پاکستان کی عدالتوں میں ناصر کاظمی کا مقدمہ


فاضل جج کے مطابق ”پلاٹ نمبر 48 اور 49 پلاٹ نمبر 50 سے متصل ہیں۔ شری متی سوشیلا دیوی پلاٹ نمبر 50 کی مالک تھیں۔ اپیل کنندگان، جو پراپرٹی نمبر (SW۔ III۔ 64۔ S۔ 30 ) میں رہائش پذیر ہیں، وہ شری متی سوشیلا دیوی کی تھی۔ اس کا کل رقبہ 12 مرلے اور تعمیر شدہ 6 مرلے ہے۔ بقیہ زمین جو پلاٹ نمبر 48 اور 49 پر مشتمل ہے، دیوی دیال چندھوک کے الگ پلاٹ ہیں۔ شری متی سوشیلا دیوی کو زیادہ سے زیادہ 12 مرلے زمین کا ذمہ دار مانا سکتا تھا جو ان کا بنگلہ تھا ( 10 مرلے 188 مربع فٹ کی بجائے جیسا کہ ٹاؤن پلانر کی سکیم میں دکھایا گیا تھا) ۔“

اب یہ بات تو تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ہمیں جو مکان الاٹ ہوا وہ پلاٹ نمبر 50 پر ہے جس کا رقبہ 10 مرلے 188 مربع فٹ ہے۔ فاضل جج کے مطابق پلاٹ نمبر 50 کی مالک سوشیلا دیوی تھیں۔ لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سوشیلا دیوی کی پراپرٹی کا رقبہ 12 مرلے ہے۔ انہیں کے مطابق پراپرٹی، نمبر (SW۔ III۔ 105۔ S۔ 8 ) مصباح الحسن کے قبضے میں تھی اور اس کا کل رقبہ ایک کنال اور تعمیر شدہ 8 مرلے ہے۔ مکان کی فرشی منزل پر دو کمرے اور باورچی خانہ، پہلی منزل پر ایک ہال اور دوسری منزل پر برساتی ہے (یہ ہمیں منتقل کیے گئے مکان کی تعریف اور سابقہ ملکیت ہے ) ۔ گویا فاضل جج دو مختلف پراپرٹیوں لیکن ایک پلاٹ کی بات کر رہے ہیں۔ اب ایک ہی پلاٹ پر دو مختلف پراپرٹیاں کیسے ہو سکتی ہیں؟ دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فاضل جج ہمیں 12 مرلے کا حقدار قرار دے رہے ہیں جبکہ پلاٹ نمبر 50 کا رقبہ 10 مرلے 188 مربع فٹ ہے۔ کیا بقیہ 2 مرلے ہمیں ملحقہ گلیوں میں سے ملتے؟ ان سوالوں کے جواب فاضل سیٹلمنٹ کمشنر کے 20۔ 3۔ 1965 کو صادر کیے گئے حتمی آرڈر میں، جو فاضل جج نے نظر انداز کیا اور دیگر دو جج صاحبان نے تسلیم کیا، وضاحت کے ساتھ ملتا ہے۔

12 مرلے کا گھر (SW۔ III۔ 64۔ S۔ 30 ) یدھشٹر روڈ (موجودہ عمر روڈ) پر ہے جس کے بالمقابل اب پولیس سٹیشن منتقل ہو گیا ہے۔ ہمارا گھر یدھشٹر روڈ سے ملحق ایک کشادہ گلی، حکیم سٹریٹ پر ہے۔ ہمارا پتہ برس ہا برس سے 8 حکیم سٹریٹ اسلام پورہ (سابقہ کرشن نگر) لاہور ہے۔ اس کی دوسری منزل کی چھت پر پاپا اور چچا نے اپنے کبوتروں کی کا بکیں بنوائی تھیں اور میں، حسن اور چچا پتنگ بازی کرتے۔ بسنت کا دن بہت اہتمام سے منایا جاتا اور ہمارے دوست دور دور سے آتے۔ علاقے کے مکینوں نے برسوں اس چھت سے کبوتر اور پتنگ اڑتے دیکھے۔ پاپا کی وفات کے بعد ان کبوتروں کی دیکھ بھال چچا کرتے رہے اور ان کے بعد ان کے بیٹے رضا تنصیر نے آج تک جاری رکھی ہے۔

ناصر کاظمی کی پچیسویں برسی

برطانیہ میں یہ میرا ساتواں سال تھا۔ شاعر سائمن فلیچر اور دیبجانی چیٹرجی سے دوستی ہو چکی تھی۔ ہم نے ایک گروپ، ’منی مشاعرہ‘ (Mini Mushaira) بنا لیا تھا جس کا ایک مقصد ادب کے ذریعے مختلف کمیونیٹیوں کو قریب لانا تھا۔ ہم شہر شہر ورکشاپس کرتے اور شاعری سناتے۔ اسی سال آرٹس کونسل نے مجھے اور سائمن کو پاکستان جانے کے لیے گرانٹ منظور کی۔ اتفاق سے یہ دورہ مارچ 1997 میں ہونا قرار پایا۔ سائمن نے ہمارے ہاں قیام کیا۔ اس نے چھت سے شہر کا نظارہ کیا اور ایک خوبصورت نظم ”پتنگیں“ (Kites) لکھی۔ اسی مہینے پاپا کی پچیسویں برسی کی تقریب آرٹس کونسل لاہور میں رکھی گئی تھی۔ ایک دن پہلے میں نے سائمن سے کہا کہ آیا وہ اس موقع پر کچھ کہنا چاہے گا۔ سائمن سوچ میں پڑ گیا۔ اگلی صبح اس نے غزل کی ہیئت میں کہی گئی ایک مختصر سی نظم دکھاتے ہوئے کہا کہ اگر مناسب ہو تو وہ یہ پڑھ سکتا ہے۔ مجھے نظم اچھی لگی۔ اس میں کبوتروں کا بھی ذکر تھا لیکن اس نے ان کے لیے pigeons کی بجائے doves کا لفظ استعمال کیا اور کہا کہ انگریزی شاعری کے قارئین گھر میں اس طرح pigeons رکھنے کے تصور سے پوری طرح آشنا نہیں ہیں۔ تقریب کی صدارت جناب احمد ندیم قاسمی نے کی اور مہمانان خصوصی انتظار حسین اور شہرت بخاری تھے۔ سائمن کی نظم بہت پسند کی گئی۔

A Prayer for the well-being of Nasir Kazmi ’s House
”The man who plants trees does
not always live to enjoy the fruit. ”
Let white doves continue to crowd
the roof of Nasir Kazmi ’s house.
May the kites, saffron, peacock-blue,
play above Nasir Kazmi ’s house.
Let crimson roses, bushes, trees,
thrive around Nasir Kazmi ’s house.
May the sun shine, rains in season
fall down on Nasir Kazmi ’s house.
Let the family, gentle, learned,
live long in Nasir Kazmi ’s house.
میں نے اس کا ترجمہ کچھ یوں کیا تھا:
ناصر کاظمی کے گھر کے لئے ایک دعا
’پیڑ لگانے والا شخص
بیشتر اوقات اس کا پھل کھانے کے لیے زندہ نہیں رہتا ’
سفید کبوتر اسی طرح جمع رہیں
چھت پر ناصر کاظمی کے گھر
پتنگ، زعفرانی، چمک دار نیلے
اڑتے رہیں اوپر ناصر کاظمی کے گھر
ارغوانی گلاب، پودے، درخت
پھلیں پھولیں ناصر کاظمی کے گھر
دھوپ، بارشیں، اپنے موسم میں
برستی رہیں ناصر کاظمی کے گھر
اہل خانہ، حلیم، عالم
لمبی عمر پائیں ناصر کاظمی کے گھر

(زیر تصنیف کتاب، ”ایک شاعر کی سیاسی یادیں“ ، سے اقتباس)

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5