بھارت کی مسکان , پاکستان کی عاصمہ اور عورت مارچ

8 فروری کو کرناٹک کی رہائشی اور بی کام سیکنڈ ائر کی طالبہ مسکان خان جب اپنے برقع کے ساتھ اپنا سکوٹر چلا کے اپنے کالج پہنچی تو ان کو انتہا پسند جتھے نے گھیر لیا یہ نوجوانوں پر مشتمل گروہ تھا ( کیا کیجیے بقول یوسفی کے جہاں جتنی غربت ہوتی ہے وہاں اتنا آلو اور مذہب زیادہ بکتا ہے اور سرحد کے دونوں طرف ہمارے مذہب کے علمبرداروں اور سیاستدانوں نے غربت، بے روزگاری اور بیماری کی چکی میں پستی ہوئی اس نوجوان نسل کو مذہبی انتہا پسندی کا نشہ رگوں میں اتار کر ان کو دنیا و مافیا سے بے خبر کر دیا ہے ) مسکان خان کو ان نوجوانوں نے برقعہ اتار کر کالج آنے کا کہا ورنہ ان کو کالج دوبارہ نہ آنے کا مشورہ دیا جس کے جواب میں مسکان کو بھی غصہ آ گیا اور انہوں نے ان کا مقابلہ کیا، نعرہ تکبیر بلند کیا اور کالج کے اندر چلی گئیں
مسکان کے ساتھ ہونے والا یہ واقع سوشل میڈیا کے ذریعہ ساری دنیا نے دیکھا کہ کرم ہو کہ یہ کیپٹلسٹ میڈیا کے متبادل کے طور پر موجود ہے ورنہ ابھی بھی ہم دولے شاہ کے چوہے ہوتے۔ ہر کسی نے اس واقع کا اپنے حالات و واقعات کے مطابق مطلب نکالا ہے۔ پاکستان میں اس کا ردعمل بہت دلچسپ ہے۔ پاکستان کے مذہبی لوگوں نے اس کو اپنے نظریات کی توثیق کی طور پر جانا اور لبرلز نے اس کو موازنہ کا موقع جانا کہ دیکھیں صرف ہراساں ہی کیا ہے جان سے تو نہیں مارا یہ دونوں اس کو اپنے نظریات کے فروغ کے لیے استعمال کر رہے ہیں لیکن مسکان اور ان کے ساتھ کی بے شمار طالبات جو حجاب کرتی ہیں وہ اس معاملے میں بالکل واضح ہیں وہ اپنی مرضی کا لباس زیب تن کرنے کا حق بھارتی آئین کے مطابق رکھتی ہیں اور وہ اپنا آئینی حق استعمال کرنا چاہتی ہیں اور اس بات کی اجازت وہ نہ ہی سیاستدانوں کو نہ ہی ریاستی اداروں کو دینے کے لیے تیار ہیں کہ ان کا آئینی حق ان سے چھینا جائے
اس میں سب سے اہم پہلو ہی یہ ہے کہ مسکان حجاب کا حق مذہب کی رو سے نہیں آئین کی رو سے مانگ رہی ہیں اور اس بات کی گہرائی کا کسی کو ادراک نہیں کہ یہ خواتین مذہبی آزادی نہیں شخصی آزادی کی جنگ لڑ رہی ہیں اور وہ یہ کسی کے اکسانے پر نہیں بلکہ آئین کے تحت دیے گئے حقوق کے تحفظ کے لیے ہے کیونکہ جو آگ آج کسی اور کا دامن جلا رہی ہے وہ کل آپ کو بھی بھسم کر سکتی ہے اس لیے بہتر ہے کہ ایسے دستاویز کے تحفظ کی بات کی جائے جو سارے ملک کے عوام کے مساوی حقوق کی بات کرتا ہے اور وہ ملک کا آئین ہے۔
وقت کو پچاس سال پیچھے لے جائیں ایک دھان پان سی لڑکی آپ کو پاکستان میں آئین کی بالادستی کی جنگ عاصمہ جیلانی بمقابل حکومت پاکستان کیس میں لڑتی نظر آئے گی۔ عاصمہ جہانگیر کے والد ملک غلام جیلانی کو 22 دسمبر 1971 کو مارشل لا پر تنقید کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا اس سے پہلے ان کو ایوب آمریت پر تنقید کی پاداش میں قید بھگتنا پڑی تھی۔ اس بار عاصمہ نے ان کی طرف سے مدعی بننے کا فیصلہ کیا جب باقی سب لوگوں کو پیچھے ہٹتے دیکھا۔
لاہور ہائی کورٹ میں جب ان کی درخواست مسترد ہو گئی تو وہ اس درخواست کو لے کر سپریم کورٹ گئیں یہ کہنا اور لکھنا بہت آسان ہے لیکن ایک ڈکٹیٹر کے خلاف کھڑے رہنا بہت مشکل ہے خاص کر جب آپ کا باپ اسی ڈکٹیٹر پر تنقید کے جرم میں جیل میں ہو اور بالآخر عاصمہ کی اس درخواست نے پاکستان میں آئین کی بالادستی کا راستہ کھول دیا جب عدالت نے یحییٰ خان کے مارشل لا کو غیر آئینی قرار دے دیا اور پاکستان میں مارشل لا کو جبر اور نا انصافی قرار دیا گیا جس کے نتیجہ میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے مارشل لا ہٹا کر پاکستان کو 1973 کا آئین دیا اور یہ وہ آئین تھا جس کی حفاظت عاصمہ آخری سانس تک کرتی رہیں۔
شخصی آزادی اور آئینی حقوق کا تحفظ کسی بھی ریاست کے لیے آکسیجن کا کام کرتے ہیں اگر ریاست اسی پہ بوٹ رکھ کے کھڑی ہو جائے تو جان سے جائے گی۔ عاصمہ کو یہ بات اچھے سے معلوم تھی کہ عوام کو بولنے کا حق ہے اور اس سے کوئی آسمان نہیں گر جانا اگر ہم لوگوں کو اپنی بات بلاخوف و خطر کہنے کی اجازت دیں تو اس سے ڈائیلاگ کا راستہ کھلے گا جس سے عوام اور ریاست مل کر اپنے مسائل کو حل کر پائیں گی اور عوام کی بات نہ سننا دراصل اس کیپیٹلسٹ کلچر کا حصہ ہے جس میں صرف اس آدمی کی بات کی اہمیت ہے جو امیر ہے اور غریب بے وقت کیڑا مکوڑا ہے جس کی زندگی بے معنی اور موت صرف تصویریں اتارنے کا موقع ہے۔
عاصمہ جہانگیر نے ان لوگوں کی شخصی آزادی کا نہی تحفظ کیا جنہوں نے ان کی آواز کو ختم کرنا چاہا چاہے وہ الطاف حسین ہی کیوں نہ ہوں اپنے نظریات کے ساتھ جینے کی آزادی عاصمہ جہانگیر کی زندگی کا اصول تھا۔ اس میں جنس، طبقے اور مذہب کی تفریق نہیں تھی۔ بلکہ یہ بات آئین کی بالادستی پر یقین رکھنے والی عاصمہ اچھے سے جانتی تھیں کہ مذہبی انتہا پسندی وہ کانٹے دار شجر ہے جس سے سب زخمی ہوں گے اور اسی لیے وہ اقلیتوں کے تحفظ کے لیے پیش پیش رہیں ان کی بال ٹھاکرے کے ساتھ جس تصویر کو ان کے گلے میں پاکستان سے غداری کے طوق پر پہنایا گیا وہ ان کے بطور اقوام متحدہ کے مذہبی آزادی کے مبصر کے طور پر انڈیا کے دورے کی تھی جب وہ انڈیا مسلم اقلیت کی حالت زار جاننے گئیں تھیں اور قوی یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ ان کو بھی یہ بات سمجھانے کی کوشش کی ہو گی کہ ”ہم نے کبھی صحیح سبق نہیں سیکھا ہم کبھی مسئلے کی جڑ تک نہیں گئے۔ ایک دفعہ آپ سیاست میں مذہب کو لے آئیں تو آپ آگ سے کھیل رہے ہیں۔ یہ آگ آپ کو بھی جلا دے گی“ ۔
آج یہ آگ انڈیا پاکستان دونوں اطراف میں برابر لگی ہے اور دونوں اطراف کی نوجوان نسل اس میں جل رہی ہے لیکن مسکان اور عاصمہ جہانگیر کی طرح دونوں اطراف کی خواتین خاص کر نوجوان خواتین ڈٹ کر کھڑی ہیں اور وہ کسی سے اپنے فیصلوں کے غلط صحیح کا سرٹیفیکٹ نہیں مانگ رہی ہیں وہ اپنے لیے خود فیصلے کر رہی ہیں اور بطور انسان ان حقوق کی واپسی معاشرے سے چاہتی ہیں جو ان کے خالق نے ان کو عطا کیے ہیں اور جن کا وعدہ ان کے ملکوں کے آئین میں کیا گیا ہے اور آئین وزیر کے گھر کا غلام نہیں کہ جو احتجاج ان کو پسند ہو وہ تو دھرنے اور ہنگامے بدل کر پولیس والوں کو مار دے اور پھر بھی آپ ان کے رہنما کو جو ایسے معاہدے کے تحت رہا ہوئے جس جو آج تک پارلیمان یا عوام کے سامنے نہ پیش کیا گیا ہو ان کو پھولوں کے ہار پہنائے اور اپنے نظریہ کا اظہار کرتی پرامن عورتیں اپنا حقوق کا ہر چار کرتی ہوئی آپ کو ناگوار گزر رہی ہیں۔
اگر آج عاصمہ جہانگیر زندہ ہوتیں تو مسکان سے ہونے والے سلوک پر فہمیدہ ریاض کی یہ نظم اس کو سناتیں
تم بالکل ہم جیسے نکلے، اب تک کہاں چھپے تھے بھائی
وہ مورکھتا وہ گھامڑ پن جس میں ہم نے صدی گنوائی
آخر پہنچی دوار تو ہارے، ارے بدھائی بہت بدھائی
پریت دھرم کا ناچ رہا ہے
قائم ہندو راج کرو گے؟
سارے الٹے کاج کرو گے؟
اپنا چمن تاراج کرو گے؟
تم بھی بیٹھے کرو گے سوچا، پوری ہے ویسی تیاری
کون ہے ہندو کون نہیں ہے، تم بھی کرو گے فتوی جاری؟
ہو گا کٹھن یہاں بھی جینا، دانتوں آ جائے گا پسینہ
جیسی تیسی کٹا کرے گی، یہاں بھی سب کی سانس گھٹے گی
بھاڑ میں جائے شکشا وکشا، اب جاہل پن کے گن گانا
آگے گڑھا ہے یہ مت دیکھو، واپس لاؤ گیا زمانہ
مشق کرو تم آ جائے گا، الٹے پاؤں چلتے جانا
دھیان نہ دوجا من میں آئے، بس پیچھے ہی نظر جمانا
ایک جاپ سا کرتے جاؤ، بارم بار یہی دہراؤ
کیسا ویر مہان تھا بھارت، کتنا عالی شان تھا بھارت
پھر تم لوگ پہنچ جاؤ گے، بس پرلوک پہنچ جاؤ گے
ہم تو ہیں پہلے سے وہاں پر، تم بھی سمے نکالتے رہنا
اب جس نرگ میں جاؤ وہاں سے
چٹھی وٹھی ڈالتے رہنا

