تعلیمی اور خاندانی نظام کے بدلنے کا وقت


دعا کاظمی کیس پاکستانی خاندانی اور تعلیمی نظام کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ وہ خاندانی نظام جس کے برکتیں شمار کرتے ہماری انگلیاں نہیں گھستیں۔ اور وہ نظام تعلیم جسے حاصل کرنے سے پہلے بچے بالغ ہو جاتے ہیں اس سے پہلے کہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں وہ گھر بنانے کے خواب دیکھنے لگتے ہیں۔ گھر جو ڈراموں فلموں اور رسالوں کے مطابق کوئی پریوں کی داستان کا حصہ ہیں۔ جس میں پھولوں کی راہگزر بچھی ہے اور ہر اور سے ستارے قدموں میں گر رہے ہیں۔ ہمارا معاشرہ جو ہر چیز میں دقیانوسیت چاہتا ہے مگر میڈیا میں ہمیشہ مستی دیکھنے کا شوقین ہے۔ جو خیالات میں بے پروائی اور بے نیازی کا قائل ہے، تنہائی میں ہر آزادی کا مگر افراد کے اعمال میں نظم و نسق اور اچھائی کی توقع کرتا ہے۔

ہمارا وہ خاندانی نظام دعا کاظمی کی اس حالت میں ہونے کا ذمہ دار ہے جو صرف بچوں کو بے زبان پیروکار تصور کرنے کے لئے بے چین ہے۔ جو اولادوں کو ایک علیحدہ وجود سمجھنے سے انکاری ہے اور انہیں ہمیشہ اپنا ماتحت رکھنا چاہتا ہے۔ جہاں بچوں کی پسند و ناپسند ناصرف کچلی جاتی ہے بلکہ ایک بدترین گناہ، عزتوں پر دھبہ، رسوائی بدنامی تک تصور کی جاتی ہے۔ اور اس پر ستم یہ کہ بچوں کو اپنی بات سمجھانے کے لئے گفتگو اور دلیل کی بجائے سختی، مارپیٹ اور پابندیوں کی صورت اختیار کی جاتی ہے۔ بچوں کو اپنا ہمنوا بنانے کی بجائے اپنا ماتحت بنانے پر پورا زور دیا جاتا ہے۔ اور یہ ہمارے معاشرے کے ہر فرد کی گھٹی میں ہے اور نتیجہ کار ہم سب کو بہترین حل دکھائی دیتا ہے۔

دوسری طرف سے پچھلے بیس سال سے ہم نے میڈیا کی ہر آزادی اور انٹرنیٹ کی عیاشی اپنے معاشرے میں ٹھونس ٹھونس کر بھر لی ہے۔ موبائل اتنے سستے کہ بچے پاکٹ منی اکٹھی کر کے لے لیتے ہیں۔ فون پیکج اتنے ارزاں کہ ساری رات مفت بات ہو جاتی ہے۔ وڈیو کال کا ہر چینل ہر وقت ہر جگہ مفت مہیا۔ اس پر آج کی نسل ہر وہ چیز دیکھ رہی ہے جو ہمارے بیس سال پہلے خاندانوں اور گھروں میں دیکھنی نا ممکن تھی۔ اور خود کو کسی غلط فہمی میں مت رکھیں کہ یہ معلومات وہ معلومات۔ پاکستانی کسٹمر کوئی معلومات حاصل نہیں کرتا سب کے سب چیٹ روم میسنجر، وڈیو آڈیوز کالز اور یو ٹیوب و ٹک ٹاک میں مگن ہے۔ وہ اور معاشرے ہیں جو انٹرنیٹ سے علم سیکھ رہے ہیں ہمارے اسکولز کالجز سے ہزار کوششوں کے باوجود علم کوئی نہیں سیکھتا انٹرنیٹ سے کون سیکھنا چاہتا ہے جہاں کہیں کوئی پہرہ ہی نہیں اتنا تو یو ٹیوب بھی کرتا ہے کہ چینلز دکھانے سے پہلے عمر پوچھتا ہے۔ ہم سے اتنے سالوں میں اتنا نہیں ہو سکا کہ کس عمر کے بچے کو سم اور موبائل بیچنا ہے کس کو نہیں۔

پچھلے بیس سال میں کسی حکومت کسی محکمے نے معلومات و میڈیا کے اس مادر پدر آزادی کے رستے میں کوئی بند باندھنے کی کوشش نہیں کی۔ الٹا ہر چیز ترقی اور ماڈرنزم کے نام پر اس قدر ارزاں کر دی گئی کہ ہمارے بچے بچے کے ہاتھ میں پہنچ گئی۔ جن معاشروں کو اپنی نسلوں کی فکر ہے وہاں ہر چیز پر پیسے لگتے ہیں۔ جدید ملکوں میں اپنی ذاتی سوشل میڈیا متعارف کروائے گئے ہیں بھانت بھینٹ کی بولیوں اور رواجوں کو اپنی سرحد میں آنے سے روکا گیا ہے۔ وڈیوز اور آڈیوز کالز مہنگی ہیں۔ جب کہ ہمارے ہاں ہر چیز اس طرح کھلی ہے کہ جیسا چاہے زہر اس میں نکل کر پھینکتا رہے۔ پھر ہمارا آزار خیال میڈیا جو اچار ہو کہ کولڈ ڈرنک ہر چیز ناچ ناچ کر دکھانے کا عادی ہیں۔ ہماری پوری ایڈورٹزمنٹ صرف ناچ گانے، جینز جیکٹ، اور فلرٹیشن کے گرد گھومتی ہے۔ ہم بھی عجیب بھولے لوگ ہیں ان سب کے باوجود خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں محمد بن قاسم اور نیک پروiنیں پیدا ہو جائیں۔

پھر ہمارا فرسودہ نظام تعلیم جو ہمارے بچوں کو کسی بھی قسم کے شعور دینے سے ہمیشہ مکمل طور پر ناکام ہو رہا ہے۔ بچے با روزگار و باشعور ہونے سے پہلے جوان ہو رہے ہیں اور ہم ڈگریوں کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ وہ ڈگری جو کسی روزگار کی ضمانت بھی نہیں۔ بھیڑ چال کی طرح ہم اپنے بچوں کو افسر بنانے کے لئے اس سولہ سالہ کنویں میں دھکیلے جا رہے ہیں اس سے پہلے کہ وہ ڈگری یافتہ ہو کر دوسری طرف سے باہر نکلیں وہ کسی اور طرف پہنچ جاتے ہیں۔

ان فرسودہ نظاموں پر تین حرف بھیجیے اور بچوں کو ڈگری کالجز میں کروانے کی بجائے فنی کالجز میں کروائیں۔ چھوٹی سے چھوٹی عمر میں انہیں اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا قابل کریں۔ بیٹوں بیٹیوں کو گود میں بٹھا کر چودہ اور سولہ سال پڑھاتے رہنے کی بجائے انہیں جلد از جلد زندگی کو برتنا سکھائیں۔ انہیں ہنر دیں، انہیں اپنی زندگی خود بنانے کے لئے گھر سے نکالیں۔ اگر ساری جدید کامیاب دنیا کے بچے سولہ سال کی عمر میں نکل کر چھوٹی چھوٹی نوکریاں کرتے ہیں تو ہم کون سی نواب نسلیں پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں جو بیس سال تک کرسیوں پر بیٹھ کر صرف کتابیں پڑھتے رہیں۔ جو پیار کرنے کے قابل ہو جائیں وہ اس سے دو سال پہلے اس قابل ہو جاتے ہیں کہ انہیں کام کرنا سکھایا جائے، پیسہ کمانا سکھایا جائے اپنے اور اپنے مستقبل کے لئے۔ معاشرے کے رواجوں اور آس پاس کے لوگوں کی رائے پر تین حرف بھیجیں اور اپنے بچوں کو ہنر مند بنانے کی طرف لائیں۔ ان پر روزگار کا بار ڈالیں تا کہ انہیں جلد سے جلد آٹے دال کے بھاؤ معلوم ہو جائیں۔ اس سے پہلے کہ وہ کسی کو بھگا کر لے آئیں اور پھر پتا چلیں۔ تعلیم ساری عمر چل سکتی ہے مگر زندگی برتنے کے طریقے جتنی جلدی ہو سکے سیکھ لینے چاہیں۔

حکومتی سطح پر تعلیمی نظام پر نظر ثانی کی اشد ضرورت ہے۔ جس نظام سے اچھے انسان پیدا نہ ہو سکیں اس کے چلتے رہنے کی کوئی توجیہ باقی نہیں رہتی۔ تعلیم سے بڑھ کر ہنر کو مرکزی تعلیمی دھارے میں لانے کی ضرورت ہیں۔ اسکول کے لیول سے فنی تعلیم، پراجیکٹس اور انٹرن شپ تعلیم کا لازمی جز بننی چاہیے۔ ایسا تعلیمی نظام چاہیے جو دس سال میں بچوں کی اکثریت کو کسی روزگار یا کاروبار کے قابل بنا سکے۔ ایک کلاس کے دو تین بچوں سے زیادہ بچے ڈاکٹر انجینئر نہیں بنتے۔ باقی سب خالی بے فیض کتابوں کے ڈھیر میں دب جاتے ہیں ان کو ہنر مند افراد میں شامل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اسکولز اور کالجز سے صنعت کا سرکاری سطح پر منسلک کیوں نہیں کیا جاتا تا کہ بچے چھوٹی عمر میں سرکاری سرپرستی میں روزگار و کاروبار سیکھ سکیں۔

بچوں کو گالیاں نکالنا اور کم عمری کے طعنے دینا مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ ان کے مسائل کا صحیح حل تلاشنے کی ضرورت ہے۔ اب معاشرے میں جو زہر ہم ڈیجیٹل ترقیاں کر کے گھول چکے ہیں وہ واپس نہیں ہو سکتا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ جو مسائل سامنے آ رہے ہیں ان کا صحیح حل نکالا جائے۔ ورنہ ہمارا معاشرہ خونخوار معاشرہ ہے جو انسانی حقوق سے زیادہ انسان پر لوگوں کے حقوق کو زیادہ سختی سے اہمیت دیتا ہے۔ جو حکومتیں ترقی کی خاطر ہر طرح کی سستی ٹیکنالوجی اور گلوبل ویلج اٹھا کر گھر میں لائی ہیں اب انہیں ایسے کم عمر جوڑوں کو تحفظ بھی دینا چاہیے نہ صرف معاشرے سے بلکہ ایک دوسرے سے بھی۔ ایسے جوڑوں کو قرضے بھی دینے چاہیں تا کہ وہ گھر اور روزگار شروع کر سکیں۔ مگر یہاں بھی اسی ہنر کی پہلے ضرورت پڑھے گی۔

بالغ افراد کو اپنی زندگی کے فیصلوں کا حق ہے مگر جب والدین کو بچے پالنے پڑیں گے تو حکم بھی انہی کے چلیں گے۔ زبردستی دھونس زبردستی سے انہیں کسی محفوظ کھوٹے سے باندھ دینا بھی کوئی محفوظ طریقہ نہیں۔ جس دن رسی تڑوائے گا یہ نوجوان اسی دنیا میں دھکے کھائے گا جس سے اسے بچانے کی کوشش میں والدین پاگل ہو جاتے ہیں۔

معاشرے کو اپنی ذہنوں کو اب نئی تبدیلیوں کے لئے تیار کرنا ہو گا۔ اپنی مرضی سے شادی کرنے والوں کی قسمت میں ٹھوکریں یہ معاشرہ ہی رکھتا ہے جب ان کے ساتھ کھڑے ہونے سے انکار کر دیتا ہے۔ زندگی سے لڑنے کی ہمت کر لیتا ہے نوجوان تو اس کا حوصلہ اور تحفظ اب اس معاشرے کو ہی بننا ہو گا۔ جو کھڑے ہونے کی کوشش کر رہے ہیں ان کو عزت سے کھڑے ہونے میں مدد دیں۔ کیوں ہمیں نوجوانوں کو جہنم رسید کرنے کی جلدی ہے۔ انہیں زندگی سیکھنے کا موقع دیں۔ یا تو زندگی جی جائیں گے یا سبق سیکھیں گے۔ اولادیں صرف والدین کا نام رکھنے کے لئے پیدا نہیں ہوتیں۔ وہ اپنا ایک وجود اور شناخت رکھتی ہیں۔ انہیں معاشرے میں اپنے حصے کی جگہ لینے دیں۔ ان کو اپنے حصار میں قید رکھنے کی اب کوششیں پار چڑھنی مشکل ہیں۔ اپنی زندگیوں میں غلطیوں کی گنجائش رکھیے۔ بدنامی، رسوائی جیسے تصورات معاشرہ ہی بناتا ہے جو کسی فرد کی زندگی سے بڑھ کر نہیں۔ ایسی عزتیں کسی قابل نہیں جو آپ کے اپنے بنائے افراد کی قبروں پر بنیں۔ انہیں مبہم تصورات کے پیچھے اپنی نسلیں اجاڑنے سے بہتر ہے آپ اپنے جیتے جاگتے بچوں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ والدین، معاشرہ خاندان ساتھ کھڑے ہو جائیں گے تو یہی نوجوان محفوظ ہو جائیں گے۔ ساری ترجیحات آپ کی ہیں بنائیے یا بگاڑئیے۔

 

Facebook Comments HS