پاکستان کی عدالتوں میں ناصر کاظمی کا مقدمہ


سیٹلمنٹ کمشنر کی عدالت میں

اب ہم نے سیٹلمنٹ کمشنر محمد سعید الزمان کی عدالت میں اپیل کی جنہوں نے فروری 1965 میں فیصلہ ہمارے حق میں کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے فریقین کی موجودگی میں موقع کا معائنہ کیا۔ فائل کے مطابق علاقے کے اس وقت کے ڈپٹی سیٹلمنٹ کمشنر خان مقرب خان نے موقع کا معائنہ کرنے کے بعد پلاٹوں کو مکان کا حصہ قرار دیا لیکن ڈپٹی سیٹلمنٹ کمشنر چوہدری غلام رسول نے متعلقہ حکام کی منظوری کے بغیر خان مقرب خان کا حکم پلٹ دیا۔ چوہدری غلام رسول نے صورت حال کو واضح کرنے کی بجائے الجھن پیدا کی ہے اور فریقین کو غیر ضروری پریشانی اور اخراجات میں الجھایا۔ احاطے کی دیوار اور لیٹرین ظاہر اور ثابت کرتے ہیں کہ انہیں سابقہ مالک نے تعمیر کیا تھا۔ ان کا مٹیریل اسی قسم کا ہے جو گھر کا ہے اور آزادی سے قبل کا لگتا ہے۔ چنانچہ میں قرار دیتا ہوں کہ یہ پلاٹ مکان کا تکملی (integral) حصہ ہیں۔ ان پلاٹوں کی نیلامی صحیح نہیں تھی لہذا منسوخ کی جاتی ہے۔

ایک ماہ بعد سعید الزمان صاحب نے ایک نظرثانی شدہ حکم جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے پہلے حکم نامے میں غیر ارادی طور پر مکان کا پرانا نمبر (SW۔ III۔ 64۔ S۔ 30 ) درج کر دیا تھا جبکہ درحقیقت اس کا اصلی نمبر (SW۔ III۔ 105۔ S۔ 8 ) ہے۔ انہوں نے سیٹلمنٹ انسپکٹر حاجی طفیل کا بیان بھی ریکارڈ کیا جنہوں نے وضاحت کی تھی کہ یہ گھر یدھشٹر روڈ پر واقع ( 64۔ S) نہیں ہے بلکہ اس سے الگ ایک گلی میں ہے اور اس کا نمبر ( 105۔ S) ہے۔ اس بحث کا ماحصل یہ ہے کہ ناصر کاظمی وغیرہ کو جو پراپرٹی منتقل کی گئی ہے وہ (SW۔ III۔ 105۔ S۔ 8 ) ہے۔

صحن ہمارا

ہم نے صحن کا بھرپور استعمال کیا۔ اس میں انار، جامن، لیموں اور مٹھے کے درخت اور گلاب، موتیے، رات کی رانی اور سورج مکھی کے پودے لگائے۔ ہم یہاں کرکٹ کھیلتے اور پورا بیڈمنٹن کورٹ بنایا۔ بسنت کے دنوں میں مانجھا سوتتے۔ سردیوں میں دن کو دھوپ میں بیٹھتے اور گرمیوں میں رات کو پلنگ بچھا کے سوتے۔ پاپا شاموں اور چاندنی راتوں میں ٹہل ٹہل کے، گنگناتے ہوئے، غزلیں کہتے۔ چھ سال اسی طرح گزر گئے۔ ہم بھول ہی گئے کہ فریق مخالف نے سیٹلمنٹ کمشنر کا فیصلہ ہوتے ہی اس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی جو سماعت کے لیے منظور بھی کر لی گئی تھی۔

ہسپتال سے رہائی اور عدالت کا نوٹس

1971 کے آغاز ہی سے پاپا کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ مارچ میں انہیں ہسپتال داخل ہونا پڑا۔ طبیعت بہتر ہو جانے پر پاپا یکم جون کو ہسپتال سے ڈسچارج ہوئے، اس مشورے کے ساتھ کہ کچھ دن مکمل آرام اور سکون سے گزاریں اور ہو سکے تو کسی صحت افزا مقام پر۔ پاپا کو مری بے حد پسند تھا۔ پروگرام بنایا کہ سب گھر والے مری چلتے ہیں۔ لیکن یہ کیا؟ گھر پہنچے تو اگلے ہی روز ہائی کورٹ میں پیش ہونے کا سرخ نوٹس موصول ہوا۔

جسٹس ذکی الدین پال کی عدالت میں

جسٹس ذکی الدین پال کی عدالت میں پیشی ہوئی۔ ہمارے وکیل محمد اقبال چوہدری صاحب کی درخواست پر کہ ہمیں تیاری کے لیے کچھ مہلت درکار تھی، سماعت ملتوی کر دی گئی۔ اقبال صاحب نے مشورہ دیا کہ کسی سینئر وکیل کی خدمات حاصل کی جائیں جسے اعلی عدالتوں میں دیوانی مقدمات لڑنے کا بھرپور تجربہ ہو۔ ہم نے سعید اختر صاحب کو، جو رن کچھ کے مقدمے میں پاکستان کے وکیل تھے، وکیل کر لیا۔ اقبال صاحب ان کی معاونت پر مامور ہوئے۔ اپیل میں ہمارے علاوہ سیٹلمنٹ کمشنر کو بھی فریق بنایا گیا تھا، چنانچہ محکمہ بحالیات کی جانب سے مقبول الٰہی ملک ایڈوکیٹ کو وکیل نامزد کیا گیا۔

جسٹس سلیم مظہر کی عدالت میں

ایک ہفتے بعد اگلی پیشی جسٹس سلیم مظہر کی عدالت میں ہوئی۔ جسٹس پال کالج میں پاپا کے ہم جماعت رہے تھے۔ سننے میں آیا کہ انہوں نے مقدمہ سننے سے یہ کہہ کے معذرت کر لی تھی کہ وہ ایک پارٹی سے واقف تھے۔ مسلسل تین دن پیشیاں ہوئیں۔ فریق مخالف کے وکیل شیخ آفتاب حسین ہی بولتے رہے۔ ان کی گھن گرج سے ہمارے دل دہلے جاتے تھے۔ کمرۂ عدالت سے باہر آتے ہوئے پاپا نے شیخ آفتاب کا کندھا تھپکتے ہوئے انہیں اچھا مقدمہ پیش کرنے پر مبارک دی اور کہا: ”آپ جج بن جائیں گے۔“

جسٹس ایم ایس ایچ قریشی کی عدالت میں

پھر مقدمہ جسٹس ایم ایس ایچ قریشی کی عدالت میں منتقل ہو گیا۔ وہاں دو پیشیاں ہوئیں۔ زیادہ وقت شیخ آفتاب صاحب نے لیا۔ پاپا اپنے وکیل، سعید اختر صاحب، کے بارے میں مایوسی کا اظہار کرتے رہے۔ شام کو جب ان سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوتی تو وہ بہت تسلی دیتے اور کہتے کہ انہیں پتا ہے کہ انہیں کیا کہنا ہے۔ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں۔

محبوب خزاں کے دفتر میں۔ قمر جمیل کو فون۔ ناصر کی غزل

جسٹس قریشی کی عدالت میں تیس جون کی پیشی کے بعد پاپا مجھے لے کے قریب ہی واقع خزاں انکل کے دفتر گئے۔ وہ ان دنوں ڈائریکٹر آڈٹ واپڈا تھے۔ انہوں نے جم خانہ کلب سے کھانا منگوایا، پھر کراچی میں مقیم شاعر قمر جمیل صاحب سے فون ملایا۔ پاپا نے انہیں یہ کہتے ہوئے کہ ”آج ہی مکمل ہوئی ہے“ ، یہ غزل سنائی: غم ہے یا خوشی ہے تو /میری زندگی ہے تو۔ اس کے بعد انہوں نے صرف ایک غزل، چند اشعار اور ایک آزاد نظم کہی۔

مقدمے کا فیصلہ

آخری پیشی پر ہمارے وکیل سعید اختر صاحب نے بات کی۔ انہوں نے عدالت عالیہ کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے۔ گھر۔ کی تعریف (definition) بیان کی، پھر دستاویزات اور شواہد کی روشنی میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مذکورہ صحن ہمارے گھر کا حصہ تھا۔ پانچ دن بعد فیصلہ سنایا گیا جو ہمارے حق میں تھا۔ اس دن پاپا اور باجی (ہماری والدہ) کی شادی کی سالگرہ تھی۔ ہم نے دوہری خوشی منائی۔ کسی کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ پاپا یہ دن آخری بار منا رہے تھے۔

نیلامی میں پلاٹ کے خریداروں نے اپنی مشترکہ اپیل (petition) میں سیٹلمنٹ کمشنر کے حکم کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا تھا۔ فاضل جج نے یہ اپیل اس بنیاد پر مسترد کر دی کہ سیٹلمنٹ کمشنر یہ فیصلہ کرنے کا مجاز تھا کہ پلاٹ مکان کا حصہ تھے یا نہیں۔ اور چونکہ ان کا نتیجۂ تحقیق (finding) ان کے پیش نظر شہادت/ ثبوت (evidence) کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا لہذا اس کے دائرہ اختیار (writ jurisdiction) کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

شیخ آفتاب حسین اور ڈاکٹر جاوید اقبال کا جج بننا

چند روز بعد ایک دن صبح کو اخبار پڑھتے ہوئے پاپا نے تقریباً چیختے ہوئے کہا: ”یہ آفتاب تو واقعی جج بن گیا!“ تین ججوں کی تقرری کی خبر شائع ہوئی تھی جن میں ڈاکٹر جاوید اقبال بھی تھے۔ پھر پاپا نے ڈاکٹر جاوید اقبال سے اپنی دو ایک ملاقاتوں کا احوال بتایا۔

ڈویژن بینچ میں

ہائی کورٹ سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف راحت زیدی صاحب نے ہائی کورٹ ڈویژن بنچ میں اپیل دائر کی۔ اپیل دائر کرنے کی میعاد گزر جانے کے بعد انہیں بتایا گیا کہ چونکہ سنگل بنچ میں ان کے مقدمے میں دوسرے پلاٹ کے خریدار مشترکہ اپیل کنندہ تھے لہذا ڈویژن بنچ میں کی گئی اپیل میں ان کا شریک ہونا لازمی ہے، ورنہ یہ محض زائد المیعاد (time barred) ہونے کی بنا پر خارج ہو جائے گی۔ چنانچہ سردار محمد صاحب اور گلزار محمد صاحب (جن کا انتقال ہو چکا تھا) کے ورثا نے درخواست دائر کی کہ زیدی صاحب نے غلط فہمی اور غلط مفروضے کی بنا پر انہیں اپیل میں شامل نہیں کیا، لہذا انہیں مشترکہ اپیل کنندہ بنایا جائے۔ ڈویژن بنچ نے ان کی استدعا منظور کر لی۔ چند ماہ بعد پاپا کا انتقال ہو گیا۔

ایک شاعر وکیل، ریاض انور

پاپا کے انتقال پر ہم سے تعزیت کے لیے آنے والوں میں ان کے کئی ایسے دوست بھی تھے جن سے ہماری پہلے کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ ان میں سے ایک ریاض انور صاحب بھی تھے۔ ریاض صاحب ایک سینئر ایڈوکیٹ اور شاعر تھے۔ ان کا شعری مجموعہ ’آوازوں کا بھنور‘ شائع ہو چکا تھا۔ انہیں پاپا سے اتنی محبت تھی کہ انہوں نے اپنے بیٹے کا نام ناصر ریاض رکھا تھا۔ جب انہیں ہمارے مقدمے کا پتا چلا تو انہوں نے کہا کہ وہ خود لڑیں گے۔

لاء کالج میں داخلہ

گورنمنٹ کالج لاہور سے ایک ایم اے (انگریزی) کرنے کے بعد میں 1976 میں شعبۂ تدریس سے وابستہ ہو گیا۔ مختلف عدالتوں میں اپنے مقدمے کی کارروائی اور وکلا سے ملاقاتوں کے نتیجے میں میرے دل میں لیکچرر شپ چھوڑ کے وکالت کا پیشہ اختیار کرنے کی تحریک پیدا ہوئی۔ میں نے 1979 میں پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کے لا کالج میں ایف ای ایل میں شام کی کلاسوں کے لیے داخلہ لے لیا۔ پورا سال کلاسوں میں باقاعدہ حاضری دی، انہماک سے لیکچر سنے اور نوٹس لیے، تمام متعلقہ کتابیں خریدیں اور دلجمعی سے ان کا مطالعہ کیا۔ لیکن امتحانات کے قریب آتے آتے مجھے یہ احساس ہونے لگا کہ یہ پیشہ کل وقتی توجہ کا طالب ہو گا اور اس میں رہتے ہوئے مجھے اپنے لکھنے پڑھنے کے لیے فرصت نہیں ملے گی۔ میں نے فیس جمع کرائی لیکن امتحان نہیں دیا۔ اس سے پہلے میں نے اسی بنا پر سول سروسز کا امتحان دینے کا ارادہ ترک کیا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5