مذہبی ٹچ کا پچھتر سالہ سفر


قاسم سوری نے خان صاحب کو تقریر میں مذہبی ٹچ دینے کو کہا تو کیا غلط کہا۔ یہ وہ مال ہے جو 1947 سے اس ملک میں بکتا آیا اور نہ جانے کب تک بکتا رہے گا۔ ہاں جب تک اس مال کو باوضو خریدنے والے موجود ہیں، یہ بکے گا۔

پاکستان کی تقسیم سے پہلے ہی ترک خلافت کی جنگ ہندوستان میں لڑی جا رہی تھی۔ بولیں اماں محمد علی کی، جان بیٹا خلافت پہ دے دو قسم کی مذہبی ٹچ جو ترکی سے ہزاروں کوس دور ہندوستان میں سننے والوں کے دلوں کو گرما رہی تھی۔ ایسے ہی جیسے عمران خان صاحب کے مذہبی ٹچ نے دلوں کو گرمایا ہو گا۔ ادھر ایک ترک مصطفی کمال پاشا نے خود ہی اس خلافت سے جان چھڑوا لی تو دل مسلم کو گرمانے والے شاعر مشرق تڑپ اٹھے کہ ”چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا“ ۔

جناح صاحب ایک لبرل آدمی تھے، ہندو مسلم اتحاد کے داعی اور انگریس راہنما دادا بھائی نورو جی کے سیکرٹری۔ ان کی طرف بیسیوں فقرے اور باتیں منسوب ہیں جن سے مذہبی ٹچ کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ انہی فقروں نے ہمیں سیکڑوں سال اکٹھے رہنے والے ہندو اور سلمانوں کی عبادت گاہوں کا فرق، کھانے پینے کا فرق، رہن سہن، رسوم و رواج کا فرق اور دو علیحدہ قوموں کا احساس دلوایا۔ حالانکہ صدیوں سے اسی ہندوستان اور انہی ہندووں پر حکومت کرتے آئے اور ان کی بیٹیوں سے شادیاں کرتے آئے تھے۔ اب نہ جانے اکبر کا دین الہی مذہبی ٹچ تھا یا جناح صاحب کا دو قومی نظریہ۔ اس تقسیم کے بعد پھر قائد کی 11 اگست والی ایک تقریر جسے ہم ہاں نہیں کی پہیلیوں میں الجھاتے اور اپنی اپنی ضرورت اور خواہش کا مذہبی ٹچ دیتے ہیں۔ جناح صاحب کی مخالفت کرنے والوں کی اکثریت کو ان کے طرز سیاست سے کلام نہ تھا بلکہ ان کی مخالفت میں ”اک کافرہ کے واسطے اسلام کو چھوڑا اور کافر اعظم“ قسم کی مذہبی ٹچ تھی۔

علامہ اقبال اردو شاعری کا بہت بڑا نام، خوش قسمت جو زندگی ہی میں معروف و مشہور ہو گئے تھے۔ انگلستان اور جرمنی جیسے مغربی ممالک سے تعلیم حاصل کی، خوبرو اور ماڈرن چہروں سے عشق کیے ۔ مغربی تہذیب سے خوب فائدہ اٹھایا۔ لیکن جب مذہبی ٹچ کی باری آئی تو بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑائے، نیل کے ساحل سے تا بہ خاک کاشغر ایک ہی مسلم ہوئے اور جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی قسم کے سبق دیے۔ ساتھ ہی دوسروں کو تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی قسم کی چتاونی دیتے رہے۔

پھر 1956 میں کسی قاسم سوری نے اس وقت کے خان صاحب کے کان میں پھونکا کہ ملک کے نام کو بھی مذہبی ٹچ دیں اور ہم ریپبلک آف پاکستان سے براہ راست ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کے باشندے ہو گئے۔ اب 1947 سے 1956 تک وفات پا جانے والوں جن میں قائد اعظم اور قائد ملت ہی شامل تھے، نہ جانے کون سی جمہوریہ کے شہری رہے ہیں؟

ذوالفقار علی بھٹو، قائد اعظم کے بعد اس ملک کے لوگوں کے لئے واحد جمہوری راہنما جنہیں مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بھٹو بظاہر ایک روشن خیال راہنما، مغربی سکولوں کے تعلیم یافتہ، لباس اور ناؤ و نوش کے معاملے میں انتہائی لبرل۔ لیکن 1973 میں انہیں آئین کو تھوڑا اور مذہبی ٹچ دینے کا خیال آیا اور انہوں نے پیپلز پارٹی کو جتوانے میں اہم کردار ادا کرنے والی اپنی حلیف جماعت کے مذہب کا فیصلہ اسمبلی میں کر ڈالا اور انہیں آئینی اور سرکاری طور پر غیر مسلم قرار دے دیا۔ لیکن 1977 میں نظام مصطفی تحریک کا مذہبی ٹچ مولانا نورانی اور جماعت اسلامی اور دوسری جماعتوں نے بھٹو کے خلاف ہی استعمال کر دیا جس کے نتیجہ میں ضیا نامی عفریت ملک پر نازل ہوئی۔ بھٹو نے تحریک نظام مصطفی سے بچنے کے لئے اپنی سیاست کو بہت سے مذہبی ٹچ دیے لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔

ضیا الحق نے اپنے پورے دور میں بہت سے مذہبی ٹچ دیے، بلکہ اس قدر ٹچ ملک کے آئین، قانون سیاست اور اخلاقیات کو لگائے کہ ان ٹچوں سے ملک کا پور پور کالا ہو گیا۔ ملک میں قابلیت، اختیارات، تقرریوں، سزاؤں کے پیمانے مذہبی ٹچ سے مشروط تھے۔ یہاں تک کہ اپنے بدنام زمانہ ریفرنڈم تک کو مذہبی ٹچ دیا گیا۔ جماعت اسلامی ان دنوں خصوصیت کے ساتھ قاسم سوری والا کردار ادا کرتی اور مسلسل کان میں ”مذہبی ٹچ دیں“ پھونکتی رہی۔ منافق ایک طرف ڈاکٹر عبدالسلام کو کہتا کہ ”میں آپ کو خود سے بہتر مسلم سمجھتا ہوں اور دوسری طرف انہی کی جماعت کے لئے 295 c اور 298 b جیسے قوانین متعارف کراتا رہا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا ختنہ چیک کرنے تک کے مذہبی ٹچ اسی دور سیاہ کی یادگاریں ہیں۔

پہلے محترمہ فاطمہ جناح اور پھر بے نظیر بھٹو صاحبہ کے خلاف انتخابات میں حمید گل کے قائم کردہ اسلامی جمہوری اتحادی سے یہی مذہبی ٹچ دیا گیا تھا۔ اس دور میں عورت کی حکمرانی اسلام میں ناجائز قرار دینے والوں کے فتوے آج بھی مل جائیں گے لیکن انہی مفتیوں کو جب مختلف پرکشش اور مراعات سے بھرپور عہدے ملے تو مذہبی ٹچ کے پیمانے بدل گئے۔

کچھ بلوغت کے نشان نواز شریف کی آخری حکومت اور زرداری حکومت کے دوران دیکھنے میں آئے۔ گو نواز شریف صاحب کے داماد نے ذاتی حیثیت میں یہ علم بلند رکھا لیکن مجموعی طور پر یہ دونوں ادوار اس مذہبی ٹچ کے حوالے سے بہتر رہے۔

عمران خان صاحب کو اپنے دور میں اس ملک کو ریاست مدینہ بنانے کا خیال آیا۔ بہت اچھی بات تھی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قانون ایسا ہوتا کہ فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو اس پر بھی اس کا نفاذ ہوتا، شفافیت ایسی ہوتی کہ خلیفہ وقت کے کرتے کا بھی حساب ہوتا، انداز ایسا ہوتا کہ جس دن خود گڑ کھایا ہوتا اس دن دوسروں کو نصیحت نہ کی جاتی، وسائل کے مطابق اپنے پاؤں برابر کر کے چادر کے اندر کرتے۔ لیکن ہوا اس کے برعکس۔ مان لیا کہ سسٹم میں خرابیاں ہوں گی لیکن عمل کی حد تک وہ ان میں سے کوئی بھی خصوصیت نہ خود پہ لاگو کرسکے نہ اپنے قریبی ساتھیوں پہ۔

پھر پچھلے پچھتر برسوں میں آج تک پرویز الہی، فضل الرحمن، خادم رضوی، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی سمیت جیسے کتنے ہیں جنہوں نے یہی مذہبی ٹچ استعمال نہیں کیا۔ عمران خان کو یہودی لابی کے طعنے سے لے کر عمران خان کے نبی کریم ﷺ کا وکیل ہونے تک، پرویز الہی کا نئی پنجاب اسمبلی میں آیت خاتم النبین لکھوانے سے لے کر اسی آیت کے نیچے کھڑے ہو کر دھاندلی کے شور تک، فضل الرحمن کے بڑوں کی پاکستان مخالفت سے لے کر ملک کی ہر برائی کو یہودیوں اور قادیانیوں کی سازش قرار دینے تک، خادم رضوی کے جلوسوں میں گالی گلوچ سے لے کر لمبی لمبی احادیث سنانے تک۔

مذہبی ٹچ دینے کی ایک لمبی داستان ہے۔ لیکن وجہ صرف ایک ہے وہ ہیں ہم عوام جو مذہبی ٹچ کو قبول کرتے ہیں، اپنے اپنے دائرے میں اسی ٹچ سے حظ اٹھاتے ہیں، ان کے اس ٹچ کو خریدتے اور اپنے ماتھے کا جھومر بناتے ہیں۔ جب ہم ٹیکس چوری کر کے رمضان میں ہزاروں افراد کا افطار کروا رہے ہوتے ہیں، جب ہم بھوکے ہمسائے کو چھوڑ کر بارہواں عمرہ کرنے جاتے ہیں، جب لین دین میں ہر قسم کا فراڈ کر کے داڑھی منہ پر سجا لیتے ہیں، جب دو نمبر مال بیچ کر ہاتھ میں تسبیح اور سر پر ٹوپی پہن لیتے ہیں تو یہ مذہبی ٹچ ہی تو ہیں۔ جس دن ہم نے اپنی ذات کی حد تک مذہبی ٹچ کے علاوہ باقی ہر رنگ کو ریجیکٹ کر دیا، جس دن قوانین اور اصولوں پر باقاعدہ عمل شروع کر دیا اس دن ہم قاسم سوری پر طنز کرسکیں گے ورنہ بقول منیر نیازی یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں تو ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments