نیک لڑکا، ننھی بچی اور صدیوں پرانا بلیک ہول

امداد علی تم آخر اس گھر کا کچھ کرو گے بھی یا ہمارے اس ملبے میں دفن ہونے کے منتظر ہو۔ دیکھو اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی طرف،کیا تمہیں ان پر ترس نہیں آتا؟
امداد علی کی بیوی اس پہ چلا رہی تھی۔اور اس کے پرانے گھر (جو اس کا باپ اس کے نام کر گیا تھا) کی بگڑی ہوئی حالت سے تنگ آ گئی تھی۔اور دن رات اسے کمروں میں داخل ہوتے خوف کھاتا تھا کہ کہیں کسی دن یہ جھولتی چھت اس کے اور بچوں کے سر پہ آ گرے گی اور ان کی جان لے لے گی ۔
امداد علی کوئی غریب آدمی نہ تھا پاب اچھی خاصی زمین وراثت میں دے گیا تھا ۔اور کوئی بھی بڑا کام ہوتا تو امداد علی اسی زمین کو بیچ کے اسی رقم سے کرتا۔ مثلاً پچھلے برس جب اس کی یتیم بھانجی کی شادی ہوئی تھی تو اس نے اپنی زمیں کا ہی کچھ حصہ بیچ کر شادی میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔ اور جہاں تک گھر کی مرمت کی بات تھی اس سلسلے میں وہ کافی لا پرواہ سا انسان تھا ۔ لیکن آج اس نے اپنی زینت کی باتیں اس پہ اثر کر ہی گئیں۔اور کیوں نہ کرتیں۔ وہ سچ ہی تو کہہ رہی تھی۔
او زینتے تم پریشان کاہے ہوتی ہو؟ اچھا, کچھ دن صبر کرو کرتا ہوں کچھ انتظام اس گھر کا بھی ۔
یہ کہہ کر وہ باہر چلا گیا ۔
رات کو گھر واپس آیا تو سب کھانے پہ اس کا انتظار کر رہے تھے ۔بیوی بچوں کے علاوہ اس کا بھائی ، عابد بھی اس کے ساتھ رہتا تھا ۔
کھانا کھانے کے بعد زینت چائے بنانے میں مصروف ہو گئی اور بھائی آپس میں کچھ باتیں کرنے لگے۔ اچانک امداد کو خیال آیا کہ عابد کی منگنی ہوئی اب کافی عرصہ ہو چکا تھا ۔۔اس نے عابد سے کہا:
” لالہ اب شادی کے بارے میں کیا خیال ہے؟ میرے خیال میں تو اب لڑکی والوں کو اور انتظار نہ کروایا جائے ۔ "
عابد اپنے بڑے بھائی کا بہت ادب کرتا تھا اور اس کہ ہر فیصلے پر راضی تھا۔ اس نے جواب دیا:
” جی لالہ جیسے آپ کو مناسب لگے ، پر ۔۔۔”
پر کیا ؟ عابد ( امداد نے حیرت سے پوچھا) کیا بات ہے؟
نہیں لالہ ایسی کوئی بات نہیں بس ایک بات ہے کہ گھر کی ایسی حالت ہے اور شادی ۔۔۔(اس نے آگے کچھ بولنے کی بجائے شادی کو ذرا کھینچ کے لمبا کیا) جس سے امداد علی کو اندازہ ہو گیا کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔اور اس بات سے اسے زینت کا احساس ہوا کہ وہ جب اس گھر میں آئی تھی تب بھی تو یہ گھر ایسا ہی تھا۔پھر اس نے عابد کو کچھ محسوس کروائے بغیر اس گہری سوچ سے نکل کر سر جھٹکتے ہوئے عابد سے کہا:
اوو اچھا! لالہ گھر کی چنتا تم نہ کرو ۔اس کا انتظام میں نے کر لیا ہے۔آج نہر کے پاس والی زمین کے لیے بات کرنے گیا تھا اور سودا بھی ہو گیا ہے کچھ دنوں میں ہی گھر کی تعمیر کا کام شروع ہو جاوے گا ۔ جیسے ہی گھر کی تعمیر مکمل ہو گی تمہیں گھوڑی چڑھا دیں گے ۔اور اس بات پر دونوں بھائی قہقہے لگانے لگے ۔
اتنے میں زینت چائے لے آئی سب نے چائے پی اور سونے کی تیاری کرنے لگے ۔
کچھ دن گزرے گھر کا کام شروع ہونا تھا ۔ اب مسئلہ درپیش ہوا کہ اس صورت میں عابد اور امداد تو اس گھر میں رہ لیں گے پر بچے اور زینت کہاں جائیں گے ۔ زینت پردہ دار خاتون تھی اور بچوں کے معاملے میں بھی امداد علی کسی پہ بھروسہ نہ کرتا تھا۔
ایسے میں امداد علی کے چچازاد بھائی ان سے ملنے ان کے گاؤں آئے ۔ان کی سب برادری والے بہت عزت کرتے تھے اور ان کو حاجی صاحب کہہ کہ بلاتے تھے۔ وہ امداد علی کی سوتیلی دادی یعنی غلام رسول کی پہلی بیوی کی اولاد میں سے تھے اس لیے عمر میں بھی کافی بڑے تھے اس لیے بھی ان کا ادب کرتے تھے ۔سوتیلوں کا تو بس نام تھا۔
وہ انتہائی نیک انسان تھے ۔ نماز و روزہ کے پابند اور خدا تعا لیٰ کے فضل و کرم سے حج و عمرہ کی بھی سعادت پا چکے تھے۔
جب امداد علی نے یہ مسئلہ ان کے سامنے بیان کیا تو وہ بولے:
امداد علی تمہیں اپنے بھائی کے ہوتے پریشان ہونے کی کیا ضرورت ؟ میرا گھر بھی تو تمہارا گھر ہے ۔میں کل اپنے ساتھ زینت اور بچوں کو لیتا جاؤں گا ۔تم بالکل فکر مت کرنا میرے گھر میں یہ لوگ محفوظ رہیں گے۔ اور تمہیں بھی ساتھ آنا ہو تو صبح تیار رہنا۔
نہیں بھائی جان میں اور عابد یہیں رکیں گے گھر کی تعمیر اور دیکھ بھال کے لیے ۔آپ بس بچوں اور زینت کو ساتھ لے جائیں ۔میری تو پریشانی ہی ختم ہو گئی بھلا آپ کے گھر سے زیادہ محفوظ ٹھکانہ کون سا ہو گا ۔(امداد علی کے دل کو سکون ملا اور خوش ہو کے بولا)
اگلی ہی صبح حاجی صاحب انہیں اپنے ساتھ اپنے گھر لے آئے ۔ اور ان کی بیوی اور بچوں نے بہت چاہ اور پیار سے ان کا استقبال کیا۔
حاجی صاحب کے دو بچے تھے بڑا خاور جس کی عمر انیس سال تھی اور چھوٹا یاور جو غالباً سولہ کا ہو گا۔
حاجی صاحب اور ان کی زوجہ کی طرح ان کے بچے بھی بہت نیک تھے ۔ نماز، روزہ اور تمام تر عبادات میں اول اول ہوتے ایک سے بڑھ کر ایک تھے دونوں۔شرم و حیا کے مالک تھے جیسے کوئی بیٹی ہو۔ خواتین اور بزرگوں کہ احترام میں ان سے آگے آج تک کوئی نہ بڑھ سکا تھا۔ تمام جاننے والے اپنے بچوں کو ان لڑکوں کی مثالیں دیتے اور ان کی طرح بننے کو کہتے۔ گلی سے گزرتے ہوئے کبھی کسی خاتون کا سامنا ہوتا تو نظریں جھکا لیتے اور رخ بدل لیتے کہ وہ خاتون بے جھجک گزر جائے۔ آج تک سکول یا کالج میں بھی کسی لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کہ نہ دیکھا تھا۔ عزت دار لوگ تھے لوگوں کی عزت کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔ سہی کہتے ہیں انسان جو بانٹتا ہے وہی اس کی طرف پلٹ کہ آتا ہے۔یہی وجہ تھی کہ خاندان ہو یا باہر کا کوئی شخص ان لڑکوں کے گن گاتا پھرتا تھا اور ہر ایک ان کی عزت کرتا تھا ۔
اب گھر کا معمول کچھ ایسا تھا کہ صبح سویرے نماز کی ادائیگی کے لئے تینوں باپ بیٹے قریبی مسجد میں جاتے اور حاجن گھر پہ عبادت کرتیں اور واپس آ کر سب مل کر ناشتہ کرتے اور پھر حاجی صاحب اپنے کام کو نکل جاتے اور خاور ،یاوراپنے سکول کالج کو۔جبکہ ان کی والدہ ملازمہ کے ساتھ گھر کے کاموں میں مصروف ہو جاتیں ۔ اس کے بعد سب دن کے کھانے پر اکٹھے ہوتے۔ اور کچھ آرام کے بعد شام کو دونوں بچے مدرسے چلے جاتے ، یاور تو ابھی خود قرآن حفظ کر رہا تھا جبکہ خاور اپنی دینی تعلیم مکمل کر کہ وہاں بطور معلم بچوں کو قرآن کی تعلیم دیتا اور یہ کام وہ فی سبیل اللہ کرتا۔ اور کہتا کہ میں صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہوں مجھے اور کوئی معاوضہ نہیں چاہیے۔ہاں! تو، گھر کے معمولات کی بات ہو رہی تھی۔۔ تو حاجی صاحب اپنے دوستوں کے ساتھ کہیں نہ کہیں چلے جاتے اور ان کی زوجہ تلاوت میں مصروف ہو جاتیں اس کے بعد سب شام کے وقت ملتے اور اس وقت حاجی صاحب اپنے بچوں کو اپنے پاس بٹھا کی انہیں اپنے زمانے کہ واقعات سناتے اور نیکی کی مثالیں دیتے ۔ جنہیں بچپن سے سننے لگے تھے پر اب بھی بہت شوق سے سنتے تھے۔
زینت کے آنے سے اس گھر کی رونق جیسے بڑھ گئی تھی اور اس کے بچوں نےاپنی پیاری پیاری باتوں سے آتے ہی اس مکان کے ہر مکین کے دل پر قبضہ کر لیا تھا۔ بجا کہا جاتا ہے بچے گھر کی رونق ہوتے ہیں ۔
بچے بھی بہت جلد خاور اور یاور کے ساتھ گھل مل گئے ۔دونوں جب بھی فارغ ہوتے تو اپنا سارا وقت بچوں کے ساتھ کھیلتے اور انہیں پیار کرتے ۔خاور کو خاص طور پر بچی جس کا نام فضا تھا ،سے خاص لگاؤ تھا ۔ وہ اس سے بہت لاڈ کرتا ۔شام میں مدرسے سے لوٹنے کے بعد دونوں بچوں کو اپنے ساتھ باہر گھمانے لے جاتا انہیں طرح طرح کی چیزیں اور کھلونے لا کہ دیتا ۔
اب زینت بھی گھر کے کام کاج میں حاجن کا ہاتھ بٹانے لگی تھی اور بچوں کو خاور یاور کے ساتھ گھلتا ملتا دیکھ کر ان کی ہر وقت کی دیکھ بھال سے بھی بے فکر ہو گئی تھی۔
ایک دن یوں ہوا کہ حاجی صاحب کے کچھ مہمان آگئے اور گھر کی خواتین باورچی خانے میں کھانے کی تیاری میں مصروف ہو گئیں ۔ جبکہ حاجی صاحب اپنے دوستوں کہ ہمراہ مہمان خانے میں بیٹھے تھے ۔خاور مدرسے سے واپس آیا تو اکیلا تھا ۔یاور مدرسے میں ہونے والے ایک نعتیہ مقابلے کے لیے تیاری کے سلسلے میں وہیں رک گیا۔ گھر آ کر خاور نے بچوں کو سنبھال لیا اور اپنے کمرے میں لے گیا ۔ ماں اور زینت چاچی بے فکر ہو کے اپنا کام کرنے لگیں ۔ اندر لے جا کر اس نے بچوں کو کچھ کھلونے دیے اور وہ کھیلنے میں مگن ہو گئے۔ کھیلتے کھیلتے فضا کا چھوٹا بھائی سو گیا۔ خاور نے اسے پلنگ کے نرم گدے پہ لٹا دیا کہ وہ فرش پہ تکلیف محسوس نہ کرے ۔ اور اب خاور کا پورا دھیان فضا کی طرف تھا وہ اس کی حرکتوں سے بڑا محظوظ ہوتا تھا ۔اسے وہ بہت لبھاتی تھی اور اپنے سارے کام چھوڑ کر اسی کو بس تکتے رہتا۔ خاور فضا میں ہی کھویا تھا کہ اچانک اسے کچھ خیال آیا۔ اور وہ فوراً اٹھ کر کچن میں گیا۔ پانی پیا اور ماں اور زینت کو مصروف پا کر لوٹ آیا۔ وہاں سے وہ سیدھا مہمان خانے کی طرف گیا اور وہاں جانے پر ملازمہ سے پتا چلا کہ حاجی صاحب اپنے دوستوں کے ساتھ کوئی زمین دیکھنے نکل گئے ہیں کچھ دیر تک آئیں گے۔ یہ سن کہ وہ واپس کمرے کی طرف لوٹا جہاں وہ فضا کو کھیلتے چھوڑ کے گیا تھا۔ جب واپس آیا تو دیکھا فضا پلنگ پہ بیٹھی اس کی کتابوں کے صفحات کو آگے پیچھے کررہی ہے ۔ جو کہ ظاہر ہے کسی پانچ سالہ بچی کی سمجھ سے باہر ہی تھے ۔ وہ آہستہ سے فضا کی جانب بڑھا اس کی پیٹھ کے پیچھے کھڑے ہو کر فضہ کو غور سے دیکھنے لگا اور آہستہ آہستہ اسے ایک ہاتھ سے مزید جھکاتے ہوئے خود بھی اس کے اوپر جھک گیا اور اس کہ منھ پر ہاتھ رکھ دیااور پھر۔۔۔۔
Facebook Comments HS

