بلاول کی ’بے نظیری خصوصیات‘ اور شیخ رشید کی معنی خیز مسکراہٹ


تارڑ صاحب سے پوچھا کہ آپ کے ناولوں میں طاقتور ترین کردار عورت ہی کے کیوں ہوتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ کیونکہ میرے اندر ساٹھ فیصد عورت ہے۔

فکر پر عورت کی پرچھائیں تو گوارا ہو جاتی ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مرد کی ظاہری حرکات و سکنات میں عورت کی جھلک نظر آ جائے تو وہ معاشرے کے لیے مضحکہ خیز کیوں ہو جاتا ہے؟ کیا یہ عورت صنف کے حوالے سے ہمارے متعصبانہ رویے کا اظہاریہ ہے؟

بلاول کا نام آتے ہی شیخ رشید کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آ جاتی ہے، جو ایک قہقہے پر منتج ہوتی ہے۔ اس قہقہے میں تمام حاضرین بشمول صحافی بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ ان کا یہ ردعمل انوکھا نہیں ہے لیکن نفسیاتی تجزیے کے بعد ان کو اگر اپنی اصلی شکلیں آئینے میں دیکھنی پڑ جائیں تو کیا وہ اپنے چہروں کو دیکھ پائیں گے؟

عورت کیا ہے؟ مرد کیا ہے؟ ہمارے ذہنوں میں دونوں اصناف کے حوالے سے کچھ سکیما یا ماڈل بنے ہوئے ہیں۔ معاشرے کے دیے گئے ان ماڈلوں سے ہٹ کر سوچنا ایک خاص تنقیدی فکر کی صلاحیت کے مرہون منت ہے۔ ہم معاملات کو دوئی میں دیکھنے کے قائل ہیں۔ رات دن، مرد عورت، طاق جفت، سفید سیاہ وغیرہ۔ کیا کوئی ایسا ذہن بھی ہو سکتا ہے، جو یہ سوچے کہ دنیا کی تمام خوبصورتیاں اسی تضاد کی پیداوار ہیں۔ فکری روایات کے مصنف جمشید اقبال کے بقول ہم خود تضادات [ماں باپ] کے محبت بھرے تعاون کی پیداوار ہیں۔

ایک عورت، جس میں مردانہ خصوصیات نمایاں ہیں یا مرد جن میں عورت نمایاں ہے اس قدر قابل توجہ کیوں ہو جاتا ہے کہ ان کی دوسری صلاحیتیں آنکھوں سے روپوش ہو جاتی ہیں۔ اعلیٰ انسانی آدرش، ریاضی پر کمال مہارت، بہترین فکری صلاحیت، تخلیقی رجحان جیسی خصوصیات کیا صنفیت سے بالا چیزیں نہیں ہیں؟ پھر ہمارے لیے صنفی شناختیں اس قدر اہم کیوں ہیں؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم تضادات کے باہمی تعاون اور اس تعاون کے خوبصورت نتائج پر غور کیوں نہیں کرتے؟ کیا ہم عقلی تعصب کا شکار ہو جاتے ہیں؟ مردوں اور عورتوں نے ہزاروں سال کچھ ایسے مخصوص کام سر انجام دیے ہیں کہ ان کاموں کی تکرار سے ان کے اندر کچھ ایسی صلاحیتیں ضرور پیدا ہو گئیں، جو ہر دو صنف کی پہچان یا شناخت کے درجے پر پہنچ گئیں۔ اگر ہم طائرانہ سا جائزہ لیں تو عورتوں کے اندر کچھ خصوصیات نمایاں نظر آتی ہیں مثال کے طور پر حساسیت، ہم دلی کا جذبہ، جذباتی ہونا، وجدان، ترتیب کی شناخت، جزئیات کی جانب بہتر توجہ، ’فلو‘ یا بہاؤ، بہتر تخلیقی صلاحیت یعنی انتشار میں سے نظم نکالنے کی صلاحیت وغیرہ۔

مردوں کی شناختی صلاحیتوں کو دیکھیں تو ان میں پر اعتمادی، منطقیت، نظم و ضبط، دلیری، تاثرات کو ظاہر کرنا، احساس ذمہ داری وغیرہ شامل ہیں۔ متذکرہ بالا صلاحیتیں دونوں اصناف میں یوں تقسیم ہیں کہ کسی صنف میں کوئی صلاحیت بقدر زیادہ نظر آتی ہے جبکہ دوسری صنف میں کچھ کم۔ یہ ایک خوبصورت امتزاج ہے، جو باہمی تعاون کی پیداوار ہے بلکہ ایک ماہر نفسیات کے نزدیک لیڈر شپ کی سطح پر یہ صنفی شناختیں بھی معدوم ہو جاتی ہیں۔

تصور کیجیے کہ بانو قدسیہ اور قرات العین حیدر کے اندر مرد نہ ہوتا یا سعادت حسن منٹو اور ٹالسٹائی کے اندر عورت نہ ہوتی تو کیا وہ عظیم تخلیق کار ہوتے؟ صوفی شعرا تو اپنی شاعری میں اپنے لیے باقاعدہ مونث کا صیغہ استعمال کرتے رہے ہیں۔ عورت کے اندر ارتقائی مراحل میں کچھ ایسی صلاحیتیں پیدا ہو گئیں ہیں، جو تخلیق کے عمل کے لیے بے حد ضروری ہیں۔ عورت نے بصورت جبر صدیوں درد کو سہا ہے اور درد سے بڑا کوئی استاد نہیں ہے کہ درد ارتکاز پیدا کرتا ہے۔ مختلف مذاہب اور صوفی روایت میں تو باقاعدہ مصنوعی درد کو ارتکاز کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

اب آئیے بلاول کی جانب! بلاول کو دو محاذوں کا سامنا ہے۔ سیاسی محاذ کہ ایک بڑی پارٹی کو لے کر آگے چلنا ہے جبکہ اس سے بڑا محاذ ان میں پائی جانے والی خفی نسائیت کے حوالے سے متعصب معاشرے کے رویوں کا سامنا ہے۔ یہ محاذ اس لیے بڑا اور مشکل ہے کہ یہ معاشرہ نسائیت کو آج بھی کمزوری اور بے عقلی کی علامت سمجھتا ہے۔

دیکھا جائے تو بلاول نے کم عمری میں ہی ایسی بہت سی مثالیں چھوڑی ہیں، جو ان کی سیاسی پختہ ذہن کی علامت ہیں۔ پاکستان کے بیشتر سیاسی رہنماؤں کے حوالے سے آپ وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ وہ نظریاتی طور کہاں کھڑے ہیں لیکن بلاول کے حوالے سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں ہے کہ عورتوں کے حقوق اور ان کی سماج میں ترقی کے حوالے سے ان کے حتمی خیالات کیا ہیں؟

مذہبی ہم آہنگی اور اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں بلاول کیا سوچ رکھتے ہیں؟ یہ ان کے عمل سے بہت حد تک واضح ہے۔ ایسے بارہا مواقع آئے، جہاں بغیر لگی لپٹی انہوں نے اعلی اخلاقیات کا ساتھ دیا۔ سیاسی فیصلے موضوعی ہوتے ہیں، یقیناً ً کئی فیصلے درست کیے ہوں گے اور کئی فیصلے غلط کیے ہوں گے۔ سیاستدان وقت کے ساتھ سیکھتا ہے۔

مجھے بلاول کے خیالات سے غرض ہے۔ بلاول کے نظریات سے تعلق ہے۔ کیا وہ انسانی حقوق کے حوالے ایک واضح رائے رکھتا ہے؟ یا دوسرے بیشتر رہنماؤں کی طرح کسی مشکل سیاسی مرحلے پر ان سے سمجھوتہ کر لیتا ہے یہ زیادہ اہم بات ہے۔ میرے نزدیک یہ بات سرے سے بے معنی ہے کہ بات کرتے ہوئے اس کے لہجے یا ہاتھوں کی حرکت سے نسائیت جھلکتی ہے بلکہ میرے نزدیک یہ کسی حد تک اطمینان بخش امر ہے کہ ان خصوصیات کی وجہ سے وہ نرم رویہ کے حامل ایک ایسے متوازن شخص ہوں گے، جو سماج کے لیے بہتر فیصلے کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔

مجھے وہ مرد اور عورتیں بری لگتیں ہیں، جو صنف کے حوالے سے بدترین عقلی تعصبات کا شکار ہیں۔ محترم شیخ رشید جیسوں کی مسکراہٹ زہر لگتی ہے کہ ایسی مسکراہٹ پسماندہ ذہنی معاشروں کا تعارف بن جاتی ہے۔

مجھے مرد اور عورت اچھے لگتے ہیں کہ یہ مردوں اور عورتوں کے محبت بھرے تعاون کی پیداوار ہیں۔ میں فطرت کی ستائش کرتا ہوں، تالیاں بجاتا ہوں کہ اس نے تخلیقی تنوع حاصل کرنے کے لیے کیسے شاندار انتظامات کیے ہیں۔ مجھے بلھے شاہ سے محبت ہے کہ میرا یہ پیارا بابا جب بڑے نظریات پر بات کرتا ہے تو مونث کا صیغہ استعمال کرتا ہے۔ مجھے بلاول اچھا لگتا ہے، جب اس میں بے نظیری خصوصیات نمایاں نظر آتی ہیں۔
بشکریہ ڈوئچے ویلے اردو


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 177 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments