جی سی یونیورسٹی لاہور کا پنجابی مشاعرہ اور ہماری ماں بولی


جی سی لاہور ہندوستان میں نو آبادیاتی دور کے پہلے عشرے میں وجود میں آیا۔ 1864 ء سے قیام شدہ یہ ادارہ کئی حوالوں سے دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ ادارے کے فارغ التحصیل طلبہ زندگی کے مختلف شعبوں میں کار ہائے نمایاں سر انجام دے رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا ادارہ جہاں آپ کو پاکستان کے دیگر تعلیمی اداروں سے ایک مختلف کلچر ملتا ہے۔ بقول ڈاکٹر طاہر کامران (سابقہ صدر شعبہ تاریخ، سابقہ ڈین آف سوشل سائنسز جی سی یو لاہور)

”پھر بھی، پبلک سیکٹر کے دیگر اداروں کا مشاہدہ کرنے کے بعد ، میں اب بھی جی سی یو، لاہور کو بہترین درجہ دیتا ہوں۔ اس کے یقیناً بہت سے فوائد ہیں جن کا کوئی دوسرا ادارہ دعویٰ نہیں کر سکتا۔ اس کا شاندار ماضی ہے، اس کے سابق طالب علم اقتدار کے عہدوں پر فائز ہیں، جسے انتظامیہ اپنے منافع بخش استعمال میں لا سکتی ہے۔ مجموعی ماحول اب بھی کچھ دوسرے اداروں کی طرح تنگ نہیں ہے۔ تعلیم و ثقافت کے فروغ کے لیے جو لچک ضروری ہے وہ جی سی یو

میں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی خدمت میں چند بے لوث لوگ ہیں جنہیں میں کسی بھی زندہ اور ترقی پذیر ادارے کے لیے ایک نایاب اثاثہ قرار دیتا ہوں۔ وہ اس ادارے کو سرفہرست رکھنے کو یقینی بنانے کے اصل آلات ہیں ”۔

مذکورہ اقتباس سے ایک بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اس ادارے کی عمارت اور ماحول میں کچھ تو ایسا نشہ ہے جو ایک بار چکھ لے وہ جھومے بغیر رہ نہیں سکتا اور یہ سرمستی اس کی زندگی کا مستقل حصہ بن جاتی ہے۔ فارغ التحصیل طلبہ کا جب کبھی کیمپس میں آنا ہو تو زندگی کے دوسرے معاملات سے بالکل بے خبر ہو کروہ اس کے وجد میں کھو جاتے ہیں۔

من ہی من میں یہ کہنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔
تو آکھیں تے کر جانا واں
مرنا ای نا مر جانا واں
(شاعر:رائے محمد خاں ناصر)

ایک سو اٹھاون سال کی عمر میں بھی جی سی یونیورسٹی لاہور، وائس چانسلر ڈاکٹر اصغر زیدی کی سربراہی میں اپنے شاندار ماضی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے جدید تقاضوں کے مطابق معاشرے کی بہتری میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ چاروں صوبوں کے

طلبہ علم کی پیاس بجھانے اس عظیم درسگاہ میں آتے ہیں۔ جہاں یہ مستقبل کے معمار علم کے ساتھ رنگا رنگ علمی و ادبی سوسائٹیوں اور مختلف clubs میں کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں کام کرنے والے شدت پسندی، نفرت، مذہبی جنونیت، مرکزیت سے ہٹ کر اجتماعیت کے ماحوم (pluralistic atmosphere ) کی عمارت کو مضبوط کرنے میں مگن نظر آتے ہیں۔

جو صحیح معنوں میں متنوع یکجائیت ( ”unity in diversity“ ) کے کلیہ پر پورا اترتا ہے۔ ایسی ہی فضاء کی ہمارے اس معاشرے کو اشد ضرورت ہے۔ جہاں عدم برداشت، شدت پسندی، مذہبی جنونیت، معاشرتی نا انصافیاں، حیوانیت، نفسا نفسی اور جھوٹ پوری طرح پنجے گاڑ چکے ہیں۔ جہاں عام بندے کو سانس لینا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ ان حالات میں ہمارے معاشرے کو اور خاص کر تعلیمی اداروں کو جی سی یو لاہور کی پیروی کرتے ہوئے متنوع یکجائیت (unity in diversity) کی تہذیب کو عام کرنا چاہیے تاکہ عام انسان کے جینے کے سامان پیدا ہو سکیں۔ ہمارا معاشرہ نوآبادیاتی عہد کی جھوٹی اجارا داریوں کے نرغے میں ہے، ان کو چیلنج کر کے ہی اعلی اخلاقی اقدار کی فضاء پیدا کی جا سکتی ہے۔ کسی شے کی بد صورتی یا نقلی پن کو مصنوعی آرائش کی مدد سے دور سے دیکھنے والے کو وقتی طور پر دھوکہ تو دیا سکتا ہے مگر اس شے کی حقیقت کو بدلا نہیں جا سکتا کیونکہ نقل اور تصنع کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے۔

گورنمنٹ کالج لاہور میں 1926 ء میں قائم ہونے والی پنجابی مجلس چار برس بعد اپنے قیام کے صدی پوری کرنے جا رہی ہے۔ گزرے سالوں میں اس مجلس نے پنجابی زبان و ادب اور ثقافت کی ترویج کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ برصغیر میں مشاعروں کی روایت اور مقبولیت بہت پرانی ہے، البتہ انگریزی دور میں پیدا شدہ نئے تعلیمی اداروں میں بھی ان مشاعروں کو فروغ دیا جانے لگا۔ ہمارے ہاں جدید تعلیمی اداروں میں مشاعروں کی روایت کا تسلسل اسی فروغ سے جڑا ہوا ہے۔ اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے پنجابی مجلس کے زیر اہتمام ایک پنجابی مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔

2010 ء سے تسلسل سے ہونے والا پنجابی مشاعرہ کرونا پابندیوں کی وجہ سے تین سال کے وقفے کے بعد ہوا۔ رائے محمد خاں ناصر کی زیر صدارت مشاعرے میں عصر حاضر کے تقریباً تمام نامور شعراء کرام نے شرکت کی۔ جن میں مہر الطاف بھروانہ، افضل ساحر، بابا نجمی، محترمہ گل ناز، عاصم پڈھیاڑ، عاقب ستیانوی، فلک شیر نوید، صابر علی صابر، طاہر اسراء، نصیر احمد، ڈاکٹر فیصل جپا اور نوجوان شعراء زوہیب عالم، جنید رضا اور دیگر کئی اصحاب مدعو تھے۔ نظامت کے فرائض واصف لطیف اور ڈاکٹر رزاق شاہد نے مل کر سر انجام دیے۔ مشاعرے کا باقاعدہ آغاز شمع روشن کر کے کیا گیا۔ جسے صدر مشاعرہ، مہمان خصوصی ریٹائرڈ وفاقی سیکریٹری بابر حسن بھروانہ، ڈاکٹر سعید خاور بھٹا (چیئرمین شعبہ پنجابی) ، ڈاکٹر محمود الحسن بزمی (اسٹوڈنٹ ایڈوائزر) نے روشن کیا۔

شرکاء نے سبھی شعراء کرام کو بڑی توجہ سے سنا اور اچھے اشعار پر خوب داد دی۔ مشاعرے میں جن شعراء کرام نے ٹھیٹھ پنجابی زبان میں اپنا کلام سنایا انہوں نے تو حاضرین کو بے خود کر دیا۔ جس کی بنیادی وجہ سننے والوں کو مٹی اور کلچر سے قربت کا احساس ہوا تو وہ بے ساختہ داد دینے پر مجبور نظر آئے۔ ہمارا معاشرہ دیگر مصنوعی رنگ جتنے مرضی اختیار کر لے لوگوں کا شعور بنیادی طور پر اسی مٹی سے جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے لوگوں کو ماں بولی کے الفاظ اپنی روحوں میں سنائی دیتے ہیں۔

اسی لیے کسی قوم کی شناخت، عصبیت اور حمیت و غیرت اس کی مٹی، ماں بولی اور کلچر میں پیوست ہوتے ہے۔ ہمیں اپنی اصلیت کو جاننا پڑے گا۔ جتنی دیر کرتے جائیں گے اتنا اپنی مٹی، تہذیب و ثقافت، روایات اور ہیروز سے ناواقف ہوتے جائیں گے۔

کامیاب مشاعرے کے انعقاد کے بعد پنجابی ڈیپارٹمنٹ کے سٹاپ روم میں کھانا شروع ہونے سے پہلے تمام مہمانان گرامی کو اکٹھے بٹھایا گیا۔ علم و ادب پر بات ہو رہی تھی۔ تاریخ کے نوجوان استاد نعمان ادریس، ڈاکٹر سعید بھٹا سے پنجابی ادب اور رائے محمد خاں ناصر کے فن اور شخصیت پر بات چیت کر رہے تھے تو ایک سوال کے جواب میں انہوں نے نعمان کو بتایا:دنیا میں صرف دو زبانوں یعنی پنجابی اور فارسی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کے عظیم شاعر اچھے انسان بھی ہیں جب کہ

دوسری زبانوں میں عظیم شاعر اور اچھا انسان ہونے کی دونوں خصوصیات کسی ایک فرد میں اکٹھی ہونے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ یہ ہی بنیادی وجہ ہے کہ رائے محمد خاں ناصر اس روایت کا تسلسل ہیں۔

سٹاف روم میں شعراء کرام، بھٹا صاحب کے دوستوں اور طالب علموں کی موجودگی سے علم و ادب کے پرانے تذکرے بھی چھڑ گئے تھے۔ راقم نے شعبہ اردو کے طالب علم زوہیب عالم (مدیر مجلہ راوی، صدر ڈائبیٹنگ سوسائٹی) کو ہیر سنانے کا کہا تو تمام حاضرین اس اچانک فرمائش پر تعجب کا شکار نظر آئے مگر جب زوہیب نے ہیر سنانی شروع کی تو سب کا تعجب خوشی اور سرشاری میں بدل گیا۔ بھٹا صاحب نے آخر میں زوہیب کی گائیکی اور تلفظ کی کھل کر تعریف کی۔ اسی اثناء میں اردو کی چیئرپرسن ڈاکٹر صائمہ ارم کی آمد ہوئی۔ جن کی پنجابی زبان سے محبت اجتماعیت کے شعور کو پروان چڑھاتی ہے۔ انہوں نے بھٹا صاحب کے علمی و ادبی کام کے ساتھ شعبہ پنجابی کے لیے ان کی خدمات اور پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لیے ان کی سرگرمیوں کو خوب سراہا۔ شعبہ پنجابی نے جتنے پروگرام گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف موضوعات پر منعقد کیے۔ وہ اس معاملے میں دیگر شعبوں سے سبقت لے گیا ہے۔ اس پر بھٹا صاحب کہنے لگے :۔ ابھی کرونا وبا کی وجہ سے ہمارے بہت سے پروگرام پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکے، اسی لیے یہ مشاعرہ تین سال کے تعطل کے بعد ہوا ہے۔ اس پر ڈاکٹر صاحبہ نے مسکرا کر کہا:۔ ابھی یہ حال ہے تو کرونا کی بندش نہ ہوتی تو پھر کیا ہوتا۔ ڈاکٹر صاحبہ پچھلے دنوں پنجاب کی عورتوں کی اپنی ماں بولی سے دوری کے موضوع پر سید عمار کاظمی کے V۔ Log میں پنجابی زبان و ثقافت کی حمایت میں اپنا نقطہ نظر بیان کر چکی ہیں۔ یہ دونوں باتیں ان کی اجتماعیت کے تاثر و تصور (pluralistic image) کو واضح کرتی ہیں۔

اباؤ اجداد کی جغرافیت اور ان کے ماضی کی حقیقت سے کسی کو انکار نہیں مگر ان دونوں پر فخر کرنا اور حال اور مستقبل کے لیے کوئی تعمیراتی لائحہ عمل اختیار نہ کرنا، سراسر بے وقوفی ہے۔ اب ہمیں دہلی، لکھنو کی باقیات اور کلاسیکی روایات کی پوجا سے باہر نکل کر پاکستانی اردو، پاکستانی پنجابی اور دوسری پاکستانی علاقائی زبانوں کے متعلق سوچنا ہو گا۔ ان کے ادب کا تعین کرنا ہو گا کہ وہ آج کے عالمی ادبی منظر نامے میں کیا مقام و مرتبہ اور اہمیت رکھتے ہیں۔

زبان جھوٹی بڑی نہیں ہوتی اس میں پہلے سے موجود علمی سرمایہ اور تخلیق ہونے والا نیا ادب اس کا مقام طے کرتا ہے۔ زبان تو سورج کی طرح ہے جس نے اپنے نور کی کرنیں بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب اپنے سب پڑھنے لکھنے والوں کے لیے پھیلا رکھی ہیں۔ یہ تو اہل زبان پر ہے کہ وہ زبان پہ کتنی دسترس رکھتے ہیں۔ بقول رائے محمد خاں ناصر : ”بڑا ادب زبان کا نہیں انسان کا مسئلہ ہے“ ۔ اس لیے ہمیں ایسے تخلیق کاروں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے جو اس مٹی، وسیب، تہذیب و ثقافت، علم و دانش اور مقامی ہیروز کے حقیقی کردار کو قاری کے سامنے لا سکیں۔

عام طور پر اگر دیکھا جائے تو ایک انسان ریاستی سرپرستی اور بیانیے کے زیر اثر پروان چڑھتا ہے اور دوسرا فطری و قدرتی طور پر، بالکل اسی طرح کا معاملہ لکھاری کے ساتھ ہے۔ پہلی قسم وقتی فائدہ اٹھاتی ہے یعنی اپنی حقیقی تخلیق کی قربانی، جسے میڈیا کی مدد سے مشہور کیا جاتا ہے۔ یہ تشہیر ریاستی سرپرستی اور میڈیا کے سازوں پر وقوع پذیر ہوتی ہے۔ جب کہ دوسرا فطری اور دائمی و آفاقی بہاؤ کو قبول کرتے ہوئے پہلی کو de۔ construct کرتا نظر آتا ہے۔ دوسری قسم مشہور ہونے میں وقت ضرور لیتی ہے مگر اس کی عمر تاریخ میں لمبی ہوتی ہے۔

اب وقت ہے کہ ہمیں ماضی کی پوجا سے باہر نکل کر نئے ادبی ہیروز کو دریافت کرنا چاہے۔ جب افراد کسی تعصب کے بغیر سوچیں گے تو انہیں اپنے ہیروز خودبخود مل جائیں ورنہ محکومانہ ذہنیت کے ہیروز درآمد کرنا پڑتے ہیں۔ ہمارے مترجمین اور نقادوں کو بھی اصل حق اپنی دھرتی کا ادا کرنا چاہیے۔

ہمارے ملک میں بولی جانے والی زبانوں اور ان کے لہجوں کا بہت تنوع (diversity) ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی اجتماعیت اور معاشرت میں اس تنوع کو بھی سمونا چاہیے۔ اسی میں ہمارے تہذیبی دوام اور ثقافتی ہمہ گیری کی ضمانت ہے۔ ان زبانوں میں لکھا جانے والا ادب بھی تنقید و ترجمہ میں آنا چاہیے پھر دیکھیں کہ ہم ایک دوسرے سے کیسے وابستہ و پیوستہ ہوتے ہیں۔ ہمیں نوآبادیاتی باقیات (divide & rule) تقسیم کر کے لڑاؤ اور حکومت کرو کی بجائے متنوع یکجائیت (unity in diversity) کو اپناتے ہوئے آگے بڑھنا ہو گا۔ اگر ریاستی زبان (اردو، انگریزی) کے پاس بڑا ادبی نام ہے تو پنجابیوں یا دوسری مقامی زبانوں کو اسے لسانی بنیاد پر کم تر نہیں سمجھنا چاہیے، اسی طرح ریاستی زبان کے اجارا داروں کو بھی چاہیے کہ وہ علاقائی زبان و ادب اور ان کے ادباء و شعراء اور محققین کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں اور انہیں ان کے شایان شان مقام دیں۔ ہم نے تعمیر اجتماعیت کے گزشتہ چوہتر سالوں میں سوائے ریاستی نفرتوں اور علاقائی تعصبات کے اور کچھ حاصل نہیں کیا۔ اب بھی وقت ہے ہمیں اگر آگے بڑھنا ہے تو ہمیں ایک دوسرے کے مقام و مرتبہ کو تسلیم کرنا ہو گا۔ ہمیں لسانی سیاستوں اور غیر ملکی آقاؤں کی دریوزہ گری کی بجائے مقامی زبانوں میں بڑا ادب تخلیق کرنے کی ضرورت ہے۔ جو اپنی مٹی، اپنے وسیب اور اپنے بہادروں، نام وروں کا مظہر و عکاس ہو۔

پنجابی ہمارے ملک میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے مگر ریاستی سطح پر اس کی سرپرستی نہ ہونے کے برابر ہے۔ آج بھی ہم اگر پنجابی زبان کے لکھاریوں کا باقی زبانوں سے موازنہ کریں تو وہ کسی بھی لحاظ سے کم تر نہیں ہیں۔ مثلاً لمحہ موجود میں ڈاکٹر سعید خاور بھٹا تحقیق کے میدان میں، زاہد حسن ناول نگاری میں، رائے محمد خاں ناصر شاعری میں، ملک مہر علی کہانی میں وغیرہ ایسے نام ہیں جن کے کام کو کسی بھی عالمی ادب کے سامنے فخر کے ساتھ رکھا جا سکتا ہے۔ یہ تمام لکھاری پنجابی کے ٹھیٹھ لہجے کے نمائندہ ہیں۔ ان کے کام کو مختلف زبانوں میں ترجمہ کر کے اور تنقیدی عمل سے گزار کر وسیع علمی تناظر میں متعارف کرایا جائے تاکہ دوسرے بھی دیکھیں کہ آج کا پنجابی لکھاری عالمی ادب میں کہاں کھڑا ہے۔

Facebook Comments HS