بٹگرام کا خادم: فیاض محمد جمال خان اور ان کے کارنامے

بٹ گرام ہزارہ ڈویژن کا اہم اور مرکزی ضلع ہے جو جغرافیائی لحاظ سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ ضلع کی آبادی تقریباً سات لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ ضلع بٹ گرام قومی اسمبلی کے ایک اور صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں میں منقسم ہے۔ جس میں دو تحصیلیں بٹ گرام اور الائی اور 20 یونین کونسل ہیں۔ ضلع بٹگرام قدرتی طور پر سر سبز اور گھنے جنگلات سے لبریز فلک بوس پہاڑوں، لہلہاتی ہوئی حسین وادیوں اور کھیتوں کلیانوں، سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی ندی نالوں، قدرتی چشموں اور آبشاروں کی سر زمین ہے۔
سیاحتی طور پر سوات، مری، اور زیارت بلوچستان سے قدرتی حسن میں کم نہیں۔ پاکستان بننے کے بعد اب تک لوگ چاند اور مریخ کو مسخر کر گئے مگر بٹ گرام کے مکین وہی دقیانوسی زندگیاں بسر کر نے پر مجبور ہیں۔ تعلیمی، طبی، مواصلاتی، سیاسی اور ترقیاتی میدانوں میں بٹ گرام شاید واحد بد قسمت ضلع ہے۔ جو اب تک کسی مسیحا کے انتظار میں ہے۔ اور آج تک زندگی کے ہر میدان میں ترقی سے محروم ہے۔ خدا جانے بٹ گرام اس ترقی یافتہ دور میں بھی تمام ضروریات زندگی سے کیوں محروم رہا اور اس پسماندگی کے ذمہ دار کون ہیں جو اب تک ایک سوالیہ نشان ہے۔ شاید بٹ گرام کی پسماندگی اس ضلعے کی عوام کا مقدر ہے۔ یا سیاسی شعور کے فقدان کے بدولت یہاں کے سیاسی پنڈت پانچ تن پاک ہیں جو انگریز کے فارمولے (Divide and Rule) کے مطابق عوام کو ڈلہ، جبنوں میں تقسیم کر کے بٹ گرام کے عوام کو سیاسی آزادی اور ترقی دینا نہیں چاہتے۔
اگرچہ مرحوم ضیاء الحق کے شوری دور سے لے کر اب تک ایوان اقتدار سے ترند گروپ کے قائد الحاج محمد یوسف خان ترند اور بیاری گروپ و تیلوس گروپ قومی و صوبائی قائدین مرحوم نواب آف الائی الحاج محمد ایوب خان الائی۔ ان کے فرزندان پرنس محمد نواز خان الائی، الحاج فتح محمد خان اور شاہ حسین باچہ تیلوس منسلک رہے ہیں۔ جبکہ تھاکوٹ گروپ کے قائد مرحوم الحاج عالم زیب خان تھاکوٹ اور بٹ گرام گروپ کے الحاج محمد ایاز خان ایڈوکیٹ (مرحوم) جمعیت العلماء اسلام (ف) کے مولنا قاری محمد یوسف خان پر بھی قسمت کی دیوی مہربان ہو کر بٹ گرام کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
مگر پھر بھی بٹگرام کے مسائل نہ حکام بالا تک پہنچے اور نہ حل ہوئے۔ ایک اندازے کے مطابق 2008 کے زلزلہ میں تباہ ہونے والے سکولوں میں 189 سکول آج تک نہ بن سکے۔ بٹگرام کے 43 ہیلتھ فسیلٹیز میں 41 میں ڈاکٹر موجود نہیں۔ پورے ضلع بٹگرام میں کوئی ڈرگ انسپکٹر موجود نہیں جو میڈیکل سٹور پر نظر رکھ سکے۔ ضلع کے تمام لنک سڑکیں خراب اور ابتر حالات میں ہیں، 121 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والا ضلع 18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کے ضد میں ہے۔
پ
ضلع بھر میں کوئی پوسٹ گریجویٹ کالج موجود نہیں۔ یونیورسٹی کیمپس کا آغاز 5 سبجیکٹ سے ہوا تھا آج 2 سبجیکٹ کے ساتھ گرلز کالج کے کچھ کمروں تک محدود ہے۔ ہائی سیکنڈری سکولز میں سائنس ٹیچرز اور کمروں کی وجہ سے سائنس کلاسز سے محروم ہے۔ سیاحت کے اعتبار سے نہ سوات سے کم اور نہ ہی مری کاغان سے کم ہے لیکن ریاست کا دیہان نہیں۔ بٹگرام میں ایک بھی کھیلوں کا گراؤنڈ موجود نہیں۔ صاف پانی کا یہ حال ہے کہ ایک این جی او کے رپورٹ کے مطابق بٹگرام کے 21۔
5 % لوگوں کو صاف پانی فراہم ہے۔ بٹگرام بازار ایک ہی بارش سے تالاب بن جاتا ہے۔ اے ایس ڈی میل کے پاس سرکاری گاڑی نہیں۔ اس کے علاوہ بے تحاشا مسائل ہے جس کو ابھی منتخب نمائندوں نے حل کرنے کی نہ کوشش کی ہے اور نہ اس پر بات جو کہ ان کا کام بھی ہے اور فرض مگر اپنے فرائض سے ناآشنا کرسی کے شوقین ان نمائندوں کو کوئی بتائے کہ اب نوجوان نسل میں شعور کی کمی نہیں اب وہ انہیں کو سیلیکٹ کریں گے جو ان کے مستقبل کے لئے عملی کام کر رہے ہو۔
جہاں ایک طرف منتخب نمائندوں کی عدم دلچسپی اور لاپرواہی زوروں پر تھی وہی بٹگرام کے گاؤں ڈیڈل میں پیدا ہونے والے ایک نوجوان بٹگرام کے لئے مسیحا بن کر آئے۔ انہوں نے پچھلے تین مہینوں میں بٹگرام اور بٹگرام کے نوجوانوں کے لئے وہ کچھ کیا جو کوئی اب تک نہ کر سکا میری مراد نوجوانوں میں ابھرتے اور مقبول ہوتی شخصیت فخر بٹگرام، فرزند بٹگرام، سربراہ پیرزئی ملکال قوم و خادم بٹگرام فیاض محمد جمال خان ہیں جنہوں نے بغیر کسی لالچ کے بٹگرام کے لئے وہ کچھ کیا جو رہتی دنیا تک سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔
سال 2021 میں بٹگرام کے نوجوانوں کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کی اگر بات کی جائے تو لمبی فہرست ہیں مگر ان میں کچھ خاطر خواہ کارنامے زیر غور ہیں۔ انہوں نے بٹگرام سپر لیگ کے فائنل میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی جہاں ان کے ساتھ لاہور قلندرز کے سی ای او عاطف رانا بھی موجود تھے، یہ تاریخ میں پہلی بار تھا کہ کسی فرنچائز کے اونر نے بٹگرام کا دورہ کیا۔ اکتوبر کے 12 تاریخ کو پیرزئی ملکال قوم کے مشر اور نوجوانوں کے میں مقبول پسندیدہ شخصیت فیاض جمال خان نے بٹگرام ہیروز اور لاہور قلندر کے ہونے والے میچ کے سلسلے میں لاہور قلندر کے سی ای او عاطف رانا کے ہمراہ ان کے دفتر اور لاہور قلندر ہائی پرفارمنس سینٹر کا دورہ کیا۔
اس موقع پر لاہور قلندر کے سی ای او عاطف رانا نے پیرزئی ملکال قوم کے مشر فیاض جمال خان کو لاہور قلندر کی طرف سے سووینئر اور گلدستہ پیش کیا اور ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا۔ دوران ظہرانہ بٹگرام ہیروز اور لاہور قلندر کے درمیان ہونے والے میچ پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ پیرزئی ملکال قوم کے مشر فیاض جمال خان نے کھلاڑیوں کو خوشخبری دیتے ہوئے کہا کہ 13 اکتوبر کو عاطف رانا کے ساتھ دوبارہ میٹنگ ہوگی جس میں انشاءاللہ بٹگرام ہیروز اور لاہور قلندر کی میچ کی تاریخ مقرر کر دی جائے گی، عین ممکن ہے کہ اسی مہینے اکتوبر کی 22 تاریخ کو یہ میچ لاہور یا اسلام آباد کے کسی اچھے گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا۔
اکتوبر کے 16 تاریخ ستارہ مارکیٹ اسلام آباد کے بھٹو کرکٹ گراؤنڈ میں بٹگرام ہیروز اور اسلام آباد کلب کے مابین میچ کھیلا گیا۔ میچ کا مقصد بٹگرام ہیروز کی لاہور قلندر کے خلاف میچ کے لئے تیاری تھا۔ پریکٹس میچ میں بٹگرام ہیروز کے تمام 17 کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع دیا گیا۔ اکتوبر کے 17 تاریخ کو پیرزئی ملکال قوم کے مشر فیاض جمال خان نے لاہور قلندر اور بٹگرام ہیروز کے درمیان لاہور میں کھیلے جانے والے میچ سے قبل اشلوڑ قوم کے نوجوانوں کے لئے بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کرکٹ سے دلچسپی رکھنے والے وہ نوجوان جو یہ میچ دیکھنا چاہتے ہو ان کو بھی لاہور ساتھ لے کر جائیں گے۔
پیرزئی ملکال قوم کے مشر فیاض جمال خان نے یہ بھی کہا کہ اس میچ کو دیکھنے کے لئے لاہور جانے والے قوم اشلوڑ کے نوجوان میرے مہمان ہوں گے اور پختون روایات کے مطابق ان کی خاطر تواضع کریں گے۔ اکتوبر کے 22 تاریخ کو لاہور میں بٹگرام ہیروز اور لاہور قلندر کے مابین میچ کھیلا گیا۔ بٹگرام کے نوجوانوں پر کرکٹ کے دروازے کھولنے ان کو نیشنل اور انٹرنیشنل لیول کے کھلاڑیوں سے کھیلنے کے مواقع فراہم کرنے پر بٹگرام کے سیاسی و سماجی حلقوں نے ہر سال 22 اکتوبر کو ”یوم فیاض جمال“ کے طور پر منانے کا فیصلہ کر لیا۔
اکتوبر کے 31 تاریخ کو ہزارہ یونیورسٹی میں بٹگرام کلچرل نائٹ میں بحیثیت مہمان خصوصی شریک ہوئے۔ ہزارہ یونیورسٹی میں بٹگرام کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہزارہ یونیورسٹی میں زیرتعلیم بٹگرام کے طلباء کی مسائل کے حل کے لئے ہر حد تک جاؤنگا۔ اور اس کے لیے ہر ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، تفصیلات کے مطابق ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ میں بٹگرام سٹوڈنٹس سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقدہ ”بٹگرام کلتوری شپہ“ پروگرام میں طلباء سے مخاطب ہوتے ہوئے فیاض جمال خان نے کہا کہ ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ میں پڑھنے والے بٹگرام کے نوجوانوں کو تعلیمی میدان میں فیسوں، رہائش، ٹرانسپورٹ و دیگر کئی مسائل کا سامنا ہے، ہاسٹل، ٹرانسپورٹ اور اسکالرشپ نہ ملنے کئی طلباء کا مستقبل تاریک ہونے کا اندیشہ ہے۔
ان طلبا کے مسائل حل کرنے کے لئے ہر ممکن کوششیں کروں گا اور جہاں بھی ان کو میری ضرورت پڑی میں ہمہ وقت تیار رہوں گا۔ نومبر کے 11 تاریخ کو کشمیر پریمیئر لیگ کے فرنچائز مظفر آباد ٹائیگر کے مالک ارشد خان تنولی نے پیرزئی ملکال قوم کے مشر فیاض محمد جمال خان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں ارشد خان تنولی نے فیاض محمد جمال خان کو بٹگرام ہیروز اور مظفر آباد ٹائیگرز کے درمیان میچ کھیلنے کی باضابطہ دعوت دی جسے انھوں نے قبول کیا۔
اس موقع پر پیرزئی ملکال قوم کے مشر فیاض محمد جمال خان نے مظفر آباد ٹائیگر کے مالک ارشد خان تنولی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میرے قوم کے نوجوان میرا سرمایہ ہیں اور بٹگرام ہیروز کا مظفر آباد ٹائیگرز کے ساتھ میچ کھیلنا ان کے لئے باعث فخر ہے۔ انھوں نے کہا کہ جلد بٹگرام ہیروز اور مظفر آباد ٹائیگرز ایک ساتھ مظفر آباد کرکٹ اسٹیڈیم میں ایکشن میں نظر آئیں گے۔ نومبر کے 21 تاریخ کو فیاض محمد جمال خان نے بٹگرام کے طلباء و طالبات کو خوشخبری دیتے ہوئے کہا کہ بہت جلد کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ان کے لئے ایک تقریب کا اہتمام کیا جائے گا جس میں ان طلباء کے مابین مختلف غیر نصابی سرگرمیوں کے مقابلے کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس تقریب میں پاکستان کے مختلف سیاسی و سماجی شخصیات، وزراء اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو مدعو کیا جائے گا جو بٹگرام کے باصلاحیت نوجوانوں کی صلاحیتوں کو دیکھنے آئیں گے۔ نومبر کے 28 تاریخ کو ٹگرام کے مسائل کو حکام بالا تک پہنچانے کے لئے اسلام آباد میں ضلع بٹگرام سے تعلق رکھنے والے طلبہ کا الائنس بن گیا، خادم بٹگرام فیاض جمال کہتے ہیں بٹگرام کے مسائل کے حل کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کردار ادا کرتا رہوں گا۔
تفصیلات کے مطابق آج رمادا ہوٹل اسلام آباد میں فخر بٹگرام، فرزند بٹگرام و سربراہ پیرزئی ملکال قوم مشر فیاض محمد خان کی زیر صدارت اسلام آباد میں ضلع بٹگرام سے تعلق رکھنے والے مختلف تعلیمی اداروں، کالجز اور جامعات میں زیر تعلیم طلباء و نوجوانان بٹگرام کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں راولپنڈی اسلام آباد کے مختلف جامعات جن میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، قائد اعظم یونیورسٹی، شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی، اباسین یونیورسٹی، نمل یونیورسٹی، امان میڈیکل کالج سمیت دیگر میں زیر تعلیم بٹگرام سٹوڈنٹس کی ایک تنظیم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
دسمبر کے 7 تاریخ کو کامیاب جوان سپورٹس ڈرائیو اور لاہور قلندرز کے اشتراک سے ڈائمنڈ گراؤنڈ میں ٹرائلز لئے گئے جس میں سربراہ پیرزئی ملکال قوم، خادم بٹگرام فیاض محمد جمال خان کی انتھک محنت اور کاوشوں سے بٹگرام کے باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں نے اوپن ٹرائلز میں حصہ لیا جن میں تحصیل آلائی اور تحصیل بٹگرام کے کھلاڑی شامل تھے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید اور راشد لطیف کی زیرنگرانی ٹرائلز لیے گئے جبکہ معاون خصوصی برائے نوجوان عثمان ڈار نے بطور مہمان خصوصی ٹرائلز میں شرکت کی۔
دسمبر کے 13 تاریخ کو سربراہ پیرزئی ملکال قوم فیاض محمد جمال خان کی کوششوں سے دو قوموں کے درمیان اراضی تنازعہ 100 سال کے بعد ختم ہو گیا۔ قوم اشروڑ اور قوم پیرزائی کے درمیان زمین پر تنازعہ سالوں سے چلا آ رہا تھا جس کے باعث ان دونوں قوموں کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے مگر فیاض محمد جمال خان کی دلچسپی اور کوششوں سے قوموں کے درمیان جاری تنازعہ ختم ہو گیا۔ اس حوالے سے فیاض محمد جمال نے علاقہ معززین پر مشتمل ایک گرینڈ جرگہ بلایا تھا جس میں علاقے کے معززین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
جرگہ کی سربراہی سابق صوبائی وزیر حاجی یوسف خان ترند نے کی جس میں قوم اشروڑ اور قوم پیرزائی ملکال کے مشران نے جرگے کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے آپس کے اختلافات کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیے۔ دونوں قوموں کے درمیان اختلافات کے خاتمے نے علاقے میں جشن کا سماں باندھ دیا۔ اس موقع پر خادم بٹگرام، سربراہ پیرزئی ملکال قوم فیاض محمد جمال خان نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ میری دیرینہ خواہش تھی کہ دونوں قوموں کے درمیان تنازعہ ختم ہو اور آپس میں بھائی چارے کی فضا قائم ہو، آج دونوں قوموں کو ایک ہوتے دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہیں ہے۔
دسمبر کے 18 تاریخ کو خادم بٹگرام فیاض محمد جمال خان نے ضلع بٹگرام کے گاؤں تایا قدیم کے اہالیان کا دیرینہ مسئلہ حل کرتے ہوئے 25 کے وی نیا ٹرانسفارمر ان کے حوالے کر دیا۔ اس موقع پر ترجمان عرفان مغلوب نے ٹرانسفر گاؤں کے مشران کو حوالے کر دیا جس پر گاؤں تایا قدیم کے مشران نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے خادم بٹگرام فیاض محمد جمال خان کا شکریہ ادا کیا اور اقوام بٹگرام کے لئے بے لوث خدمات پر ان کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔
دسمبر کے 19 تاریخ کو فخر بٹگرام، خادم بٹگرام و سربراہ پیرزئی ملکال قوم فیاض محمد جمال خان کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ پشتو زبان کے مشہور شاعر و سابق چیئرمین اباسین پختو اکیڈمی مرحوم زرین پریشان کی یاد میں، ان کی ادبی خدمات کو سراہنے اور خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے اسلام آباد میں جلد تقریب کا انعقاد کیا جائے گا جس میں پشتو زبان کے نامور شعراء، ادیب اور لکھاریوں کو مدعو کیا جائے گا۔ اس ضمن میں اپنے ایک بیان میں خادم بٹگرام فیاض محمد جمال خان نے کہا کہ زرین پریشان ایک روشن باب ہیں جن کی پوری زندگی نہ صرف بٹگرام میں پشتو ادب کی خدمت اور اس کے فروغ دینے میں گزری بلکہ انہوں نے سعودی عرب میں بھی پشتو ادب کی ترویج اور فروغ کے لئے گراں قدر خدمات سرانجام دی ہے۔
ضلع بٹگرام میں زرین پریشان جیسی شخصیت کا ہونا کسی نعمت سے کم نہیں تھا جنہوں نے جس طرح اپنی شاعری سے لوگوں میں آگاہی اور علم بانٹا ہے اس کی دوسری کوئی مثال نہیں ملتی۔ اس کے بعد بٹگرام کے مختلف تعلیمی اداروں اور مدارس کلے طلبا کے مابین کوئز اور قرات مقابلے منعقد کروائے جن میں پوزیشن لینے طلبا کو ہنڈا موٹر سائیکل اور کیش پرائز انعامات سے بھی نوازا گیا۔ بٹگرام کا نام نیشنل میڈیا کی زینت بنانے اور نوجوانوں کو ایسے بڑے بڑے مواقع فراہم کرنے کے بعد بلاشبہ ہر کوئی کہہ سکتا ہے کہ فیاض جمال خان صحیح معنوں میں خادم بٹگرام ہے۔ بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ اللہ ان کو لمبی زندگی عطا فرمائے اور بدقسمت و پسماندہ بٹگرام کے لئے مزید کام کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین

