غلطی ہمیشہ عورت کی کیوں ہوتی ہے؟

پہلے موٹر وے کیس سامنے آیا، پھر نور مقدم اور اب مینار پاکستان۔ تینوں میں یہی بتایا گیا کہ غلطی عورت ہی کی تھی۔ وہ وہاں گئی کیوں تھی۔ وہ کسی محرم کو ساتھ لیے بغیر گھر سے کیوں نکلی تھی۔ بعض خواتین بھی بتاتی ہیں کہ ہم تو ہمیشہ جاتے ہیں ہمارے ساتھ تو ایسا کبھی کسی نے نہیں کیا۔ جن کے ساتھ یہ ہوا وہ بھی اسی اعتماد میں ماری گئی ہوں گی کہ ہمارے ساتھ تو ایسا کبھی کسی نے نہیں کیا۔

ایک وہی روایتی موقف سننے کو ملتا ہے یعنی ”یہ سب دین سے دوری کا نتیجہ ہے“ ۔ ساتھ بتایا جاتا ہے کہ عورت نے پردہ نہیں کیا تھا یا اشتعال انگیز لباس پہنا تھا جسے دیکھ کر وہ معصوم مرد جو روبوٹ نہیں تھے، خود پر قابو پانے میں ناکام رہے۔ اب یہاں اشتعال انگیز قرار پانے والا لباس سادہ شلوار قمیض بھی ہو سکتا ہے جو بظاہر متذکرہ بالا تینوں خواتین نے پہنا ہوا تھا۔

یہاں دین کا حوالہ دے کر عورت کو مورد الزام ٹھہرانے والوں سے سوال ہے کہ بھیا دین کیا صرف عورت کے لیے اترا تھا؟ عورت نے پردہ نہیں کیا۔ مجرم مرد نے اسے ریپ یا قتل کر دیا یا ایک بدمست ہجوم نے اسے جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا۔ اب دین کی رو سے صرف یہ بتا دیں کہ بے پردہ پھرنے کی اسلامی سزا کیا ہے اور ریپ کی کیا؟ کوئی بہت ہی سخت حاکم بھی ہو گا تو بے پردہ عورت کو تعزیر میں زیادہ سے زیادہ دو چار کوڑے لگانے کا کہہ دے گا۔ دوسری طرف بعض فقیہ (بشمول دار الافتا دیوبند) ریپ کو زنا کے ذیل میں نہیں لیتے بلکہ اسے فساد فی الارض (حرابہ) قرار دیتے ہیں جس کی سزا سورہ مائدہ میں یہ بیان کی گئی ہے : جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وہ قتل کر دیے جائیں یا سولی چڑھا دیے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں۔ یا انھیں جلا وطن کر دیا جائے۔

یعنی ان معاملات میں عورت کو مورد الزام ٹھہرانے والے افراد، اس شخص کے اسلام کے مطابق بڑے جرم کو نظرانداز کر کے معمولی سے جرم کی مرتکب خاتون پر الزام دھر رہے ہیں اور حوالہ اسلام کا دے رہے ہیں۔ ہم تو یہی کہیں گے کہ یہ سب دین سے دوری کا نتیجہ ہے کہ لوگوں کو اسلامی موقف ہی معلوم نہیں لیکن اسلام کا حوالہ دے کر عورت پر الزام دھرتے ہیں۔

ان تینوں معاملات میں عورت تو ملکی قانون کی خلاف ورزی کی مرتکب نہیں ہوئی تھی۔ لیکن امریکہ کا ایک کیس دیکھتے ہیں جہاں ایک عورت ملکی قانون کی خلاف ورزی کی مرتکب قرار ہوئی، اس پر ریاست نے مقدمہ بھی قائم کر دیا، لیکن پھر عوامی غیظ و غضب کا ایک ایسا طوفان اٹھا کہ ریاست کو عورت سے مقدمہ واپس لینا پڑا۔

امریکہ میں سنہ 2010 میں ایک واقعہ ہوا۔ ایک عورت اپنے تین ننھے بچوں کے ساتھ رات گئے ایک بس سٹاپ پر اتری۔ یہ ایک مصروف شاہراہ تھی جسے پار کر کے اس کا گھر آتا تھا۔ وہ کچھ سامان اور بچوں کے ساتھ سڑک پار کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کے ساتھ بس سے اترنے والے دوسرے لوگ بھی تھے۔ اچانک اس کا چار سالہ بچہ اس کا ہاتھ چھڑا کر باقی لوگوں کی طرف بھاگا۔ نشے میں دھت ایک تیز رفتار ڈرائیور نے اس بچے کو کچل کر مار ڈالا اور وہاں سے فرار ہو گیا۔ وہ عورت اور اس کی ایک بچی بھی گاڑی کی زد میں آئیں۔

ریاست نے ڈرائیور پر تو مقدمہ قائم کیا لیکن ساتھ ہی اس عورت پر بھی مقدمہ قائم کر دیا کہ اس نے زیبرا کراسنگ سے سڑک کراس کرنے کی بجائے سٹاپ سے ہی سڑک کیوں پار کی جس کی وجہ سے اس کا ننھا بچہ مارا گیا۔ ایک مقدمہ اس بات پر بھی ہوا کہ اس کی وجہ سے گاڑی کا حادثہ ہوا جس میں ایک جان گئی۔ ان سب کی مجموعی سزا تین برس تک قید ہو سکتی تھی۔ جبکہ اس مارنے والے ڈرائیور پر سے قتل کرنے کا مقدمہ واپس لے لیا مگر نشے میں گاڑی چلانے کے جرم میں اسے چھے ماہ کی سزا ہوئی۔ جیوری نے اس ماں کو تین جرائم میں سزا سنا دی۔

پورے امریکہ میں ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ لوگوں نے یہ نہیں کہا کہ اس عورت نے تو قانون توڑا تھا، اس کی اپنی غلطی ہے کہ اس کا بچہ مرا۔ سب نے یہی کہا کہ ایک ماں کی آنکھوں کے سامنے اس کا بچہ ایک نشئی ڈرائیور کی وجہ سے مارا گیا ہے اور قانون اس کا ساتھ دینے کی بجائے اسے سزا دے رہا ہے۔ یہ کیسا ریاستی ظلم ہے کہ دکھی ماں کو تین سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے اور بچے کو قتل کرنے والے کو چھے ماہ کی سزا دے کر چھوڑ دیا گیا ہے۔

یہ نشاندہی بھی ہوئی کہ ریاست نے بس سٹاپ کے پاس زیبرا کراسنگ کیوں نہیں بنائی تھی، اب وہ ماں کیسے آدھا کلومیٹر دور اپنے بچوں سمیت جا کر سڑک پار کر سکتی تھی اور پھر واپس اسی مقام پر آتی۔ جبکہ بس سے اترنے والے باقی مسافروں کے وہیں سے سڑک پار کرنے سے ظاہر تھا کہ وہاں زیبرا کراسنگ کی ضرورت تھی۔ ملکی روزناموں میں اداریے لکھے گئے، سوا لاکھ لوگوں نے اس کی حمایت میں آن لائن پیٹیشن سائن کی۔

جج نے اس عورت کو بارہ ماہ کی پروبیشن (کچھ پابندیوں کے ساتھ آزاد زندگی) یا مقدمہ دوبارہ چلانے کی پیشکش کے ساتھ سزا سنائی۔ جیوری کی سزا کے بعد اس کے پاس نرم ترین سزا دینے کا یہی اختیار تھا۔ دوبارہ مقدمہ چلا اور باقی الزامات واپس لے کر اسے بے دھیانی میں سڑک پار کرنے کے جرم میں دو سو ڈالر جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

اس کے مقابلے میں مینار پاکستان والا واقعہ تو محض اس عورت کی ایک حماقت تھی، اس نے قانون نہیں توڑا تھا۔ جبکہ اس پر حملہ کرنے والوں نے قانون کی سنگین خلاف ورزی کی تھی جس سے معاشرے میں شدید خوف و ہراس بھی پھیلا۔ تو یہاں پر عورت کی حماقت پر سزا سنانے کا مطالبہ تو زور و شور سے کیا جا رہا ہے جبکہ اصل سنگین، قانونی اور اسلامی جرم، کرنے والوں کو پوچھا ہی نہیں جا رہا اور یوں ان کی ایک طرح سے ان کی حمایت کی جا رہی ہے کہ وہ تو معصوم تھے، عورت کی وجہ سے بہک گئے، غلطی عورت ہی کی ہے۔

اس خاتون کے علاوہ فیملی کے ساتھ جانے والی دو خواتین کی ویڈیو کا ذکر بھی ہو رہا ہے جن کے ساتھ ایک ہجوم نے چھیڑ چھاڑ کی تھی۔ یعنی وہ دلیل بھی ایک طرف رہ جاتی ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ یہ عورت فیملی کے ساتھ کیوں نہیں گئی تھی۔ ویسے یہ خاتون بھی اکیلی نہیں تھِی، اس کے ساتھ بھی کچھ مرد ساتھی موجود تھے جو اس چار سو لوگوں کے ہجوم کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔

یہاں سوال اس عورت سے نہیں کیا جانا چاہیے۔ سوال ریاست سے کیا جانا چاہیے کہ اسے علم ہے کہ یوم آزادی پر ہر طرف ہلڑ مچا ہوتا ہے، قانون شکنی ہو رہی ہوتی ہے، تو اس نے کیا خاص انتظامات کیے تھے؟ خاص طور پر بڑی تفریح گاہوں میں کیا انتظام تھا؟ یوم آزادی پر سڑکوں میں گاڑیوں میں موجود فیملیز کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے اس کے لیے کیا کیا گیا؟ عوام کو تحفظ دینے میں قانون کیوں ناکام رہا؟

اور سوال عوام سے کیا جانا بنتا ہے۔ آج تک آپ کے ساتھ کچھ برا نہیں ہوا تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ آئندہ بھی نہیں ہو گا؟ آپ چاہے جتنی مرضی خود کی حفاظت کریں اور عقل سے کام لیں، مگر برے وقت کا کوئی پتہ نہیں ہوتا۔ معاشرے کو محفوظ بنانا ہے تو مظلوموں کو برا بھلا کہنے کی بجائے قانون کی عمل داری اور ریاستی تحفظ کا مطالبہ کریں۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words