مولانا طارق جمیل کے علاقہ میں بربریت اور علما کی خاموشی


علاقہ تلمبہ مبلغ اسلام مولانا طارق جمیل کا جم پل ہے اور ایک طویل عرصے سے مولانا صاحب دعوت و تبلیغ کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔ آپ ان کی تقاریر سن لیں جن میں وہ اکثر پیار و محبت کا درس دیتے ہوئے پائے جاتے ہیں مگر گزشتہ دنوں ہونے والے المناک واقعہ نے ان کے تبلیغی اثرات اور ان کی مسلسل محنت پر سوالیہ نشان اٹھا دیے ہیں اور یہ جملہ بالکل صحیح محسوس ہونے لگا ہے کہ ”چراغ تلے اندھیرا ہوتا ہے“ یاد رہے کہ جب مولانا صاحب اپنے آبائی علاقہ میں عید کی نماز پڑھاتے ہیں تو قرب و جوار کے لاکھوں لوگ آپ کے پیچھے نماز کی ادائیگی میں فخر محسوس کرتے ہیں اور عید کے روز بھی وہاں لاکھوں لوگ موجود ہوتے ہیں جو ایک دوسرے سے بڑی محبت و شفقت سے گلے مل رہے ہوتے ہیں۔

مگر آؤٹ پٹ کیا ہے؟ اتنی زیادہ محنت کے بعد آج تک کیا حاصل ہوا ہے؟ کیا آپ کی شب و روز تبلیغ کے نتیجے میں واقعی انسانوں نے ایک دوسرے کو انسان کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا ہے؟ کیا آپ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوچکے ہیں کہ آپ کا مذہب امن و آشتی کا مذہب ہے؟ کیا آپ عظمت انسان کی اس معراج تک پہنچ چکے ہیں کہ جس سے یہ سبق ملے کہ آپ کی وجہ سے کسی دوسرے مذہب و فرقہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور وہ بالکل محفوظ رہیں گے؟

معذرت کے ساتھ ایسا بالکل نہیں ہے اور ہماری وجہ سے آج کوئی بھی محفوظ نہیں رہا اور مذہب کے نام پر انسانوں کو قتل کرنے جیسے واقعات دن بدن بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اب تحقیقات سے یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ تلمبہ میں جس شخص کو بے دردی سے قتل کیا گیا تھا وہ دراصل ایک ذہنی مریض تھا اور اس کے علاج پر ورثا کی تقریباً چھ ایکڑ زمین بک چکی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قتل ہونے والا تو ذہنی معذور تھا لیکن کیا مارنے والے درجنوں محافظ دین بھی اسی کیٹیگری سے تعلق رکھتے تھے؟

کیا وہ واقعی باشعور تھے؟ اگر آپ نے ان کے شعور کا لیول دیکھنا ہو تو بغور ویڈیو ملاحظہ فرمائیں جس میں یہ ہجوم اینٹیں برسا رہا ہے اور زبان پر ماں بہن کی گالی دے کر اس بندے سے نفرت کا اظہار کیا جا رہا ہے؟ آخر یہ کیا وجہ ہے کہ ہم برسوں کی مذہبی تربیت کو ایک ہجوم میں ہی ایکسپوز کر دیتے ہیں اور غاروں والے انسان کی طرح اپنی انا کو تسکین دینے کے لیے ایک بے بس انسان پر ٹوٹ پڑتے ہیں؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ سب کچھ مذہب کے نام پر ہوتا ہے جس کے متعلق ہم اپنے علما سے بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ مذہب امن و آشتی کا درس دیتا ہے مگر انسانی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے اور انسانوں کا سب سے زیادہ خون بہایا ہی مذہب کے نام پر گیا ہے۔

آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ نفرتوں کے کاروبار میں سب سے زیادہ ہماری مذہبی کلاس پیش پیش ہے؟ مزے کی بات یہ ہے کہ ہر فرقہ اسی زعم کا شکار ہے کہ 72 فرقے جہنم میں داخل ہوں گے جب کہ 73 واں ہمارا فرقہ جنت میں جائے گا ورنہ تبلیغی جماعت کے مقابلے میں مولانا الیاس قادری کو دعوت اسلامی کا نیا پلیٹ فارم بنانے کی کیا ضرورت پڑ گئی تھی؟ اگر دونوں اسلام کے داعی ہیں تو پھر دو الگ الگ جماعتوں کا کیا جواز بنتا ہے؟

مطلب یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مذہب کے نام پر جتنی نفرت کا پرچار آپس میں مذہبی لوگوں نے کیا ہے اسی کے اثرات ان کے پیروکاروں میں سرایت کر چکے ہیں اس کا ثبوت آپ سیالکوٹ کے ہجوم میں لگنے والے نعرے اور تلمبہ کے ہجوم میں لگنے والے نعروں سے بخوبی لگا سکتے ہیں انہی نعروں میں عقلمندوں کو بہت سی نشانیاں مل جائیں گی۔ اب ایکٹنگ کرنے کا وقت شروع ہوا جاتا ہے اور ہم منتظر ہیں کہ کب مولانا طارق جمیل ہمراہ مولانا طاہر اشرفی موٹے موٹے آنسوؤں کے ساتھ درجنوں ٹی وی چینل کے مائیک پریس کانفرنس کے ٹیبل پر سجائے دونوں ہاتھ جوڑ کر مرنے والے کے اہل و عیال سے معافی مانگنے آتے ہیں تاکہ دنیا کو یہ واضح پیغام مل سکے کہ ہم تو امن پسند لوگ ہیں اور جن چند لوگوں نے یہ بربریت کا مظاہرہ کیا ہے اس کا ہم سے کوئی واسطہ نہیں ہے؟

پریانتھا کمارا کی المناک موت پر بھی اسی قسم کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا تھا مگر آخر کب تک؟ حیرت کی بات ہے کہ مسکان کو مجاہدہ کے لقب سے نوازنے والی زبانیں تلمبہ میں ہونے والی بربریت پر خاموش کیوں ہیں؟ مسکان تو ہندوؤں کے سامنے کلمہ حق بلند کر کے محفوظ رہیں اور کسی نے اس کو چھوا تک نہیں کیونکہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی تھی جبکہ مسلمانوں اور امن کے داعی ہونے کے دعوے داروں کے بیچ ایک ایسا شخص زندہ نہ بچ سکا جس کا ذہن ہی اس کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔

جہاں کلمہ حق کا پیمانہ چند ہاتھوں میں محصور ہو جائے، ریاست اور علماء مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کرنے لگیں وہاں پھر ہجوم ہی فیصلے کرنے لگتے ہیں۔ انتظار کریں اس وقت کا جب مختلف فرقے ایک دوسرے پر گستاخی کا الزام لگا کر ایک دوسرے کے گلے کاٹیں گے کیونکہ ان فرقوں کا ایک دوسرے کے متعلق ٹریک ریکارڈ کوئی زیادہ اچھا نہیں ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments