مَردوں کا پردہ بکارت
بات ملک بشیر تک بھی پہنچی۔ اور سب نے مل کر پروگرام بنایا کہ آئندہ سردیوں میں سب اکٹھے ہو کر پاکستان جائیں گے۔ وہاں سدرہ کی فیملی، بشیر کی فیملی اور وسیم کے ماں باپ کے سامنے روشنی اپنے تمام اقدامات کا راز کھولے گی۔
اور آخرکار وہ شام آ گئی۔
یہ ملک پور میں ملک بشیر کے ماں باپ کا گھر تھا۔ لیکن اب یہ تیس سال پرانا وہ قدیم طرز کا چھوٹا سا مکان نہیں تھا جہاں سے بشیر پہلی بار جرمنی گیا تھا۔ جس کی کچی دیواروں پر اپلوں کو سوکھنے کے لئے چپکا دیا جاتا تھا۔ جس کی چھتوں کو ہر برسات سے پہلے لپائی کرنا ضروری تھا۔ مگر پھر بھی بارش تیز ہوتی تو چھت کہیں نہ کہیں سے ٹپک ہی پڑتی اور ہر ٹپکتی جگہ کے نیچے تسلے اور بالٹیاں رکھنا پڑتیں۔ اب یہ آٹھ دس کمروں کی ایک ماڈرن حویلی تھی۔ آس پاس کے گھروں میں نہایت نمایاں۔
پروگرام کے مطابق ایک بڑے ہال کمرے میں سب لوگ اکٹھے ہو گئے۔ ملک بشیر، اس کے والدین، سدرہ، اس کے ماں باپ، وسیم اور اس کے والدین، ملک بشیر کے مامے چاچے کزنز اور ملک خاندان کے کچھ دوسرے مرد حضرات۔ چھوٹے بچے سب سو چکے تھے۔
روشنی نے ان سے مخاطب ہو کر پہلے سب کو آفر کی کہ وہ اپنا اپنا سوال کر لیں، کیونکہ پھر جب وہ بولنا شروع کرے گی تو وہ کسی کو دخل اندازی کی اجازت نہیں دے گی۔ ملک پور کے کسی بھی گھر میں یہ پہلی بار ہونے جا رہا تھا کہ تمام مرد گھر کے بچوں پر حکم چلانے کی بجائے کسی نوجوان لڑکی کی تقریر سننے کے لئے با ادب بیٹھنے پر مجبور کر دیے گئے تھے۔ خاندان کی بڑی بوڑھیوں کی زندگی کا بھی یہ پہلا اور انوکھا واقعہ تھا۔ ویسے کچھ خواتین اندر ہی اندر اس بات پر خوش بھی تھیں۔
ملک بشیر اور اس کے والدین تو سہمے ہوئے بیٹھے تھے کہ کہیں روشنی کوئی ایسی بات نہ کہہ دے جس سے ان کی بنی بنائی عزت ہی جاتی رہے۔ وسیم کے ماں باپ اس لئے ڈرے ہوئے تھے کہ اگر وسیم کا ہی کوئی قصور نکل آیا تو روشنی کہیں اسے طلاق ہی نہ دے دے۔ صرف سدرہ اور اس کے ماں باپ پرامید تھے کہ جو بھی ہو گا اچھا ہی ہو گا۔ انہیں روشنی پر پورا اعتماد تھا۔
جب ہر کوئی اپنی اپنی عقل اور معلومات کے مطابق سوال کر چکا تو روشنی بولی ”اب سب لوگ میری بات سکون اور غور سے سنیں۔ درمیان میں کوئی سوال نہیں کرے گا اور نا ہی یہاں سے اٹھ کر جائے گا۔ جس نے جانا ہے وہ ابھی چلا جائے“ ۔
لیکن سب اپنی اپنی جگہ پر اسی طرح بیٹھے رہے۔
روشنی نے بات جاری رکھی ”مجھے یقین ہے کہ میری بات سننے کے بعد ہر کسی کو اپنے اپنے سوال کا جواب مل جائے گا“ ۔
سب اپنی اپنی جگہ پر دبکے روشنی کی طرف متوجہ تھے۔ اس نے سب کو باری باری ایک نظر دیکھا اور یوں گویا ہوئی ”یہ ایک پھیلی ہوئی کہانی ہے، جس کا آغاز ملک بشیر کی جوانی سے ہوتا ہے۔ حیران مت ہوں، میں اسی ملک بشیر کی بات کر رہی ہوں جو میرا باپ بھی ہے۔ ایک ایسا نوجوان جس کی تعلیم کا یہ حال تھا کہ اس نے مرکھپ کے میٹرک پاس کیا اور کتنے سالوں تک آوارہ کتوں کی طرح ملک پور کی گلیوں میں بے کار گھومتا رہا“ ۔ روشنی نے لفظ آوارہ کتوں پر خاص زور دیا تھا اور اسی لفظ کو سن کر وہاں موجود مردوں کی پیشانیوں پر بل بھی ابھر آئے تھے۔ البتہ کسی نے کچھ کہنے کی جرات نہیں کی۔ روشنی نے بھی کسی کی پرواہ نہیں کی اور آگے بولی ”اس گھوما گھامی میں اس نے کتنی ہی شریف اور معصوم لڑکیوں پر آوازے بھی کسے اور انہیں ورغلانے کی کوشش بھی کی۔ مگر اس کی شرافت پر کوئی حرف نہیں آیا کیونکہ یہ ملکوں کا لڑکا تھا اور وہ معصوم لڑکیاں مزدور پیشہ والدین کی اولادیں۔ پھر باپ کی زمین کا ایک ٹکڑا بیچ کر یہ ایجنٹ کے ساتھ نگر نگر کے دھکے کھاتا ہوا جرمنی پہنچ گیا۔ اس نے وہاں سیاسی پناہ کی درخواست دی مگر یہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اسے پناہ نہیں مل سکتی۔ چنانچہ اس نے بھاگ دوڑ کر کے ایک جرمن عورت تلاش کی، جو عمر میں اس سے پچیس سال بڑی تھی۔ اور یہ بغیر نکاح کے اس عورت کے ساتھ رہنے لگا۔ اگر آپ نہیں جانتے تو میں بتا دیتی ہوں، اس عورت کا نام کلاؤڈیا تھا۔ کئی مہینے اسی طرح یہ دونوں اکٹھے رہے اور پھر کلاؤڈیا نے اس سے شادی کر لی۔ وہ اس سے پہلے تین شادیاں کر کے طلاق لے چکی تھی۔ ان تینوں خاوندوں کے علاوہ بھی اس کے کئی مردوں سے تعلقات رہ چکے تھے۔ مگر ملک بشیر کو اس سے شادی کرنے میں کوئی اعتراض نہ تھا۔ وجہ ظاہر ہے اسی شادی سے اسے جرمنی میں قیام کا ویزا ملنا تھا۔ پھر اس نے تین سال تک اسے کما کر کھلایا بھی اور اس کا بستر بھی گرم کیا۔ اگر یہ دونوں کام نہ کرتا تو وہ اسے طلاق دے دیتی اور اس کا ویزا کینسل ہو جاتا۔ اس لئے ان تین سالوں میں اس نے بے چون و چرا اس سے شادی نبھائی۔ حالانکہ اسی گھر میں کبھی کبھار کلاؤڈیا کے پرانے ملنے والے بھی آ جاتے تھے۔ سب مل کر شراب پیتے اور اودھم مچاتے مگر اسے کوئی اعتراض نہ ہوتا کیونکہ ویزا تو کلاؤڈیا کی مرضی پر پھنسا ہوا تھا۔ بات یہاں تک محدود نہ تھی بلکہ کلاؤڈیا کی نوجوانی میں قدم رکھتی ہوئی بیٹی بیانکا کی قربت بھی اسے حاصل ہو گئی۔ جو بعد میں جنسی تعلقات میں بھی بدل گئی۔ یعنی ملک بشیر صاحب نے اپنی سوتیلی بیٹی کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کر لئے جو میری ماں کے ساتھ ان کی شادی کے بعد بھی چلتے رہے۔
تین سال کلاؤڈیا کے ساتھ پورے ہونے کے بعد انہیں پکا ویزا مل گیا۔ اسی لئے انہوں نے فوراً ً کلاؤڈیا سے طلاق کی درخواست دائر کر دی۔ لیکن اس کے انکار کی وجہ سے انہیں طلاق حاصل کرنے میں دو سال لگ گئے۔ اس دوران انہوں نے میری ماں کے ساتھ منگنی کر لی اور طلاق ملنے کے بعد شادی بھی۔
شادی کے وقت میری ماں کی عمر اٹھارہ سال تھی اور ملک بشیر صاحب تیس سال کو پہنچ چکے تھے۔ میری ماں اپنے بہن بھائیوں میں بڑی تھی اس لئے گھر کے تمام کاموں میں ماں باپ کا ہاتھ بٹاتی تھی۔ اسے کھیل کود سے بھی کافی دلچسپی تھی۔ سکول کی تعلیم کے
دوران، دوڑ میں حصہ لیتے ہوئے کہیں اس کا پردہ بکارت پھٹ گیا۔ جو کہ عام سی بات تھی۔ لیکن میرے باپ نے جو خود طرح طرح کے گناہ کر چکا تھا، سہاگ رات خون کے چند قطرے نہ بہنے پر، میری ماں کے کردار پر ہی انگلی اٹھا دی۔ حتیٰ کہ اسے قبول کرنے سے ہی انکار کر دیا۔ بھلا ہو میری دادی اور دادا کا جن کے سمجھانے پر اس وقت خاموش بھی ہو گیا۔ یہاں تک کہ اسے اپنے ساتھ جرمنی بھی لے گیا۔ مگر یہ بات اس کے دل سے کبھی نہیں گئی کہ سہاگ رات میری ماں کے جسم سے خون نہیں بہا تھا۔ جرمنی لے جا کر بھی اس نے میری ماں کو دس سال سے زیادہ اس ناکردہ گناہ کی سزا دی۔ ذرا سوچئے! پردیس میں، جہاں اس کا کوئی بھی اور اپنا نہ تھا، میری ماں عین جوانی میں دس سال اپنے خاوند کے پیار سے بھی محروم رہی۔ افسوس تو یہ ہے کہ یہاں سے بھی کسی نے اس سے نہیں پوچھا کہ ایک بیٹی کے بعد دس سال تک تمہاری کوئی دوسری اولاد کیوں نہیں ہوئی؟ کیونکہ یہاں میرے دادی دادا کو وہاں سے پیسہ جو آ رہا تھا۔ جس سے پورے خاندان کے ٹھاٹھ باٹھ چل رہے تھے۔ کسی کو یہ فکر بھی نہیں ہوئی کہ اٹھارہ سال کی لڑکی جو پہلی بار پردیس گئی ہے، چودہ سال تک اپنے والدین سے ملنے کیوں نہیں آ سکی؟ ہوش سنبھالنے کے بعد جب مجھے اصل حالات سے آگاہی ہوئی تو میں نے فوراً ً فیصلہ کر لیا تھا کہ میں ماں کو بے گناہی کے باوجود ملنے والی سزا کا تھوڑا بہت بدلا ضرور لوں گی۔ اسی لئے میں نے جوان ہونے کے بعد خود ہی مصنوعی طریقے سے اپنا پردہ بکارت ضائع کر دیا۔ میری زندگی میں وسیم سے پہلے کوئی مرد نہیں آیا۔ جرمن لڑکے کا نام میں نے صرف آپ لوگوں کی نام نہاد غیرت کا معیار چیک کرنے کی غرض سے کیا تھا۔ لیکن دیکھئے جب بات اپنے مطلب پر آئی تو غیرت اڑن چھو ہو گئی۔ کسی نے ایک بار بھی نہیں کہا کہ ہمیں ایسی لڑکی کا رشتہ منظور نہیں جو پہلے ہی کسی جرمن لڑکے کی دوست رہ چکی ہے۔
ایک اور بات، میرے باپ ملک بشیر نے تو میرے دس سال کی ہونے کے بعد ہی کوشش شروع کر دی تھی کہ کسی طرح مجھے پاکستان لے آئے اور میری باقی کی زندگی یہاں کے خرابے میں گزرے۔ مگر خدا کا شکر ہے میری ماں نے ملک بشیر کی نیت کا صحیح وقت پر اندازہ لگا کے مجھے بچا لیا۔
مجھے ملک وسیم سے کوئی عناد نہ پہلے کبھی تھا اور نہ اب ہے۔ یہ بہت اچھا لڑکا ہے۔ اور اگر اسے منظور ہوا تو میں اپنی پڑھائی مکمل ہوتے ہی اسے ہر طرح کا آرام فراہم کرنے کی بھی کوشش کروں گی۔ میں تو آپ لوگوں کو صرف اتنا بتانا چاہتی تھی کہ آپ لوگ شادی کے وقت لڑکی سے اس کے کنوار پن کا مطالبہ فقط اس صورت میں کرتے ہیں وہ بے چاری کمزور اور ضرورت مند ہوتی ہے۔ لیکن اگر ضرورت آپ کی ہو، چاہے وہ جرمنی کا ویزا ہی کیوں نہ ہو، پھر پچیس سال کا ملک بشیر پچاس سال کی کلاؤڈیا کا چوتھا خاوند بھی بن جاتا ہے۔ اور دوسروں کو غیرت کا سبق دینے والا، اپنی سوتیلی بیٹی سے جنسی تعلق بھی قائم کر لیتا ہے۔ پھر ملک وسیم اور اس کے ماں باپ یہ جاننے کے باوجود کہ روشنی اب کنواری دوشیزہ نہیں ہے، نہ صرف اس سے شادی کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں بلکہ اس کی وہ تمام شرطیں بھی مان لیتے ہیں، جو عام حالات میں کبھی نہ مانتے۔ یہی ہے آپ لوگوں کی غیرت اور یہی ہے وہ کردار کی پاکیزگی جس کے بارے میں لاعلمی کی وجہ سے بھی شک ہو جائے تو آپ اس مجبور اور مظلوم لڑکی کی زندگی کو جہنم بنا دیتے ہیں۔ میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ میری اس تقریر سے نہ تو آپ لوگوں کے رویے تبدیل ہوں گے اور نا ہی ایسی مظلوم لڑکیوں پر آپ کا ظلم انجام کو پہنچے گا۔ میں دو دن کے بعد واپس جا رہی ہوں کیونکہ میری پڑھائی بہت نازک مقام پر پہنچی ہوئی ہے۔ میں اسے جلد از جلد مکمل کرنا چاہتی ہوں۔ آپ لوگ اپنے وسیم کے بارے میں فیصلہ کر لیجیے کہ اسے واپس میرے ساتھ بھیجنا چاہتے ہیں یا نہیں؟ میں نے اس کی تنخواہ میں سے بچا کر اب تک کچھ پیسہ جمع کر رکھا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ جونہی میری تعلیم مکمل ہو تو اسی پیسے کو استعمال کر کے، وسیم بھی وہاں سے کوئی اچھی ڈگری حاصل کرے یا پھر کوئی ہنر سیکھ لے۔ تاکہ اسے بھی کوئی ڈھنگ کی نوکری مل سکے۔ لیکن اگر وہ یہاں رہنا چاہتا ہے تو میں وہ پیسہ اسے یہاں بھیج دوں گی۔ مجھے اپنی ذات کے لئے اس پیسے کی ضرورت نہیں ہے۔ فیصلہ آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہے یا پھر خود وسیم نے کرنا ہے۔ اب اگر کوئی شخص مجھ سے نیا سوال کرنا چاہتا ہے تو بولے ”۔
مگر جب کئی منٹ تک سب سر جھکائے خاموش بیٹھے رہے تو روشنی پھر سے بولنے لگی ”آپ لوگوں کے پاس تو لگتا ہے اب کوئی سوال نہیں بچا لیکن میرے پاس ابھی بہت سے سوال باقی ہیں۔ موقع بھی بہت اچھا ہے۔ آپ سب لوگ شاید مجھے پھر کبھی ایسے مل بھی نہ سکیں۔ بات یوں ہے کہ جب میں نے تھوڑا تھوڑا ہوش سنبھالنے کے بعد اپنی ماں سے ملک پور اور یہاں کے ماحول کے بارے میں باتیں سننا شروع کیں تو تبھی سے کئی سوالوں کے بیج میرے دماغ میں بوئے جا چکے تھے۔ پھر میں کچھ بڑی ہوئی، یہاں اپنے رشتہ داروں سے فون اور ویڈیو کال پر باتیں کرنے لگی تو میرے سوال بھی جوان ہونے لگے۔ اب جن کی فصلیں پک کر تیار ہو چکی ہیں۔“ ۔
تبھی وہاں موجود ایک نوجوان نے اس کی بات کاٹی اور بولا ”ہمیں اور بھی کام ہیں مسز وسیم! تم اپنا سوال کرو، تمہاری تقریر ہم نے کافی سن لی ہے“ ۔
”بہت اچھا“ ۔ روشنی اس نوجوان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ”تو میں سیدھا اپنے پہلے سوال پر آجاتی ہوں۔ یہاں جتنے بھی شادی شدہ مرد موجود ہیں، ذرا مجھے بتائیں ان میں سے کتنے ہیں جو اپنی ماں کی قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے شادی سے پہلے کسی عورت سے جسمانی رشتہ قائم نہیں کیا تھا؟ چاہے دوستی، شادی کے لالچ میں، خواہ پیسے خرچ کر کے یا پھر زبردستی؟“ ۔
چند لمحے تو خاموشی طاری رہی۔ روشنی نے سب کی طرف فردا ً فردا ً سوالیہ نظروں سے دیکھا ”مطلب کوئی ایک بھی نہیں؟“ ۔
ایک اور نوجوان نے روشنی کی اس بات کو چیلنج سمجھا اور کھڑا ہو گیا۔ پھر پورے جوش میں بولا ”ہم ملک ہیں میڈم جرمنی! اس طرح کے تعلقات تو ہماری مردانگی کی شان ہوتے ہیں۔ تمہیں کیا تکلیف ہے اس میں؟“ ۔
”تکلیف مجھے نہیں، تکلیف تو تمہیں اور تمہارے جیسے مردوں کو ہوتی ہے مسٹر ملک صاحب! جس عمل پر تم ناز کر رہے ہو، اسے اپنی مردانگی سے تعبیر کر رہے ہو، اس کا دوسرا مطلب ہے کہ اگر مردوں کا کوئی پردہ بکارت ہوتا ہے تو تم لوگ اسے شادی سے پہلے ہی ضائع کر چکے ہوتے ہو۔ تو میرا سوال صرف اتنا ہے کہ جب تم لوگوں کا اپنا پردہ بکارت پھٹ چکا ہوتا ہے تو تم اپنی آنے والی بیوی سے کیوں مطالبہ کرتے ہو کہ وہ پردہ بکارت سمیت آئے، اس پر ذرا برابر خراش بھی نہ پڑی ہو۔ اور اگر کھیل کود وغیرہ میں یا ایسی ہی کسی وجہ سے وہ اپنی جگہ قائم نہ رہ سکا ہو تو تم اس کے کردار پر ہی انگلی اٹھا دیتے ہو۔ اسے اپنانے سے بھی انکار کر دیتے ہو۔ کوئی مجھے یہ بتانا پسند کرے گا کہ اگر آپ کا پردہ بکارت بھی ضائع ہو چکا ہوتا ہے یا سرے سے ہوتا ہی نہیں تو آپ لوگ عورت کا سارا کردار صرف اسی ایک نقطے پر کیوں مرکوز کر دیتے ہو؟ کون حق دیتا ہے آپ کو اس منافقت کا؟ اور میں تو چلو جرمنی میں پیدا ہوئی اور پلی بڑھی، مذہب سے بھی برائے نام ہی تعلق ہے میرا لیکن میں دیکھ رہی ہوں کہ یہاں بیٹھے ہوئے اکثر بزرگوں کی پیشانیوں پر محرابوں کے نشان ہیں۔ وہ یقیناً مذہب کے بارے میں بھی بہت کچھ جانتے ہوں گے۔ تو میں ان سے سوال کرتی ہوں کہ شادی کے وقت عورت کا باکرہ (دوشیزہ) ہونا لازمی ہے، یہ کس مذہبی کتاب میں لکھا ہے؟
ایک بزرگ نے فوراً ً اٹھ کر اسے ڈانٹتے ہوئے کہا ”بس بس، چپ ہو جاؤ لڑکی۔ تم اپنی حد سے بہت آگے بڑھ رہی ہو“ ۔
”جی جی، میں معذرت چاہتی ہوں۔ میں جانتی ہوں، یہاں کا رواج ہی یہی ہے کہ سوال کا جواب نہ دے سکیں تو سوال کرنے والے کو ہی چپ کرا دیتے ہیں۔ اگر کوئی اور طریقہ نہ ہو تو کسی نہ کسی بہانے سے قتل کر کے ہی۔ میں تو یر دو دن میں جا ہی رہی ہوں یہاں سے، مگر جاتے جاتے آپ لوگوں کو بتاتی جاؤں کہ سوال جواب اور مکالمے کی فضا پیدا کیجئے۔ ورنہ آپ لوگ یہیں رکے رہ جائیں گے اور دنیا آپ کو اپنے قدموں تلے روندتی ہوئی آگے گزر جائے گی“ ۔
اس سدرہ کا ہاتھ پکڑا اور اپنے لئے مخصوص کمرے میں آ گئی۔
دوسرے دن سب سے پہلے ملک بشیر ان کے پاس آیا اور دونوں ماں بیٹی سے اپنے کیے پر معافی مانگی۔ روشنی تو اس کے حق میں نہ تھی مگر سدرہ نے ملک بشیر کو معاف کر دیا۔ پھر وسیم آیا اور اس نے روشنی سے کہا کہ وہ ہر حال میں اسی کے ساتھ رہے گا۔ اگر ممکن ہو سکا تو وہ سب اذیت جو روشنی نے سدرہ کے ساتھ مل کر جھیلی ہے اس کا تدارک کرنے کی کوشش کرے گا۔


پچاس ہزار واقعات میں سے ایک۔ مبنی بر حقیقت ، سبق آموز اور ہوشربا۔