پاکستان کی عدالتوں میں ناصر کاظمی کا مقدمہ


جسٹس عبدالشکور سلام اور جسٹس محمد اسلم میاں کی عدالت میں

سنگل بنچ ہائی کورٹ کے فیصلے کے ساڑھے گیارہ برس بعد ڈویژن بنچ میں پیشی کی نوبت آئی۔ 1984 کے آغاز میں دو ماہ میں پانچ پیشیاں ہوئیں۔ فاضل جج صاحبان جسٹس عبدالشکور سلام اور جسٹس محمد اسلم میاں تھے۔ ہر پیشی سے پہلے ہمارے وکیل ریاض انور صاحب مجھے ریگل چوک میں واقع اپنے دفتر بلا لیتے اور ہم کیس کو تازہ کر لیتے۔ ہم جب تیسری پیشی کے لیے پہنچے تو دیکھا کہ فریق مخالف کی طرف سے ایک نئے وکیل چوہدری محمد عارف پیش ہوئے۔ اگلے روز میں نے ریاض انور صاحب کو، جو اب تک بہت پر اعتماد تھے، بوجوہ تشویش میں مبتلا دیکھا۔

ڈویژن بنچ کے فیصلے میں، جو جسٹس اسلم میاں نے لکھا، کہا گیا کہ سیٹلمنٹ کمشنر کے سامنے اس بات کی کوئی شہادت نہیں تھی کہ پلاٹ مکان کا حصہ تھے اور اس معاملے میں فریقین کے مابین تنازعہ ایک تفصیلی تحقیق کا متقاضی تھا، جو پہلے نہیں کی گئی تھی۔ ڈویژن بنچ نے اپیل کنندگان کی درخواست منظور کرتے ہوئے سنگل بنچ کا فیصلہ معطل کر دیا اور معاملہ متعلقہ افسر کو واپس بھیج دیا کہ وہ فریقین کو مطلع کر کے، تفصیلی تحقیق کے بعد ازسر نو فیصلہ کریں۔

سپریم کورٹ میں ہمارے وکیل، ایڈوکیٹ جنرل مقبول الٰہی ملک

ڈویژن بنچ کے فیصلے کے بعد ریاض انور صاحب نے تجویز دی کہ ہمیں سیٹلمنٹ کے معاملات میں زیادہ تجربہ رکھنے والے کسی وکیل کی خدمات حاصل کرنی چاہئیں۔ ہائی کورٹ میں مقدمے کی سماعت میں محکمہ بحالیات کی جانب سے مقبول الٰہی ملک ایڈوکیٹ وکیل پیش ہوئے تھے۔ ریاض صاحب کے مشورے پر ہم نے اپنا مقدمہ ملک صاحب کے سپرد کر دیا۔ وہ اس وقت ایڈوکیٹ جنرل پنجاب بھی تھے۔ ملک صاحب نے ہمارا وکیل بننا منظور کرنے سے پہلے یہ تصدیق بھی کر لی کہ ایڈوکیٹ جنرل پرائیویٹ مقدمات بھی لڑ سکتا تھا۔

جسٹس نسیم حسن شاہ کی عدالت میں

سپریم کورٹ میں ہماری پہلی پیشی جسٹس نسیم حسن شاہ کے سنگل بنچ کے سامنے ہوئی۔ اس میں یہ فیصلہ ہونا تھا کہ آیا یہ مقدمہ اس مرحلے پر سپریم کورٹ میں قابل سماعت تھا یا نہیں۔ کارروائی، ظاہر ہے کہ انگریزی میں ہوئی۔ ملک صاحب نے اپیل کا آغاز کرتے ہوئے کہا:

”مائی لارڈ، ناصر کاظمی اور ان کے بھائی عنصر رضا کاظمی کو ایک مکان الاٹ ہوا تھا۔“
”ناصر کاظمی شاعر؟“ (Nasir Kazmi the poet؟ ) فاضل جج نے استفسار کیا۔
”یس مائی لارڈ۔“ ملک صاحب نے جواب دیا اور پھر تفصیل سے ہمارا مقدمہ پیش کیا۔
فاضل جج نے یہ کہتے ہوئے ہماری اپیل سماعت کے لیے منظور کرلی:

” معزز عدالت عالیہ کے ایک بنچ نے ایک فریق کے موقف کی حمایت کی ہے اور دوسرے بنچ نے دوسرے فریق کے موقف کی؛ ہم یہ مقدمہ سننا چاہیں گے۔“

مقدمے کی تیاری

ملک صاحب کا گھر نہر کے کنارے، نیو مسلم ٹاؤن میں تھا۔ ریاض انور صاحب کی طرح ملک صاحب بھی پیشی سے ایک دن پہلے مجھے بلاتے۔ ایک پیشی سے پہلے انہوں نے کہا:

”میرے پاس تو بیک وقت کئی کیس ہوتے ہیں، آپ کو صرف ایک کیس کے بارے میں سوچنا ہوتا ہے، لہذا آپ کو اس کیس کی تفصیلات ازبر ہوں گی۔ ایسا کرتے ہیں کہ میں جج صاحبان کی جگہ لیتا ہوں اور آپ میری جگہ لیں۔“

پھر انہوں نے ہماری اپیل پراس طرح جرح کرنی شروع کی جیسے مخالف وکیل کرتا۔ میرے علم میں جو حقائق تھے، میں ان کی مدد سے سوالوں کے جواب دیتا گیا اور جو دستاویزات دستیاب تھیں، ان میں سے متعلقہ دستاویز پیش کرتا رہا۔ جب ہم مقدمے کی اچھی طرح چھان پھٹک کر چکے تو ملک صاحب نے مطمئن ہوتے ہوئے کہا:

”اب ہم اپنی اپنی جگہ آ جاتے ہیں۔ آپ میرے موکل اور میں آپ کا وکیل۔“
اس کے بعد انہوں نے میرے بعض جوابات کی اصلاح کی اور مقدمے کے قانونی پہلوؤں پر نہایت عمدہ گفتگو کی۔

میں نے ان ملاقاتوں میں بہت کچھ سیکھا، خاص طور پر اپنے موقف کو صراحت کے ساتھ موثر انداز میں پیش کرنا۔ ملک صاحب کی بہت سی باتیں مجھے آج بھی یاد ہیں۔ ایک بار کہا کہ اپنی دستاویزات تین حصوں میں رکھنی چاہئیں۔ ایک حصے میں وہ جن پر ہمارے مقدمے کی بنیاد ہو اور جو ہرحال میں عدالت کے سامنے پیش کرنی ہوں، دوسرے حصے میں وہ جو صرف اس صورت میں پیش کرنی چاہئیں جب ان کا تقاضا کیا جائے اور تیسرے حصے میں وہ دستاویزات جو دکھانی نہیں ہوتیں لیکن آپ کے پاس ہونی چاہئیں تاکہ آپ ان سے غافل نہ ہو جائیں۔

چیف جسٹس محمد حلیم کی عدالت میں پیشی اور اندرا گاندھی کا قتل

سپریم کورٹ میں ہر پیشی پر کسی نئے بینچ کا سامنا ہوتا۔ ایک بار ہم جسٹس جاوید اقبال کے سامنے بھی پیش ہوئے۔ چیف جسٹس حلیم صاحب کی شہرت ایک اچھے اور معتبر لیکن سخت جج کی تھی۔ بعض وکلا ان کی عدالت میں پیش ہونے سے گھبراتے تھے۔ ان کے بنچ کے سامنے ایک پیشی ہماری بھی ہوئی۔ ہم سے پہلے پروفیسر مرزا محمد منور کے سرگودھا کے مکان کا مقدمہ سنا جا رہا تھا۔ بدقسمتی سے فیصلہ ان کے خلاف ہو گیا۔ ہم بھی ڈر گئے۔ ہمارے نام پکارے گئے۔ ہم نے جگر تھام لیے۔ اچانک جسٹس صاحب کے چیمبر سے ایک شخص نمودار ہوا۔ اس نے حلیم صاحب کے قریب جا کے ان سے کچھ کہا۔ انہوں نے اپنے دائیں بائیں بیٹھے ہوئے جج صاحبان کو کچھ بتایا اور کھڑے ہو گئے۔ عدالت برخاست کر دی گئی۔ پتا چلا کہ ہندوستان کی وزیر اعظم اندرا گاندھی قتل کر دی گئی تھیں، جنرل ضیا ان کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے ہندوستان جا رہے تھے اور حلیم صاحب کو اسلام آباد جا کے قائم مقام صدر کی ذمہ داری سنبھالنی تھی۔

رانا مقبول، ایڈوکیٹ جنرل کے دفتر میں

ایڈوکیٹ جرنل مقبول الٰہی ملک صاحب کا دفتر ہائی کورٹ کے احاطے ہی میں تھا۔ ہم پیشی سے پہلے ان کے پاس چلے جاتے، پھر مقررہ وقت پر عدالت عظمیٰ میں۔ ایک دوپہر میں ان کے دفتر میں بیٹھا تھا کہ دیرینہ دوست، رانا مقبول احمد، جو اس وقت لاہور کے ایس ایس پی تھے، وردی میں ملبوس، کمرے میں داخل ہوئے۔ مجھے دیکھ کے قدرے حیران ہوئے۔ ملک صاحب نے میری عزت افزائی کرتے ہوئے ان سے کہا کہ باصر میرے موکل بھی ہیں اور دوست بھی۔ رانا صاحب گورنمنٹ کالج لاہور میں مجھ سے دو برس سینئر تھے۔ اپنی ملنسار اور شفیق طبیعت کے سبب احباب میں مقبول تھے۔ انہوں نے ایم اے انگریزی کرنے کے بعد سول سروسز کا امتحان دیا اور پولیس سروس اختیار کی۔ وہ انگریزی کا وسیع ذخیرۂ الفاظ رکھتے تھے۔ ان کے ہم جماعت اور ہمارے مشترکہ دوست محمد اشرف عظیم کا کہنا تھا کہ مقبول کے ملنے والوں کو اپنے ساتھ ایک پاکٹ ڈکشنری رکھنی چاہیے۔

آصف سعید کھوسہ کی وکالت

ایک دن ملک صاحب نے بتایا کہ ایک نوجوان وکیل بار ایٹ لا کر کے آیا ہے جو کیس تیار بھی بہت اچھا کرتا ہے اور اسے عدالت میں پیش بھی۔ نام پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آصف سعید کھوسہ۔ مجھے بہت خوشی ہوئی۔ کالج میں وہ مجھ سے ایک سال جونیئر تھا اور اس کا بڑا بھائی ناصر محمود کھوسہ میرا ہم جماعت تھا۔ پھر ایک دن سپریم کورٹ میں ہمارے کیس سے پہلے آصف کا کوئی مقدمہ تھا۔ اس نے مختصر سے وقت میں اپنا کیس بڑی عمدگی سے پیش کیا۔ ایک جگہ شیکسپئر کا حوالہ بھی دیا۔ اس کی درخواست سماعت کے لیے منظور ہو گئی۔ آصف کا دفتر ملک صاحب کے دفتر کے قریب ہی تھا۔ چند روز بعد میں عدالت سے گھر جاتے ہوئے وہاں رک گیا۔ وہ اسی محبت اور عزت سے ملا جیسے کالج کے زمانے میں ملتا تھا۔ میں نے اسے بتایا کہ اس کی شہرت اور پھر ایک مقدمہ سن کر مجھے کتنا اچھا لگا تھا اور اس یقین کا اظہار کیا کہ وہ اپنے شعبے میں بڑا نام پیدا کرے گا۔

جسٹس مجدد مرزا کی عدالت میں

ایک روز جس سہ رکنی بنچ کے سامنے پیشی تھی اس کی سربراہی جسٹس مجدد مرزا کر رہے تھے۔ دستاویزات کی فائل میرے پاس تھی۔ فاضل جج کسی دستاویز کا حوالہ دیتے تو ملک صاحب وہ مجھ سے طلب کرتے اور میں انہیں فائل سے نکال کے دے دیتا۔ ایک سوال کے جواب میں ملک صاحب کچھ سوچنے لگے۔ مجھے پتا نہیں کیا سوجھی کہ کھڑے ہو کر، مائی لارڈ کہہ کے، وضاحت کرنے کی کوشش کی۔ میں نے اس دن گہرے نیوی بلو رنگ کا کوٹ پہن رکھا تھا جو کمرے کی روشنی میں میں سیاہ لگ رہا تھا۔ فاضل جج نے ملک صاحب کو مخاطب کر کے کہا کہ اپنے کم عمر اسسٹنٹ سے کہیں کہ صبر سے کام  لے۔

”مائی لارڈ، یہ میرے اسسٹنٹ نہیں، موکل ہیں، اس لیے ذرا مضطرب ہیں،“ ملک صاحب نے کہا۔

میرے ساتھ بیٹھے ہوئے ایک سینئر ایڈوکیٹ نے میرا ہاتھ زور سے دباتے ہوئے مجھے بیٹھ جانے کی تلقین کی۔ جب میں بیٹھ گیا تو انہوں سرگوشی کرتے ہوئے کہا: ”او تہاڈے حق وچ جا رئے سی (وہ تمہارے حق میں جا رہے تھے ) ۔“

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4 5