افسانہ: ایک بے بس بیوی کا بستر – دوسرا حصہ
دوسرے دن رشیدہ نے صبح صبح ہی کھانا پکا کر رکھ دیا اور سکول چلی گئی۔ سکول سے واپس آئی، بلے کو کھانا کھلایا اور سلمان عالم کے گھر چلی گئی۔ ان کے گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور اندر صحن سے قرآن پڑھتے ہوئے بچوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ وہ صحن میں آئی، سلمان صاحب کو دیکھا اور ان کی طرف بڑھ گئی۔ وہ ایک بچے کو کچھ بتانے میں مصروف تھے۔ سلام دعا کے بعد انہوں نے رشیدہ کو باورچی خانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
”وہاں ضرورت کی ہر چیز موجود ہے۔ تم وہاں جا کردو آدمیوں کے لئے چائے بناؤ میں ابھی آتا ہوں“ ۔
رشیدہ ادھر چائے بنانے میں مصروف تھی کہ وہ وہاں آ کر اس کے قریب ہی ایک چوکی پر بیٹھ گئے۔ رشیدہ نے ایک چائے کی پیالی انہیں دی تو وہ یوں گویا ہوئے ”دیکھو رشیدہ! میں گھما پھرا کر باتیں کرنے کا عادی نہیں ہوں۔ میرے بارے میں یہاں سب کا خیال ہے کہ میں کوئی بہت دین دار آدمی ہوں لیکن ان کا یہ خیال بالکل غلط ہے۔ میں کوئی اچھا آدمی بھی نہیں ہوں۔ ہاں! اتنا اچھا ضرور ہوں کہ کسی سے کوئی زیادتی نہیں کرتا۔ نا ہی کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتا ہوں۔
میری بیوی، ہمارے بچوں کے ساتھ گاؤں میں رہتی ہے۔ میں یہاں اکیلا ہوں اور مجھے ایک عورت کی ضرورت ہے۔ لیکن میری صرف یہی ایک ضرورت ہے۔ جبکہ تمہیں ایک مرد کی بھی ضرورت ہے، تمہیں پیسوں کی بھی ضرورت ہے اور تمہیں ساتھ ہی ساتھ اس بھرم کو قائم رکھنے کی بھی ضرورت ہے، جو تمہارے آس پاس کے لوگوں میں اس وقت تمہارا بنا ہوا ہے۔ یوں تمہاری ضرورتوں کی تعداد مجھ سے کہیں زیادہ ہے۔ میرے پاس ہم دونوں کے مسائل کا باعزت حل ہے۔
اب تم چائے پی کر چلی جاؤ۔ اور اگر تم سمجھو کہ ہمیں آگے بات کرنی چاہیے تو کل پرسوں جب بھی تمہارا جی چاہے یونہی سیدھی میرے باورچی خانے میں آ کر چائے بنانے میں مصروف ہو جانا۔ جو بھی سوال جواب ہو گا ہم ایک دوسرے سے کر لیں گے“ ۔ اور وہ کچن سے باہر نکل گئے۔ رشیدہ نے بھی چائے ختم کی اور انہیں سلام کر کے چلی گئی۔
گھر پہنچ کر رشیدہ نے سلمان صاحب کی کہی ہوئی باتوں پر غور کرنا شروع کیا۔ وہ جتنا جتنا اس بارے میں سوچتی تھی اتنا ہی اس کے بدن میں ایک مرد کے لئے طلب جاگتی تھی۔ اسے بار بار یہ خیال بھی آتا تھا کہ کتنی مشکل سے زندگی ذرا آسان ڈگر پر چلنی شروع ہوئی ہے! کہیں سب کچھ ہی تباہ نہ ہو جائے۔ آس پاس کے لوگوں میں بنے ہوئے بھرم کے ٹوٹنے کا خطرہ بھی اسے پریشان کر رہا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ ابھی وہ اس پر مزید غور کرے گی۔
اسی سوچ بچار میں تین دن اور گزر گئے۔ مگر چوتھے دن وہ سلمان صاحب کے کچن میں پہنچ گئی۔ وہ چائے بنانے میں مصروف تھی کہ وہ آ گئے اور اسی طرح چوکی پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے چائے کا انتظار بھی نہیں کیا اور بولنے لگے ”میں جانتا ہوں، تمہیں کیا کیا سوال تنگ کر رہے ہیں۔ اس لئے میری بات غور سے سنو! اگر تم چاہو گی تو ہم دونوں شرعی طریقے سے نکاح کریں گے۔ جسے ساری دنیا سے خفیہ رکھا جائے گا۔ یا کم از کم اس وقت تک ضرور خفیہ رکھا جائے گا جب تک تمہیں ضرورت ہو گی۔
تم میرے پاس یہاں پڑھنے کے لئے آیا کرو گی۔ پھر جب جب ممکن ہو گا ہم مل بھی لیا کریں گے۔ میں تمہیں حق مہر میں کچھ رقم بھی دوں گا۔ اس کے علاوہ میں تمہیں ایک ایسی سلائی کی مشین خرید کر دوں گا جس پر کڑھائی کا کام بھی ہوتا ہے اور بڑی رفتار سے ہوتا ہے۔ تم اس سے اچھی خاصی کمائی کر سکو گی۔ اگر تمہارے یامین سٹور والے صاحب تمہارا مال نہ خرید سکیں تو میں تمہارے لئے خریدار کا بندوبست بھی کر دوں گا۔ میرا خیال ہے، میں نے تمہارے اہم سوالات کا جواب دے دیا ہے۔ اگر کوئی اور سوال ہے تو تم مجھ سے پوچھ سکتی ہو“ ۔ رشیدہ چپ چاپ چائے پیتی رہی پھر دوسرے دن آنے کا کہہ کر چلی گئی۔
اب اسے فیصلہ کرنا تھا۔ اور یہ اس کی زندگی کا اہم ترین فیصلہ تھا۔ وہ گھر جانے کی بجائے وہیں سے سیدھی اپنی پھوپھی کے گھر پہنچی۔ پھوپھی کو تمام معاملے کی تفصیل دے کر مشورہ طلب کیا۔ کتنی ہی دیر تک دونوں اس عمل پر ممکنہ مثبت اور منفی ردعمل کے بارے میں غور کرتی رہیں۔ رشیدہ نے بہت سے سوالات کیے اور اس کی پھوپھی نے ہر سوال کا اپنی عقل اور معلومات کے مطابق جواب دیا۔ آخر میں پھوپھی نے اس پر زور دے کر کہا کہ اب جو بھی فیصلہ کرنا ہے وہ خود کرے۔ اور صرف یہی نہیں، آج کے بعد وہ اپنا ہر فیصلہ خود کرے۔ مشورہ لے بے شک اور معلومات بھی لیکن اپنا فیصلہ کرنے کا حق کسی کو نہ دے۔ ساتھ ہی اس نے رشیدہ کو یہ حوصلہ بھی دیا کہ فیصلہ جو بھی ہو وہ اس کا ساتھ دے گی۔
رشیدہ وہاں سے چلی آئی۔ گھر میں کام کاج کرتے ہوئے اس کا دماغ پھوپھی سے کی ہوئی باتوں میں ہی پھنسا ہوا تھا۔ رات کو اس نے جتنی بار بھی بلے کی چارپائی کی طرف دیکھا اتنی ہی بار ڈر سی گئی۔ کئی بار اسے بلے کی حالت پر ترس بھی آیا۔ وہ بہت دیر تک جاگتی اور اپنے آپ سے لڑتی رہی۔ مگر صبح ہوتے تک وہ بالکل تازہ دم تھی۔ وہ حیران تھی کہ صرف ایک فیصلہ لیتے ہی وہ خود کو کتنا بدلا ہوا محسوس کر رہی تھی۔
دوسرے دن دوپہر کے بعد وہ پھر سلمان عالم کے کچن میں بیٹھی تھی۔ ملاقات ہوتے ہی اس نے سیدھے سیدھے سوالات میں پوچھ لیا کہ حق مہر کتنا ہو گا؟ مذکورہ سلائی مشین کہاں سے ملتی ہے؟ اور یہ بھی کہ وہ پہلے سلائی مشین دیکھنا چاہے گی۔ پھر یہ بھی کہ مولوی سلمان اس کو ماہانہ کس قدر ادا کریں گے؟ سلمان عالم کے جواب سننے کے بعد اس نے رضامندی کے ساتھ ساتھ اپنی شرط بھی بتا دی کہ وہ حق مہر اور سلائی مشین، نکاح سے پہلے وصول کرے گی۔ سلمان عالم مان گئے۔
رشیدہ نے حق مہر کی رقم لے جا کر پھوپھی کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرا دی۔ سلائی مشین کمپنی سے، اسے استعمال کی ممکنہ حد تک معلومات بھی حاصل کر لیں اور ضرورت پڑنے پر مزید رہنمائی کا وعدہ بھی لے لیا۔ سلمان عالم سے نکاح کا وقت مقرر کیا اور بلے کو بتا دیا کہ وہ رات کو گھر نہیں آئے گی بلکہ پھوپھی کی طرف سوئے گی۔ بلے کے کھانے پینے کو سب موجود تھا، وہ بھی خاموش رہا۔
وقت مقررہ پر ، جب کہ وہاں سبق پڑھنے کے لئے آنے والے تمام بچے جا چکے تھے۔ سلمان عالم نے خود ہی دونوں کا نکاح پڑھا۔ نکاح نامے پر اپنے اور رشیدہ کے دستخط لئے اور اسے بتا دیا کہ وہ جب چاہے نکاح نامے کی اپنی کاپی لے جا سکتی ہے۔ نکاح کے بارے میں تمام شرعی لوازم اور اصولوں سے وہ پہلے ہی رشیدہ کو آگاہ کر چکا تھا۔
رشیدہ کو تقریباً چھ مہینے کے بعد مرد کی آغوش میسر آئی تھی۔ اس نے اس رات سے جی بھر کے لطف کشید کیا۔ ویسے بھی یہ اس کی زندگی میں پہلی بار تھا کہ کسی مرد نے اس کے ساتھ انسانوں والا سلوک کیا تھا۔ اس کے جذبات کا خیال رکھا تھا اور اسے بستر میں بھی عزت دی تھی۔ بلے کے ساتھ کبھی کبھار چند لمحوں کے لئے اس کے اپنے جذبات بھی جاگتے ضرور تھے مگر صرف چند لمحوں کے لئے۔ عام طور پر تو بلے نے بستر میں اسے صرف اذیت ہی دی تھی۔
باقاعدہ جنسی آسودگی اور وہ بھی اتنی اچھے ماحول میں، اسے اس رات پہلی بار میسر آئی تھی۔ وہ رات بھر بہت خوش تھی۔ لیکن جب وہ صبح بیدار ہوئی تو پہلے والی رشیدہ بالکل غائب ہو گئی تھی۔ وہ ایک یکسر نئی لڑکی بن گئی تھی۔ پہلی بار اس نے سوچا کہ عورت کی ضرورت صرف مرد کا پیار اور جنسی آسودگی تو نہیں۔ یہ تو زندگی کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ تبھی اس نے ایک نیا فیصلہ کیا۔
(معزز قارئین! وہ فیصلہ کیا تھا؟ رشیدہ نے اس پر کیسے عمل درآمد کیا؟ اور اس فیصلے کی وجہ سے اسے کیا کیا مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟ پھر ان مشکلات سے گزر کر وہ کس مقام پر پہنچی؟ یہ سب آپ کو اس افسانے کے تیسرے اور آخری حصے میں ملے گا) ۔

