پاکستان کی عدالتوں میں ناصر کاظمی کا مقدمہ


سپریم کورٹ میں آخری پیشی

میں اور میری بیگم فرازہ ستمبر 1990 میں مزید تعلیم کے لیے برطانیہ آ گئے۔ سپریم کورٹ میں ہمارے مقدمے کی آخری پیشی سترہ مئی 1992 کو جسٹس نسیم حسن شاہ، جسٹس سعد سعود جان اور جسٹس رستم سدھوا پر مشتمل سہ رکنی بنچ کے روبرو ہوئی جس کی سربراہی جسٹس نسیم حسن شاہ کر رہے تھے۔ ملک مقبول الٰہی ملک ایڈوکیٹ کے ساتھ چچا عنصر اور حسن پیش ہوئے۔ جواب دہندگان کی جانب سے چوہدری خلیل الرحمٰن ایڈوکیٹ پیش ہوئے۔ بنچ نے اپنا فیصلہ اکثریتی رائے کی بنیاد پر ہمارے حق میں سنایا۔ جسٹس نسیم حسن شاہ اور جسٹس سعد سعود جان کا فیصلہ ہمارے حق میں تھا جبکہ جسٹس سدھوا نے اختلافی فیصلہ لکھا۔

جسٹس نسیم حسن شاہ اور جسٹس سعد سعود جان کا فیصلہ

جسٹس نسیم حسن شاہ اور جسٹس سعد سعود جان کے متفقہ فیصلے میں، جو جسٹس سعد سعود جان نے لکھا، کہا گیا کہ ”ڈویژن بنچ کے اس خیال کی حمایت کرنا مشکل ہے کہ فاضل سیٹلمنٹ کمشنر کا فیصلہ عدم شہادت کی بنیاد پر تھا۔ مسلمہ طور پر، پلاٹ نمبر 48 اور 49 پلاٹ نمبر 50 سے متصل تھے۔ اس بات پر کوئی تنازعہ نہیں کہ کم از کم پلاٹ نمبر 50 تو مکان میں شامل تھا۔ سیٹلمنٹ کمشنر کے سامنے سوال یہ تھا کہ آیا آزادی کے موقع پر پلاٹ نمبر 48 اور 49 مکان کی چاردیواری کے اندر تھے۔ اس سوال کا جواب دینے لیے جو شہادت درکار تھی اس میں موقع کا بہ نفس نفیس معائنہ شامل ہو سکتا تھا۔ فاضل سیٹلمنٹ کمشنر موقع پر گئے اور اپنے مشاہدات کی بنا پر اپنی رائے ریکارڈ کی۔ یہ بھی کہا جانا چاہیے کہ اس معاملے میں فاضل ڈویژن بنچ کے سامنے فاضل سیٹلمنٹ کمشنر کے فیصلے کی تردید کرنے والی کوئی ماہرانہ شہادت نہیں تھی۔

مذکورہ فیصلے کو معطل کرنے کے لیے فاضل ڈویژن بنچ نے لاہور میونسپل کارپوریشن کی 1946۔ 47 کی پی اے لسٹ (Provisional Assessment List) پر انحصار کیا ہے۔ مسدود حالات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ یہ لسٹ 1945۔ 46 میں تیار کی گئی تھی، یہ آزادی کے وقت کی تازہ ترین صورت حال نہیں دکھاتی تھی، جو بے شک مکان کی حدود کا تعین کرنے کے لیے متعلقہ تاریخ تھی۔ چنانچہ اس لسٹ میں مکان صرف ایک منزلہ دکھایا گیا ہے۔ مسلمہ طور پر مکان کی تین منزلیں ہیں۔ یہ سوال کسی نے نہیں اٹھایا کہ یہ دو منزلیں، جن کا پی اے لسٹ میں ذکر نہیں، آزادی کے بعد تعمیر کی گئی تھیں۔ لاہور امپروومنٹ ٹرسٹ کے مطابق پلاٹ نمبر 50 کا رقبہ 10 مرلے 188 مربع فٹ ہے۔ پی اے لسٹ میں مکان کا رقبہ 12 مرلے ہے۔ بادی النظر میں، 1945۔ 46 میں بھی ملحقہ پلاٹوں کا کچھ رقبہ مکان کی تعمیر میں استعمال کیا گیا تھا۔ بات جو بھی ہو، چونکہ 1945۔ 46 کی پی اے لسٹ آزادی کے وقت کی مکان کے رقبے کی تازہ ترین صورت حال نہیں دکھاتی تھی، ڈویژن بنچ حقیقت واقعہ کے سوال پر اسے سیٹلمنٹ کمشنر کے فیصلے میں مداخلت کے لیے استعمال نہیں کر سکتا تھا۔

سیٹلمنٹ کمشنر کے پاس آنے سے پہلے اس تنازعے پر فریقین کے مابین چار برس تک مقدمہ زیر سماعت رہا۔ مدعا علیہان (respondants) کا یہ دعوی نہیں ہے کہ سیٹلمنٹ کمشنر نے انہیں وہ تمام شواہد پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جو وہ پیش کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے یہ دعوی بھی نہیں کیا تھا کہ مزید کچھ شواہد تھے جو ڈویژن بنچ کے مقدمہ واپس (remand) کر دینے کے بعد مقدمے کی کارروائی میں جانچے جا سکتے تھے۔ ان حالات میں ہم مزید انکوائری کی افادیت دیکھنے سے قاصر ہیں جس کا مذکورہ آرڈر میں امکان دیکھا گیا ہے۔

مذکورہ بالا وجوہات کی بنا پر ہم یہ اپیل منظور کرتے ہیں، فاضل ڈویژن بنچ کا فیصلہ معطل کر کے اس کے جاری کردہ حکم نامے کو واپس لیتے ہیں۔ اخراجات کی بابت کوئی حکم جاری نہیں کیا جائے گا۔ ”

جسٹس سدھوا کا اختلافی فیصلہ
جسٹس سدھوا کے فیصلے کا متن درج ذیل ہے :

اس میں کوئی شک نہیں کہ پراپرٹی کا نمبر (SW۔ III۔ 64۔ S۔ 30 ) ہے۔ ایک مرحلے پر اپیل کنندگان نے اس نمبر کو (SW۔ III۔ 105۔ S۔ 8 ) سے گڈ مڈ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ آخر کار نادرست پایا گیا۔ مدعا علیہان کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات سے یہ واضح ہے کہ ٹاؤن پلانر، لاہور امپروومنٹ ٹرسٹ نے لالہ دیوی دیال چندھوک کی زمین سے متعلق ایک سکیم پاس کی تھی۔ اس میں پلاٹ نمبر 48 کا رقبہ 12 مرلے 148 مربع فٹ، پلاٹ نمبر 49 کا رقبہ 10 مرلے 52 مربع فٹ اور پلاٹ نمبر 50 کا 10 مرلے 188 مربع فٹ ہے۔ پلاٹ نمبر 48 اور 49 پلاٹ نمبر 50 سے متصل ہیں۔ 1945۔ 46 کی پی اے لسٹ پراپرٹی نمبر (SW۔ III۔ 64۔ S۔ 30 ) شری متی سوشیلا دیوی کے قبضے میں دکھاتی ہے۔ اس کا کل رقبہ 12 مرلے اور تعمیر شدہ 6 مرلے ہے۔ پراپرٹی نمبر (SW۔ III۔ 105۔ S۔ 8 ) کی فرشی منزل پر دو کمرے اور باورچی خانہ، پہلی منزل پر ایک ہال اور دوسری منزل پر برساتی ہے۔ مکان مصباح الحسن کے قبضے میں دکھایا گیا ہے۔ اس کا کل رقبہ ایک کنال اور تعمیر شدہ 8 مرلے ہے۔

ابتدا میں جب ڈپٹی سیٹلمنٹ کمشنر نے 17۔ 3۔ 1962 کو موقع دیکھا، بہت اغلب ہے کہ انہوں نے اصلی متنازع گھر دیکھا۔ لیکن انہیں بتایا گیا کہ یہ پراپرٹی نمبر (SW۔ III۔ 105۔ S۔ 8 ) ہے (پراپرٹی نمبر (SW۔ III۔ 64۔ S۔ 30 ) کی بجائے ) ۔ انہوں نے فوراً مکان نمبر 8 کی پی اے لسٹ دیکھی اور رقبہ 28 مرلے قرار دیا۔ درحقیقت اس پراپرٹی کا رقبہ 28 مرلے نہیں ہے، کیونکہ پی اے لسٹ میں اس کا کل رقبہ ایک کنال دکھایا گیا ہے۔ اصل میں انہیں پراپرٹی نمبر (SW۔ III۔ 64۔ S۔ 30 ) کی پی اے لسٹ دیکھنی چاہیے تھی جو اس کا رقبہ 12 مرلے دکھاتی۔ سیٹلمنٹ کمشنر کا 20۔ 2۔ 1965 کا آرڈر دکھاتا ہے کہ انہوں نے مقرب خان (ڈپٹی سیٹلمنٹ کمشنر) کے آرڈر کا سہارا لیا جو اصل میں نادرست تھا۔ انہوں نے 23۔ 1۔ 1965 کو موقع کا معائنہ بھی کیا۔ وہ ایک منظور شدہ سکیم میں دکھائے گئے دو پلاٹوں، نمبر 48 اور 49 کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ چنانچہ یہ پلاٹ الگ پلاٹ تھے۔ لیکن پھر وہ یہ کہتے ہیں کہ لیٹرین اور احاطے کی دیواریں ثابت کرتی ہیں کہ کہ مکان کے سابق مالک نے، جو مکان نمبر (SW۔ III۔ 64۔ S۔ 30 ) میں رہتا تھا، خود اپنا ذہن بدل لیا تھا اور ان دو پلاٹوں کو اپنے رہائشی گھر میں شامل کر لیا تھا۔ وہ یہ دیکھنے میں ناکام رہے کہ دو پلاٹوں، نمبر 48 اور 49 کا مالک دیوی دیال چندھوک تھا اور شری متی سوشیلا دیوی پلاٹ نمبر 50 کی مالک تھیں۔ شری متی سوشیلا دیوی کو زیادہ سے زیادہ 12 مرلے زمین کا ذمہ دار مانا سکتا تھا جو ان کا بنگلہ تھا ( 10 مرلے 188 مربع فٹ کی بجائے جیسا کہ ٹاؤن پلانر کی سکیم میں دکھایا گیا تھا) ۔ پلاٹ نمبر 48 اور 49 شری متی سوشیلا دیوی کے نہیں تھے اور فاضل سیٹلمنٹ کمشنر کی یہ رائے کہ مکان کے سابق مالک نے، جو مکان نمبر (SW۔ III۔ 64۔ S۔ 30 ) میں رہتا تھا، خود اپنا ذہن بدل لیا تھا اور ان دو پلاٹوں کو اپنے رہائشی گھر میں شامل کر لیا تھا، قبول نہیں کی جا سکتی۔

اپیل کنندگان، جو پراپرٹی نمبر (SW۔ III۔ 64۔ S۔ 30 ) میں رہائش پذیر ہیں، وہ شری متی سوشیلا دیوی کی تھی۔ وہ زیادہ سے زیادہ 12 مرلے کے حقدار ہیں۔ بقیہ زمین جو پلاٹ نمبر 48 اور 49 پر مشتمل ہے، دیوی دیال چندھوک کے الگ پلاٹ ہیں۔ یہ مدعا علیہان کو الاٹ ہوئے ہیں۔

اختلافی فیصلے سے اختلاف

مجھے فاضل جج کے اختلافی فیصلے سے اختلاف ہے، اس لیے نہیں کہ یہ ہمارے موقف کی تائید نہیں کرتا بلکہ اس لیے کہ اس میں ایک کلیدی دستاویز اور ایک بنیادی حقیقت (fact) نظرانداز ہو گیا ہے، اور اس میں ایک خود تردیدی (self contradiction) بھی ہے۔

فاضل جج نے کہا کہ ”اس میں کوئی شک نہیں کہ پراپرٹی کا نمبر (SW۔ III۔ 64۔ S۔ 30 ) ہے۔ ایک مرحلے پر اپیل کنندگان نے اس نمبر کو (SW۔ III۔ 105۔ S۔ 8 ) سے گڈ مڈ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ آخر کار نادرست پایا گیا۔“ بے شک 1945۔ 46 کی پی اے لسٹ میں پراپرٹی کا نمبر (SW۔ III۔ 64۔ S۔ 30 ) درج ہے اور سیٹلمنٹ کمشنر  نے اپنے 20۔ 2۔ 1965 کے آرڈر میں بھی یہی نمبر استعمال کیا ہے لیکن اس کے ایک ہی ماہ بعد ، 20۔ 3۔ 1965 کو، انہوں نے ایک نظرثانی شدہ حکم (جس کا میں حوالہ دے چکا ہوں ) جاری کیا جس میں انہوں نے نمبر کی تصحیح کر دی۔ فاضل جج نے اس حتمی آرڈر کو، جو مقدمے کی فائل میں موجود تھا، نظر انداز کیا۔ اس کے برعکس، فاضل جج صاحبان جسٹس نسیم حسن شاہ اور جسٹس سعد سعود جان نے اپنے فیصلے میں اس آرڈر کو پیش نظر رکھا۔

دوسری بات یہ کہ ہمیں پراپرٹی کا نمبر گڈ مڈ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ ہمیں تو اس بات سے سروکار تھا کہ ہمیں جو مکان منتقل کیا گیا تھا وہ ہمارا ہی سمجھا جائے، متعلقہ محکمہ بھلے اس کا جو بھی نمبر قرار دے۔ پراپرٹی کا نمبر بہت اہم ہوتا ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم بات اس کی تعریف (description) ہوتی ہے۔ فاضل جج نے لکھا کہ ”1945۔ 46 کی پی اے لسٹ پراپرٹی نمبر (SW۔ III۔ 64۔ S۔ 30 ) شری متی سوشیلا دیوی کے قبضے میں دکھاتی ہے۔ اس کا کل رقبہ 12 مرلے ہے اور تعمیر شدہ 6 مرلے۔ پراپرٹی نمبر (SW۔ III۔ 105۔ S۔ 8 ) کی فرشی منزل پر دو کمرے اور باورچی خانہ، پہلی منزل پر ایک ہال اور دوسری منزل پر برساتی ہے۔ مکان مصباح الحسن کے قبضے میں دکھایا گیا ہے۔ اس کا کل رقبہ ایک کنال اور تعمیر شدہ 8 مرلے ہے۔“ آگے چل کر وہ لکھتے ہیں کہ ”اپیل کنندگان، جو پراپرٹی نمبر (SW۔ III۔ 64۔ S۔ 30 ) میں رہائش پذیر ہیں، وہ شری متی سوشیلا دیوی کی تھی۔ وہ زیادہ سے زیادہ 12 مرلے کے حقدار ہیں۔“ امر واقعہ یہ ہے کہ ہم جس مکان میں منتقل ہوئے، اور جس میں آج بھی مقیم ہیں، وہ پراپرٹی نمبر (SW۔ III۔ 105۔ S۔ 8 ) کی تعریف (description) پر پوری اترتا ہے۔ جیسا کہ میں نے آغاز میں بیان کیا کہ جب مارچ 1957 میں ہم اس مکان میں منتقل ہوئے تھے، ابتدا میں ہمیں صرف ایک کمرہ ملا تھا، فرشی منزل کا باقی کا تمام حصہ کسی اور صاحب کے پاس تھا، پہلی منزل میں ایک خاندان اور دوسری میں کوئی اور خاندان رہائش پذیر تھا۔ پاپا نے اپنی ڈائری میں درج کیا: ”بالآخر اس کے نچلے حصے کا قبضہ ملا۔ پہلے اس گھر کی بالائی منزل پر ملک بشیر اور ملک فضل رحیم رہتے تھے اور نچلے حصے میں سید مصباح الحسن قیام پذیر تھے۔ وہ اے جی آفس میں سپرنٹنڈنٹ تھے۔ یہ مکان انہوں نے مجھے دیا۔“ مکان کا بجلی کا میٹر مصباح الحسن کے نام تھا اور آج بھی ہے۔ ہم گزشتہ پینسٹھ برس سے اسی نام سے یہ بل وصول اور ادا کر رہے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5