ڈاکٹر خالد سہیل کی کتاب ”دا سیکر“ کا ایک جائزہ


دا سیکر ڈاکٹر خالد سہیل کی زندگی کی کہانی ہے۔ آپ بیتی ہے۔ یہ ایک سفر نامہ ہے سچ کی تلاش کا ۔ جب انہوں نے کہا کہ آپ اس کا ریویو لکھیں تو میں سوچ میں پڑ گئی۔ مجھے لکھنا نہیں آتا۔ کتاب کے بارے میں لکھنا تو اور بھی مشکل ہے مگر کچھ تو لکھنا تھا۔ میں نے سوچا میں وہ لکھتی ہوں جو کتاب پڑھ کر مجھے سمجھ میں آیا یا جو

میں نے محسوس کیا۔ سیکر کا اردو میں ترجمہ ہو سکتا ہے کھوجی، متلاشی، کچھ کھوجنے والا، کچھ ڈھونڈنے والا، سوال کرنے والا، ہم اسے مسافر بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس کھو جی کو انھوں نے خضر کا نام دیا ہے۔ خضر کا کام دوسروں کو راستہ دکھانا ہے۔

کتاب کی زبان بہت سادہ اور آسان ہے جو ہم جیسوں کی بھی سمجھ میں آ جائے۔ کتاب مختصر ہے۔ بہت مختصر۔ مگر سفر طویل ہے۔ بہت طویل۔ کیونکہ سفر بیرونی بھی ہے اور اپنی ذات کے اندر بھی۔ سچ کی تلاش کا سفر باہر کم اندر زیادہ ہوتا ہے کیونکہ سچ ہمارے اندر ہی کہیں ہوتا ہے۔ ایسے سفر ہمیشہ طویل ہوتے ہیں۔ لمحوں میں صدیوں کی مسافت طے ہو جاتی ہے اور کبھی سالوں میں کچھ قدم ہی طے ہوتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں سفر تھکا دینے والا ہے۔

کتاب کے ابواب کو انکاؤنٹرز کا نام دیا ہے۔
کتاب کا تعارف بہت دلچسپ ہے۔

ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اس ایک ہی منزل پر ساری زندگی گزار دیتے ہیں جس کا ذکر خضر نے کیا ہے۔ بہت کم ہیں جو آگے بڑھ کر اس دروازے کو کھولتے ہیں۔ کیا یہ دروازہ ہر انسان کی زندگی میں موجود ہوتا ہے یا صرف ان کی زندگی میں جو اسے کھولنے کی ہمت کرتے ہیں جبکہ یہ بند بھی نہیں ہوتا۔ دروازے کے اندر تو ایک جادو نگری ہے۔ جو اندر قدم رکھ دیتا ہے وہ اکثر واپس نہیں آتا۔ کہیں گم ہو جاتا ہے مگر خضر واپس آیا تاکہ دوسروں کو بھی اس دروازے کا پتہ دے سکے۔

اس دروازے کو کھولا تو خضر کی خود سے ملاقات ہوئی اور اس نے اپنی ذات کے ان گوشوں میں جھانکا جو نظروں سے اوجھل تھے۔ کبھی وہ اپنی ذات کے اندر بہت گہرائی مین اترا اور کبھی اپنی ہی ذات کی بلندی کا مشاہدہ کیا۔ اپنی ذات میں گہرا اترنے کے بعد ہی انسان اپنی ذات سے اوپر اٹھ سکتا ہے۔ اپنی کتھا لکھنے کے دوران خضر پر مختلف کیفیات گزریں۔ کبھی خوشی، شادمانی، جوش ولولہ، کبھی گہری اداسی حزن و ملال۔ کبھی بے معنویت اور گہرے خلاء کا احساس۔

میں ایسے جمگھٹے میں کھو گیا ہوں
جہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے

اس راستے پر چلنے والوں کو اس سب سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔ بارہا خضر اس دوراہے پر آ کھڑا ہوا کہ سفر جاری رکھا جائے یا نہیں؟ کہیں یہ ساری تگ و دو لا حاصل تو نہیں؟ کبھی وہ سچ تک پہنچ پائے گا؟ وہ سچ جس کو اس کا دل سچ مان لے۔ جو اگر مگر کے بغیر ہو۔

سچ کی تلاش میں چلنے والوں کو اکیلا ہی چلنا پڑتا ہے۔ اس راستے پر نہ تو کوئی انگلی پکڑ کر چلاتا ہے ہے اور نہ کوئی خوشخبری دیتا ہے۔ کوئی ذمہ داری نہیں اٹھاتا۔ اپنی ذمہ داری خود لینی پڑتی ہے۔ یہ باتیں ہر کسی کے لیے معنی نہیں رکھتیں جو اپنے دائرے میں قید ہیں۔ اس سے باہر دیکھ نہیں سکتے یا دیکھنا نہیں چاہتے ان کے لئے یہ ساری واردات بے معنی ہے۔ لیکن جو لوگ سوچتے ہیں، سوال اٹھاتے ہیں۔ ان کے لیے یہ کتاب مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ دھند کے اس پار پر نظر کچھ نہیں آتا محض ہمارے اندازے ہیں یا سنی سنائی باتیں۔ واپس آ کر کسی نے نہیں بتایا کہ اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوا تو کیوں نا اس منظر کو روشن کیا جائے جو ہمارے سامنے ہے اور جس میں ہم موجود ہیں۔ تو خضر اس منظر کو روشن کرنے کا کام کرتا ہے۔

خضر ہمیں بتاتا ہے کہ LAND OF TRADITION میں دریا کے کنارے سیر کرنا اس کا معمول تھا۔ ایک دن ایسی ہی چہل قدمی کے دوران خضر پر آ گہی کا وہ لمحہ آیا جب اس پر انکشاف ہوا کہ اس کی زندگی اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ وہ اپنی زندگی کے ساتھ جو چاہے کر سکتا ہے ہے۔ بنائے یا بگاڑے۔ امکانات کی ایک پوری دنیا اس کے سامنے تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب خضر کی زندگی کی سمت متعین ہو گئی اور اس نے اپنے اندر بیٹھے ہوئے دیوتا کو دریافت کر لیا۔ ہم میں سے ہر ایک کے اندر ایک دیوتا موجود ہے مگر ہم اسے دیکھ نہیں پاتے۔ خضر نے اس کو پہچان لیا۔ اب اس دیوتا کو activate ہی کرنا تھا جو بعد میں اس نے کیا۔

خضر کی ادبی زندگی کا آغاز زمانہ طالب علمی ہی میں ہو گیا تھا۔ شاعری کی۔ کہانیاں لکھیں۔ یہ ادبی سفر بھی ساتھ جاری رہا۔ اور بعد میں بہت سی کتابیں بھی لکھیں۔ منٹو کی زندگی اور تحریروں نے خضر کی زندگی پر دور رس اثرات مرتب کیے۔ منٹو منافق نہیں تھا اور خضر کو بھی سچ کی تلاش تھی۔ وہ اپنے شاعر چچا جن کو creativity کا نام دیا ہے ان سے بھی بہت متاثر تھا اور ان کے مشورے پر ہی دور دیس جا بسنے کا ارادہ کیا۔

مختلف رشتوں اور کرداروں کے نام لینے کے بجائے استعارے استعمال کیے ہیں۔ جیسے religion، hope، love، hypocrisy، passion، friendship، mysticism، وغیرہ۔ ان سب کا خضر کی زندگی مین ایک خاص جگہ اور مقام ہے اور ہر ایک سے کچھ نہ کچھ سیکھا ہے۔

اپنی بہن friendship کی وجہ سے عورتوں کی عزت کرنی سیکھی۔ اپنی ماں religion کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اندھا اعتقاد کیا ہوتا ہے۔ اپنے والد mysticism کو دیکھ کر پتہ چلا کہ جب عقائد اور حقائق کا ٹکراؤ ہوتا ہے تو انسان پر کیا گزرتی ہے۔ نانی جن کو wisdom کا نام دیا ہے ان کی دانائی بھری باتیں زندگی بھر ساتھ چلتی رہیں۔ love سے خضر نے یہ جانا کہ ایک محبت بھرے تعلق میں انسان کس طرح پنپتا ہے اور اس کی شخصیت نکھر کر سامنے آتی ہے۔

hypocrisy نے یہ سکھایا کہ قول و فعل کا تضاد کیا ہوتا ہے۔ خضر نے اس کے خطبوں کو کیچپ کی بوتل سے تشبیہ دی ہے جو بظاہر بھری ہوئی دکھائی دیتی ہے مگر اس میں سے کچھ برآمد کرنا خاصا مشکل ہے۔ (اور جو کچھ برآمد ہوتا ہے اسے سنبھالنا مشکل ہوتا ہے ) ۔ cosmology کی تحریروں سے خضر نے جانا کہ ہم universe میں نہیں بلکہ multiverse میں رہتے ہیں۔ پرانی کائناتیں ختم ہوتی رہتی ہیں اور نئی جنم لیتی رہتی ہیں۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ یعنی ہماری دنیا ختم ہو جائے گی مگر کائنات باقی رہے گی۔ خضر کے نزدیک ان حالات میں خدا کے وجود کا تصور بے معنی ہے۔ خضر نے ایک دلچسپ نتیجہ اخذ کیا کہ انسان بھی کائنات کی طرح ہے۔ جس طرح بیرونی کائنات پھیلتی ہے اسی طرح اندر کی کائنات بھی پھیلتی ہے۔ انسان ان سب چیزوں سے زیادہ پراسرار ہے۔

خضر نے ART OF MEDICINE کے ساتھ ART OF LIFE بھی سیکھا۔ LAND OF FREEDOM میں پہنچ کر 3 Ds سے کام لیا یعنی driving، dancing اور dating۔ لیکن لگتا ہے ٹروجن ہارس والی تکنیک پر بھی خوب عمل کیا۔

خضر کے گھر میں ہر طرف کتابیں نظر آتی ہیں۔ اس نے FAMILY OF THE HEART بھی بنائی جس میں ہر مکتبۂ فکر و ذہن کے لوگ شامل ہیں۔ مگراس کے ساتھ خضر کا ایک inner circle بھی ہے جس میں کچھ مخصوص لوگ ہی شامل ہیں۔

LAND OF TRADITION میں خضر دریا کنارے
ٹہلا کرتا تھا۔

اور LAND OF FREEDOM میں وہ جھیل کنارے ٹہلتا ہے۔ یہاں بگلے بھی ہیں۔ پانی اور سیگل کا ایک لکھاری سے کچھ پرسرار سا تعلق ہوتا ہے۔ پانی چاہے جھیل ہو، در یاہو یا سمندر ہو۔ اور سیگل؟ یہ کیسا پرندہ ہے؟ اس کی آواز میں کیسا اسرار ہے۔ رات کے سناٹے میں جب یہ آواز سنائی دیتی ہے تو ایک سحر سا طاری ہو جاتا ہے اور انسان سننے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ بھلا یہ آواز کیا کہہ رہی ہے؟ خضر نے بھی راتوں کو یہ آواز ضرور سنی ہوگی۔

اسی جھیل کے کنارے خضر کو محسوس ہوا کہ اس کا سفر رائیگاں نہیں گیا بلکہ سچ کی تلاش کا جو سفر اس نے شروع کیا تھاوہPassion سے ہوتا ہوا Hope تک پہنچا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ کہ جو ذہنی سفر دریا کے کنارے شروع ہوا تھا اس کا صاف اور واضح نتیجہ اس جھیل کے کنارے خضر کے سامنے آ گیا۔ گویا اسے اپنے سوال کا جواب مل گیا۔ پانی بہت کمال کی شے ہے۔ یہ سب کچھ صاف کر دیتا ہے۔ اپنے اندر کتنے بھید چھپائے رکھتا ہے۔

اس کتاب کو پڑھ کر میں نے کچھ نتائج اخذ کیے ۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ خضر کو زندگی میں جو بھی تجربات ہوئے ان سے خضر نے سبق سیکھا اور انہیں یاد رکھا۔ صرف بیان کی حد تک نہیں بلکہ انہیں اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا۔ عام طور پر لوگ صرف بیان کی حد تک ہی رہتے ہیں۔ خضر نے چھوٹے سے چھوٹے سبق کو بھی اچھی طرح یاد رکھا۔ سبق ہم بھی حاصل کرتے ہیں مگر ہم بھول جاتے ہیں یاد نہیں رکھتے۔ زندگی میں جہاں کہیں بھی ضرورت ہوئی خضر نے ان تمام تجربات سے فائدہ اٹھایا اور دوسروں کو بھی پہنچایا۔

دوسری بات یہ ہے کہ لوگ ہمیشہ اچھے نہیں ہوتے مگر خضر کے اندر لوگوں کی اچھائی اور positivity کو کشید کرنے کی صلاحیت موجود ہے ہے۔ اسی کو کہتے ہیں مایوس نہ ہونا اور دوسروں کو حوصلہ دینا۔

تیسری بات یہ ہے کہ خضر کا جب سچ سے اینکاؤنٹر ہوا وہ جس بھی شکل میں سامنے آیا خضر نے نظریں نہیں چرائیں۔ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور اسے گلے لگا لیا۔ ہم یہ نہیں کرتے ہم نظریں چرا جاتے ہیں۔ سچ کا سامنا کرنے کی ہمارے اندر ہمت ہی نہیں۔ مجھے ایک مووی پیپلن کا آخری منظر یاد آتا ہے جس میں ہیرو اور اس کا ساتھی جزیرے سے فرار ہوتے ہیں۔ ہیرو اس گہرے پانی میں کود جاتا ہے۔ اس کا ساتھی ہمت نہیں کر پاتا۔ وہ بلندی پر کھڑا نیچے دیکھتا رہتا ہے اور واپس پلٹ جاتا ہے۔ خضر نے ان گہرے پانیوں میں چھلانگ لگا دی۔ آگے آزادی ہے۔ ہم خوف کے جزیرے میں قید رہ جاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگوں کو یہ بات مبالغہ لگے لیکن اس راستے پر چلنا اور سچ کو قبول کرنا اتنا ہی مشکل کام ہے۔

آخری بات یہ ہے کہ کہ خضر نے یہ بات سمجھ لی کہ کوئی بھی سچ آخری یا حتمی نہیں ہے۔ سچ بھی اتنے ہی ہیں جتنے انسان۔ ضروری نہیں کہ کسی ایک

کا سچ دوسرے کے لیے بھی سچ ہو۔ یہ بات ہمیں اپنی زندگی میں چاروں طرف نظر بھی آتی ہے اگر نگاہ دیکھنے والی ہو۔ نطشے نے کہا تھا۔

You have your way. I have my way.As for the right way, the correct way,and the only way, it does not exist.


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عشرت پوپل کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments