ولایت

پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک لڑکی نے اپنی ماں سے کہا کہ ماں کل ہمارے گھر میں ایک فرد کم ہو گا۔ جب صبح اٹھے تو لڑکی کے والد نے شور مچا دیا کہ ہماری بیٹی غائب ہو گئی ہے، تو اس کی ماں بولی زمانہ جو بھی کہے۔
ہے وقت دی ولی سی۔ اس نے رات کو ہی بتا دیا تھا کہ صبح گھر میں ایک شخص کم ہو گا۔ ابھی ہمارے حکمران بھی ولایت کے درجے پر فائز ہوچکے ہیں۔ ہر آنے والے واقعے کی پہلے ہی پیشن گوئی کر دیتے ہیں۔ کہیں کوئی کہتا ہے کہ جب یہ ملک سے باہر جائیں گے تو ہر طرف سے چور چور کی آوازیں آئیں گی۔ رب کی شان دیکھیں پیشن گوئی صحیح ثابت ہوئی۔ اب وہی شیخ المرشد فرماتے ہیں کہ مجھے مار دیا جائے گا تو سوچتا ہوں اگر یہ بھی سچ ثابت ہوئی تو دربار شریف کہاں بنایا جائے۔ ان کے مرشد کہتے ہیں کہ اب یہ میری کردار کشی کریں گے۔ اگر ایسا ہو گیا تو یہ پہلے مرشد میاں بیوی ہوں گے جن کے پاس ولایت کی خاصیت ہوگی۔
اللہ تعالی سب کی عزتیں اور شرمیں محفوظ رکھیں آمین۔ مرشد جب کیا ہی کچھ نہیں تو ڈر کیسا۔ آپ کیوں فکر کرتے ہیں۔ لیکن مرشد کے چیلے کافی سادے ہیں جو مرشد کو ولایت کی سند دینے پر تلے ہوئے ہیں کہ مجھے ویڈیوز بھیجی گئی ہیں۔ اور کچھ چاہنے والے تو اپنی شکل کو ویڈیوز کے ساتھ مکس کر کے شیئر کر رہے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی استعمال ہوگی۔ درخواست یہ ہے کہ جب کچھ غلط کیا ہی نہیں تو صفائیاں کس بات کی اور ڈر کیسا۔
میں تو سوشل میڈیا پروپگنڈہ پر بالکل بھی یقین نہیں رکھتا۔ نہ ہی کسی کو سیاستدان کو چور سمجھتا ہوں اور نہ ہی کسی کو صادق اور آمین۔ مجھے کسی بھی سیاسی پارٹی کی طرف سے مکہ اور مدینہ میں شور شرابا پسند نہیں۔
مجھے یاد ہے جب عمرے کے لئے خانہ کعبہ پہنچے دوران طواف کچھ لوگ بلند آواز سے دعائیں پڑھتے ہیں خاص طور ایرانی اور افریقی زائرین تو مجھ جیسے ناقص علم انسان کو اپنی دعائیں بھول جاتیں ہیں۔ حالانکہ وہ بھی وہی دعائیں پڑھتے ہیں جو کہ میں پڑھتا تھا۔ تو مجھے کوفت ہوتی تھی۔ وہ اصل میں بلند آواز میں پڑھتے تھے کہ ان کا گروپ بھی ساتھ ساتھ پڑھ سکیں نیت بھی نیکی کی تھی پر میرے جیسے کئی اس بلند آواز رہبر کی وجہ سے دعائیں بھول جاتے تھے۔ مجھے کسی بھی پارٹی پر اعتراض نہیں ہے۔
یہ ہر ایک کا انفرادی عمل ہے کیونکہ سب نے اپنی اپنی قبر میں جانا ہے۔ اور اپنا اپنا حساب دینا ہے۔ مدینہ منورہ شہر نبی کریم ﷺ ہے اس کا احترام سب مسلمانوں پر واجب ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ یہ کیا بحث ہے کہ یہ مسجد نبوی ﷺ کے اندر واقعہ ہوا ہے یا باہر۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اور اگر پہلے یہ واقعہ مکہ مکرمہ میں ہوا تھا تو وہ بھی قابل مذمت ہے۔ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بطور مسلمان ہمیں تمام سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر سوچنا ہو گا۔
سب سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کو مل بیٹھ کر اس پر کوئی مثبت لائحہ عمل طے کرنا چاہیے۔ ولایت کا دور شاید اب ختم ہوتا جا رہا ہے اس لیے جو غلط صحیح کیا ہے سب مان لیں اور توبہ کر لیں کہ دوبارہ نہیں کریں گے۔ اللہ معاف کرنے والا ہے۔ اپنے گناہوں کی صفائیاں دینے اور معافی مانگ لینے میں فرق ہے۔ بے شک اللہ تعالی سب سے بہتر جانتے ہیں۔
فوٹوگرافی میرا شوق بھی ہے اور پروفیشن بھی۔ ڈھرکی جانے کا اتفاق ہوا تو پتہ چلا کہ یہاں گیس کے بہت وسیع ذخائر ہیں پر وہ صرف کھاد کی پروڈکشن میں استعمال ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کا بی ٹی یو 650 ہے اس گیس کو آگ نہیں لگتی اور جو گھریلو یا انڈسٹری کے استعمال کی گیس ہے اس کا بی ٹی یو 950 سے 1350 تک ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے سی این جی استعمال کرنے والے شکایت کرتے ہیں کہ مختلف شہروں کی گیس کی مختلف ایوریج ہے۔ جیسا کہ فیصل آباد کی گیس گاڑی کم چلاتی ہے اور گوجر خان سے ایبٹ آباد کی گیس اسی سلنڈر کے ساتھ زیادہ کلومیٹر چلتی ہے۔ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ کھاد سیکٹر سے گیس لے کر دوسرے شعبوں میں استعمال کی جائے گی یہ شاید ممکن نہ ہو۔ اگر آپ تسلی کرنا چائیں تو آپ کو ڈھرکی میں ہی بند سی این جی پمپ نظر آ جائے گا جس نے سیاسی اثر و رسوخ استعمال کر کے کھاد فیکٹری کو جانے والی لائن پر پمپ منظور کروا لیا تھا۔ پر وہ کامیاب نہیں ہوسکا کیونکہ اس گیس کا شعلہ نہیں بنتا۔ بہت سارے جغادری روزانہ پریس کانفرنسز میں بیٹھ کر ہمیں سمجھاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ولایت سے آئے ہوئے لوگوں کے پاس بھی ولایت ہوتی ہے۔
مجھے یاد ہے 1985 میں، میں اور بھائی وی سی آر پر امیتابھ بچن صاحب کی فلم دیکھ رہے تھے۔ کہ باہر بیل ہوئی تو قطر سے مہمان تھے۔ ہم نے وی سی آر بند کیا اور ان کی خدمت تواضع میں لگ گئے۔
جب وہ کھانا کھا چکے تو ہمیں بتانے لگے وی سی آر۔ آ گئے ہیں اب سینما نہیں جانا پڑتا بس ٹی وی سے لگائیں اور فلم دیکھیں۔ مجھے شرارت سوجھی بھائی جان یہ کس طرح کا ہوتا ہے۔ یار بس تم نے کبھی کرین دیکھی ہے جی بھائی جان۔ بس ایک ڈبہ ہوتا ہے اس کا بٹن دباؤ تو کرین کی طرح کیسٹ باہر آجاتی ہے۔ پھر بٹن دباؤ تو کیسٹ واپس چلی جاتی ہے۔ اور بٹن دباؤ تو فلم چل پڑتی ہے۔ اور مزے دار بات یہ ہے کہ بٹن بھی ٹچ سسٹم ہوتے ہیں۔ بڑا بھائی بولا اس کا کیا مطلب ہوا تو انھوں نے بتایا بس ہلکا سا دباؤ تو فلم چل پڑتی ہے۔ پر بھائی جان اس طرح تو بٹن پر مکھی بیٹھنے سے فلم بند ہوجاتی ہوگی۔ نہیں او یار، تم کبھی ولایت جاؤ تو پتہ چلے دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔
مہمان نے پوچھا آپ کی گرمیوں کی چھٹیوں میں کیا مصروفیات ہیں؟ بھائی بولا بس پڑھائی کر لیتے ہیں اور فلمیں دیکھ لیتے ہیں۔ کون کون سی دیکھی ہیں؟ شعلے، ستے پہ ستا، قلی وغیرہ۔ اچھا یہاں سینما میں انڈین فلمیں لگتی ہیں؟ نہیں بھائی ہمارے پاس اپنا وی سی آر ہے۔ اچھا پاکستان میں آ گئے ہیں؟ جی کافی عرصہ ہو گیا۔ پھر وہ ہمیشہ سیدھے اپنے گھر ہی گئے۔ اسی طرح روز کوئی نہ کوئی ولایت سے آتا ہے اور ہمیں سمجھانا شروع کر دیتا ہے۔
حیرانی اس بات کی ہے کہ ہم یہاں رہتے ہیں اور وہ پاکستان کو ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ اور بحث فرماتے ہیں کہ آپ کو نہیں پتہ۔ محترم ولایت والوں قبر کا حال جاننے کے لئے مر کر قبر کے اندر جانا پڑھتا ہے۔ اگر آپ واقعی پاکستان سے محبت کرتے ہیں تو یہاں تشریف لائیں ہم آپ کو وقت کا ولی مانیں گے۔ سمندر سے باہر بیٹھ کر سمندر کی گہرائی کا حساب مت لگائیں۔ شکریہ

