مَردوں کا پردہ بکارت
ملک پور ایک چھوٹا سا مضافاتی قصبہ تھا۔ وہ بھی پنجاب کے دور افتادہ علاقے میں۔ ملک بشیر وہیں پیدا ہوا اور پلا بڑھا۔ اس نے کسی نہ کسی طرح میٹرک تو پاس کر لیا تھا لیکن اس کے بعد نہ تو اس نے آگے پڑھنے کی کوشش کی اور نا ہی کوئی ہنر سیکھنے کی طرف دھیان دیا۔ البتہ کبھی کسی ایک اور کبھی کسی دوسرے دوست کے ساتھ مل کر کوئی کاروبار شروع کرتا اور ناکام ہوتا رہا۔ ہر بار دوسرے حصہ دار کو ہی الزام دیتا کہ اس نے دھوکا دے دیا ورنہ کاروبار تو چل جانا تھا۔ یوں جب وہ باپ کا بہت سا پیسہ اور اپنی عمر کے کئی سال ضائع کر چکا تو اس نے ملک سے باہر جانے کا ارادہ کیا۔ تب باپ سے ضد کر کے اس کی زمین کا ایک ٹکڑا بیچا اور ایجنٹ کے ذریعے، لیکن بہت مشکل مراحل سے گزر کر، جرمنی پہنچ گیا۔
جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواست دی اور ساتھ ہی کسی ایسی عورت کی تلاش شروع کر دی جس سے شادی کر کے جرمنی کا ویزا حاصل کر سکے۔ کیونکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا، اس کی سیاسی پناہ کی درخواست زیادہ دیر نہیں ٹک سکے گی۔ اسے ابھی کام کرنے کی قانونی اجازت نہیں تھی۔ وہ دوسرے پاکستانی یا انڈین لوگوں سے پوچھ پوچھ کر، کبھی یہاں اور کبھی وہاں، چھوٹی چھوٹی مزدوریاں کرتا پھرتا تھا۔ ایسے ہی ایک دن وہاں کے ایک پرانے رہائشی اور ایک ریسٹورینٹ کے مالک اقبال احمد سے اس کی ملاقات ہو گئی۔ اقبال احمد کو اس پر ترس آ گیا اور وہ اسے گاہے گاہے اپنے ریسٹورینٹ میں کچھ کام دینے لگا۔ وہیں کلاؤڈیا بھی آتی تھی ہفتے میں تین دن صفائی کا کام کرنے۔ مضبوط ڈیل ڈول کی کلاؤڈیا ایک پچاس سالہ جرمن عورت تھی۔ اس وقت ملک بشیر کی عمر مشکل سے پچیس برس ہو گی۔ کلاؤڈیا اب تک تین ناکام شادیوں سے گزر چکی تھی۔ ہر شادی سے ایک ایک بچہ بھی تھا۔ پہلے دونوں بچے بالغ اور خود مختار تھے۔ تیسری بیٹی تھی ”بیانکا“ نام کی، وہ بھی اب پندرہ سال کی ہو چکی تھی۔
اقبال احمد نے کلاؤڈیا کو مشورہ دیا کہ وہ ملک بشیر کو دوست بنا لے اور اگر اسے سب ٹھیک لگے تو بعد میں شادی بھی کر لے۔ کلاؤڈیا بھی اس وقت اکیلی تھی۔ اسے بھی ایک دوست کی ضرورت تھی۔ اس کے اقتصادی حالات بھی اچھے نہ تھے۔ ریاست کی طرف سے ملنے والی سوشل امداد پر اس کا گزارا تھا۔ تنگ دستی سے بچنے کے لئے وہ اقبال کے ریسٹورینٹ پر تین دن صفائی کا کام کرتی تھی۔ اس نے ملک بشیر کو دوست بنانے کی ہامی بھر لی۔ یوں پہلے کسی نہ کسی ترجمان کی مدد سے اور بعد میں اشاروں کی زبان میں دونوں کی بات چیت ہونے لگی۔ ملک بشیر بھی اب کلاؤڈیا کے گھر میں رہنے لگا اور اس کی تمام آمدنی بھی کلاؤڈیا کی جیب میں جانے لگی۔ وہ پچاس سال کی عمر کے باوجود جنسی طور پر بہت فعال تھی۔ اس کی طلب پوری کرنے کے لئے ملک بشیر کو بہت زور لگانا پڑتا تھا۔ مسلسل ساتھ رہنے کی وجہ سے اب وہ تھوڑی تھوڑی جرمن زبان بھی بولنے لگا تھا۔ تین ماہ کی آزمائش کے بعد آخرکار وہ شیر سے شادی پر رضامند ہو گئی۔ انہوں نے شادی دفتر میں کاغذات جمع کروا دیے۔ بہت کوشش کے باوجود بھی شادی کی تاریخ، چھ ماہ بعد کی ملی۔ بہرحال پھر ان کی باقاعدہ شادی ہو گئی۔ یوں ملک بشیر کو جرمنی کا رہائشی ویزا مل گیا اور اس کے بعد ایک فیکٹری میں جاب بھی۔
اب وہ زندگی تو کلاؤڈیا کے ساتھ گزار رہا تھا مگر نظر بیانکا پر بھی رکھتا تھا۔ بیانکا بھی بڑی تیز طرار لڑکی تھی۔ وہ بشیر کی نظروں کا مطلب بخوبی جانتی تھی۔ اس کے نزدیک بشیر ایک آسان شکار تھا۔ سو وہ بھی اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔ اس نے پہلا موقع ملنے پر ہی بشیر کو احساس دلا دیا تھا کہ وہی اس کا پہلا پیار ہے۔ اور یہ بھی کہ وہ بوڑھی کلاؤڈیا کے پیچھے خوامخواہ اپنی زندگی تباہ کر رہا ہے۔ بشیر یہ سب سن کر خوشی سے دیوانہ ہو گیا، مگر وہ مجبور تھا۔ اسے ابھی کئی سال تک کلاؤڈیا کا ساتھ نبھانا تھا۔ کسی بھی غلطی کی صورت میں اس کا ویزا کینسل ہو سکتا تھا۔ بیانکا موقع ملنے پر خود ہی اس سے بغل گیر ہو جاتی اور اس پر گرم گرم بوسوں کی بوچھاڑ کر دیتی۔ اسے مزید آگے بڑھنے سے بھی روک دیتی اور اس سے پیسے بھی بٹورتی رہتی۔ کلاؤڈیا کو بھی بشیر اور بیانکا کی پوری خبر تھی۔ اس نے پہلے ہی فرصت میں بشیر کو بتا دیا تھا کہ کسی بھی گڑبڑ کی صورت میں بشیر کو طلاق اور ویزا کی منسوخی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایک نابالغ لڑکی سے جنسی تعلق پر سزا اس کے علاوہ ہو گی۔
بشیر کلاؤڈیا کے نخرے بھی اٹھاتا اور اسے بستر میں بھی خوش کرنے کی کوشش کرتا رہتا، جو کہ اتنا آسان بھی نہ تھا۔ اس کی تنخواہ کا بڑا حصہ بھی وہ اس سے چھین لیتی تھی۔ اسے یقین تھا کہ جونہی بشیر کو پکا ویزا ملے گا وہ اسے چھوڑ دے گا۔ اس لئے وہ آنے والے مشکل وقت کے لئے، جس حد تک ممکن تھا جمع کر رہی تھی۔ بشیر پانچ دن فیکٹری میں کام کرتا اور ایک دن اقبال کے ہوٹل میں برتن صاف کرتا تھا۔ اسی لئے ساتویں دن خوب تھکا ہوا ہوتا مگر کلاؤڈیا کی جسمانی ضروریات کا خیال رکھنا اس کا فرض ہی نہیں اس کی مجبوری بھی تھا۔ آخر تین سال کے بعد اسے پکا ویزا مل گیا۔ اب اگر وہ کلاؤڈیا کو طلاق بھی دے دیتا تو اسے جرمنی سے نہیں نکالا جا سکتا تھا۔ ادھر بیانکا پہلے ہی اٹھارہ سال کی ہو چکی تھی۔ اور اب وہ خود مختار زندگی گزار رہی تھی۔
بشیر نے بھی ذرا انتظار نہیں کیا۔ اپنے لئے علیحدہ فلیٹ کا بندوبست کر کے وہاں شفٹ ہو گیا اور طلاق کے لئے درخواست دے دی۔ اب وہ بیانکا سے بھی کھلے عام ملنے لگا جو پہلے ہی کئی جرمن لڑکوں سے جنسی تعلقات استوار کر چکی تھی۔ بشیر بھی اس کے جسم سے فیضیاب ہونے لگا۔ لیکن اب وہ پاکستان میں جا کر ماں باپ کی مرضی سے شادی بھی کرنا چاہتا تھا۔ جنہیں اس نے اپنی خواہش سے آگاہ کر دیا تھا۔ وہ اس بات پر بہت خوش تھے اور اس کے لئے رشتہ کی تلاش میں مصروف ہو گئے تھے۔ ادھر کلاؤڈیا نے طلاق لینے سے صاف انکار کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تقریباً ً دو سال تک کیس چلتا رہا اور بشیر کو اس دوران کلاؤڈیا کے اخراجات اٹھانے پڑے۔ ساتھ ہی اسے بیانکا سے فیضیاب ہونے کی بھی قیمت چکانا پڑتی تھی۔ لیکن اسی دوران میں وہ پاکستان کا چکر بھی لگا آیا تھا۔ جہاں اسے کئی ایک لڑکیاں دکھائی گئیں۔ اس نے ان میں سے سدرہ کو پسند کر کے منگنی بھی کر لی تھی۔ مگر شادی کے لئے پہلے کلاؤڈیا سے طلاق حاصل کرنا ضروری تھا۔ آخرکار، دو سال تک کیس چلنے کے بعد طلاق ہو گئی اور پھر بشیر کی سدرہ سے شادی بھی۔
بے شک سدرہ ایک سیدھی سادھی، میٹرک پاس اور ذہین لڑکی تھی۔ وہ تعلیم کے علاوہ کھیل کے میدان میں بھی اکثر کامیاب رہی تھی۔ اس کی ذہانت کی وجہ سے اس کے آس پاس کی لڑکیاں اسے رشک کی نگاہ سے دیکھتی تھیں۔ لیکن بشیر اپنی پانچ سالہ جرمنی والی زندگی کی وجہ سے خود کو بہت ماڈرن اور پڑھا لکھا خیال کرتا تھا۔ حالانکہ اسے اردو پنجابی کے علاوہ کوئی زبان بھی ٹھیک سے بولنی نہیں آتی تھی۔ جرمن زبان بھی بس گزارے لائق ہی بول سکتا تھا۔ بشیر نے پہلے تین بار کی طلاق یافتہ اور کتنے ہی مردوں سے دوستیاں رکھنے والی کلاؤڈیا کے ساتھ، جو عمر میں بھی اس سے پچیس سال بڑی تھی، تین سال شادی شدہ زندگی گزاری تھی۔ پھر اپنی سوتیلی بیٹی بیانکا کے ساتھ بھی جنسی تعلقات استوار کر لئے تھے۔ بیانکا ایک ایسی لڑکی جو جنسی طور پر آزاد زندگی گزارنا چاہتی تھی۔ اس کے کئی جرمن دوست تھے، اور وہ شادی کرنے کا پروگرام بھی نہیں رکھتی تھی۔ اس کے باوجود بشیر نے پاکستان میں اپنے لئے عمر میں بارہ سال چھوٹی اور ایک کنواری لڑکی کا انتخاب کیا تھا۔
سدرہ کے ماں باپ، بشیر کے والدین کی بڑی عزت کرتے تھے۔ علاوہ ازیں اس شادی میں ان کا بڑا لالچ یہ تھا کہ انہیں جہیز نہیں دینا پڑا تھا۔ پھر ان کا یہ بھی خیال تھا کہ ان کی بیٹی یورپ چلی جائے گی تو اس کی زندگی بن جائے گی۔ خیر شادی تو ہو گئی لیکن سہاگ رات کو ہی ایک بڑا مسئلہ کھڑا ہو گیا۔ پہلی بار جسمانی ملاپ پر خون کا ایک قطرہ بھی نہ نکلا تھا، حالانکہ سدرہ نے بڑی تکلیف کا اظہار کیا تھا۔ خود بشیر کو کسی حد تک محسوس بھی ہوا تھا کہ سدرہ کی یہ پہلی بار ہی ہے مگر اس کے باوجود اس نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ سدرہ بہت روئی، بشیر کے آگے ہاتھ جوڑے، اپنے کردار کی گواہی میں قسمیں کھائیں مگر بشیر کا سوال قائم رہا۔
سدرہ کے ماں باپ کو علاقے میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ بشیر کے والدین ان کے پورے گھرانے کو اچھی طرح جانتے تھے۔ سدرہ ان کی آنکھوں کے سامنے بڑی ہوئی تھی۔ سب لوگوں کا ایک دوسرے کی طرف ایسا آنا جانا تھا کہ کسی کا کوئی راز بھی راز نہیں رہ سکتا تھا۔ جب ہر طرف سے سدرہ کے کردار کے حق میں گواہی ملی تو بشیر وقتی طور پر خاموش بھی ہو گیا۔ مگر جو کانٹا اس کے دماغ میں پھنس گیا تھا، وہ وہیں رہا۔
سدرہ کی خوش قسمتی کہ ویزے کے تمام مراحل چند ہی ماہ میں طے ہو گئے اور وہ جرمنی آ گئی۔ حاملہ تو شاید وہ پہلی ہی رات کو ہو گئی تھی اور جب وہ جرمنی پہنچی تو چھٹا مہینہ ختم ہوتے کو تھا۔ بشیر مجبور تھا کہ اسے متعلقہ ڈاکٹروں کے پاس لے کر جائے۔ سدرہ کی دوسری خوش قسمتی یہ ہوئی کہ جب وہ دوسری بار ہی ڈاکٹر کے پاس معائنے کے لئے گئی تو اسے جاریہ نام کی ایک پاکستانی لڑکی مل گئی۔ جاریہ ابھی پریگنینسی کے ابتدائی ایام میں تھی۔ اس نے یہ جاننے کے بعد کہ سدرہ ابھی نئی نئی پاکستان سے آئی ہے، اس کی مدد کرنے کا بیڑہ اٹھا لیا۔ جاریہ کی وساطت سے ہی اس کی کئی اور پاکستانی عورتوں سے ملاقات ہو گئی، جو اسی کی طرح مگر کئی سال پہلے پاکستان سے بیاہ کر لائی گئیں تھیں۔ وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ ایسے حالات میں سدرہ کو کن مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ سب نے مل کر سدرہ کی ہمت بڑھائی اور اس کی ہر طرح سے مدد کا وعدہ بھی کر لیا۔
بشیر بے شک اب بھی ڈاکٹر کے پاس اس کے ساتھ آتا تھا، مگر یہ جاننے کے بعد کہ سدرہ ایک بیٹی کو جنم دینے والی ہے، اسے آنے والے بچے کی کوئی خوشی نہ رہ گئی تھی۔ دوسری پاکستانی خواتین سے سدرہ کو مدد ملنے کے بعد بشیر اور بھی لاپروا ہو گیا تھا۔ تین ماہ
بعد سدرہ ایک پیاری سی بیٹی کی ماں بن گئی۔ سدرہ نے اس کا نام ”روشنی“ رکھا۔ ملک بشیر کو شروع میں تو روشنی سے بالکل کوئی لگاؤ نہ تھا مگر پھر آہستہ آہستہ خود روشنی نے ہی اپنی معصوم سی حرکتوں سے اس کی تھوڑی بہت توجہ حاصل کر لی۔ سدرہ کو تو پہلے ہی ایک بڑا دکھ تھا کہ بشیر نے اس کی دوشیزگی پر جو شک کیا تھا وہ ابھی بھی قائم تھا پھر روشنی سے اس کی بے اعتنائی نے اسے اور بھی غم زدہ کر دیا۔
جاریہ اور دیگر پاکستانی خواتین نے اس کی ہمت بندھائی اور اسے جرمن زبان سیکھنے کی تلقین شروع کر دی۔ سدرہ بھی اس کی ضرورت محسوس کر رہی تھی لیکن ملک بشیر اس کے حق میں نہیں تھا۔ سدرہ نے اس کی منت سماجت جاری رکھی اور یہ جواز بھی بار بار پیش کیا، اگر وہ زبان جان جائے گی تو اپنے کام خود انجام دے سکے گی۔ بشیر کو ہر جگہ اس کے ساتھ نہیں جانا پڑے گا۔ آخرکار بشیر مان گیا۔ اگرچہ اس مان جانے میں اس کی اپنی وجہ بھی تھی۔
وہ روشنی کی پیدائش سے پہلے ہی ایک اور جرمن عورت سے تعلقات استوار کر چکا تھا۔ جبکہ بیانکا سے تو اس کی میل ملاقات کبھی ختم ہی نہ ہوئی تھی۔ بیانکا اپنے علیحدہ فلیٹ میں رہتی تھی اور جب اس کا جی چاہتا وہ بشیر کو بلا لیتی۔ ہر ملاقات پر وہ بشیر کو یاد لاتی رہتی کہ وہی اس کا پہلا اور اصلی پیار ہے، باقی سب تو ٹائم پاس ہیں۔ بشیر بھی جب جب اس کے پاس جاتا تو کسی جنونی محبت کا اظہار کرتا۔ سب کچھ جاننے کے باوجود اسے بھی کہیں اندر ہی اندر بیانکا کی بات کا یقین تھا۔
اسی دوران میں جاریہ بھی ایک بیٹے کی ماں بن چکی تھی۔ مگر چونکہ اس نے ابھی اپنی تعلیم بھی جاری رکھنی تھی اس لئے اس نے اپنے بیٹے کے لئے ایک ڈے کیئر سنٹر میں جگہ حاصل کر لی تھی۔ وہ یونیورسٹی جانے سے پہلے اپنے بیٹے کو اس ڈے کیئر سنٹر میں چھوڑ جاتی اور یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد بیٹے کو وہاں سے لے لیتی۔ اس کا خاوند اپنی جاب کرتا اور گھر کے کام سنبھالتا تھا۔ ملک بشیر کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد جاریہ نے سدرہ کو غیر ملکیوں کے لئے جرمن زبان کے سکول میں داخلہ دلوا دیا اور ساتھ ہی اپنے بیٹے والے ڈے کیئر سنٹر میں روشنی کو بھی جگہ دلوا دی۔
جب تک روشنی دو سال کی ہوئی، سدرہ نے جرمن زبان کے سب کورسز پاس کر لئے تھے۔ بے شک زبان سیکھتے ہوئے اسے سخت محنت کرنا پڑی تھی۔ ساتھ میں اس نے روشنی کو بھی سنبھالا اور بشیر کی بے اعتنائی بھی برداشت کی۔ ان دو سالوں میں ملک بشیر کو کبھی کبھار ہی خیال آتا تھا کہ سدرہ بھی ایک انسان ہے، اس کی بھی کوئی جنسی ضروریات ہو سکتی ہیں۔ اور تب بھی وہ اتنی احتیاط ضرور برتتا تھا کہ کہیں سدرہ پھر سے حاملہ نہ ہو جائے۔
زبان سیکھنے کے بعد سدرہ کو ایک سرکاری محکمے میں نوکری مل گئی۔ وہاں وہ ضرورت پڑنے پر ایسے پاکستانیوں کی ترجمانی کے فرائض بھی انجام دیتی تھی جو جرمن زبان سے نا آشنا تھے۔ یوں سدرہ کی زندگی زیادہ تر اپنی بیٹی روشنی اور جاب کے گرد گھومتی تھی۔ تبھی کہیں ملک بشیر نے پھر سے سدرہ کی طرف رجوع کیا۔ مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اب وہ باہر والی عورتوں سے تعلقات منقطع کر چکا تھا یا سدرہ کو دوبارہ سے ماں بننے کا موقع دینا چاہتا تھا۔
اس طرح مزید آٹھ سال بیت گئے۔ مذکورہ بالا تقریباً ً دس سالوں میں نہ تو بشیر نے کبھی سدرہ کو پاکستان جانے کی آفر کی اور ناہی سدرہ نے ایسی کوئی خواہش کی۔ حالانکہ بشیر خود ہر سال دو سال بعد پاکستان جاتا تھا۔
اس تمام عرصہ میں سدرہ کی سب سے اچھی سہیلی اس کی بیٹی روشنی تھی۔ لیکن جونہی روشنی دس سال کی ہوئی تو بشیر نے ایک دن سدرہ سے رو رو کر اپنے گزشتہ برتاؤ کی معافی مانگی اور آئندہ سے وعدہ کیا کہ وہ اسے پوری پوری محبت اور عزت دے گا۔ سدرہ اب دس سال پہلے ملک پور سے آئی ہوئی سیدھی سادھی لڑکی نہ تھی۔ ان دس سالوں میں اس نے بہت کچھ سیکھ لیا تھا۔ دوسرے اب وہ بھی ملک بشیر کی طرح ایک جرمن شہری تھی۔ اسے فوراً ً شک ہوا کہ معاملہ کچھ اور ہے۔ اس نے سب سے پہلے جاریہ سے اس کا ذکر کیا۔ جاریہ اس وقت تین بچوں کی ماں اور ایک بڑی کمپنی میں اچھے عہدے پر کام کر رہی تھی۔ وہ سدرہ کو ہمیشہ اپنائیت کی نظر سے دیکھتی چلی آئی تھی۔ اس نے فوراً ً روشنی کے بارے میں سوچا اور سدرہ کو اپنے خدشے سے آگاہ کر دیا کہ ہو نہ ہو وہ روشنی کو اب پاکستان لے جانا چاہتا ہو۔ اس نوعیت کے پہلے کئی واقعات ہو چکے تھے۔ سدرہ بھی ہوشیار ہو گئی۔
ادھر ملک بشیر اب اٹھتے بیٹھتے سدرہ کا خیال رکھنے لگا۔ روشنی کے لئے بھی جیسے یک بارگی اس کی محبت جاگ اٹھی تھی۔ روشنی تو خیر ابھی بھی بچی ہی تھی اور کیا سوچ سکتی تھی۔ وہ تو باپ کی محبت پا کر نہال ہو گئی۔ مگر سدرہ بھی اس کی مسلسل عنایات پر پسیج گئی۔ بشیر اب خلاف معمول کام سے سیدھا گھر آتا اور دونوں ماں بیٹی کا بہت خیال رکھتا۔ سدرہ تو اتنے سالوں کی پیاسی تھی، خوشی سے جھوم اٹھی۔ اگرچہ جاریہ کے کہے گئے الفاظ ابھی اس کے دماغ سے محو نہ ہوئے تھے۔ اور پھر وہ حاملہ ہو گئی۔ سدرہ کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا۔ وہ خدا کا شکر ادا کرتے نہ تھکتی تھی کہ دیر سے ہی سہی مگر بشیر پوری طرح اس کی طرف لوٹ آیا ہے۔ شاید اس نے گھر سے باہر کی دنیا اچھی طرح دیکھ لی ہے یا ہو سکتا ہے اب اکتالیس سال کی عمر میں اسے باہر کہیں وہ اہمیت ہی نہ ملتی ہو۔ اگرچہ جاریہ اسے بار بار محتاط رہنے کے لئے کہتی تھی پھر بھی سدرہ کو بشیر کی محبت پر بھروسا ہو گیا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں



پچاس ہزار واقعات میں سے ایک۔ مبنی بر حقیقت ، سبق آموز اور ہوشربا۔