غائب ہونے والی بچیاں اور نکاح بالجبر
پاکستان میں حال ہی میں دو تین ایسے واقعات ہوئے جنہوں نے ہر کسی کو ہلا کر رکھ دیا۔ جی ہاں میں دعا زہرا اور دیگر دو بچیوں کی گمشدگی کی بات کر رہی ہوں۔ دعا زہرا تو صحیح سلامت مل گئی لیکن اس کی آنکھوں کی وحشت دیکھ کر لگتا ہے جیسے وہ کسی صدمے کے زیر اثر ہو یا پھر کم خوابی اور زیادہ رونے کے باعث حواس کھو چکی ہو۔ بچی بار بار ایک ہی بیان دہرا رہی ہے جیسے کسی نے اسے رٹوا دیا ہو کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے، والد ہراساں کر رہے ہیں ان پر مقدمہ درج کیا جائے۔
دعا کا نکاح نامہ بھی سامنے آ گیا، تواتر سے ویڈیوز بھی سامنے آ رہی ہیں جن میں اس کا نیا روپ نظر آ رہا ہے۔ کیونکہ ہم تصاویر میں دیکھ چکے ہیں کہ پہلے وہ کافی زیادہ خوش لباس اور ماڈرن تھی۔ دعا کی جس سے شادی ہوئی ہے وہ لڑکا بھی کم عمر ہے، چہرے سے بوکھلاہٹ عیاں ہے، یہ سب دیکھ کر میرا دل کسی طور ماننے کو تیار نہیں ہے کہ یہ جو بھی ہوا ہے وہ محبت کی کارستانی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی اور ذہن ہے جس نے یہ ساری پلاننگ کی اور معاملہ اس نہج تک پہنچا دیا۔
اگر دعا، نمرہ اور دینار کے کیسز ایک ساتھ دیکھے جائیں تو ان میں کسی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے، تینوں ایک ہی ہفتے میں کراچی سے پنجاب جاتی ہیں، نکاح ہوتا ہے، حق مہر بھی تقریباً ایک جیسا رکھا جاتا ہے، ایک جیسے ویڈیو بیان سامنے آتے ہیں، اور کم وبیش تینوں کے چہرے پر ایک جیسے ہی تاثرات نظر آتے ہیں۔ دعا کی ویڈیو دیکھ کر لگتا نہیں کہ یہ سب وہ اپنی مرضی سے کر رہی ہے، واقعات بتا رہے ہیں کہ جیسے اس بچی کو اسے بلیک میل کیا گیا ہو؟
دعا زہرا کا تعلق فقہ جعفریہ سے ہے، جن کے مطابق شریعت محمدی میں نکاح کے وقت ولی کا موجود ہونا، رضا مند ہونا واجب و ضروری ہے اگر لڑکی اور لڑکے کی عمر 18 سال سے کم ہو۔ لہذا یہ نکاح شریعت کے حساب سے غلط ہے۔ ابھی طبی طور پر یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ دعا کی اصل عمر کیا ہے لیکن جج نے صرف دعا کے بیان پر اسے جانے دیا دارالامان نہ بھیجا۔ جب کہ اس کے والدین کے پاس ب فارم سمیت تمام ویریفائڈ ڈاکیومنٹس تھے۔ والدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ شادی دو ہزار آٹھ میں ہوئی ہے تو دعا کیسے اٹھارہ سال کی ہو گئی؟
دعا کی عمر چودہ سال ہے یا اٹھارہ سال یہ فیصلہ تو ہو ہی جائے گا لیکن اتنی کم عمری میں اتنے سپاٹ چہرے کے ساتھ اپنے ایک ہی بیان پر ڈٹے رہنا، اتنے مضبوط اعصاب کا مظاہرہ کرنا کسی عام انسان کے بس کی بات نہیں ہو سکتی۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی اور ہے جو مستقل دعا کی کونسلنگ کر رہا ہے اور اسے پش اپ کر رہا ہے کہ گھبرانا نہیں، خود کو اکیلا نہ سمجھنا، میں ہوں تمہارے ساتھ۔ اور وہ کم از کم دعا کا کم عمر شوہر نہیں ہو سکتا۔ کوئی میچور انسان ہی ہو سکتا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں پاکستان میں گزشتہ پانچ برس میں چالیس ہزار کے قریب خواتین اغوا کی جا چکی ہیں۔ صرف پنجاب میں تین برس کے دوران چھبیس ہزار کے قریب خواتین کو اغوا کیا جا چکا ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق پنجاب میں 2019 میں چھہ ہزار 571 مقدمات درج ہوئے، 2020 میں 8 ہزار 129 اور 2021 میں خواتین کے اغوا کے 10 ہزار 399 مقدمات درج ہوچکے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ 19 ہزار سے زائد اغوا کار قانون کے شکنجے میں آچکے ہیں۔
یہی نہیں صرف پنجاب میں ہی چار ہزار کے قریب مغوی لڑکیاں اور خواتین لاپتہ ہیں۔ یہ انکشاف سپریم کورٹ میں سرگودھا سے ثوبیہ بتول کے اغوا کے کیس کی سماعت کے دوران ہوا۔ پولیس کی رپورٹ کے مطابق 2017 سے 2022 کے درمیان پنجاب کے تمام 36 اضلاع سے 10 ہزار 585 خواتین کو اغوا کیا گیا ہے۔ اور پولیس ریکارڈ میں یہ خواتین اب تک ”ناٹ ریکوورڈ“ ہیں۔
ثوبیہ بتول کو بھی اب تک بازیاب نہیں کرایا جا سکا لیکن ڈی پی او سرگودھا کے مطابق سرگودھا سے ہی ایک سو اکیاون مغوی لڑکیاں بازیاب ہو چکی ہیں۔ جی ہاں آپ نے ٹھیک پڑھا۔ 151 لڑکیاں۔ ڈی پی او سرگودھا کے مطابق ان لڑکیوں کو جنسی جرائم کے لئے اغوا کیا گیا تھا۔ اس دوران بیس نامعلوم خواتین کی لاشیں بھی مل چکی ہیں۔
اب اگر سندھ کا ذکر کریں تو یہاں بھی ہندو لڑکیوں کے اغوا کی خبریں عام ہیں، ان ہندو لڑکیوں کو اغوا کیا جاتا ہے، زبردستی مسلمان کیا جاتا ہے اور پھر شادی کرا دی جاتی ہے۔ سر پر دوپٹہ اوڑھے لڑکی کا بیان بھی سامنے آ جاتا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا اور شادی کی ہے۔ بالکل ویسے جیسے دعا زہرا کا بیان سامنے آیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم، ایچ آر سی پی سندھ کے نائب صدر اسد اقبال بٹ کے مطابق ’سندھ میں ہر سال ایک ہزار ہندو لڑکیوں کو اغوا کر کے، زبردستی اسلام قبول کرانے کے ایک ہزار کیسز رپورٹ ہوتے ہیں‘ ۔
دعا زہرا کا معاملہ بادی النظر میں گھر سے بھاگ کر پسند کی شادی کرنے کا نہیں لگتا۔ گمان ہے کہ اس واقعہ کے پیچھے چائلڈ ابیوزر ہوسکتے ہیں، ہیومن ٹریفکنگ ہو سکتی ہے یا خاص فرقے کی بچیوں کو ٹارگٹ کر کے دراصل سماج میں خوف کی فضا قائم کرنے کے علاوہ دیگر محرکات بھی ہوسکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ دعا کو کوسنے یا اس کے والدین کو لعن طعن کرنے کے بجائے قانونی ادارے متحرک ہوں۔ اور ”مسنگ“ خواتین کو ڈھونڈنے میں مدد کریں۔ ہو سکتا ہے کوئی ایسا گروپ سامنے آ جائے جیسا 2015 میں قصور میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا اسکینڈل سامنے آیا تھا۔
ان واقعات میں اہم نکتہ یہ ہے کہ ایک ہی علاقے اور ایک ہی فرقے کی بچیوں کی گمشدگی دکھائی جاتی ہے، جس میں متعلقہ پولیس بچیوں کی بازیابی میں ناکام رہتی ہے پھر سوشل میڈیا کے دباؤ کے پیش نظر چند دنوں بعد ایک ہی دن میں نکاح کی دو ویڈیو کے ذریعے پولیس کو اطلاع دی جاتی ہے کہ بچیاں پنجاب میں ہیں، سوال یہ ہے کہ پولیس کی ناکامی تو سوالیہ نشان ہے ہی مگر وہ کون سی طاقتور مافیا ہے جو ویڈیو ریلیز بھی کر رہی ہے اور پولیس و رپورٹر تک پہنچا بھی رہی ہے مگر پولیس اصل چہروں یا منصوبہ بندوں تک پہنچنے سے اب تک قاصر ہے یا وہ کون سی طاقت ہے جو کراچی پولیس کو ان بچیوں تک تاحال پہنچنے سے روک رہی ہے
کیا کہیں یہ دوبارہ سے سماج کو تنگ نظر دہشت گرد نکتہ نظر کی جانب لے جانے کا پیغام یا کراچی کے سماج میں بطور خاص بچیوں کو غیر محفوظ ہونے کا اشارہ تو نہیں دیا جا رہا۔ یہی وہ خدشات و امکانات ہیں جن کی تفتیش متعلقہ اداروں کا اہم فریضہ ہیں، وگرنہ مستقبل کے سماج کو خوف و بربریت سے روکنا مشکل ہو جائے گا، یہی آج کے والدین کا تشویش آمیز سوال ہے۔

