افسانہ: ایک بے بس بیوی کا بستر – دوسرا حصہ
سب کو امید تھی کہ جونہی بلے کی ٹانگوں کا پلستر اترے گا تو وہ چلنے پھرنے کے قابل ہو جائے گا۔ لیکن جب مزید تین ہفتے بعد پلستر اتارا گیا تو خبر ملی کہ بلا ٹانگوں سے تقریباً تقریباً معذور ہو چکا ہے۔ خاص طور پر کولہے کی ہڈیوں کی حالت ایسی ہے کہ اس کا واش روم تک جا سکنا بھی ایک معجزہ ہی ہے۔ اس لئے اب یہ خیال کرنا بھی غلط ہی تھا کہ وہ کبھی کچھ کام کاج کر سکے گا۔ رانی اور نجمہ تو اس خبر کے بعد اپنی اپنی منصوبہ بندی میں مصروف تھیں لیکن ان کی ماں شاید اس آخری امید پر ہی جی رہی تھی۔ چنانچہ اس خبر کے ٹھیک دو روز بعد مائی نے سونے سے قبل کوئی ایسا زہر کھایا کہ صبح ہونے سے پہلے انتہائی خاموشی سے اللہ کو پیاری ہو گئی۔
ایسے موقع پر بگو نے ایک بار پھر بلے کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور مائی کے کفن دفن کا تمام بندوبست اپنے پیسوں سے کیا۔ بلا یوں بھی ایک معذور کی طرح بستر پر پڑا تھا وہ بھی راضی ہو گیا۔ مائی کے کفن دفن کے تیسرے دن ہی بگو پھر بلے کے پاس آیا اور اس سے رانی کا ہاتھ مانگا۔ رانی بھی وہاں موجود تھی اور اپنی رضامندی کا اظہار پہلے ہی کر چکی تھی۔ بلے کو یہ بھی باور کرا دیا گیا تھا کہ اگر وہ نہیں مانے گا تو بھی وہ دونوں نکاح کر لیں گے۔ بلے کے پاس بھی کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا اس نے بھی ہامی بھر لی۔ یوں اگلے ہی دن چند محلے داروں کی موجودگی میں رانی، بگو کی دوسری بیوی بن کر اس کے گھر چلی گئی۔
رانی اب بے شک بگو کے گھر جا چکی تھی لیکن وہ اس گھر کی مالی امداد بھی جاری رکھے ہوئے تھی۔ ساتھ ہی ساتھ نجمہ کے نکاح کی تیاریاں بھی ہو رہی تھیں۔ باقاعدہ کپڑوں اور زیورات کا بندوبست کیا جا رہا تھا۔ اس لڑکے اور نجمہ نے بھی پہلے سے ایک دوسرے کو پسند کیا ہوا تھا۔ رانی اور بگو کی حمایت بھی انہیں شروع سے ہی حاصل تھی۔ وہ لڑکا بگو کا ہی ایک دوست تھا اس لئے تمام اخراجات بھی بگو ہی اٹھا رہا تھا۔
ایک نند اپنے گھر جا چکی تھی۔ دوسری کے نکاح کی تیاریاں بھرپور انداز سے ہو رہی تھیں۔ یکایک رشیدہ کو بھی خیال آ گیا کہ وہ بھی اپنے خاوند کے ساتھ لیٹی ہوئی ہے۔ چھ ہفتے کے بعد اچانک اس کی خواہشات بھی پوری شدت سے جاگ اٹھیں۔ اس نے بلے کے بدن کو سہلانا شروع کیا۔ بلے نے بھی جواب دینے کی کوشش کی۔ رشیدہ نے جہاں جہاں ممکن تھا اسے چھوا، اسے چوما، جسم سے جسم کو مس کیا لیکن بلے میں کوئی حرکت نہ ہو سکی۔
رشیدہ جیسے جوش میں کچھ پاگل سی ہو رہی تھی۔ بلا بھی اسے کبھی گلے سے لگاتا کبھی اس کے جسم پر جگہ جگہ ہاتھ پھیر کر اپنی مردانگی کا احساس دلانے کی کوشش کرتا۔ لیکن خود اس کا جسم تھا کہ ساتھ دینے سے انکاری تھا۔ نہ حرکت نہ حرارت نہ جوش۔ وہ مایوس اور شرمندہ سا ہو کر سیدھا لیٹ گیا۔ رشیدہ کا دماغ کھولنے لگا ”کیا ہو گیا ہے تمہیں بلے؟ کہاں گئی تمہاری مردانگی؟ اور کچھ نہیں ہوتا تو مجھے گالیاں دو ، ہاتھ اٹھاؤ مجھ پر ، چار جوتے ہی مارو مجھے۔ کوئی تو نشانی ملے تمہارے مرد ہونے کی! کہاں ہے تمہارا غصہ، تمہاری وحشت؟“ ۔ لیکن بلا کچھ نہ کر سکا۔ چپ چاپ لیٹا ٹکٹکی باندھے چھت کو دیکھتا اور آنسو بہاتا رہا۔ وہ بھی کتنی دیر ساتھ لیٹی کڑھتی اور اشکوں سے اپنا چہرہ بھگوتی رہی۔
دوسرے دن ناشتے سے فارغ ہو کر رشیدہ نے نجمہ سے کچھ پیسے مانگے اور رکشہ لے کر پھوپھی کے گھر چلی گئی۔ پھوپھی اس کے ساتھ ساس اور سسر کا افسوس کر رہی تھی مگر رشیدہ اسے اپنی گزشتہ رات کی بات سنانا چاہتی تھی۔ پھوپھی کوئی اور بات کرتی، رشیدہ اسے اپنے مقصد کے موضوع کی طرف لانا چاہتی لیکن شرم کے مارے رک جاتی۔ آخر کار پھوپھی کو بھی اندازہ ہو گیا کہ وہ کچھ اور بتانا چاہتی ہے۔
پھوپھی نے توجہ دی تو اس نے بھی آہستہ آہستہ شروع کر کے ڈھکے چھپے الفاظ میں اسے ساری بات بتا دی۔ لیکن پھر بھی اس کے دل کو تسکین نہیں ملی۔ آخر وہ پھٹ پڑی ”پھوپھی جان! اتنے مہینوں سے وہ مجھے دن کے وقت سب کے سامنے جوتیاں مارتا اور اکثر رات کو بستر میں بھی گھس آتا۔ وہ مجھے وحشیوں کی طرح نوچتا، کھسوٹتا اور زبردستی اپنی جنسی پیاس بجھاتا۔ میں دکھتے ہوئے انگ انگ کے ساتھ یہ اذیت برداشت کرتی اور یہی سوچتے سوچتے سو جاتی کہ آخر یہ کیا زندگی ہے؟
میں زندہ کیوں ہوں؟ میں مر کیوں نہیں جاتی؟ خدا نے کس گناہ کی سزا میں اس دوزخ کا ایندھن بنایا ہے مجھے؟ لیکن پھوپھو! پچھلی رات، جب چھ ہفتوں کے وقفے کے بعد بھی میں اس کے مردہ جسم کو جگانے میں ناکام ہو گئی تو میری شدید خواہش تھی کہ وہ پھر سے وہی وحشی بن جائے۔ میری ہڈی ہڈی توڑے مروڑے اور میرے جسم کو چیر پھاڑ دے۔ ریزہ ریزہ کر دے مجھے۔ مگر اس میں تو نہ حرکت تھی نہ حرارت۔ تب مجھے پہلی بار یہ احساس ہوا کہ عورت کے لئے تو یہاں ایک سے بڑھ کر ایک جہنم موجود ہے۔
اس کے جلنے مرنے کا سلسلہ تو کبھی ختم ہو ہی نہیں سکتا۔ یقین کریں پھوپھو! رات میرا جی چاہتا تھا میرے ہاتھ میں پستول ہو اور میں اسے قتل کر کے خودکشی کر لوں۔ یا پھر بازار میں نکل جاؤں اور تمام مردوں سے کہوں، آؤ اور باری باری میری تسکین کا بندوبست کرو۔ میرے اندر آگ کے جھکڑ چل رہے تھے اور وہ مردہ چوہے کی طرح میرے ساتھ لیٹا رو رہا تھا“ ۔
رشیدہ کی پھوپھی نے اپنے ململ کے دوپٹے سے اس کے آنسو صاف کیے اور بولی ”میں نے تیری ساری بات سن لی اور سمجھ بھی لی۔ اب یہ بتا، تو کیا چاہتی ہے؟ ان دکھوں پر رونے میں تیرے ساتھ شامل ہو جاؤں؟ تیرے معذور خاوند اور تیری قسمت کا ماتم کروں؟ تیری ہمدردی میں نوحے پڑھوں؟ یا پھر زندہ رہنے کے راستے تلاش کرنے میں تیری مددگار بنوں؟“ ۔
”یہ رونا تو اب شاید زندگی کے ساتھ ہی ختم ہو گا۔ آمدنی کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے۔ باجی رانی ابھی کچھ مدد کر رہی ہے، تھوڑا بہت باجی نجمہ بھی ہاتھ بٹا رہی ہے، مگر کب تک؟“ ۔
”یہی تو میں بھی پوچھ رہی ہوں کہ ایسے کب تک؟“ ۔
”تو آپ ہی بتائیں پھوپھو! میں کروں تو کیا کروں؟“ ۔
”سادہ سی بات ہے، دکھوں کا سیلاب تیرے آس پاس چڑھ آیا ہے۔ جہاں اس وقت کھڑی ہے، یہیں کھڑی رہے گی تو ڈوب جائے گی۔ اگر خود کو اس سیلاب کے پانی سے ذرا اوپر کر لے گی تو بچ جائے گی۔ پھر زندگی کے نئے راستے بھی نظر آنے لگیں گے“ ۔
”مگر کیسے پھوپھو؟ مجھے تو کچھ سجھائی نہیں دے رہا“ ۔
”سر کے اوپر ابھی چھت ہے تیرے پاس۔ معذور ہی سہی، نام کو ہی، خاوند بھی ہے تیرا۔ لوگوں کو کیا پتہ وہ کس قابل ہے اور کس قابل نہیں ہے۔ اس لئے اگر پہلے کچھ آمدنی کا بندوبست ہو جائے۔ مانگنا نہ پڑے۔ نندوں کی محتاجی ختم ہو جائے تو سانس نکلنے لگے گا تیرا۔ پیٹ کی بھوک کا انتظام ہو جائے گا تو بدن کی طلب کا بھی سوچ سکے گی۔ لیکن جو بھوک ہی نگل گئی تو بدن باقی ہی کہاں رہے گا؟“ ۔
”نہ ماں باپ پوچھتے ہیں، نہ بھائیوں نے کبھی خبر لی ہے۔ کروں تو کیا کروں؟“ ۔
”کشیدہ کاری اور کر وشیے کا ہنر تو میں نے تجھے بھی سکھایا تھا۔ وہ کیوں نہیں کرتی؟ کچھ تو آسرا ہو“ ۔
”سوئی دھاگے اور کپڑے کے پیسے بھی تو نہیں ہیں میرے پاس“ ۔
”وہ تو مجھ سے لے لے۔ اور کام شروع کر ۔ پہلے ہاتھ تو سیدھا ہو تیرا۔ پھر آمدنی کا کچھ آسرا ہو۔ خاوند کو بھول جا کچھ دیر۔ عورتیں بیوہ بھی تو ہو جاتی ہیں نا! تو بھی کچھ دیر کے لئے خود کو بیوہ ہی سمجھ لے۔ ہفتے دس دن میں میری طرف چکر لگا لیا کر ۔ رکشے کے پیسے مجھ سے لے لینا۔ اتنا تو کر ہی سکتی ہوں میں آرام سے۔ پھر دیکھ خدا کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی دے گا۔ سات جماعت پاس ہے تو ، اتنی بھی گئی گزری نہیں ہے۔ شاید کوئی باعزت کام بھی مل جائے“ ۔
پھوپھی کی باتوں سے رشیدہ کی ڈھارس بندھی۔ واپسی پر وہ پہلے سیدھی یامین سٹور پر آئی۔ وہاں سے سوئی سلائی، دھاگہ کپڑا لیا اور کچھ سن گن بھی حاصل کی کہ بازار میں کیا کیا طلب کیا جا رہا ہے۔ سٹور سے اسے کچھ نئے ڈیزائن بھی مل گئے۔ وہ سب کچھ گھر لے آئی۔ مگر گھر آتے ہی اس نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ مرحومہ ساس کی چارپائی اٹھا کر اپنے کمرے میں ڈال لی۔ اب وہ بلے سے الگ اکیلی سو سکتی تھی۔ بلا اسے یہ سب کرتے ہوئے دیکھتا رہا مگر شاید رات کے واقعہ کی وجہ سے کچھ بولا نہیں۔ رشیدہ اس کے بعد کشیدہ کاری میں مصروف ہو گئی۔ دو تین دن میں اس کا ہاتھ بھی صاف ہو گیا تو خود اعتمادی کے ساتھ حوصلہ بھی بڑھ گیا۔
رانی اور بگو نے مل کر نجمہ کے نکاح کا بندوبست کیا۔ دو ہفتے بعد ہی سب بلے کے گھر میں جمع ہو گئے۔ اسے بھی نئے کپڑے پہنا کر ساتھ بٹھا لیا۔ پاس پڑوس کے کچھ لوگ بھی بلائے تھے۔ سب نے مل کر کھانا کھایا۔ نکاح ہوا تو نجمہ بھی اپنے گھر روانہ ہو گئی۔ بلا تو اب ویسے ہی سمٹ سمٹا گیا تھا۔ رشیدہ کوئی بات کرتی تو جواب دے دیتا ورنہ خاموش بیٹھا رہتا۔ رشیدہ گھر کے کام کے علاوہ سارا وقت کشیدہ کاری میں مصروف رہتی۔ اسی بنیاد پر ان کی دال روٹی چل پڑی تھی۔
ہر ہفتے دس دن بعد رشیدہ اپنی پھوپھی کی طرف بھی چکر لگا لیتی۔ وہاں سے اسے کافی اخلاقی مدد مل رہی تھی۔ اور پھر تین ماہ ہی گزرے تھے کہ رشیدہ کے پھوپھا کی مدد سے لڑکیوں کے مقامی سکول میں رشیدہ کو ہیلپر کی جاب بھی مل گئی۔ جاب ابھی بالکل عارضی تھی اور رشیدہ کی عمر بھی اس کے لئے کم تھی مگر پھر بھی اس کی تعلیم کی وجہ سے اسے رکھ لیا گیا۔ شرط یہ تھی کہ کبھی بھی ایک مہینے کے نوٹس پر اسے برخاست کیا جا سکتا ہے۔ یوں اس کی کشیدہ کاری کے علاوہ ایک اضافی آمدنی کا ذریعہ بھی بن گیا۔
یہ لڑکیوں کا ہائی سکول تھا۔ رشیدہ کے علاوہ وہاں ایک چپڑاسی بھی موجود تھا لیکن وہ اپنی طے شدہ ڈیوٹی کے سوا کوئی کام نہیں کرتا تھا۔ چونکہ وہ وہاں مستقل ملازم تھا اس لئے اسے کسی کا ڈر بھی نہیں تھا۔ رشیدہ کے آنے سے وہاں کی استانیوں کو ایک ایسی لڑکی ہاتھ آ گئی جس پر وہ آسانی سے رعب جما سکتی تھیں۔ چنانچہ اس بے چاری کی خوب دوڑ لگی رہتی تھی۔ اس کے باوجود، سکول کے بعد گھر آ کر وہ پہلے کھانا پکاتی۔ بلے کو کھلاتی اور پھر رات کو دیر گئے تک اپنی کشیدہ کاری میں مصروف رہتی۔
بارعب داڑھی والے چالیس سالہ سلمان عالم اس پورے سکول میں واحد مرد استاد تھے۔ شاید اسی لئے فرصت کے اوقات میں بیٹھنے کے لئے انہیں ایک علیحدہ کمرہ ملا ہوا تھا۔ ان کے ذمہ تمام جماعتوں کو عربی زبان پڑھانا تھا۔ ان کی تعلیم بھی دوسرے مضامین کے علاوہ عربی زبان تک محدود تھی۔ البتہ اس سکول میں انہیں ایسا احترام حاصل تھا جیسے کہ وہ شریعت اور فقہ کے ایک بڑے عالم ہوں۔ اسی لئے سب انہیں مولوی صاحب یا مولانا کہہ کر بلاتے تھے۔
وہ بھی دیکھ رہے تھے کہ کیسے رشیدہ سارا دن وہاں ہلکان ہوا کرتی ہے۔ انہوں نے آتے جاتے اسے دیکھا بھی تھا مگر یوں کہ رشیدہ کو اس بات کا احساس نہ ہو سکے۔ ایک دن وہ اپنے کمرے میں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے کہ رشیدہ کو کسی کام سے وہاں جانا پڑا۔ وہ وہاں سے نکلنے لگی تو سلمان صاحب نے اسے آواز دے کے روک لیا۔ ”دیکھو لڑکی! میں تمہارے بارے میں کافی کچھ جانتا ہوں، اور تمہارے لئے مددگار بھی ہو سکتا ہوں۔ اگر تم ضرورت سمجھو تو کسی دن سکول کے بعد میرے گھر آ جاؤ۔ وہاں اور بھی بہت سے بچے قرآن پڑھنے کے لئے آتے ہیں۔ مطلب، تم اکیلی نہیں ہو گی“ ۔ رشیدہ انہیں کچھ بھی جواب دیے بغیر خاموشی سے باہر نکل گئی۔
اگلے تین دن بھی اس نے سلمان صاحب سے کوئی بات نہ کی اور نا ہی کسی استانی سے اس کا ذکر کیا۔ تیسرے دن گھر پہنچ کر اس نے کھانا پکایا، بلے کو کھلایا اور اپنی پھوپھی کی طرف چلی گئی۔ پھوپھی کو جا کر اس نے ساری بات بتا دی۔ پھوپھی کا کہنا تھا کہ ایک بار جا کر اس کی بات سن آؤ، یونہی، پہلے سے کوئی منفی رائے قائم کر لینا تو مناسب نہیں ہے۔ تمہارے بتانے کے مطابق اس کا گھر بھی سکول سے زیادہ دور نہیں ہے اور پھر وہاں دوسرے بچے بھی ہوتے ہیں تو تمہیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟

