ڈاکٹر طاہرہ کاظمی: مجھے بھی فیمنسٹ نہ کہو
طاہرہ سے تعارف غائبانہ تو تھا کہ وہ امارات میں اور میں اسلام آباد میں۔ کچھ معاندانہ بھی رہا۔ اندازہ ہوا کہ بریشم کی طرح نرم لہجے والی ڈاکٹر رزم حق و باطل میں فولاد بھی ہے۔ پھر کراچی کی عالمی اردو کانفرنس میں ملاقات ہوئی تو بات اتنی ہی دیر چلی جتنی دیر ابلتی ہوئی کوزہ بھر چائے چلی۔ برادر انور سین رائے مسکراتے ہوئے شکوہ جواب شکوہ سنا کیے۔ میں نے کتاب دیکھی تو اس کے بیک کور پر متعدد نام ان کے تھے جو طاہرہ سے اختلاف کے اشتہاری مجرم بن گئے تھے۔ اکثر غیر معروف سے عام مرد مومن تھے جنہوں نے بہشتی زیور کے بعد کوئی کتاب پسند کی ہوگی تو شاید ”موت کے بعد کا منظر“ ہوگی۔
ان میں احمد اقبال کا نام ہوتا تو کیسا لگتا؟
اس وقت میں وضاحت نہیں کر پایا کہ اشفاق احمد کو وہ محبت کے نام پر بانو قدسیہ کے جذباتی استحصال کا مجرم ثابت کر رہی ہیں ( جو ان کے بقول پولیانا سنڈروم کی ماری ہوئی تھی) اس آدمی کے کردار کا اندازہ تو ڈاکٹر طاہرہ ”شہاب نامہ“ کے سیاسی اور روحانی حوالوں سے کر سکتی ہیں۔ ان تصاویر سے کر سکتی ہیں جن میں وہ بھٹو کے ساتھ چینی ماؤ شرٹ کیپ میں ہے اور ضیا کے ساتھ شیروانی میں۔ سائنس پڑھے بغیر وہ سائنس فاونڈیشن کا چیئرمین ایسے ہی تو نہیں بنا تھا۔ ریڈیو پر اس کے پروگرام ”تلقین شاہ“ کے بعد میں ٹی وی پر ”زاویہ“ بننے کی طوطا کہانی الگ ہے۔ شوہر پرست بانو نے اس کے تصوف کو ایک نیک پروین کی طرح ”راجہ گدھ“ میں ڈالا تو فطری بات تھی، یہ ہمارے معاشرے کی تمام خواتین کا تسلیم شدہ مثالی پیٹرن تھا کوئی ”پولیانا سنڈروم“ نہیں تھا۔ یہاں رشید جہاں اور عصمت کتنی ہیں جن کا ادبی اور ذاتی کردار اس لینز کے نیچے دیکھا جا سکے۔ میرا موقف طاہرہ نے سنا ہی نہیں اور ملاقات ختم ہو گئی۔
میں ادب کا بندہ ہوں۔ اس کتاب میں میری موضوعاتی دلچسپی نہیں تھی لیکن اشفاق احمد بانو قدسیہ ٹرائیل سے مجھے شک ہوا تھا کہ شاید ان کی صنفی عدالت کے کٹہرے میں امرد پرست میر سے وہی وہانوی اور ”تین گولوں“ والے میرا جی تک سب نام ایک ہی صف مجرماں میں نظر آئیں گے۔ لیکن پوری کتاب میں ”اشفاق / بانو“ کیس کے علاوہ دوسرا مقدمہ صرف ”شفیق الرحمن / قرۃالعین حیدر“ کا نظر آیا۔ پہلا کیس ان کی تحقیق تھی اور دوسرا مستنصر حسین تارڑ کی ایک کتاب کے غیر معروف حوالہ پر بنایا گیا تھا۔ نہیں معلوم طاہرہ نے ”جون ایلیا / زاہدہ“ کیس کیوں نہیں لیا۔
حالیہ جنسی جرائم کی خبروں پر مبنی دو تہائی سے زیادہ کتاب کے ابواب خالص زنانہ ڈائجسٹ سٹائل میں لکھے گئے رقت انگیز جذباتی کالموں پر مبنی ہیں۔ ( ملاحظہ کیجئے ”علیشا کی شلوار“ کا ماتمی مرثیہ ) ۔ بشمول نور مقدم کیس جس کو انہوں نے بانو قدسیہ کی طرح ”پولیانا سنڈروم“ کا نفسیاتی مریض دکھایا ہے۔ قاتل ظاہر جعفر کی تحلیل نفسی انتہائی سطحی انداز میں کی گئی ہے جو ایک عام قاری بھی کر سکتا ہے اور واردات کی خبریں دینے والے رپورٹرز بھی کر چکے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ پیشہ ورانہ طور پر ایک گائناکالوجسٹ سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ جیسا کہ پاکستان کے شہروں قصبوں کے ان گنت میٹرنٹی کلینکس میں دن رات یہی کام کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرتی جنسی گھٹن کے اسباب پر بات کرتے ہوئے انہوں نے فرائیڈ یا اور ژونگ کے نظریات یا جدید ریسرچ کا حوالہ تک کہیں نہیں دیا اور منبر و کلیسا کی شدت پسندی کے جبر سے جنم لینے والے معاشرتی جرائمٔ کی بات ہی نہیں کی۔ ہمارے خاندانی اخلاقیات کی دقیانوسیت اور مرد عورت دونوں کی شخصیت کو مسخ کرنے والے طبی نقصانات پر کچھ نہیں لکھا۔
تارڑ کے ادبی قامت کی بلندی یا قرۃ العین حیدر کی ہمالیہ جیسی بلند ادبی حیثیت پر سنگ زنی کرنے سے خود طاہرہ کی غیر جانبداری متاثر ہوئی۔ اس عالمی سچائی سے انکار ممکن ہی نہیں کہ شاعر ادیب اور فنکار کی نجی زندگی اور کردار کا تخلیق کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جاتا۔ قرۃ العین حیدر اور تارڑ کو فکشن کی تاریخ میں دوام عطا کرنے والے ان کے ناول ہیں۔ ضمنی بات کے طور پر عرض کروں کہ 1951 میں جب یہ ناچیز نویں جماعت کا طالب علم تھا تو کیپٹن شفیق الرحمان کی کتاب ”حماقتیں“ شایع ہو کے مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ چکی تھی۔ جنرل بننے تک انہوں نے اپنے مخصوص پیرائے میں بہت لکھا لیکن ان کو صرف ”مذاق“ کا تخلیق کار سمجھنے والے اگر ان کی کتاب ”دجلہ“ اور ان کا ترجمہ کیا ہوا ناول ”شہر پناہ“ پڑھ لیں تو ان کی رائے یکسر بدل جائے (یہ نوبل انعام یافتہ ادیب جان سٹین بیک کے ناول ’دی مون از ڈاؤن‘ کا ترجمہ ہے جو براڈوے سٹیج پر مسلسل تین سال تک پیش ہوا)۔
غالباً طاہرہ نے ان دو عظیم فکشن رائٹرز کو پورا نہیں پڑھا اور پڑھا تو اپنے مقصد کی الزام تراشی کے لئے مواد کی تلاش میں جیسے وکیل استغاثہ کسی بے گناہ ملزم کی ساری کیس فائل اس ایک جملے کے لئے کھنگالے جو اسے مجرم بنانے میں کام آئے۔ ورنہ قرۃالعین حیدر نے عورت کی ازلی مظلومیت پر جو کچھ لکھا ہے وہ اس فیمنسٹ تحریک کا مینی فیسٹو ہوتا۔ ان کے ناولٹ ”اب کے جنم موہے بٹیا نہ کیجو“ ۔ ”سیتا ہرن“ ۔ ”ہاؤسنگ سوسائٹی“ ، ”چاندنی بیگم“ اور ”چائے کے باغ“ عورت کی بدنصیبی اور ہزاروں سال پرانے مرد معاشرے میں بد ترین غلامی کی خوں چکاں داستان ہے اور ان کے متعدد افسانے۔ ( چھٹے اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا) ۔ مرد راج کی سفاکی کے مظہر ہیں۔ تصور کیجئے یہ اس عورت کے شدت احساس کا معجزہ ہیں جو اپر بیوروکریسی کی نمایندہ تھی۔ فیمنزم کی بات کرنے والوں کے لئے اس کی تحریر ایک معجزہ فن سے کم نہیں جس کی ہے خون جگر سے نمود اور قرۃالعین حیدر ان کی قافلہ سالار ہے۔ سب سے نچلے طبقے کی عورت کا دکھ اسی نے سمجھا ہے
پاکستان میں ایک مخصوص فارغ ذہن اور اپر کلاس کی مڈل ایج خواتین نے سوشل میڈیا پر فیمنسٹ تحریک کو عالمی حوالے سے مگر مقامی فیشن اور سماجی حدود کے مطابق چلایا تو یہ فیس بک پر موسمی وبا کی طرح نمودار ہوئی اور قدرتی طور پر اس نے ناپختہ شعور کو متاثر کیا۔ این جی اوز نے واضح پروگرام کے بغیر آدھی ادھوری دلچسپی کے ساتھ جو کام کیا اس کا نتیجہ رائیگانی کے سوا آج بھی کچھ نہیں۔ کسی نے واضح نہیں کیا کہ ویمن پاور کا تصور میرا جسم میری مرضی سے بہت بڑھ کے ہے۔ یہی تحریک امریکہ میں خواتین کو ووٹ کا حق دلانے کا اور جرمنی میں عوامی نمایندگی میں مساوات کے مطالبے کا سبب بنی تھی۔ ایران کی برقعہ پوش عورت آج آدھی رات کو ٹیکسی چلاتی ہے خواہ اس کے ساتھ شیر خوار بچہ بھی ہو۔ جب فرانسیسی کمپنیوں سے لوکل ٹرانسپورٹ کی اجارہ داری واپس لینے کا وقت آیا تو ایران کی دختر مشرق نے ہی مردوں کو مجبور کیا کہ وہ مقامی ٹیکسیوں میں سفر کریں اور اس کے لئے اپنے زیور بیچ کے اضافی کرایوں کے لئے رقم دی تھی۔ برطانیہ میں یہ ویمن پاور سب سے طاقتور ہے جو بائیکاٹ کی ایک اپیل سے ناجائز منافع خوروں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتی ہے
سوشل میڈیا کے آغاز کو ایک عشرے سے زیادہ ہوا۔ ابھی تک کوئی منظم تحریک نہیں کہ جنسی مظالم اور جرائم کے خلاف شعور پیدا کیا جائے۔ کہیں نہ تحریر ہے نہ تقریر۔ نہ کوئی کتاب ہے نہ آگاہی کے لیکچر۔ تدریسی عمل میں کسی سطح پر کوئی کوشش نہیں کہ میٹرک کرنے تک بچیوں میں خود حفاظتی آگاہی پیدا کی جائے اور اس کے لئے نصاب میں مواد شامل ہو۔ ابھی تک بن بیاہی لڑکی کا جنس کے موضوع پر بات کرنا شرمناک عمل اور گناہ ہے۔ خود فیملی اس رویے کو اخلاقی جواز کی قوت دیتی ہے۔ سن شعور کو پہنچنے سے پہلے ہی ہر لڑکی پر اٹھتے بیٹھتے مسلسل واضح کیا جاتا ہے کہ اس نے کسی مرد کو چھوا بھی تو حاملہ ہو جائے گی۔ میں نے آٹھ نو سال کی لڑکیوں کو برقعے میں بند دیکھا ہے۔ خود لڑکوں کو اخلاقی زنجیروں میں باندھ کے رکھا جاتا ہے کہ کسی نامحرم عورت کو نظر اٹھا کے دیکھنا بھی گناہ ہے۔ نتیجہ یہ کہ دونو جنسی بھوک اور احساس محرومی کے مارے جب اچانک حجلہ عروسی میں بند کیے جاتے ہیں تو ان کو قربت سے نمٹنا نہیں آتا اور یہ جنسی ناواقفیت کا کمپلکس تمام عمر ان کے لئے خرابی پیدا کرتا ہے۔ اس موضوع پر طاہرہ نے ایک لفظ نہیں لکھا
طاہرہ نے آخر میں سوال کیا ہے کہ کیا کتاب پڑھنے کے بعد بھی آپ کہیں گے میں فیمنسٹ نہیں ہوں؟ افسوس کے ساتھ میرا جواب ہاں میں ہو گا۔ کیونکہ کتاب میں جنسی جرائم کی ان واقعات کی لاحاصل تکرار کے سوا کیا ہے جن سے ہمارا میڈیا سنسنی کا ساماں حاصل کرتا ہے اور جن پر سڑک کا آدمی بھی یہی رائے دیتا ہے۔


