مَردوں کا پردہ بکارت
جب بھی ڈاکٹر کے پاس جانا ہوتا بشیر اس کے ساتھ جاتا، روشنی کا بھی خیال رکھتا۔ البتہ جس شک کا اظہار جاریہ نے بشیر میں آنے والی تبدیلی کی خبر سنتے ہی کر دیا تھا وہ حقیقت بن کر سامنے آ گیا۔ سدرہ کے حمل کو تیسرا مہینہ چل رہا تھا جب بشیر نے اس سے نہایت محبت بھرے لہجے میں سوال کیا کہ کیوں نا روشنی کو کچھ دیر کے لئے پاکستان چھوڑ آئیں؟ اس طرح تمہاری پریگنینسی کا وقت آرام سے گزر جائے گا اور بعد میں ہم اسے واپس لے آئیں گے۔ سدرہ کو فوراً ً جاریہ کی بات یاد آئی مگر اس نے کسی بھی فوری ردعمل سے گریز کیا اور کہا کہ اسے چند دن سوچنے دے۔ ملک بشیر بھی سمجھا کہ چلو تھوڑا سوچ لے کوئی بات نہیں۔
سدرہ کے نزدیک یہ کوئی بات والا معاملہ نہ تھا۔ اس نے دوسرے ہی دن جاریہ کو بلایا۔ اسے اصل حالات سے آگاہ کیا اور روشنی کا پاسپورٹ اس کے حوالے کر دیا۔ اگلے دنوں میں اس نے پولیس پر اپنا یہ خدشہ ظاہر کر دیا کہ ملک بشیر بہانے سے روشنی کو پاکستان لے جانا چاہتا ہے اور پھر کبھی واپس نہیں لائے گا۔ اس لئے اگر وہ روشنی کا نیا پاسپورٹ بنوانے آئے تو اسے منع کر دیا جائے۔ پولیس تو پہلے ہی اس طرح کے معاملات کو بہت سنجیدہ لے رہی تھی وہاں سے سدرہ کو مکمل تسلی کرا دی گئی۔
چند دن بعد ملک بشیر نے اپنا سوال دہرایا تو سدرہ نے صاف لفظوں میں بتا دیا کہ اس کا جواب نفی میں ہے۔ وہ نہ تو ایسا
چاہتی ہے اور نہ ہی ایسا ہونے دے گی۔ وہ جہاں بھی رہے اور جیسے بھی حالات میں رہے، روشنی اس کے ساتھ رہے گی۔ بشیر نے پہلے اسے پیار سے سمجھانے کی کوشش کی، پھر ان خدشات سے آگاہ کیا جو روشنی کے سلسلے میں آگے چل کر آ سکتے تھے۔ لیکن جب اسے کسی طرح بھی بات بنتی نظر نہ آئی تو وہ دھمکیاں دینے پر اتر آیا۔ اسے یورپ کی بے حیائی اور روشنی کے مستقبل کے حوالے سے ڈرایا۔ یہاں تک کہ بے غیرتی کے طعنے بھی دیے۔ اور گاہے گاہے یہ بات روشنی کے سامنے بھی ہوتی رہی۔ دس سال کی سکول میں پڑھتی بچی، ایسی بھی بچی نہ تھی کہ معاملے کی سنجیدگی کو نہ سمجھ سکتی۔ وہ اور بھی ماں کے قریب ہو گئی۔ اس کے بعد باپ کی ہزار کوشش کے باوجود اس نے باپ کے پاس آنا بھی چھوڑ دیا۔ سدرہ نے روشنی کی قربت کو غنیمت جان کر اسے اردو زبان اچھی طرح پڑھا دی۔
ملک بشیر نے پہلے تو حالات کی نزاکت کے پیش نظر خاموشی اختیار کی۔ پھر چپکے چپکے روشنی کا پاسپورٹ ڈھونڈتا رہا تاکہ کسی وقت خاموشی سے یا بہلا پھسلا کر روشنی کو پاکستان لے جا سکے۔ مگر جب گھر میں اسے کہیں بھی روشنی کا پاسپورٹ نہ ملا تو وہ سمجھ گیا کہ کیا معاملہ ہو سکتا ہے۔ وہ متعلقہ محکمہ میں گیا کہ روشنی کا نیا پاسپورٹ حاصل کر سکے مگر ان کے پاس پہلے ہی پولیس کی رپورٹ آ چکی تھی۔ انہوں نے اسے صاف لفظوں میں اصل بات بتا دی۔ ہر طرف سے مایوس ہو کر اس نے بالآخر ہار مان لی اور حالات سے سمجھوتہ کر لیا۔ سدرہ نے بھی معاملات پر قابو پانے کے بعد بشیر سے اپنا رویہ نارمل کر لیا لیکن روشنی کی سدرہ سے قربت اب اور بھی شدید ہو گئی۔ چنانچہ جب چھ ماہ بعد سدرہ ایک بیٹے (حیدر) کی ماں بنی تو روشنی نے حیدر کو سنبھالنے میں ماں کا پورا پورا ساتھ دینا شروع کر دیا۔ حیدر کے دو سال بعد صفدر صاحب تشریف لے آئے تو اب جیسے ان کی فیملی مکمل ہو گئی۔
ملک بشیر نے کام کے علاوہ گھر سے باہر کی سرگرمیاں تو پہلے ہی ترک کر دی تھیں اب وہ اور بھی زیادہ گھر اور بچوں پر توجہ دینے لگا۔ سدرہ کا تو وہ جیسے غلام ہو گیا تھا۔ کوئی بھی اہم کام اس سے پوچھے بنا نہ کرتا تھا۔ سدرہ بظاہر تو بشیر کی ہر بات پر صاد کرتی تھی مگر کوئی بھی فیصلہ روشنی کے مشورے کے بغیر نہ کرتی تھی۔
وقت گزرتا رہا، حیدر اور صفدر بھی کچھ بڑے ہو گئے۔ روشنی نے اٹھارہویں سالگرہ منائی اور باپ کو صاف صاف لفظوں میں بتا دیا کہ اب وہ بالغ ہے اور اپنے قول و فعل کی خود ذمہ دار بھی۔ اس لئے اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں اپنا قیام آپ لوگوں کے ساتھ ہی جاری رکھوں، تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ میں اپنے معاملات میں دخل دینے کی کسی کو بھی اجازت نہ دوں گی۔ میرے کمرے میں میرے دوستوں کا آنا جانا بھی میری اپنی خواہش اور اپنے وقت کے مطابق ہو گا۔ کوئی سوال جواب کرنے کی جرات نہ کرے۔ اور اگر آپ کو میری یہ شرائط منظور نہ ہوں تو میں کل ہی اپنا کوئی بندوبست کرتی ہوں۔ جواب میں سدرہ نے تو فوراً ً ہامی بھر لی اور تھوڑی سوچ بچار کے بعد بشیر نے بھی سدرہ کی ہاں میں ہاں ملا دی۔
روشنی اگلے سال یونیورسٹی چلی گئی اور باپ سے اس کے فاصلے مزید بڑھ گئے۔ جرمنوں کے علاوہ دوسری قوموں کے لڑکے لڑکیاں بھی اس کے دوست بن چکے تھے اور گاہے بگاہے روشنی سے ملنے اس کے گھر آتے رہتے تھے۔ وہ سب اکثر دیر تک اس کے پاس بیٹھتے، گپیں مارتے اور اس کے کچن فریج سے کھاتے پیتے بھی رہتے۔ ان کے زور زور سے قہقہے لگانے کی آوازیں بشیر کو ڈسٹرب
بھی کرتیں اور کبھی کبھی اسے ان پر غصہ بھی بہت آتا مگر وہ کر کچھ نہیں سکتا تھا۔ اس کی ذرا سی دخل اندازی پر روشنی اپنے علیحدہ فلیٹ میں چلی جاتی۔ اس نے باپ کو خاص طور پر وارننگ دے رکھی تھی کہ بلا اجازت اس کے کمرے میں مت آئے۔ اپنے اور اپنے دوستوں کے لئے کھانے پینے کا سامان روشنی اکثر خود خرید کر لاتی تھی۔ حالانکہ ملک بشیر اس کے تمام اخراجات اٹھانے کے لئے تیار تھا مگر پھر بھی روشنی نے یونیورسٹی کی پڑھائی کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم جاب شروع کر دی۔ ایسی ہی ایک جاب پر کام کرتے ہوئے اس کی ملاقات بیانکا سے ہو گئی۔
بیانکا، کہ اب نہایت بے باک اور باتونی لڑکی بن چکی تھی۔ یہ اور بات کہ وہ اپنا کام پوری مستعدی اور ایمانداری سے کرتی تھی۔ اکٹھے کام کرتے ہوئے، باتوں باتوں میں تعارف بھی ہو گیا۔ بیانکا کو تو پہلی نظر میں ہی کچھ شک ہو گیا تھا لیکن جونہی اسے پتہ چلا کہ روشنی اصل میں اسی ملک بشیر کی بیٹی ہے تو وہ بہت خوش ہوئی۔ پھر بیانکا نے ہنستے ہنستے روشنی کو ملک بشیر کے ماضی کا ایک ایک ورق کھول کر دکھا دیا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنے اور بشیر کے تعلقات کی تفصیل بھی بتا دی۔ روشنی کو اس کی صاف گوئی اچھی لگی۔ یوں چند دن اکٹھے کام کرنے میں ہی بیانکا اور روشنی میں دوستانہ تعلقات قائم ہو گئے۔ اور وہاں سے کام چھوڑنے کے بعد بھی روشنی کبھی کبھی اسے ٹیلی فون کر لیتی تھی۔
روشنی ابھی یونیورسٹی کے دوسرے سال میں ہی تھی کہ ملک بشیر نے اس پر شادی کے لئے زور ڈالنا شروع کر دیا۔ دراصل ملک بشیر کا ایک بھانجا ملک وسیم، ایم اے کرنے کے بعد بھی فارغ بیٹھا تھا۔ اسے نہ تو کوئی نوکری مل رہی تھی اور نا ہی کسی کاروبار کی سدھ بدھ تھی کہ ماں باپ اس کی کوشش کرتے۔ اوپر سے ملک بشیر نے بھی بہن سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ اگر کوئی خاص مسئلہ درپیش نہ آ گیا تو وہ روشنی کی شادی وسیم سے کر دے گا۔ شادی کے بعد وسیم جرمنی آ جائے گا تو یہاں کچھ نہ کچھ کام بھی مل ہی جائے گا۔
روشنی کو باپ کے ارادوں کی خبر ملی تو ایک دن اس نے ماں باپ کو بٹھا لیا اور یوں گویا ہوئی ”آپ یہ جان کر خوش ہو سکتے ہیں کہ میں وسیم سے شادی کرنے کے لئے تیار ہوں۔ لیکن ایک تو میں شادی کے بعد اپنے علیحدہ گھر میں رہوں گی، دوسرے میں تعلیم مکمل کرنے سے پہلے یہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔ آپ اس سے پہلے میری شادی پر بضد ہیں تو چاہے وہ وسیم ہو یا کوئی اور، اسے میری تعلیم کے باقی تین چار سال میرا گھر سنبھالنا پڑے گا۔ وہ اپنی جاب بھی کرے گا، میرے لئے کھانا بھی پکائے گا، گھر کی صفائی بھی کرے گا اور میرے کپڑے استری کرنا بھی اسی کی ذمہ داری ہو گی۔ اور ہاں! میری تعلیم کے دوران وہ اپنی کمائی سے کچھ بھی پاکستان نہیں بھیج سکے گا۔ اگر اسے میری یہ تمام شرائط منظور ہوں تو میں اس وقت بھی شادی کے لئے تیار ہوں“ ۔
یہ سب سن کر سدرہ تو بالکل خاموش بیٹھی رہی، جیسے اس کا ایسے کسی معاملے سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ لیکن ملک بشیر تھوڑی سوچ بچار کے بعد بولا ”تمہاری یہ شرائط صرف تعلیم مکمل ہونے تک ہی ہیں نا؟“ ۔
جواب میں روشنی نے اثبات میں سر ہلا دیا تو ملک بشیر کو جیسے کچھ حوصلہ ہو گیا ”پھر تو کوئی بات نہیں، تمہاری تعلیم کے دوران تو اسے اتنا کرنا ہی چاہیے“ ۔
”آپ اچھی طرح سوچ لیں اور وسیم کے علاوہ اپنی بہن سے بھی کھل کر بات کر لیں کیونکہ اگر اس نے یہاں آنے کے بعد ان شرائط سے انحراف کی ذرا بھی کوشش کی تو میں اسے طلاق دے دوں گی۔ آپ یہ بات انہیں اچھی طرح ذہن نشین کرا دیجئے ورنہ میں بعد میں ذمہ دار نہیں ہوں گی“ ۔
ملک بشیر کو اس معاملے میں اپنی بیٹی سے زیادہ اپنے بھانجے کی فکر پڑی ہوئی تھی ”تم فکر نہ کرو، میں سب سمجھا دوں گا انہیں۔ اتنا تو اسے برداشت کرنا ہی پڑے گا۔ لوگ تو یہاں آنے کے لئے جانے کیا کیا پاپڑ بیلتے ہیں۔ وہ تمہاری تعلیم کی خاطر چار دن تمہارا خیال رکھ لے گا تو کون سی قیامت آ جائے گی؟“ ۔
روشنی نے باپ کی اس ساری بات کا کوئی اثر ظاہر نہیں کیا۔ وہ تو ایسے بیٹھی تھی جیسے اس کے لئے کوئی جواب بھی نیا نہیں تھا۔ البتہ پھر اس نے دونوں کی طرف عجیب انداز سے دیکھا اور بولی ”آپ کا یہ ردعمل میرے لئے کچھ غیر متوقع نہیں ہے۔ میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ یہ کوئی ایسی خاص شرائط بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو خبر میں اب آگے آپ کو دینے والی ہوں، وہ ہو سکتا ہے آپ پر بجلی بن کر گرے“ ۔
سدرہ تو اب بھی سکون سے بیٹھی ہوئی تھی لیکن بشیر کسی بری خبر کے خدشے سے منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا۔
”خبر یہ ہے“ روشنی نے بات آگے بڑھائی ”کہ میں کوئی کنواری دوشیزہ نہیں ہوں“ ۔
ملک بشیر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا ”کیا کہہ رہی ہو تم؟ میں تمہیں۔“ ۔
روشنی اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی ”آرام سے بیٹھ جائیے۔ میں پہلے ہی پولیس کو بتا کر آئی ہوں کہ یہاں کیا کچھ ہو سکتا ہے۔ تو اگر آپ جیل جانا نہیں چاہتے تو آرام سے بیٹھ جائیے۔ اور ہاتھ اٹھانا تو دور کی بات ہے میرے ساتھ اونچا بولنے کی جرات بھی مت کیجئے گا۔ اب اچھی طرح سن لیجیے، میرے ایک جرمن دوست کے ساتھ جنسی تعلقات رہ چکے ہیں۔ بے شک اب نہیں ہیں۔ اور شادی کے بعد میں اپنے خاوند کی وفادار رہوں گی، اس کا بھی وعدہ دے سکتی ہوں۔ البتہ وسیم کو اس سچائی کی پہلے سے جانکاری ہونی چاہیے۔ میں پاکستان اس سے شادی کرنے کے لئے جانے سے پہلے اس کے ساتھ ویڈیو کال پر اس بارے میں کھل کر بات کروں گی۔ اور اگر محسوس کروں گی کہ وہ یہ سب کچھ دل سے قبول کر رہا ہے تو شادی کروں گی ورنہ نہیں۔ اب آپ خود بھی سوچ لیجیے اور اپنی بہن، بھانجے کو بھی سمجھا لیجیے۔ میں ویسے بھی دو دن کے لئے دوستوں کے ساتھ باہر جا رہی ہوں۔ میری واپسی سے پہلے پہلے فیصلہ کر لیجیے ورنہ میں اپنے لئے کوئی اور فیصلہ کروں گی“ اس نے بیگ اٹھایا اور باہر نکل گئی۔
ملک بشیر اپنی جگہ تلملا کر رہ گیا۔ روشنی کے جانے کے بعد اس نے پہلے سدرہ کو لعن طعن کی، خود اپنے آپ کو بھی گالیاں دیتا رہا کہ وہ جرمنی آیا ہی کیوں؟ پھر اس نے بہن کو ٹیلی فون ملایا اور گھما پھرا کر بات کا آغاز کیا۔ مگر اسے بہت زیادہ صفائیاں نہیں دینا پڑیں۔ بہن نے یہ کہہ کر اسے حوصلہ دیا کہ اب جرمنی میں رہتی ہے تو کہیں نہ کہیں کوئی غلطی بھی ہو ہی سکتی تھی۔ اگر وہ کہہ رہی ہے کہ آئندہ خیال رکھے گی تو ہمیں بھی چاہیے کہ اسے معاف کر دیں۔ تم فکر نہ کرو میں وسیم کو سمجھا لوں گی۔ اور اس نے دو دن پورے ہونے سے پہلے پہلے وسیم کو سمجھا بھی لیا۔
روشنی کو واپس آنے سے پہلے ہی فون کر کے بتا دیا گیا کہ وسیم اور اس کے ماں باپ اس کی تمام شرائط پر راضی ہو گئے ہیں۔
وہ پورے اطمینان سے گھر واپس آ سکتی ہے۔
اگلے دو مہینے دونوں اطراف میں بات چیت کرتے گزرے۔ روشنی نے وسیم سے ویڈیو کال پر ایک ایک بات اور بار بار کر کے اپنی تسلی کی۔ اسے مجبور کیا کہ وہ جلد از جلد کھانے پکانے سیکھ لے ورنہ شادی نہیں ہو سکے گی۔ پھر ملک بشیر اپنی پوری فیملی کو لے کر پاکستان چلا گیا۔ روشنی نے روانگی سے پہلے ہی پاکستان میں جرمن ایمبیسی کو خبر دے دی تھی کہ وہ کہاں اور کیوں جا رہی ہے؟ اور یہ بھی کہ اگر وہ دو دن بھی اپنی خیریت کی خبر نہ دے سکے تو انہیں فوراً ً ایکشن لینا چاہیے۔
شادی بخیر و خوبی انجام پا گئی۔ سہاگ رات کی سفید چادر کا مسئلہ تو پہلے ہی خارج از بحث تھا اس لئے دونوں نے سہاگ رات بھی اچھی گزاری۔ روشنی نے وسیم کو ساتھ لے جا کر جرمن ایمبیسی میں اس کا ویزا بھی اپلائی کر دیا۔ کچھ دن وہاں گھومی پھری اور پھر سب لوگ واپس آ گئے۔
جرمن ایمبیسی والوں نے تمام کاغذات کی پڑتال کروائی۔ چار ماہ تو اسی میں لگ گئے۔ اور اس کے بعد وسیم کو بتایا گیا کہ وہ جب تک جرمن زبان کا ابتدائی کورس نہیں کر لے گا، اسے ویزا نہیں ملے گا۔ اس میں مزید چھ مہینے صرف ہوئے۔ یوں بالآخر دس مہینے کی تک و دو کے بعد وسیم کو جرمنی کا ویزا ملا اور وہ روشنی کے پاس پہنچ گیا۔
روشنی نے پہلے سے علیحدہ فلیٹ کا بندوبست کیا ہوا تھا۔ کچھ دن دونوں نے انجوائے کیا پھر روشنی اپنی پڑھائی میں مصروف ہو گئی۔ تین ہفتے بعد ہی وسیم کو بھی ایک کمپنی کے گودام میں کام مل گیا۔ یوں حالات اسی ڈگر پر چل نکلے جس پر روشنی انہیں چلانا چاہتی تھی۔ وسیم پانچ دن کمپنی کے گودام میں کام کرتا، اور کام سے فارغ ہو کر گھر پہنچتے ہی کھانا پکاتا۔ روشنی کے اگلے دن کے لئے کپڑے استری کرتا اور ویک اینڈ پر گھر کی صفائی بھی کرتا۔ کبھی کبھی اکیلا بیٹھ کر روتا اور سوچتا رہتا کہ یہ کیا زندگی ہے! ایم اے کی ڈگری کیا اسی لئے حاصل کی تھی؟ ایک تو بیوی ایسی ملی ہے جو پہلے ہی جرمن لڑکوں کے ساتھ جنسی تعلقات رکھتی تھی، اور اس سے یوں غلاموں والا سلوک روا رکھتی ہے۔ پھر خود ہی اپنی ڈھارس بندھاتا کہ پکا ویزا ملنے کے بعد سارے بدلے لوں گا۔
اس تمام ناپسندیدگی کے باوجود اس نے دو مہینے تک یہ روٹین نبھائی مگر پھر اس کی برداشت جواب دینے لگی۔ اس لئے کبھی کبھی روشنی کے ساتھ اس کا لہجہ بھی تلخ ہو جاتا۔ مگر وہ اسے فوراً ً ڈانٹ کر اپنی شرائط یاد کرواتی تو وہ پھر سے دبک جاتا۔ البتہ ایک خیال اس کی ڈھارس بھی بندھاتا تھا اور وہ تھا روشنی کا اظہار محبت۔ وہ اسے کئی بار بتا چکی تھی کہ شادی جیسے مرضی ہوئی ہو لیکن اب وہ اس سے محبت کرنے لگی ہے۔ اگرچہ اس سے ان کے رشتے کی شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اگلے ایک سال میں کم از کم تین بار ایسا ہوا کہ وسیم نے مردانگی کے زعم میں رعب جھاڑنے کی کوشش کی تو روشنی نے پولیس بلا لی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وسیم کو وہ رات اپنے ماموں کے گھر گزارنا پڑی۔ دوسرے دن ماموں بھانجے نے آ کر معافی مانگی تو روشنی نے اسے گھر میں گھسنے دیا۔
آہستہ آہستہ حالات ایسے ہو گئے کہ وسیم نے گلے شکوے چھوڑ دیے۔ البتہ اب وہ کبھی کبھی اکیلے میں بیٹھ کر خوب روتا اور جب زیادہ ہی تنگ آ جاتا تو ملک بشیر کے پاس چلا جاتا۔ ملک بشیر یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ روشنی یہ سب کیوں کر رہی ہے؟ جب وسیم نے اسے ہر طرح سے قبول کر لیا ہے، اس کی ہر شرط پر پورا اتر رہا ہے تو کم از کم اپنا رویہ ہی اس کے ساتھ بہتر کر لے۔ وہ روشنی کو بھی خوش دیکھنا چاہتا تھا اور اس سے وسیم کی بے بسی بھی نہیں دیکھی جاتی تھی۔ آخرکار اس نے وسیم کو مشورہ دیا کہ وہ جیسے کیسے یہ تین سال پورے کر لے۔ کیونکہ پھر اسے ایک ایسا ویزا مل جائے گا جس کی وجہ سے وہ اپنے بل بوتے پر بھی جرمنی میں رہ سکے گا۔ ہو سکتا ہے تب تک روشنی کا رویہ بھی بہتر ہو جائے۔ مگر وہ تین سال تک صبر نہ کر سکا اور ابھی مشکل سے دو سال ہی ہوئے تھے کہ وہ روشنی کے سامنے رو پڑا۔ اس کا سوال بہت سادہ تھا کہ روشنی اسے کس جرم کی سزا دے رہی ہے؟ روشنی نے اسے پاکستان چل کر ساری فیملی کے سامنے جواب دینے کا وعدہ کر لیا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


پچاس ہزار واقعات میں سے ایک۔ مبنی بر حقیقت ، سبق آموز اور ہوشربا۔