غداری لوٹ کے گھر کو آتی ہے


غداری کے تمغے، اوہ سوری الزامات، کو باقاعدہ شناخت اور اہمیت آج سے ساٹھ برس قبل وطن عزیز کے پہلے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے سنہرے دور میں اس وقت ملی جب مادر ملت نے جنرل ایوب کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کی جرات کی۔ گو کہ وہ الیکشن بھی جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف ادوار کے ریفرنڈم کی طرح ایک ڈرامہ ہی تھا جو اکثر ڈکٹیٹرز کرتے ہیں۔ الیکشن جیسا بھی تھا غداری کا لقب مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح سے نسبت پا کر پاکستانی شہریوں کے لیے ارزاں ہو گیا۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا، غداری کی سزائیں تو امن پسند سیاسی رہنما پہلے بھی بھگت رہے تھے۔ باچا خان ایک روشن مثال ہیں۔

ہم اپنی نئی نسل کو تو یہ نہیں پڑھاتے کہ مجیب الرحمن بھی پاکستانی غدار تھے۔ انہیں غدار کہنے کے ضرورت بھی الیکشن کی وجہ سے ہی پڑی۔ سن 1970 کے الیکشن میں ان کی پارٹی عوامی لیگ نے الیکشن جیت لیا تھا۔ اسی جیت کے نتیجے میں تمام بنگالی غدار کہلائے۔ یعنی پاکستان کی آدھی سے زیادہ قوم غدار ہو گئی۔ نتیجہ واضح ہے۔ انہیں ہم نے پاکستان سے نکال دیا۔

پھر معلوم پڑا کہ وطن عزیز ابھی بھی غداروں سے خالی نہیں ہوا۔ مرد مومن مرد حق کے اسلامی دور میں ایم آر ڈی کی تحریک چلی تو غداری سندھی عوام تک پہنچی۔ جنرل ضیا الحق کے مرنے کے بعد جب سن 1988 والے الیکشن ہونے تھے تو پھر ایک غدار عورت کو روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ جنرل حمید گل نے کئی مرتبہ بڑے فخر سے ٹی وی پر بیٹھ کر قوم کو بتایا کہ انہوں نے آئی جے آئی بنائی تھی تاکہ بے نظیر بھاری اکثریت سے الیکشن نہ جیت جائے۔ جنرل صاحب کو ڈر تھا کہ اگر پیپلز پارٹی کی حکومت پر چیک نہ رکھا جاتا تو بے نظیر بھٹو پاکستان کو انڈیا کے ہاتھ بیچ دیتیں۔

نواز شریف جب تیسری مرتبہ وزیراعظم بنے تو وہ بھی غدار ہو چکے تھے۔ مودی کے یار تھے اس لیے مودی ان کے گھر بھی آیا تھا۔ غداری کا بہت گہرا ٹھپا لگا دیا گیا۔

نوے کی دہائی میں غداروں کی ایک نئی قسم دریافت ہوئی۔ یہ وہ لبرل لوگ ہیں جو دنیا میں ہیومن رائیٹس ڈیفینڈر کہلاتے ہیں۔ پاکستان میں زیادہ تر ایسے مردو خواتین این جی اوز اور صحافت میں پائے جاتے ہیں۔ بلاگرز / ولاگرز بھی اسی گروپ میں شامل ہیں۔ عاصمہ جہانگیر اور ملالہ بھی غدار پائی گئیں۔ یہ غدار عورتوں بچوں، ٹرانسجینڈرز اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا واویلا کرتے ہیں اور ملک کو بدنام کرتے ہیں۔ یہ لوگ مثبت خبریں نہیں دیتے۔

یہ جنگ کی بجائے پڑوسیوں کے ساتھ امن کی پالیسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ سیاسی مسائل کا سیاسی حل چاہتے ہیں۔ یہ اظہار رائے کی آزادی، شفافیت اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔ یہ سیکولر لبرل پاکستان چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں امریکی صدر جارج بش سینئر نے بھی کہا تھا کہ وہ امریکہ کے اتنے وفادار نہیں جتنے کہ باقی امریکی ہیں۔

پچھلے چالیس برسوں سے جاری دو افغان جنگوں میں پاکستان کا رول ولن کا تھا۔ دونوں مرتبہ فیصلے براہ راست دو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹرز نے کیے تھے۔ دونوں جنگیں امریکہ کی تھیں۔ امریکہ اور ہم مل کر پہلی جنگ میں افغانستان کا اسلامی تشخص بچا رہے تھے اور دوسری جنگ میں افغانستان کا اسلامی تشخص مٹا رہے تھے۔ ان جنگوں نے پاکستان پر بھی تباہ کن اثرات مرتب کیے۔ پاکستانی حکومت کے افغان جنگوں میں شامل ہونے کے خلاف اٹھنے والی آوازیں بھی غدار قرار پائیں۔

متاثرہ علاقہ جات جیسے کہ سوات اور قبائلی علاقے سے انصاف مانگنے والے بھی غدار ہی ہیں۔ پی ٹی ایم والے پرلے درجے کے غدار ہیں۔ منظور پشتین اور علی وزیر کو جیل میں رکھا جاتا ہے تاکہ پاکستان ان سے محفوظ رہے۔ بلوچوں کا تو ذکر ہی کیا۔ گراؤنڈ پر باقاعدہ شورش جاری ہے اور میڈیا پر مسنگ پرسن کا نام لینا بھی غداری ہے۔

صرف طالبان ہی ہیں جو ملک کے وفادار ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اپنے بچے ہیں۔ تھوڑے گمراہ ہو گئے ہیں۔ انہیں واپس لانا ہے۔ ان کو مین سٹریم کرنا ہے۔ ان کے بچوں کو پڑھانا ہے۔ احسان اللہ احسان قید میں بھی فیملی سمیت تھے اور پھر بڑی آسانی سے فیملی سمیت ہی بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔

غدار قرار دیے جانے والے افراد اور گروہوں کی لسٹ تیار کی جائے تو شاید ہی کوئی معتبر نام اس لسٹ سے باہر رہ جائے۔ غداری کا یہ الزام کہاں سے پھوٹتا تھا، ہم سب کو معلوم ہے۔ احتیاط کی غرض سے سب لوگ اسے اسٹیبلشمنٹ کے نام سے پکارتے ہیں۔ بھلا ہو کپتان کا، اس نے غداری کا رخ واپس اسٹیبلشمنٹ کی جانب موڑ دیا ہے۔ غداری کا الزام ان پر لگ رہا ہے جنہوں نے اسے گھڑا تھا۔ غداری لوٹ کے گھر کو آتی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 324 posts and counting.See all posts by salim-malik

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments