نام کتاب: ایران میں کچھ دن، مصنف: محمد علم اللہ


مبصر: عمیر منظر
شعبہ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی
لکھنؤ کیمپس۔ لکھنؤ

نئے قلم کاروں میں جناب محمد علم اللہ نے بہت جلد لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔ ان کی تحریروں کو نہ صرف شوق سے پڑھا جا رہا ہے بلکہ سوشل میڈیا کے توسط سے ان پر رد عمل قلم کار کی مقبولیت ذیل میں دیکھا جا رہا ہے۔ سوشل، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ ان کی تحریریں اخبارات و رسائل میں تواتر کے ساتھ شائع ہو رہی ہیں۔ محمد علم اللہ تاریخ اور میڈیا کے طالب علم رہے ہیں اس لیے ان دو موضوعات کے علاوہ ادبی و سماجی اور سیاسی موضوعات پر بھی ان کا قلم خوب چلتا ہے۔

ان کی تازہ ترین کتاب ایران کا سفرنامہ ہے، جسے فاروس میڈیا اینڈ پبلی کیشن نے ”ایران میں کچھ دن“ کے عنوان سے کتابی شکل میں بہت اہتمام کے ساتھ شائع کیا ہے۔ کتاب کی ادارت معروف دانشور ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کی ہے۔ 128 صفحات پر مشتمل یہ سفرنامہ تجربہ و مشاہدہ کے ساتھ ساتھ ادب، سماج اور سیاست پر بہت بلیغ تبصرہ کے طور پر بھی یاد رکھا جائے گا۔

اس سفر کا اہتمام معروف علمی اور سماجی ادارہ ’موسسہ فرہنگی نسیم حیات معنوی‘ نے کیا۔ یہ جامعہ المصطفی العالمیہ کا منسلک ادارہ ہے، جو مسلم طلبہ اور اہل علم کے لیے قلیل مدتی تعلیمی و تربیتی کورس کا انعقاد کرتا ہے۔ دو ہفتوں کا یہ سفر 23 دسمبر 2016 کو شروع ہوا تھا اور 7 جنوری 2017 کو یہ علمی وفد ہندستان واپس آ گیا۔

پندرہ دنوں پر مشتمل اس سفرنامے میں ایران کے تین شہر قم، مشہد اور تہران کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے کہ اسے پڑھتے وقت ہم خود وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ ان شہروں کی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کے اہم پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ان شہروں میں جن چیزوں کو بطور خاص سفرنامہ نگار نے دیکھا ہے ان میں مسجد جمکران، زیارت گاہ فاطمہ معصومہ، دفاع مقدس، ریستوران سالاریہ، افق ٹیلی ویژن اور تسنیم نیوز ایجنسی کے دفاتر کی سیر، شاہ عبد العظیم کا مزار، امام خمینی علیہ الرحمہ کا مزار، لائبریری آیت اللہ مرعشی، صداوسیمای ایران اور کوہ خضر کی سیر وغیرہ شامل ہیں۔ ان مقامات کو دیکھتے وقت سفرنامہ نگار کا جوش اور جستجو قابل رشک ہے۔

سفرنامہ نگار نے ایران کو ایک وسیع تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ ایران کی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کے وہ پہلو جس پر نہ صرف اہل ایران فخر کرتے ہیں بلکہ اس نے دیگر زبانوں کے ادب اور ثقافت کو بھی متاثر کیا ہے اس لیے ایرانی ارباب بسط و کشاد بعض ناہمواریوں کے باوجود اپنے ملک اور اپنی ثقافت پر فخر کرتے ہیں۔ وہ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے نمائندہ ہونے کے باوجود ایک متحدہ قومیت کے طور پر خود کو پیش کرتے ہیں اور اسے اپنے لیے قابل فخر تصور کرتے ہیں۔

بادشاہت سے آزادی کے بعد کم عرصہ میں اہل ایران نے اپنے جمہوری نظام کو مستحکم کیا ہے اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے بے پناہ محنت اور قربانی دی ہے۔ اس کا اندازہ وہاں کے ترقیاتی کاموں سے کیا جاسکتا ہے۔ ایران جہاں بہت سی صنعتوں میں خود کفیل ہے وہیں جدید ترین ٹکنالوجی میں بھی خاصی ترقی کرلی ہے۔ جنگی طیارے خود بنا رہا ہے۔ یہ بات صرف ایران کے لیے نہیں بلکہ اس خطہ کے لیے بھی قابل فخر ہے۔ سفرنامہ نگار کا خیال ہے کہ ان کوششوں کی بدولت ہی ایران کا شمار اب ان ممالک میں کیا جاتا ہے جہاں جمہوری قدریں مستحکم ہیں۔

اور جو اپنے دفاع کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران۔ عراق جنگ کے دوران اسے ایران کی اخلاقی برتری سے تعبیر کیا گیا کہ اس نے بے شمار انسانی جانوں کے نقصان کے باوجود کیمیکل اور زہریلے ہتھیاروں کے استعمال پر از خود پابندی عائد کر رکھی تھی (ص: 63 ) البتہ جنگ کے دوران کو نٹرا سکینڈل کے نام سے خفیہ امریکی ایرانی ہتھیاروں کا معاہدہ اب ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے (ص: 63 ) ۔ ایران میں امریکہ کی طرز زندگی بہت مقبول ہے حالانکہ ایران کا شمار سخت گیر امریکی مخالفین میں ہوتا ہے اور امریکہ بھی ایران کو بدی کے محور والے ممالک میں شمار کرتا ہے۔ ایران میں انقلاب کے زمانے سے لے کر آج تک جو نعرے بہت مقبول تھے ان میں ایک نعرہ مرگ بر امریکہ (امریکہ مردہ باد) بہت مقبول ہے۔

چونکہ یہ سفر خالص علمی نوعیت کا تھا۔ اس لیے وفد کے ایران پہنچ جانے کے بعد مختلف موضوعات پر لیکچرز کا اہتمام کیا گیا۔ جنگ نرم اور عصر حاضر، مہدویت، اسلام کا سیاسی نظام، اسلامی انقلاب اور اس کی حصولیابیاں، وہابیت، دشمن شناسی:صیہونیت، اسلامی ویب سائٹس کا تعارف اور اسلامی سافٹ ویئر جیسے موضوعات پر لیکچر کا انعقاد کیا گیا۔ ان لیکچرز کا خلاصہ کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ کہیں کہیں لیکچر کے دوران کی بعض جزئیات سے فائدہ اٹھا کر گفتگو کو دلچسپ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ ساری کارگزاری جس منظم انداز میں کی گئی ہے وہ قابل تعریف ہے۔ ابتدا میں یہ خیال تھا کہ چونکہ یہ ایک علمی سفر ہے اس لیے سفرنامے میں دلچسپی کا امکان کم ہو گا مگر یہ خیال درست ثابت نہیں ہوا۔ لیکچر کے خلاصے سے سفرنامہ نگار کی پسند و ناپسند کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اور ان کے علمی رویے کا بھی۔ وہابیت کے موضوع پر علی زادہ موسوی نے لیکچر دیا۔ لیکچر کا خلاصہ تحریر کرنے سے قبل علم اللہ نے لکھا ہے :

مذکورہ عنوان پر انھوں نے تفصیل سے روشنی ڈالی، مگر وہی باتیں دہرائیں جو عموماً شیعہ علما دہراتے رہتے ہیں اور جو بیش تر عصبیت اور دشمنی کی کڑاہی میں پکی ہوتی ہیں۔ (ایران میں کچھ دن، محمد علم اللہ، ص: 38 )

26، دسمبر 2016 ء کو فلسفہ کی کلاس ہوئی۔ فلسفہ سے متعلق کسی موضوع پر استاد سعید رحمان پوری نے لیکچر دیا۔ اس کے بارے میں سفرنامہ نگار نے لکھا کہ:

آج کا دن اللہ تعالی کے وجود اور اس کی کیفیت پر گفتگو اور بحث و مباحثہ کرتے ہوئے گزر گیا۔ اس کلاس میں کہکشاں، سیارے، ستارے اور آسمان و زمین کے حوالے سے گفتگو کافی حیران کن رہی۔ یہ محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ ہم کسی مولوی کا لیکچر سن رہے ہیں۔ انھوں نے کسی ماہر سائنس داں اور محقق کی طرح ایک ایک چیز کی باریکیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ (ایضاً ص: 31 )

علم اللہ نے چیزوں کو دیکھنے اور ان پر تبصرہ کرنے کے دوران آنکھ اور قلم کو بالکل آزاد رکھا۔ چیزوں کا بہت باریک بینی سے مشاہدہ کیا جس کے نتیجے میں کہی کے ساتھ ساتھ ان کہی کو شامل کرنے کا جواز از خود فراہم ہو گیا۔ علمی دیانت کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے بعض سفارتی آداب کو بھی اپنی تحریروں سے پرے رکھا۔ انھیں چیزوں نے سفرنامے کو مفید مطلب بھی بنائے رکھا اور سیلانی کی بنیادی روش کے ساتھ ساتھ اس کا علمی شغف بھی قائم رہا۔

ایران، عراق، پاکستان، ہندستان، امریکہ، اسرائیل اور بعض دیگر عرب ممالک /مسلم کے ذکر کے دوران سفرنامہ نگار نے تاریخ اور صحافت دونوں کے علم کا ایسا خوب صورت استعمال کیا کہ بعض مقامات پر ان کی ذہانت اور صحافتی و سیاسی شعور کی داد دیے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات کو محبت اور نفرت کا امتزاج قرار دیا گیا ہے (ص: 49 ) جبکہ ایران عراق جنگ کو ”ایک بے فائدہ، فضول اور بے مقصد جنگ“ کہا گیا ہے ۔

اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ جو کہ ایران کی سرکاری ایجنسی ہے اور یہاں مختلف پروگرام بنائے جاتے ہیں جو ایران کے نشریاتی اداروں سے جاری ہوتے ہیں۔ اس وفد نے وہاں سب کچھ دیکھنے کے بعد جو تجاویز اور مشورے دیے تھے ان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ہندستان سے متعلق مواد کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس کو تیار کرنے والے ایرانی یا ہندستانی نہیں بلکہ کوئی تیسرا ہے جو کہ ہندستان کے مسائل کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے (ص: 88 ) اسی طرح سفرنامہ نگار کو ایرانی ایک افسردہ قوم نظر آئی۔

یہ افسردگی صرف چہرے سے نہیں تھی بلکہ ایرانی منظر نامے میں بھی اس کے اثرات صاف دکھائی دیتے ہیں۔ اس کا سبب امام حسین کی شہادت کے بعد ماتم اور غم کی یاد ہے جو اس قوم نے اپنا رکھی ہے (ص:211) سفرنامہ نگار کو اس بات کا بھی افسوس ہے کہ ایران کے پندرہ روزہ سفر کے دوران اس کی ملاقات ایک بھی سنی مسلمان سے نہیں ہو سکی۔ (ص: 114 ) ۔

ایران کے کھانوں کا سفرنامے میں بار بار ذکر کیا گیا ہے۔ ’ریستوران سالاریہ‘ جو کہ قم کے بہترین ریستورانوں میں شمار کیا جاتا ہے، وہاں کے کھانے کا ذکر بہت اہتمام سے کیا گیا ہے مگر یہ کھانے ہندستان کے عام ذائقوں سے مختلف ہوتے ہیں اس لیے یہاں کے لوگوں پسند نہیں آتے۔ ایسا ہی سفرنامہ نگار کے ساتھ بھی ہوا اور شدید بھوک کے باوجود شکم سیر نہیں ہوسکا۔ یہاں کے کھانوں کو ’ابلا ہوا کھانا‘ یا ’مریضوں کے کھانے‘ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔

(ص: 59 ) ایرانی روٹیاں اتنی لمبی ہوتی ہیں کہ ان پر دسترخوان کا دھوکا ہونے لگتا ہے۔ ان روٹیوں کو ایرانی زبان میں ’نون سنگک‘ کہتے ہیں۔ البتہ ہوٹل کا یہ اہتمام بہت پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے کہ جو کھانا بچ جاتا ہے اسے پھینکنے کے بجائے اچھی طرح سے پیک کر کے دے دیا جاتا ہے تاکہ یہ ضائع نہ ہو اور کسی ضرورت مند کے کام آ جائے۔

آیت اللہ تبریزیان ایران کے بڑے حکما میں شمار کیے جاتے ہیں۔ طب نبوی میں انھیں اتھارٹی حاصل ہے۔ ان سے ملاقات کا مختصر احوال درج کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ جس طرح اسلام زندگی کے تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے، اسی طرح اسلام میں تمام بیماریوں کا حل بھی ہے۔ خیال رہے کہ حکیم صاحب نے طب نبوی اور دیگر طریقہ علاج میں وہی فرق بتایا ہے جیسا کہ اسلام اور دوسرے مذاہب کے درمیان ہے۔ اس ذیل میں حکیم صاحب نے بیماری اور علاج سے متعلق بعض احادیث کا ذکر کیا تھا جسے حوالے سے ساتھ سفرنامہ نگار نے درج کیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے ’سوائے بڑھاپے اور موت کے ہر مرض کا علاج ہے۔ (ص: 89۔ 90 ) علم اللہ لکھا ہے کہ:

دراصل ہمارے یہاں مسلمانوں میں یہ مرض عام ہے کہ ہر چیز کو مذہب سے جوڑ کے یا پھر ایک مخصوص عینک لگا کر دیکھتے ہیں۔ اور یہی چیز ہمارے لیے خطرے اور بسا اوقات مذاق کی بات بن جاتی ہے۔ اگر قرآن و حدیث میں پہلے سے یہ چیزیں موجود تھیں تو آپ نے اس کے بارے میں پہلے کیوں نہیں اس کی تحقیق کی؟ کیا محض دعوی کرنے سے معاملہ حل ہوجاتا ہے۔ طب نبوی کو مستقبل کی تمام بیماریوں کا علاج سمجھنا اپنے آپ میں ایک مضحکہ خیز چیز ہے۔ دوسرے لفظوں میں جو بیماریاں نبی پاکﷺ کے دور میں موجود ہی نہیں تھیں ان کا علاج طب نبوی میں ڈھونڈنا بالکل ویسا ہی ہے جیسے کہ احادیث میں سے ٹریفک یا ایوی ایشن کے قوانین نکالنا (ص: 91 ) ۔

جب یہ بات احادیث سے ثابت ہو گئی کہ بڑھاپا اور موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے پھر بھی کینسر کا بطور مثال ذکر کر کے استہزائی صورت میں تبصرہ کرنا کہ طب نبوی میں ان بیماریوں کا علاج ڈھونڈنا جو ان کے بقول عہد نبوی میں موجود نہیں تھیں ایسا ہی ہے جیسے ذخیرہ احادیث سے قوانین نقل و حمل کا استنباط کرنا۔ حکما ء کا کہنا ہے کہ کینسر کا وجود نیا نہیں ہے بلکہ اس کی وضاحت بقراط کے یہاں ملتی ہے اور قدیم مصری طب میں بھی اس کا وجود پایا گیا ہے گویا ماقبل مسیح زمانے میں جس بیماری کا سراغ ملتا ہو اسے عہد نبوی میں بھی ناپید باور کرانا فن طب کی تاریخ سے بے خبری کی علامت ہے اور احادیث کے بارے میں ایسی باتیں لکھنا بڑی جسارت ہے۔ استخفاف حدیث کسی صورت گوارا نہیں ہے۔

شرعی حدود کے سخت نفاذ کے باوجود ایران میں ہندستانی فلمیں بہت مقبول ہیں۔ سفرنامہ نگار نے اسے عوام کے ایک مزاج سے تعبیر کیا ہے کہ جو غض بصر کے ساتھ ساتھ فنون لطیفہ کی ترقی کے خواب دیکھتے ہیں اور اس طرح وہ آزادی کی راہیں خود ہی نکال لیتے ہیں۔ سماجی اور معاشرتی مماثلتیں ہی ایران میں ہندستانی فلموں کے فروغ کا سبب بن رہی ہیں۔

انقلاب ایران کے بعد ایران کے معاشرہ اور وہاں کے عمومی حالات کو قریب سے دیکھنے کی ایک بے حد کام یاب کوشش سے اسے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ یہ ملک کشش اور جاذبیت کا حامل ہے۔ یہاں آنے والا کوئی شخص یہاں کے حسن اور خوبی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مہمان نوازی اور اخلاق و تعلیم کے زیور سے لوگ اس طرح آراستہ ہیں کہ انتظامیہ لوگوں پر سوار نہیں رہتی جیسا کہ بر صغیر میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ ذمہ داری اور قومی کاموں میں انہماک نے اسے امن و سکون کا گہوارہ بنا رکھا ہے۔

ثقافتی مظاہر اور خطاطی کے مظاہر ایک عجیب فرحت و انبساط کی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ جناب محمد علم اللہ نے ایرانیوں کے ذوق علم اور اس کے لیے جستجو اور شوق کو خاص طور پر سراہا ہے۔ البتہ مسلکی معاملات میں سب کو کشادہ نظری کی دعوت دی ہے۔ ان کا یہ جذبہ قابل رشک ہے کہ وہ الگ الگ خطوں اور علاقوں میں تقسیم مسلم ممالک کو ایک وحدت میں دیکھنے کے خواہاں ہیں اور اس کی جستجو و آرزو رکھتے ہیں۔ اور یہی اس سفرنامہ کا حاصل بھی ہے۔

ختم شد

Facebook Comments HS

محمد علم اللہ جامعہ ملیہ، دہلی

محمد علم اللہ نوجوان قلم کار اور صحافی ہیں۔ ان کا تعلق رانچی جھارکھنڈ بھارت سے ہے۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تاریخ اور ثقافت میں گریجویشن اور ماس کمیونیکیشن میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ فی الحال وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’ڈاکٹر کے آر نارائنن سینٹر فار دلت اینڈ مائنارٹیز اسٹڈیز‘ میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے دلچسپ کالم لکھے اور عمدہ تراجم بھی کیے۔ الیکٹرانک میڈیا میں انھوں نے آل انڈیا ریڈیو کے علاوہ راموجی فلم سٹی (حیدرآباد ای ٹی وی اردو) میں سینئر کاپی ایڈیٹر کے طور پر کام کیا، وہ دستاویزی فلموں کا بھی تجربہ رکھتے ہیں۔ انھوں نے نظمیں، سفرنامے اور کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ کئی سالوں تک جامعہ ملیہ اسلامیہ میں میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پر بھی اپنی خدمات دے چکے ہیں۔ ان کی دو کتابیں ”مسلم مجلس مشاورت ایک مختصر تاریخ“ اور ”کچھ دن ایران میں“ منظر عام پر آ چکی ہیں۔

muhammad-alamullah has 182 posts and counting.See all posts by muhammad-alamullah