ہے۔

