ہیرو اور مسیحا ڈھونڈنے والوں کے دجال
معروف اطالوی سائنسدان گیلیلیو گیلیلی نے دریافت کیا کہ سورج ساکن ہے اور زمین، اپنے مدار کے علاوہ سورج کے گرد بھی گھومتی ہے، کلیسا نے بلاسفیمی گردانا اور گلیلیو نے اپنی باقی ماندہ زندگی نظر بندی میں گزاری۔ کیتھولک چرچ نے تقریباً چار سو برس بعد انیس سو بانوے میں اس تکفیر پر معافی مانگی۔
بریخت کے لکھے شہرہ آفاق جرمن ڈرامے ”گیلیوکی زندگی“ میں اک کردار، اس کا پرجوش شاگرد آندریا جذبات میں چنگھاڑتا ہے ؛ ”بد قسمت ہے وہ زمین، جس میں ہیرو نہیں ہوتے“ ۔
دیکھا جائے تو کچھ خوش قسمت اقوام کو بنے بنائے ہیرو مل جاتے ہیں اور کچھ ہم جیسی بدنصیب اقوام جو بہتر برسوں سے ہیرو تلاشتے پھرتے ہیں، ہم نے اسے ہیرو بھی تراشے جن کے بارے میں ظہیر کاشمیری نے فرمایا تھا۔
میں نے اس کو اپنا مسیحا مان لیا
سارا زمانہ جس کو قاتل کہتا ہے
آغاز میں ہی ایک بنا بنایا ہیرو ملا جس نے ملک کو امریکی کالونی بنا کر بتایا کہ امریکا تمہارا آقا نہیں بلکہ دوست ہے۔ کاسہ لیسوں نے داد و تحسین کے انبار لگا دیے، بعد میں امریکی بیڑوں کے انتظار میں آدھے ملک کا بیڑہ پار ہو گیا۔ یہ ہیرو، ایک جانور سے مشابہت کے نعرے سن کر نادیدہ دم دبا کے بھاگ گیا، اپنے علاوہ سب کو چور کہنے والے کے بارے میں معلوم ہوا اسی کے لخت جگر ملکی سیاست میں باقاعدہ کرپشن کے بانی تھے اور ان کے گن گاتے ریٹائرڈ بیروکریٹ اور دانشوران اس فکری کرپشن کے موجد جو صحافت، دانشوری، ادب سب کو دیمک کی طرح چاٹ گئی۔
ابھرتے ہوئے ایک فنکار نے بدلتے موسموں کے پیش نظر ہیرو بننے کا سوچا، کبھی اس نے جذبات میں کاغذ پھاڑے تو کبھی قوم کے سامنے مائک گراتے دھاڑا، ہم ہزار سال لڑیں گے اور گھاس کھا کر بم بنائیں گے۔ دھن کا پکا تھا، آئین میں ایسی شقیں ڈال گیا کہ قوم تاقیامت لڑتی رہے ؛ بم بھی بنا، قوم اس کے بدلے اب گھاس خوشی سے کھاتی ہے، کبھی کبھار ہینک کر اپنا خمار اور بھڑاس نکال لیتی ہے۔ بعد والوں نے اس مقدس بم کا، البتہ تجربہ غلط جگہ کر دیا، وہاں اب شاید قیامت تک وہ گھاس نہ اگ پائے گی، جو اس علاقہ کے غیور عوام نے کھانا تھی، خالی حب الوطنی کھا کر گزارا کرنا پڑتا ہے۔
چند برس بعد انٹی ہیرو آیا، اس نے عوام سڑکوں پہ نکال کر ان کا ہیرو سولی پہ ٹانگ دیا۔ اس کا ماننا تھا اس کی زمین میں قبر ایک ہے اور ہیرو دو۔ نیک آدمی تھا، قدرت کو اس کی بات اتنی پسند آئی کہ اس کا انجام ایسا ہوا کہ میت قبر سے بے نیاز تھی۔ یہ والا انٹی ہیرو بہرحال فنکار تھا، اس نے ہیرو سازی کا ٹھیکا ہی محکمہ سے لے کر گلی کی مسجد کے مولوی اور مدرسہ کے حوالہ کر ڈالا، پنجابی محاورہ کے تحت اینٹ اکھاڑنے پہ ہیرو ملنے لگے وہ تو بیچارے کچھ بعد میں پھٹ پھٹ کر کم ہوئے۔
یہ بھی کرپٹ ہرگز نہیں تھا معلوم نہیں کیوں اس کے دور میں قوم حرام حلال کی تمیز بھلا بیٹھی اور فاتحین کے سوئس اکاؤنٹس آج تک نکل رہے ہیں۔ اور ہاں اس کا ایک اور کارنامہ مڈل کلاس کو فکری و مالی کے ساتھ مذہبی کرپشن کی جانب راغب کرنا بھی تھا، منافقت اضافی آتی گئی، بذات خود مگر وہ یقیناً برگزیدہ بندہ تھا جس کے لیے خدا اپنے گھر کے دروازے بھی کھول دیتا تھا، وہ دروازے جس کو ہاتھ لگانے پہ ہاتھ اکھاڑ دیے جائیں۔ قدرت یقیناً ایسے نیک لوگوں خوب پہچانتی ہے۔
چند برس بعد ڈانسر ہیرو کی باری آئی، جو سر پر گلاس رکھ کر شراب کا قطرہ بہائے بغیر ناچ سکتا تھا، مگر وردی اتاری تو ساری برکت جاتی رہی، محکمے کے نئے برگزیدہ شخص کے پھینکے کیلے کے چھلکے سے پاؤں پھسل گیا۔ یہ بھی کرپشن کے خاتمے اور صفائی کرنے آیا تھا، اس نے پرانے تمام ہیرو، شیطان قرار دے کر ’بیچ‘ ڈالے جو کرپشن یقیناً نہیں تھی مگر ملکی صفائی بہرحال تھی۔ اس نے عدل کی صدیاں پرانی افلاطون کی تعریف بدل ڈالی، نئی تعریف میں بڑی چوری کر کے تھوڑے سے پیسے جمع کراؤ اور حرام کو حلال بناتے جاؤ۔ گنہ گار امرا جوق در جوق گناہ بخشواتے گئے، اس عادل حلال کرپشن سے ملک ترقی کے نئے مراحل طے کرنے لگا۔
قوم جلد اس سے بھی اکتا گئی، قوم ہیرو کے بغیر مگر زیادہ عرصہ رکھنا محکمہ جاتی پالیسی کے خلاف ہے، جلدی میں اپنا تراشا ہوا پرانا ہیرو ڈرائی کلین کر کے اور نئی وگ لگوا کر لندن سے بلوانا پڑا، وہ اک دن کالا کوٹ پہنے سچ مچ خود کو صاب سمجھتا غداری کی بو سونگھتا میمو میمو پکارتا سپریم کورٹ جا پہنچا۔ باقی تاریخ ہے۔
اسے بتایا گیا تھا کہ بھائی صاب آپ اب ہیروئن کے باپ ہیں، اور ہیروئن کی عمر بھی نکلی جا رہی ہے، مگر ہیروئن کے طبلچیوں نے بالآخر پاؤں کے نیچے سے تخت چھین لیا، مجبوراً اسی کی چہیتی سپریم کورٹ نے اسی کو غدار قرار دیتے وہی کوٹ پتلون سمیت اتار ڈالا۔
ہیرو ساز فیکٹری نے ڈانسر کے بعد اس بار لڑائی مار کٹائی کا ماہر اینگری ینگ مین تراشا، بھیک لینے کی جگہ خودکشی کا نعرہ لگاتا تھا، مظہر شاہ کی طرح ہر تقریر میں سارا ٹبر کھا جاتا اور ڈکار بھی نہ مارتا، ہر ملکی مسئلے کا فلمی حل اس کی جیب میں تھا، نوے دن میں تاریخ بدلنے کا دعویٰ تھا، عظیم ہیرو نے قوم کو ہیجان خیز ڈائیلاگ دیے، جیسے پٹرول کی قیمت بڑھے تو سمجھ جاؤ حکمران چور ہے، پنجاب کے ڈاکو کون ہیں، چپڑاسی کیسا نہیں رکھنا چاہیے، شلواریں کن افراد کی گیلی ہوتی ہیں، وغیرہ۔ انٹرول تک جاتے وہ بھیک کو ’پیکیج‘ بتا کر قوم کو خوشخبری سناتا پایا گیا، گیلی شلواریں پھونکیں مار مار کر سکھاتا دیکھا گیا۔ جسے چپڑاسی نہیں رکھنا تھا وہ اس کے داہنے ہاتھ ہوتا اور جو بڑا ڈاکو وہ بائیں۔
چشم فلک نے حیران کن مناظر دیکھے، ایک محکمہ میں کوئی چوری پہ پکڑا جاتا تو وہ دوسرے محکمے میں جا کر رپورٹ کرتا، بڑے ڈاکو کابینہ میں لوٹ مار کر رہے تھے مگر وہ کرپٹ یقیناً نہیں ہے کیونکہ ہیرو ہے اور اس کو سب سجتا بھی ہے۔
قوم مگر مایوس نظر آنے لگی ہے، ہیرو ساز فیکٹری کی لاگت اور پروڈکشن کاسٹ بڑھ چکی ہے، ملک میں ٹیلنٹ بھی کم ہوتا جا رہا ہے، سوشل میڈیا الگ مصیبت، اب تو بس کوئی ایک عدد ٹوٹا تارہ ہی مل جائے جسے نیا چاند بنا کر چڑھایا جا سکے۔
بریخت میں گلیلیو آندریا کی ہیرو والی بات سنتا ہے، سٹول ٹٹول کر بیٹھتا ہے، خشک گلا تر کر کے جواب دیتا ہے ؛
” بدنصیب وہ زمین ہے، جسے ہیروز کی ضرورت پڑتی ہے۔“ ۔
جیسے کسی نے مچھر پکڑ کر انہیں مچھر مار سپرے پلا کر مارنے کا آسان مشورہ دیا تھا، ہمیں یہ بات کوئی ہیرو ہی آ کر سمجھائے گا کہ ہیروؤں اور مسیحاؤں کی تلاش میں بھٹکنے والوں کو دجال ہی میسر آتے ہیں۔


