لندن عجائب گھر میں ایک سنہرا دن


اسے میرا شوق کہہ لیں یا میری خوش قسمتی کہ مجھے دنیا کے تین سب سے بڑے اور قدیم عجائب گھر دیکھنے کا موقع ملا۔ دو ہزار آٹھ میں پیرس کی سیر کے دوران میں نے صرف مونا لیزا دیکھنے کے لئے ً لوور میوزیم ً میں ایک دن گزارہ اور یہاں موجود نوادرات کا بڑے قریب سے نظارہ کیا۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا عجائب گھر مانا جاتا ہے ۔ دو ہزار پندرہ میں اپنے بینک کی طرف سے روس کے شہر ً سینٹ پیٹرزبرگ ًکی سیر کے دوران وہاں پر قائم دنیا کے ایک اور عظیم الشان عجائب گھر ً ہرمیٹیج ً کو دیکھنے کا موقع ملا۔ یہاں بھی ہم نے پورا ایک دن گزارا۔ اور اب پچھلے ہفتے برطانیہ کا لندن میں عجائب گھر ًبرٹش میوزیم ًدیکھنے کا موقع ملا۔

یوں تو میں نے لندن شہر کے بہت سارے قابل ذکر تاریخی اور تفریحی مقامات دیکھ لئے ہوئے تھے لیکن بوجوہ لندن کا شہرہ آفاق عجائب گھر ابھی تک نہیں دیکھ سکا تھا۔ دو ہفتے قبل میرا برمنگھم سے لندن جانے کا پروگرام بنا تو میرے دونوں نواسے ہادی اور سمیع بھی ساتھ جانے کو تیار ہو گئے۔ ہادی ان دنوں سکول میں مصر کی تاریخ پڑھ رہا تھا اس لئے اس نے اپنی ماں سے خاص طور پر لندن عجائب گھر میں رکھے نوادرات میں مصری ثقافت دیکھنے کی فرمائش کر رکھی تھی۔ ہم جمعرات کی شام کو لندن پہنچ گئے جہاں مشرقی لندن میں واقع چھوٹے بھائی عمران کے گھر میں ہمارا قیام تھا۔ سدرہ بیٹی نے لندن روانہ ہونے سے قبل عجائب گھر کی سیر کے لیے جمعہ کے دن کی بکنگ کروا لی تھی۔

برطانیہ یا کہیں بھی اگر آپ کسی جگہ کی سیر کے لیے قبل از وقت وہاں کے داخلہ ٹکٹ اور دوسری بکنگ کروا لیں تو آپ بہت سی پریشانیوں سے بچ جاتے ہیں۔ دنیا میں عموماً ٹورسٹ ایسا ہی کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف وقت بلکہ پیسے کی بھی بچت ہوتی ہے۔ برطانیہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بہت ہی اچھا ہے۔ کسی بھی شہر میں اور خصوصاً لندن شہر میں تو آپ بغیر کسی تردد کے بس یا ٹرین پر کسی بھی قابل دید مقام کے قریب ترین پہنچ جاتے ہیں۔ ہم بھی جمعہ کے دن صبح مشرقی لندن کے علاقہ والتھم سٹو سے بس پر سوار ہو کر عجائب گھر کے لئے روانہ ہوئے۔ بس نے ایک گھنٹہ میں ہمیں عجائب گھر کی بغل والی گلی کے بس سٹاپ پر اتارا جہاں سے سو گز کے فاصلے پر گریٹ رسل سٹریٹ میں برطانیہ کا سب سے بڑا عجائب گھر واقع ہے۔

کرونا وائرس کی وجہ سے میوزیم میں داخلہ کے لئے ماسک پہننے کی پابندی تھی۔ داخلہ سے پہلے ہماری بکنگ چیک کر کے ہمیں اندر جانے کی اجازت مل گئی۔ عجائب گھر کے اندر داخلہ کے لئے بنے ہوئے چبوترے کی سیڑھیوں کی ایک طرف وہیل چیئر اور بچوں کی پرام کے لئے لفٹ کا انتظام موجود تھا۔ ہم تو سیڑھیوں کے راستے ہال میں پہنچے لیکن سدرہ بیٹی چھوٹے نواسے باسم کو پرام میں ساتھ لئے لفٹ کے ذریعہ ہال میں آئیں۔ عجائب گھر کا دروازہ ایک بڑے ہال میں کھلتا ہے۔

ہال میں سامنے ہی معلومات کے لیے دو تین بڑے بڑے ڈیسک بنے ہوئے ہیں۔ ہم جیسے ہی ہال میں داخل ہوئے پہلے ہی ڈیسک پر بڑا ہی مستعد اور خوش اخلاق عملہ لوگوں کی معاونت کے لئے مصروف کار نظر آیا۔ معلومات کے ڈیسک پر عجائب گھر کے متعلق نقشہ جات اور معلومات کے کتابچے مفت دستیاب تھے۔ بہت بڑے ہال میں ایک طرف کھانے پینے کے کچھ سٹال تھے جن کے سامنے کافی تعداد میں میز کرسیاں اور بینچ پڑے تھے۔ ہال کی دوسری طرف عجائب گھر کے متعلقہ سوینیئر کے تین چا ر سٹال تھے جن میں عجائب گھر کے متعلق کتابوں کی بڑی تعداد کے علاوہ بہت سی اشیا مناسب قیمتوں پر دستیاب تھیں۔

دنیا میں عجائب گھر وہ عمارتیں ہیں جن میں ملک اپنی فنکارانہ، ثقافتی، تاریخی، روایتی اور سائنسی دلچسپی کی بہت سی چیزیں رکھتے ہیں تا کہ لوگ انہیں دیکھ کر ان ممالک کی ثقافت جان سکیں۔ یہ عجائب گھر علم حاصل کرنے کاکا ایک بڑا ذریعہ ہیں جو نہ صرف ہمیں علم فراہم کرتے ہیں بلکہ ہمیں اپنی تاریخ، ثقافت، تہذیب، مذہب، فن اور اپنے ملک کے فن تعمیر سے بھی روشناس کراتے ہیں۔ برطانوی دارالحکومت لندن کا یہ عجائب گھر انسانی تاریخ اور ثقافت کے دنیا کے بڑے اور اہم ترین عجائب گھروں میں سے ایک ہے جس میں دنیا کے سب ہی بر اعظموں سے حاصل شدہ ستر لاکھ سے زیادہ نوادرات رکھے گئے ہیں۔

یہ نوادرات دیکھنے والوں کو انسانی ثقافت کے آغاز سے لے کر آج کے دور تک کی کہانی سناتے نظر آتے ہیں۔ یہ دنیا کا قدیم ترین اور برطانیہ کا قومی اور عوامی عجائب گھر ہے جس کے اندر آپ کو فن، ادب اور انسانی تاریخ کی کہانی بتانے والے نوادرات کے لاتعداد مجموعے ملیں گے۔ ہر سال ساٹھ لاکھ سے زیادہ افراد اس عجائب گھر کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ عجائب گھر کی سیر کا احوال بتانے سے پہلے آپ کو اس کی مختصر تاریخ بتاتے ہیں۔

برطانوی عجائب گھر لندن

برطانوی عجائب گھر ایک عوامی میوزیم ہے جو انسانی تاریخ، فن اور ثقافت کے لیے وقف ہے۔ یہ لندن کے علاقہ بلومس بری میں واقع ہے۔ یہ عجائب گھر 1753 ء میں قائم کیا گیا۔ ابتدا میں یہ ایک اینگلو آئرش طبیب اور سائنسدان سر ہنس سلوین کے عطیہ کردہ نوادرات پر مبنی تھا۔ پہلی بار عوام کے لیے یہ عجائب گھر کے طور پر 1759 ء میں مونتاگو ہاؤس میں موجودہ عمارت کی جگہ پر کھولا گیا تھا۔ اگلے دو سو پچاس سالوں تک اس عجائب گھرکی توسیع جاری رہی جو بڑی حد تک برطانوی نو آبادیات سے نوادرات کی خرید اور برطانوی راج کی تحویل کا نتیجہ تھی۔

جن جگہوں پر برطانیہ کا راج تھا ان علاقوں سے تاریخی اہمیت کے قیمتی نوادرات برطانیہ منتقل ہو کر اس عجائب گھر کی زینت بنتے رہے۔ اس مقصد کے لیے ان نو آبادیوں میں کئی برطانوی ادارے تشکیل دیے گئے اور نوادرات حاصل کرنے کے لیے ان کے دفاتر وہاں قائم کیے گئے۔ ایسا ہی ایک ادارہ نیچرل ہسٹری میوزیم 1881 ء میں بنا تھا۔ 1973 میں برطانوی لائبریری ڈیپارٹمنٹ کو اس عجائب گھر سے الگ کر دیا گیا۔ لیکن پھر بھی یہ 1997 ء تک اسی عمارت میں عجائب گھر کے طور پر ایک علیحدہ ہال میں برطانوی لائبریری کی میزبانی کرتا رہا۔ یہ عجائب گھر ایک غیر محکمانہ عوامی ادارہ ہے۔ اب یہ ڈیجیٹل طور پر ثقافت، میڈیا اور کھیل کے محکموں اور برطانیہ کے دوسرے تمام عجائب گھروں سے منسلک ہے۔ یہ عجائب گھر اپنے ہاں عارضی نمائشوں کے علاوہ وہاں آنے والوں سے کوئی فیس نہیں لیتا۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران برطانیہ پر فضائی حملوں میں جرمن طیاروں نے مئی 1940 ء میں عجائب گھر پر چھ بم گرائے۔ آخری بم عجائب گھر پر گرنے سے عجائب گھر کو شدید نقصان پہنچا۔ بم گرنے سے عجائب گھر میں آگ لگ گئی جس نے میوزیم میں موجود دو لاکھ پچاس ہزار کتابوں سمیت متعدد نوادرات کو تباہ کر دیا۔ جنگ کے بعد دوبارہ عمارت کو اس کی اصلی حالت میں مرمت کر دیا گیا۔

عجائب گھر کو بنیادی طور پر آٹھ شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کی عمارت مستطیل شکل میں تہتر (73) گیلریوں پر مشتمل ہے۔ عمارت کا کل رقبہ نو لاکھ نوے ہزار مربع فٹ ہے۔ اس وقت یہ دنیا کا سب سے بڑا عجائب گھر ہے۔ اس عجائب گھر کو آٹھ شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

افریقہ، ۔ امریکہ اور بحر الکاہل کے سمندروں سے متعلقہ نوادرات کا شعبہ۔

اس شعبے میں رکھے گئے نوادرات چار براعظموں کے ممالک اور ان کی ثقافتوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان نوادرات میں ان علاقوں سے متعلق اور وہاں سے حاصل کردہ آثار قدیمہ اور تاریخی تصویروں کے نوادرات کے مجموعات ہیں جن میں سے بیشتر افریقہ، بحر الکاہل اور آسٹریلیا کے ساتھ ساتھ شمالی، وسطی اور جنوبی امریکہ اور جزائر الہند تک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس شعبے میں رکھے گئے نوادرات کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ ہے۔

براعظم ایشیا کا شعبہ

اس شعبہ میں رکھی گئی اشیا وسطی، مشرقی، جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا اور سائبیریا پر محیط ایک وسیع علاقے کے نوادرات پر مشتمل ہیں۔ اس مجموعے میں وسطی ایشیا کے ڈان ہوانگ کے غاروں سے بدھ مت کے دور کی ہاتھ سے بنائی تصویروں کے ساتھ ساتھ چینی مٹی کے برتنوں کے قدیم نوادرات شامل ہیں۔ جنوبی ایشیا کے نوادرات میں امراوتی کے مشہور چونا پتھر کے بدھ مجسمے، کہویائی نوادرات میں سیلاڈون کے متعدد آرائشی کام کے ساتھ گوریو لاک اور دھاتی کام کے نوادرات ہیں۔

میوزیم کے جاپانی نوادرات میں ابتدائی جاپانی ثقافت اور پینٹنگز، پرنٹس اور آرائشی فنون کی شاندار رینج شامل ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے نوادرات کے ذخیرے زیادہ عمدہ ہیں جو خطے کی ثقافت کو اجاگر کرتے ہیں ان اشیا میں ہندو اور بدھ مت کے مجسمے۔ سکے، لاک اور تھائی بینر کی پینٹنگز سے لے کر بورنیو پر دیاک لوگوں کی مادی ثقافت اور جاودانی تھیٹر کی شاندار اشیاء شامل ہیں۔

برطانیہ، یورپ اور قبل از تاریخ کا شعبہ

بیس لاکھ سال پہلے افریقہ اور ایشیا میں قدیم ترین انسانی اوزاروں سے لے کر آج تک یورپ کے فن اور آثار قدیمہ تک بشمول برطانیہ پر رومن قبضے کی تاریخ تک کے نوادرات اس شعبے میں شامل ہیں۔ یورپ اور پوری دنیا میں قدیم آثار قدیمہ پتھر کے دور، کانسی کے دور اور یورپ اور رومن برطانیہ میں فولادی آثار قدیمہ، قرون وسطی، نشاۃ ثانیہ اور جدید یورپی ثقافت بشمول شمالی امریکہ سے بیسویں صدی کے ڈیزائن سے متعلق اس شعبے میں گیارہ گیلریاں ہیں جو ان نوادرات سے بھری پڑی ہیں۔

سکوں اور تمغوں کا شعبہ

سکوں اور تمغوں کے شعبہ دنیا کی بہترین نوادرات پر مشتمل ہے۔ سکے کی تاریخ ساتویں صدی قبل مسیح میں اس کی ابتدا سے لے کر موجودہ دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس عجائب گھر میں ساری دنیا کے سکوں اور تمغوں کے آٹھ لاکھ سے زیادہ نوادرات موجود ہیں۔ سکوں اور تمغوں کے ساتھ ساتھ ان سے متعلقہ اشیا جن میں سکوں کا وزن کرنے والے اوزان، ٹوکن، منی باکس اور دوسری چیزیں شامل ہیں۔ کاغذی کرنسی کا ایک بہت بڑا خزانہ بھی یہاں موجود ہے جس میں چودھویں صدی کے چینی بینک نوٹوں سے لے کر موجودہ یورو تک سب کرنسی نوٹوں کے نمونے موجود ہیں۔

مصر اور سوڈان کا شعبہ

اس شعبہ میں ان دونوں ملکوں کی قدیم ترین ثقافت سے متعلقہ اشیا کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ یہ اثاثہ پتھر کے قدیم زمانے اور پتھر کے دوسرے دور دس ہزار سال قبل مسیح کے دور سے لے کر وادی نیل کی ثقافت تک کی بہترین مثال پیش کرتا ہے۔ اس شعبے میں مصریات اور حبشی نسل کے متعلق تحقیق کی اہم دستاویزات بھی اس شعبے میں موجود ہیں۔ اس کے متعلق ایک لائبریری بھی یہاں موجود ہے۔

یونان اور روم کے شعبہ

قدیم ترین تہذیبوں کے اس شعبے میں دنیا میں بحیرہ روم کے قدیم نوادرات کا سب سے بڑا اور سب سے نمائندہ ذخیرہ موجود ہے۔ یہ ذخیرہ تقریباً پانچ ہزار سال قبل مسیح اور چوتھی صدی عیسوی میں مغربی رومی سلطنت کے خاتمے کے درمیان قدیم بحیرہ روم کی دنیا کی تاریخ اور ثقافت پر روشنی ڈالتا ہے۔ اس شعبے کی ترقی ان صدیوں میں اس خطے میں آثار قدیمہ کی تحقیق کو لوگوں تک پہنچاتی ہے۔ اس شعبے میں رکھے ایک لاکھ سے زیادہ نوادرات بحیرہ روم کی مرکزی اہمیت کو روشن کرتے ہیں جس نے ہزاروں سالوں سے لوگوں اور ثقافتوں کو جوڑا ہوا ہے۔

مشرق وسطی کا شعبہ

پتھر کے دور سے لے کر موجودہ دور تک مشرق وسطی کی قدیم اور عصری تہذیبوں اور ثقافتوں کا احاطہ کرتا ہے۔ اس میں قدیم عراق، ایران، شام، فلسطین کے علاوہ اناطولیہ، عرب، وسطی ایشیا اور قفقار کے آثار قدیمہ کے نوادرات اور قدیم فنون کی ایک وسیع رینج یہاں موجود ہے۔ ان نوادرات کے مجموعوں میں آشوری امداد۔ ار کے شاہی قبرستان اور قدیم آمو دریا سے حاصل شدہ قدیم نوادرات، قدیم شام میں ہاتھی دانت اور بابل اور نینوا کے قدیم ترین نوادرات بھی اس شعبے میں شامل ہیں۔

اسلامی نوادرات کے مجموعہ میں عراق، ایران اور مصر کے آثار قدیمہ کے ساتھ ساتھ قرون وسطی کے ایران، شام اور مصر سے جڑے ہوئے دھاتی کاموں اور ترکی کے قدیم برتن سازی کے نوادرات شامل ہیں۔ مشرق وسطی اور وسطی ایشیا سے قدیم اسلامی نوادرات بھی اس شعبے میں موجود ہیں۔ ان میں ٹیکسٹائل، فرنیچر، زیورات اور روزمرہ کی دیگر اشیا شامل ہیں۔ کاغذ سے متعلقہ فارسی، ترکی اور مغل ہندوستانی نوادرات کے علاوہ اس شعبہ میں مشرق وسطی کے عصری آرٹ کا ایک بہت بڑا ذخیرہ شامل ہے۔

تصاویر، تجریدی فن اور ڈرائینگ کا شعبہ

اس شعبہ میں دنیا کے عظیم ترین فن پاروں پر مشتمل نوادرات کا ایک بڑا خزانہ موجود ہے۔ ان میں بیس لاکھ سے زیادہ تصاویر اور پچاس ہزار تجریدی آرٹ پر مشتمل نوادرات شامل ہیں۔ یہ چودھویں صدی سے لے کر آج تک یورپ میں گرافک آرٹ کی ترقی اور امریکہ و آسٹریلیا تک ان کے پھیلاؤ کا احاطہ کرتا ہے۔ نوادرات کے اس مجموعے میں تجریدی فن کے دنیا کے عظیم ترین مصوران درار، مائیکل اینجلو، پکاسو۔ ریمبرانٹ، ہوگراتھ اور گویا کے فن پارے شامل ہیں۔

روایات بتاتی ہیں کہ انگریزوں نے ہندوستان اور دنیا بھر سے بہت سے نوادرات اور فن پارے قانونی اور غیر قانونی دونوں طریقوں سے برطانیہ منتقل کیے اور انھیں برطانوی عجائب گھروں کی زینت بنایا ان میں ہندوستان کا مشہور زمانہ کوہ نور ہیرا، الیگن ماربلز، ایتھوپیا سے حاصل شدہ مخطوطات، روزیٹا سٹون، بینن کانسی، ٹیپو سلطان کی انگوٹھی اور شاہجہاں کا شراب کا پیالہ اور دوسرے بہت سے نوادرات شامل ہیں۔

برطانوی عجائب گھر لندن جیسے بڑے عجائب گھر کو تفصیل سے دیکھنے کے لیے تو ہفتوں درکار ہیں۔ چند گھنٹوں یا پورے دن میں آپ اس کا ایک سرسری سا جائزہ ہی لے سکتے ہیں یا پھر ایک ہی شعبے کے متعلق کچھ جان سکتے ہیں۔ ہم جیسے ہی ہال سے سیڑھیاں چڑھ کے اندر داخل ہوئے تو سامنے ہی ایک خوبصورت عورت کا مجسمہ استادہ نظر آیا لگتا تھا جیسے وہ عجائب گھر میں آنے والوں کو خوش آمدید کہہ رہی ہے۔ جیسے ہی آپ پہلی گیلری میں داخل ہوئے تو وقت دیکھنے کے لیے گھڑیوں کا ایک ذخیرہ نظر آیا جو بڑے ہی خوبصورت انداز میں خوبصورت الماریوں میں بند تھیں۔

میں نے عجائب گھر جانے سے پہلے اس کے متعلق انٹرنیٹ پر کافی معلومات پڑھ لی تھیں اور جو چیزیں دیکھنی تھیں ان کی سمت کا اندازہ اور گیلری نمبر بھی نوٹ کر لیا تھا تا کہ کم وقت میں زیادہ سے زیادہ نوادرات دیکھے جا سکیں۔ میری یہاں کا وزٹ کرنے والوں سے گزارش ہے کہ آپ جس مقام کی بھی سیر کرنے کا پروگرام بنائیں تو سب سے پہلے انٹرنیٹ پر اس کے بارے میں تفصیل سے جان لیں آپ کو آسانی رہے گی۔ ہادی کو لے کر ہم نے کمرہ نمبر اکسٹھ سے سفر شروع کیا اور چھیاسٹھ تک بہت سے نوادرات دیکھے۔ سدرہ بیٹی اپنے بیٹوں ہادی اور سمیع دونوں کو ہر ایک چیز کو دیکھ کر اس کے بارے میں بتا رہی تھی۔ مصر کی قدیم تاریخ اس کے رہن سہن اور مصر کے فرعونوں اور ان کی زندگی کے بارے میں معلومات دیکھ کر حیران ہوتا گیا۔

جو کچھ ہم نے دیکھا اس کی تفصیل اگر لکھنے بیٹھ جائیں تو اس چھوٹے سے مضمون میں اس کا احاطہ کرنا بہت مشکل ہے۔ تین بجے تک سب ہی تھکن سے چور ہو گئے تھے۔ ہم کھانے کے لیے گھر سے سینڈوچ، فروٹ چارٹ اور کچھ اور چیزیں بنا کر ساتھ لائے تھے وہ سامان سے نکالیں اور ہال میں پڑی ایک میز پر قبضہ جمایا۔ ایک سٹال سے چائے اور ڈرنکس لے کر آئے اور سب نے پیٹ پوجا کی اور پھر سوینیئر شاپ سے بچوں نے اپنی پسند کی اشیا اور کتابیں لیں اور ہم ہال سے باہر نکل آئے۔

Facebook Comments HS