ممی خالہ

نام تو ان کا زہرہ نگاہ تھا لیکن زمانے بھر میں وہ ممی خالہ کے نام سے جانی جاتی تھیں۔ سندھی مسلم سوسائٹی کے ایک پرانی طرز کے بڑے سے بنگلے میں چوڑی چکلی ممی خالہ تنہا رہتی تھیں۔ دس سال پہلے ان کے میاں کسی بیماری کا شکار ہو کر لقمہ اجل ہو چکے تھے۔ ان کا واحد لے پالک بیٹا امریکہ میں بود و باش اختیار کیے ہوئے تھا اور سال میں ایک بار بھی پاکستان آنا گوارا نہیں کرتا تھا۔ عقیلہ کو تو شبہ تھا کہ ان کا کوئی بیٹا ہے بھی یا یونہی ایک کردار گھڑ لیا گیا ہے۔ کیونکہ شادی ہو کر ممی خالہ کے پڑوس میں آئے پانچ سال ہو رہے تھے اس نے ایک نوکر کے سوا اس گھر میں کسی کو نہیں دیکھا تھا۔ ممی خالہ ایک دھانسو عورت تھیں۔ لمبا چوڑا جثہ، کڑاکے دار آواز اور شخصیت میں وہ دبدبہ کہ مقابل بات سے اختلاف کی جرآت نہ کرسکے۔ بس ایک شمسی بھابی تھیں جو ممی خالہ کو ترکی بہ ترکی جواب ٹھونکتی تھیں۔ عقیلہ نے پہلی بار ممی خالہ کو شمسی بھابی کے ہاں قرآن خوانی میں دیکھا تھا۔ قرآن خونی کے بعد چائے کا دور چل رہا تھا۔ ممی خالہ آج کل کی بہووں کے ناروا سلوک پر شکوہ کناں تھیں۔ شمسی بھابی لگی لپٹی رکھے بنا بولیں ”ممی خالہ آپ جیسی ساس ہو تو بہو کا تو دم ہی گھٹ جائے۔“
ممی خالہ بھڑک کر بولیں ”دل میں آگ لگی ہو تو دھواں اٹھتا ہی ہے۔ کیا اس دن کے لئے اس نیلے کانچ جیسے عفان کو پال پوس کر بڑا کیا تھا کہ چنڈال اسے دبوچ کر لے جائے اور بڑھاپے میں ہم اس کی صورت کو بھی ترس جائیں۔“
شمسی بھابی کہنے لگیں ”تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ ساری عمر آپ کے گھٹنے سے لگا بیٹھا رہے۔ بال و پر نکل آئیں تو ہر پرندہ پرواز کے لئے نئے آسمان تلاش کرتا ہے۔ والدین کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اولاد ملکیت نہیں ہوتی نہ ہی کمہار کے چاک پہ چڑھا مٹی کا لوندا ہوتی ہے جسے اپنی سوچ اور پسند کے مطابق ڈھال لیں۔ ان کی اپنی شخصیت، اپنی زندگی ہوتی ہے جسے اپنی پسند اور سوچ کے مطابق وضع کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ شمسی بھابی نے اپنے دل کا غبار اتارا۔“
ممی خالہ چمک کر بولیں
”اے شمسی یہ بات تم ایک بہو بن کر کہہ رہی ہو۔ کیا یہی سوچ اپنی بھاوج کے لئے بھی رکھ سکتی ہو۔ کیا اپنے ماں باپ کے لئے بھی چاہو گی کہ تمہارا بھائی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا کر بیٹھ جائے اور ماں باپ کو پلٹ کر نہ پوچھے“
شمسی بھابی نے اپنے ماں باپ کے حوالے پر جزبز ہوتے ہوئے کہا ”میرے ماں باپ نے بھائی بھاوج پر کوئی قید و بند نہیں لگائی نہ ہی کوئی بوجھ ڈالا ہے ایک دوسرے کی ضرورت اور ذمہ داریاں کو آپس میں ہی بانٹ لیتے ہیں۔“
”اس لئے کہ اللہ کے فضل سے دونوں ایک دوسرے کی ضرورت پوری کرنے کے لئے حیات ہیں۔ ایک کو کچھ ہو جائے تو کیا دوسرے کو وچھوڑا کر دیا جائے۔“ ممی خالہ کی آواز میں آنسو نگلنے کی نم ناکی تھی۔
” ایک کو کچھ ہو جائے تو“ اس تصور سے ہی شمسی بھابی کے دل کو گھونسا لگا۔ دم کے دم میں ان کے ترقی پسند خیالات کا غبارہ یوں زمین پر چلا آیا جیسے اس کی مصنوعی گیس لیک ہو گئی ہو۔ وہ تازہ چائے لانے کا بہانہ کر کے باورچی خانے میں چلی گئیں۔
عقیلہ بھی ایک بہو اور ایک بیٹی تھی اور سامع کی حیثیت سے ان کے نکتہ نظر پر غور کر رہی تھی۔ جزوی طور پر دونوں صحیح تھیں۔ عائلی معاملات میں کسی ایک فارمولے کو قانون نہیں بنایا جاسکتا۔ ہر گھرانے کی ضرورت مختلف ہوتی ہے حالات متنوع ہوسکتے ہیں۔ ایسے میں ایک دوسرے کا احساس ہی مشعل راہ ہو سکتا ہے کہ کوئی ملول، کوئی خستہ حال نہ ہو۔
ممی خالہ تنہائی کا شکار تھیں۔ پڑھی لکھی نہیں تھیں کہ کتابوں میں دل لگا لیتیں، نئے زمانے کی دلچسپیوں سے کما حقہ آگاہی نہ تھی کہ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ ایک سیاہ کریڈل والے فون کے ڈائل کو گھما گھما کر امریکہ ملاتی رہتیں۔ انگلی گھس کر ادھی رہ جاتی مگر عفان کے ہاں سے کوئی فون نہ اٹھاتا۔
عقیلہ کے باورچی خانے کی کھڑکی ممی خالہ کے گھر کی طرف کھلتی تھی۔ ممی خالہ پہلی منزل پر اپنے لاؤنج کی کھڑکی کے قریب آرام کرسی ڈالے گلی میں جھانکتی رہتیں اور آتے جاتے لوگوں کو دیکھ کر دل بہلاتیں۔ پھیری والے سے سبزی اور پھل خریدنے ہوتے تو کھڑکی سے لٹکی سرخ باسکٹ نیچے اتار دیتیں۔ پھیری والا پیسے اٹھاتا اور ان کی مطلوبہ شے باسکٹ میں ڈال دیتا۔ سبزی خریدتے وقت وہ اس قدر بھاؤ تاؤ کرتیں کہ وہ جھنجھلا ہی جاتا۔ باسکٹ کو جھکولا دیتے ہوئے بڑبڑاتا
”جوڑ جوڑ مر جائیں گے مال جمائی کھائیں گے“ ۔
اب اسے کیا پتہ تھا کہ جمائی تو کوئی ہے نہیں، پوت ہے اور وہ بھی اپنی نال سے نہیں۔ مگر اس سے محاورے پر بس اتنا فرق پڑتا کہ
جوڑ جوڑ مر جائیں گے اور پوت کمائی کھائیں گے
عقیلہ سوچتی شاید ممی خالہ گفتگو دراز کرنے کے لئے اس قدر تکرار و اصرار کرتی ہیں۔ بات تو ہوتی رہے بھلے سے سبزی والے سے قیل و قال ہی سہی۔ لق لق کرتے گھر میں کوئی بھی تو نہ ہوتا بات کرنے کو۔ اکلوتا نوکر کام ختم کر کے اپنے کمرے میں ریڈیو پر گانے سنتا رہتا۔ محلے بھر میں سے ممی خالہ کو عقیلہ کی نند شمیمہ سے خاص لگاؤ تھا اسے انہوں نے دعوتی کھانے پکانے سکھائے تھے۔ ان سے سیکھے گئے گولا کباب بنا کر شمیمہ مہمانوں سے خوب داد وصول کرتی۔ اس کے سوزن کاری کے شوق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ممی خالہ نے شمیمہ کو بیرون ملک سے لایا ہوا سلائی کا بقچہ بھی دیا تھا جس میں پمپکن کی شکل کا پن کشن اور سنہری انگشتانہ بھی تھا۔ گرمیوں کی سنسان دوپہر میں ممی خالہ کی پاٹ دار آواز گونجتی
”۔ شمیمہ او شمیمہ“ ۔ اور شمیمہ دوڑ کر ان کی بات سننے کو باورچی خانے کی کھڑکی پر پہنچ جاتی۔ اگر ذرا سی تاخیر ہوجاتی تو ممی خالہ کھڑکی کی چوکھٹ پہ لٹک کر پہلے سے زیادہ اونچی آواز میں چلاتیں۔ ارے کیا کانوں میں سیسہ پڑ گیا ہے یا روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ہے۔
عقیلہ شادی کے بعد پہلی عید پر اپنی نند کے ساتھ ممی خالہ کے ہاں گئی تھی۔ چچی ساس کا سات سالہ بیٹا انس بھی سنگ ہو لیا۔ چچی ساس عقیلہ کے گھر کی بالائی منزل پر ہی رہتی تھیں۔ ممی خالہ نے دنیا بھر کے پکوان بنا رکھے تھے۔ انہوں نے لوازمات سے بھری سینی ان کے سامنے رکھی اور خوبصورت پیالیوں میں شیر خرمہ انڈیلتے ہوئے بولیں
” دنیا کی نعمتیں میسر ہیں مگر نصیب یہ کہ کھا نہیں سکتی“
عقیلہ کی سمجھ میں نہ آیا کہ ایسا کون سا عارضہ لاحق ہے جو کفران نعمت پر مجبور کرتا ہے۔ شاید ذیابیطس یا پھر سوزش معدہ یا پھر سرطان۔
”ہائے توبہ اللہ نہ کرے“ ۔ عقیلہ نے تصور میں اپنے کلے پیٹے۔ عقیلہ پہلی بار ان کے گھر گئی تھی وہ ایک ایک چیز دکھا کر جتاتیں کہ فلاں ملک سے خریدی گئی ہے۔ ان کے میاں کافی عرصے جرمنی میں رہے تھے اور آتے ہوئے وہاں کا فرنیچر ساتھ لے آئے تھے۔ اس کہن زدہ فرنیچر پر اس پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے ممی خالہ نے تعارف کروایا گویا لکڑی کے تختوں سے بنا ہوا پلنگ اور میز نہ ہو، خود عبد الخالق صاحب ہوں۔ چلتے ہوئے انہوں نے عقیلہ اور اس کی نند کو عیدی تھمائی لیکن یہ کہہ کر انس کو عیدی دینے سے انکار کر دیا کہ اس کی ماں سے ان کی ان بن ہے۔ یہ بات عقیلہ کو بالکل اچھی نہ لگی۔ گھر اکر اس نے اپنے بٹوے سے انس کو عیدی دی۔ اس کے بعد عقیلہ ان کے گھر کبھی نہ گئی۔
کچھ دنوں سے ممی خالہ کی آواز سنائی نہیں دی تھی عقیلہ کی ساس اور نند میں دو مہینے کی چھٹیاں گزارنے ملتان گئی ہوئی تھیں۔ اس لئے شمیمہ کو آوازے پڑنے کا امکان تو نہیں تھا مگر پھیری والوں سے بحثا بحثی بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس نے چچی ساس سے پوچھا تو انہوں نے کہا ”ماسی بتا رہی تھی ممی خالہ کی طبیعت ٹھیک نہیں“
دن ہفتوں میں بدل گئے مگر ممی خالہ کھڑکی پہ نہ آئیں۔ گلی میں سناٹا چھایا رہا۔ سرخ باسکٹ پہلی۔ منزل کی کھڑکی پر چھینکا بنی لٹکی رہی۔ پھیری والا بھی کچھ رنجور سا گزرتا۔ اسے ممی خالہ کی بک جھک کی لت پڑ گئی تھی۔
عقیلہ اپنے کمرے میں آرام کر ہی تھی آٹھواں مہینہ چل رہا تھا۔ دن بھر کے کام کاج کے بعد عصر کے وقت کمر ٹکانا ضروری ہوجاتا تھا۔ بالائی منزل سے چچی ساس نے پکارا۔ اسے اٹھنے میں ذرا سی تاخیر ہوئی تو انہوں نے بیتابی سے کئی آوازیں دے ڈالیں۔
”یا الہی خیر کیا ہو گیا“ وہ صحن میں آتے ہوئے بڑبڑائی۔ صالحہ چچی دیوار پر تھیں مگر ان کی نگاہیں نیچے صحن کی طرف ہونے کی بجائے سامنے ممی خالہ کے گھر پر تھیں ان کے ہاں سے ممی خالہ کی خواب گاہ اور لاؤنج صاف نظر آتا تھا۔ عقیلہ کے متوجہ کرنے پر وہ بولیں ”مجھے لگتا ہے ممی خالہ کی حالت زیادہ خراب ہے۔ ہسپتال کی وردی میں کچھ لوگ انہیں اٹھا کر لے گئے ہیں۔“
”کسی نے ان کے بیٹے کو اطلاع دی ہے یا نہیں“ عقیلہ اپنے حاملہ وجود کو سنبھالتے ہوئے بولی۔ دیکھو لیلی آتی ہے تو پوچھتی ہوں ”
محلے بھر کی خبر رساں ایجنسی ماسی لیلی نے نیوز دی کہ ممی خالہ مقامی اسپتال کے آئی سی یو میں ہیں، اس نے یہ بھی بتایا کہ ان کے بیٹے کو دو ہفتے قبل اطلاع دی گئی تھی جب وہ صاحب فراش ہوئی تھیں اور اب نوکر نے ائی سی یو میں داخلے کی خبر بھی دے دی ہے اور اس نے آنے کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم اکلوتے لے پالک بیٹے کے انتظار میں تکتی آنکھیں پتھرا گئیں۔ اور ان سے ملنے کو عفان میاں کو سرد خانے جانا پڑا۔
آخر شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ
صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا
ممی خالہ کی تدفین کے بعد کچھ روز تو ان کا بیٹا دکھائی دیا جب تک کہ گھر کا سودا طے ہوا اور پھر رقم سمیٹ کر اپنی راہ لی۔ چند روز میں محلے والوں نے دیکھا کہ ممی خالہ کا گھر منہدم کیا جا رہا ہے۔ نئے مالک نے بتایا کہ گرا کے جدید طرز کا دو منزلہ مکان بنائیں گے۔ بیٹے کی شادی ہونے والی ہے اوپری منزل اس کے لئے اور زیریں منزل میں وہ اور ان کی بیگم رہیں گے۔ ایک اور خواب تعمیر ہونے جا رہا تھا۔


انسانوں کے اس جنگل کی بھیڑ میں تنہا انسان جس طرح اپنےشب وروز بسر کرتا ہے اور زندگی اس کے ساتھ جو سلوک کرتی ہے اس پر یہ ایک عمدہ کہانی ہے۔ سادہ بیانیے کا سادہ لیکن سوچ کی دعوت دیتا افسانہ۔ واہ واہ
نوازش