دیومالائی کردار سنڈریلا اور لڑکیوں کی نفسیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اساطیری کہانیاں کیسے تخلیق ہوتی ہیں اور دیومالائی کردار کیسے بنتے ہیں؟
کیا آپ دیومالائی نسوانی کردار سنڈریلا کو جانتے ہیں؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ کردار صدیوں کے سفر میں کیسے تبدیل ہوا؟

میں بھی ان سوالوں کے بارے میں زیادہ غور نہ کرتا اگر میری ادبی دوست رابعہ الربا اور ’درویشوں کے ڈیرے‘ کے ادبی خطوط کی خالق رابعہ بصری مجھ سے فون پر نہ پوچھتیں کہ سنڈریلا کے دیومالائی کردار نے لڑکیوں اور عورتوں کی نفسیات کو کیسے متاثر کیا ہے؟ اب جب کہ میں نے ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے تو میں نے سوچا کہ رابعہ الربا کے ساتھ ساتھ میں ’ہم سب‘ کے قارئین سے بھی اس ادبی و نفسیاتی مکالمے میں شریک کروں۔

سنڈریلا کردار کی شروعات خداوند زیوس کے دیس کی یونانی مائتھالوجی سے ہوتی ہے۔ سات سو برس قبل مسیح میں اس دیس کی اساطیری کہانیوں میں ایک کردار ایک کنیز RHODOPISکا ہے جو ملک NAUCRATISمیں رہتی ہے۔ ایک دن اس ملک کا بادشاہ محل کے باغ میں استراحت کر رہا ہوتا ہے اور دھوپ سینک رہا ہوتا ہے کہ اس کے سر سے ایک شاہین گزرتا ہے جس کی چونچ میں ایک جوتی ہوتی ہے۔ بادشاہ کے سر کے اوپر پہنچ کر وہ اپنے پر پھرپھڑاتا ہے اور اپنی چونچ سے وہ جوتی بادشاہ کی گود میں پھینک دیتا ہے۔

بادشاہ وہ دیدہ زیب اور دلفریب جوتی دیکھ کر بہت حیران ہوتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اس پراسرار جوتی کی مالک لڑکی سے شادی کرے گا اور اسے اپنی ملکہ بنائے گا۔

بادشاہ سارے ملک میں اپنے خادم بھیجتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ جس لڑکی کو وہ جوتی پوری آ جائے اسے محل میں پیش کیا جائے۔ بادشاہ کے خادم اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں اور اس کنیز لڑکی کو پیش کرتے ہیں جسے وہ جوتی پوری آتی ہے۔ وہ لڑکی ایک مالدار خاندان کی کنیز ہوتی ہے جس کی قسمت جاگ جاتی ہے۔ وہ بادشاہ سے شادی کر کے اس ملک کی ملکہ بن جاتی ہے اور اسے صبر و شکر سے غربت اور مظلومیت کی زندگی گزارنے کا اجر ملتا ہے۔

یہ یونانی کہانی کئی صدیوں اور کئی ثقافتوں کا سفر طے کرتی ہے اور اس میں بہت سے اضافے ہوتے ہیں۔ اس کہانی کی کوکھ سے بیسیوں اور کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ ہر ملک ہر معاشرہ اور ہر ثقافت اس کہانی میں اپنی سمجھ بوجھ اور فکر سے تبدیلیاں لاتے ہیں اور اسے سنوارتے اور نکھارتے ہیں۔

بارہویں صدی میں MARIE DE FRANCEایک ایسی قصہ گو ہے جو اس کہانی میں کچھ اضافے کرتی ہے۔ اس اساطیری کہانی میں ایک امیر عورت اپنی جڑواں بیٹیوں میں سے ایک بیٹی کو ایک درخت کی چھاؤں میں چھوڑ جاتی ہے۔ اس دور میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ اگر کسی عورت کے ہاں دو جڑواں بیٹیاں پیدا ہوئی ہیں تو ان دو بیٹیوں کے دو جدا جدا باپ ہیں اور وہ عورت اپنے شوہر سے بے وفائی کی مرتکب ہوئی ہے۔

وہ عورت جب ایک بیٹی کو درخت کے نیچے چھوڑتی ہے تو اس کے ساتھ نشانی کے طور پر ایک انگوٹھی اور ایک قیمتی ریشمی شال بھی چھوڑ جاتی ہے۔ اس بچی کو ایک اجنبی گود لے لیتا ہے اور اس کی پرورش کرتا ہے۔ وہ اس بچی کا نام FRESNEرکھتا ہے۔

وہ بچی جب جوان ہوتی ہے تو وہ ایک امیر و کبیر نواب کو پسند آ جاتی ہے۔ وہ اس کے عشق میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ وہ اس کی زلف کا اسیر ہو جاتا ہے۔ وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے لیکن اس عہد کی روایت کے مطابق وہ اس غریب عورت سے شادی نہیں کر سکتا کیونکہ اسے صرف کسی اعلیٰ خاندان کی امیر عورت سے شادی کرنے کی ہی اجازت ہے۔ روایت محبت پر غالب آتی ہے۔ چنانچہ وہ ایک امیر خاندان کی عورت تلاش کرتا ہے اور اس سے شادی کرتا ہے اور وہ غریب عورت اس کی کنیز بن جاتی ہے۔

وہ کنیز جب آنے والی دلہن کی خواب گاہ تیار کرتی ہے تو اس کے بستر پر اپنی قیمتی ریشمی شال رکھ دیتی ہے۔ شادی کے بعد جب دلہن کی ماں اس سے ملنے آتی ہے تو وہ اس قیمتی شال کو پہچان لیتی ہے کیونکہ یہ وہی شال ہے جو اس نے کئی برس پیشتر اپنی بیٹی کے ساتھ درخت کے نیچے چھوڑی تھی۔ جب راز فاش ہوتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ نواب کی دلہن غریب کنیز کی جڑواں بہن ہے۔

اس راز کے افشا ہونے کے بعد نواب کو پتہ چلتا ہے کہ وہ جس عورت کے عشق میں گرفتار ہوا تھا وہ بھی ایک اعلیٰ خاندان کی بیٹی ہے۔ چنانچہ وہ اپنی منکوحہ کو طلاق دیتا ہے اور اس کی جڑواں بہن سے شادی کر لیتا ہے۔

سنڈریلا کے اساطیری کردار میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافے ہوتے ہیں اس میں ارتقا ہوتا ہے۔

اساطیری کہانی میں سنڈریلا ایک امیر باپ کی بیٹی بن جاتی ہے جس کی والدہ فوت ہو جاتی ہے اور اس کا باپ دوسری شادی کر لیتا ہے۔ سنڈریلا کی سوتیلی ماں بہت ظالم ہوتی ہے۔ اس کی دو بیٹیاں پیدا ہوتی ہیں۔ سوتیلی ماں اور سوتیلی بہنیں سنڈریلا پر بہت ظلم ڈھاتے ہیں لیکن وہ صبر و شکر سے ان کے ظلم و ستم سہتی ہے لیکن خاموش رہتی ہے اور شکایت نہیں کرتی۔

سنڈریلا کی ایک مچھلی سے دوستی ہو جاتی ہے وہ مچھلی سنڈریلا کی مرحوم ماں کا دوسرا جنم ہے جو اس کا خیال رکھتی ہے۔ سنڈریلا کی سوتیلی ماں اور بہنوں کو وہ مچھلی ایک آنکھ نہیں بھاتی اور وہ اسے مار دیتے ہیں لیکن سنڈریلا اس مردہ مچھلی کی ہڈیاں چھپا کر رکھ لیتی ہے کیونکہ ان ہڈیوں میں ایک طلسماتی طاقت اور جادوئی اثر ہے۔

اس ملک کا شہزادہ محل میں ایک تقریب کا اہتمام کرتا ہے اور ملک کی سب حسیناؤں کو دعوت دیتا ہے کیونکہ وہ شہزادی کا چناؤ کرنا چاہتا ہے۔ سنڈریلا بھی اس تقریب میں جانا چاہتی ہے لیکن اس کی سوتیلی ماں اور سوتیلی بہنیں خود تو زرق برق کپڑے پہن کر چلی جاتی ہیں لیکن سنڈریلا کو گھر چھوڑ جاتی ہیں۔ سنڈریلا پھوٹ پھوٹ کر روتی ہے۔

سنڈریلا کی مچھلی کی ہڈیاں اس کی مدد کرتی ہیں اس کے لیے خوبصورت کپڑوں اور جوتیوں کا اہتمام کرتی ہیں اور وہ خوبصورت کپڑے اور جوتیاں پہن کر تقریب میں جاتی ہے اور شہزادے کو پسند آ جاتی ہے اور شہزادی بن جاتی ہے۔

سترہویں صدی تک پہنچتے پہنچتے سنڈریلا کی عام جوتی شیشے کی دلفریب جوتی بن جاتی ہے۔ اب دیومالائی کہانی میں جب سنڈریلا کی ماں فوت ہو جاتی ہے اور اس کا باپ دوسری شادی کرتا ہے تو اس کی سوتیلی ماں اس سے سارا دن کام کرواتی ہے۔ پھر اس کی دو بیٹیاں پیدا ہوتی ہیں اور وہ بھی اپنی ماں کی طرح سنڈریلا سے کام کرواتی ہیں۔ سنڈریلا صبر و شکر سے کام کرتی ہے اور شکایت نہیں کرتی۔

سارے دن کے کام کے بعد وہ جب سردی میں ٹھٹھرتی ہے تو گرمی حاصل کرنے کی خاطر آتشدان کے قریب بیٹھتی ہے۔ آتشدان کی راکھ اس پر گرتی رہتی ہے اور اس کا سراپا راکھ میں ڈوب جاتا ہے۔ سنڈریلا لفظ اور ترکیب کے ایک معنی راکھ میں دبی لڑکی کے بھی ہیں۔ وہ صبر و شکر کا استعارہ بھی ہے۔

اب اساطیری کہانی میں جب شہزادہ محل میں تقریب کا اہتمام کرتا ہے تو شہر کی سب حسیناؤں کو بلاتا ہے۔ جب سنڈریلا کی سوتیلی ماں اور بہنیں اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو سنڈریلا کے پاس ایک طلسماتی پری آتی ہے وہ اسے شہزادی بناتی ہے اور اسے شیشے کی جوتیاں پہناتی ہے اور محل بھیجتی ہے لیکن یہ بھی نصیحت کرتی ہے کہ رات بارہ بجے سے پہلے گھر آ جانا کیونکہ رات بارہ بجے یہ جادوئی اثر ختم ہو جائے گا۔

سنڈریلا محل میں ناچتی ہے اور شہزادے کو پسند آ جاتی ہے لیکن وہ وقت کا خیال نہیں رکھتی۔ رات بارہ بجے سے چند لمحے پہلے جب اسے ہوش آتا ہے اور وہ گھر بھاگنے لگتی ہے تو اس کی شیشے کی ایک جوتی پیچھے رہ جاتی ہے۔ وہ جوتی شہزادہ اٹھا لیتا ہے۔

اگلے دن وہ اپنا خادم سارے شہر میں بھیجتا ہے کہ اس لڑکی تو تلاش کر کے لاؤ جس کی یہ جوتی ہے۔

خادم ہر گھر میں جاتا ہے لیکن کسی لڑکی کو وہ جوتی پوری نہیں آتی۔ وہ سنڈریلا کے گھر جاتا ہے اس کی سوتیلی بہنیں وہ جوتی پہننے کی کوشش کرتی ہیں لیکن وہ انہیں پوری نہیں آتی۔ خادم جب سنڈریلا سے کہتا ہے کہ جوتی پہن کر دکھاؤ تو اس کی سوتیلی بہنیں منع کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن جب سنڈریلا وہ جوتی پہنتی ہے تو اسے وہ پوری آ جاتی ہے۔

خادم سنڈریلا کو لے کے شہزادے کی خدمت میں پہنچتا ہے۔ سنڈریلا نے اپنی دوسری شیشے کی جوتی بھی سنبھال کر رکھی ہوتی ہے۔ وہ شہزادے کو دکھاتی ہے اور شہزادہ سنڈریلا سے شادی کر لیتا ہے اور وہ اس ملک اور محل کی نئی ملکہ بن جاتی ہے۔

ایک اساطیری کہانی میں سنڈریلا اپنی سوتیلی ماں اور بہنوں کو معاف کر دیتی ہے اور دوسری کہانی میں انہیں ظلم کی سزا ملتی ہے اور ان پر عذاب آتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ
سنڈریلا کا اساطیری کردار کن جذبوں کا استعارہ ہے؟
سنڈریلا کی کہانی
ایک مظلوم عورت کی کہانی ہے
ایک محروم عورت کی کہانی ہے
ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو صابر و شاکر ہے۔ وہ غربت میں بھی خدمت کرتی ہے شکایت نہیں کرتی۔
وہ سوتیلی ماں اور سوتیلی بہنوں کے ظلم سے نجات چاہتی ہے

وہ خواب دیکھتی ہے کہ ایک دن ایک اجنبی شہزادہ آئے گا اور اسے اپنے محل میں لے جائے گا جہاں جا کر وہ شہزادی بن جائے گی ملکہ بن جائے گی۔

سنڈریلا کے دل میں ایک خواہش ہے۔ ایک آرزو ہے۔
اس کے ذہن میں ایک تمنا ہے ایک خواب ہے۔

سنڈریلا کا ایک خوابوں کا شہزادہ ہے جو ایک دن کسی انجانی دنیا سے آتا ہے اور اسے غربت اور مصیبت سے نجات دلا کر دولت اور شہرت کے تحفے پیش کرتا ہے۔

رابعہ الربا ایک ادیب اور ماہر نفسیات سے یہ جاننا چاہتی ہیں کہ سنڈریلا کے دیومالائی نسوانی کردار نے ساری دنیا کی لڑکیوں اور عورتوں کی نفسیات کو کس طرح متاثر کیا ہے؟

میری نگاہ میں سنڈریلا کا کردار
عورت کو مظلوم بناتا ہے
اسے رومانوی خواب دکھاتا ہے
لیکن اس خواب کی تعبیر اس کے اپنے ہاتھ میں نہیں بلکہ کسی مرد کسی شہزادے کسی بادشاہ کے ہاتھ میں ہے۔

اساطیری کہانیوں میں تو شہزادہ آ جاتا ہے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ حقیقی دنیا میں وہ غریب لڑکی باپ اور بھائیوں کے گھر سے شوہر اور سسر کے گھر میں چلی جاتی ہے۔ پہلی آدھی زندگی میں وہ ظالم سوتیلی ماں کے اور دوسری آدھی زندگی میں وہ ظالم ساس کے ظلم سہتی ہے۔ وہ اکیلی تھی تو ایک گھر کی کنیز تھی شادی کے بعد وہ دوسرے گھر کی کنیز بن جاتی ہے۔ پہلے وہ باپ اور بھائیوں کی خدمت کرتی ہے پھر شوہر اور سسر کی خدمت کرتی ہے۔

نہ وہ شادی سے پہلے اپنی قسمت کی مالک ہوتی ہے نہ شادی کے بعد ۔
پہلے ایک مرد مالک ہوتا ہے پھر دوسرا مرد مالک بنتا ہے۔
پچھلی دو صدیوں میں عورتوں نے ساری دنیا میں آزادی اور خود مختاری کی تحریک چلائی ہے۔
عورتوں نے خوابوں کے شہزادے کا انتظار کرنا چھوڑ دیا ہے
اب وہ لڑکیاں اور عورتیں
تعلیم حاصل کرتی ہیں
ڈگری حاصل کرتی ہیں
ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرتی ہیں
ملازمت حاصل کرتی ہیں
اپنے پاؤں پر خود کھڑی ہوتی ہیں
اپنا گھر خریدتی ہیں
اپنی گاڑی خریدتی ہیں
اپنے کپڑے اور زیور خریدتی ہیں
سہیلیاں بناتی ہیں
تخلیقی اور تحقیقی کام کرتی ہیں
ڈاکٹر اور انجینئر ’شاعر اور دانشور بنتی ہیں
کسی بزنس اور ٹکنالوجی کی کمپنی کی صدر بنتی ہیں
اب وہ کسی بھی مرد کی دست نگر نہیں ہوتیں
وہ جانتی ہیں کہ معاشی خود مختاری ان کی جذباتی اور سماجی خود مختاری کے لیے راہ ہموار کرتی ہے۔

ایک آزاد و خود مختار عورت کو جب ایک عزت کرنے والا ’احترام کرنے والا‘ پیار اور محبت کرنے والا مرد ملتا ہے تو وہ اسے اپنا شریک سفر اور شریک حیات بناتی ہے لیکن جب وہ مرد اس کی عزت کرنا چھوڑ دیتا ہے تو وہ بھی اسے چھوڑ دیتی ہے۔ اب وہ تحقیر و تذلیل برداشت نہیں کرتی۔

اب وہ برابری کا رشتہ چاہتی ہے۔ اب وہ مرد سے دوستی کا رشتہ مانگتی ہے۔

اکیسویں صدی کی عورت میں اب خود اعتمادی اور خود انحصاری پیدا ہو گئے ہیں۔ اب وہ سر اٹھا کر چلتی ہے۔ اب وہ اپنی زندگی کی کامیابیوں اور کامرانیوں پر فخر کرتی ہے۔

جب ہم عورتوں کی آزادی و خود مختاری کے تخلیق کردہ ادب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کی بے ٹی فریڈین اور الزبتھ سٹینٹن
یورپ کی سیمون دی بووا، اینائس نن اور لیو سلوم، آسٹریلیا کی جرمین گریر، ہندوستان کی امرتا پریتم اور قرۃ العین حیدر، ایران کی فروغ فرخ زاد اور
پاکستان کی کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، زاہدہ حنا اور عشرت آفرین نے جو شاعری اور ادب تخلیق کیا ہے وہ ادب لڑکیوں اور عورتوں کو سنڈریلا کے دیومالائی کردار کے شہزادے کے خواب سے باہر نکالتا ہے اور انہیں زندگی کے حقائق کا سامنا کرنا اور اپنی خوشحال اور کامیاب زندگی تخلیق کرنا سکھاتا ہے۔

ایسا ادب سنڈریلا جیسی دیومالائی کردار سے فہمیدہ ریاض کی نظم ”ایک لڑکی سے“ کی زبان میں کہتا ہے
سنگدل رواجوں کی
یہ عمارت کہنہ
اپنے آپ پر نادم
اپنے بوجھ سے لرزاں
جس کا ذرہ ذرہ ہے
خود شکستگی ساماں
سب خمیدہ دیواریں
سب جھکی ہوئی کڑیاں

سنگ دل رواجوں کے
خستہ حال زنداں میں
اک صدائے مستانہ
ایک رقص رندانہ
یہ عمارت کہنہ ٹوٹ بھی تو سکتی ہے
یہ اسیرشہزادی چھوٹ بھی تو سکتی ہے

اکیسویں صدی کی بہت سی عورتیں نے سنڈریلا کے دیومالائی کردار کو خیر باد کہہ دیاہے لیکن کچھ عورتیں ابھی بھی اپنے خوابوں کے کسی شہزادے کے انتظار میں ہیں جو انہیں قید کی زندگی سے نجات دلا کر اپنے محل میں لے جائے گا اور انہیں ملکہ بنا کر رکھے گا۔ بدقسمتی سے بہت سوں کے سنہری خواب ڈراؤنے خواب بنتے جا رہے ہیں۔ ایسی لڑکیوں اور عورتوں کو جلد یا بدیر خوابوں کی دنیا کو چھوڑ کر حقیقت کی دنیا میں داخل ہونا ہو گا اور آزادی و خود مختاری کی زندگی کو گلے لگانا ہو گا۔

سنڈریلا کا دیومالائی کردار کتابوں اور وہ بھی اساطیری ادب کی کتابوں میں اچھا لگتا ہے لیکن ایسا کردار حقیقی دنیا کی لڑکیوں اور عورتوں کی زندگیوں میں بہت ظلم ڈھاتا ہے۔

مجھے امید ہے کہ میری ادبی دوست رابعہ الربا کو اپنے ادبی اور نفسیاتی سوال کا جواب پڑھ کر خوشی ہوئی ہوگی۔ میں ان کا ممنون ہوں کہ ان کے سوال نے مجھے یہ کالم لکھنے کی تحریک دی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 500 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments